چاول ہاتھ سے کھانا سنت نہیں؟؟؟

من جانب: مفتی ابو ھاجرۃ

بات کا کانوں کو اچھی معلوم ہونا بات کے حق ہونے کی علامت نہیں۔ پچھلے کچھ سال بھر سے چاول کو چمچہ سے کھانے کی بات مولانا طارق جمیل صاحب دامت برکاتہم کی طرف سے طلباء کو تجویز کی جا رہی ہے ۔اور ان کے واسطے سے اب تو بہت سے دیگر حضرات بھی یہی تجویز پیش کرنے لگے ہیں –

بات اصل یہ ہے کہ ہاتھ سے کھانا سنت ہے اور چاول کھانا سنت نہیں ۔
اب اس سے یہ استدلال کرنا کہ چاول ہاتھ سے کھانا مسنون نہیں، قیاس مع الفارق ہے۔

اگر کھانا ہاتھ سے کھانا سنت ہے اور چاول بھی کھانے کے ہی جنس میں سے ہے تو چاول کو بھی ہاتھ ہی سے کھانا سنت ثابت ہوا۔

اب رہی بات چاول کو ایسے طریقے پر کھانا جس سے لوگ متنفر ہو جائیں تو یہ تو ہر کھانے کے کے ساتھ یکساں ہے۔ اس میں چاول کی کوئ تخصیص نہیں۔اس طور پر کھانا جو کہ خلاف مروت ہو اور دیکھنے والے کو اس سے گھن اور کراہیت محسوس ہوتی ہو تو یہ بھی تو سنت کے خلاف ہے ۔

اگر لوگوں کی رعایت کرنا ہی اصل منشا ہے تب تو آج عام رواج یہ ہے کہ ہر کھانے کے ساتھ چمچہ کا استعمال کیا جاتا ہے، خواہ وہ چاول ہو یا غیر چاول۔ ہاتھ کے استعمال کو خلاف ادب سمجھا جانے لگا ہے۔ تو کیا اب لوگوں کے خاطر چاول کے ما سوا کھانوں میں بھی ہاتھ کے استعمال سے پرہیز کیا جائے؟

کون کہتا ہے کہ روٹی کو سالن کے ساتھ اس بے ہودگی کے ساتھ کھائیں کہ سالن انگلیوں سے نیچے ٹپک رہا ہو۔آخر یہ بھی تو سنت کے خلاف ہے۔

نبی ﷺ جب کدو تناول فرماتے تو طشطری میں انگلیاں پھیر کر کدو ڈھونڈتے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کھانا سیال ہوتا لیکن اس کے باوجود طشطری میں انگلیاں پھیرنا آپ سے ثابت ہے۔ تو اب اس عمل کو کیا نام دیا جائے؟ سنت تو یہی ہونا چاہیے کہ ہم بھی اس طرح کدو کھائیں ۔اور اول تو آپ ﷺ گوشت کھاتے بہت کم لیکن جب کھاتے تو بوٹی کو دانتوں سے چیر کر کھاتے۔ سنت تو اسی کے مطابق ہونا چاہیے  لیکن یہ عمل بھی اگر دور حاضر کے جدت پسند حضرات کو برا معلوم ہو تو اب اور کیا کیا جائے؟

آخر نبی ﷺ نے ہمیں کھانے کا سلیقہ بھی تو سکھایا  ہے۔کون کہتا ہے کہ چاول میں اس قدر سالن بھر کر کھائیں کہ ہیئت بری لگے۔اگر ڈھنگ سے کھایا جائے تو چاول بھی مہذب طریقے پر ہاتھ ہی سے کھایا جا سکتا ہے۔ہاتھ ہی سے کھانے پر ہمیں اصرار نہیں،کوئ چمچہ ہی سے کھانا چاہے تو اس میں حرج بھی نہیں ہے۔ لیکن بغیر کسی عذر کے سنت کو ترک کر کے ایک مباح چیز کو ترجیح دینا حب نبی ﷺ کے خلاف معلوم ہوتا ہے۔ کوئ ہاتھ سے کھانا پسند کریں تو یہ حب نبی ﷺ کی علامت ہے۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s