تمہارے اعمال ہی تمہارے حکمران ہیں

أَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ كَثِيرٌ وَلَكِنَّكُمْ غُثَاءٌ

الوھن – حُبُّ الدُّنْيَا وَكَرَاهِيَةُ الْمَوْتِ

از – مجلس العلماء جنوبی افریقہ (ترجمہ)

  • تم بہت کثیر تعداد میں ہو نے کے باوجود ‘غثاء’ (کچرا، کوڑا) جیسے ہوں گے-
  • دنیا کی محبت اور موت سے نفرت کی وجہ سے-

امت میں اس قسم کے ہولناک انکشافات پر تبصرہ کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک وقت آئے گا کہ دنیا بھر کی کفار قومیں گٹھ جوڑ کرکے ایک ہوں گے امت کو پھاڑ كھانے کے لئے۔

حیران ہو کر ایک صحابی نے پوچھا:

      “یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کیا ایسا ہماری کم تعداد کی وجہ سے ہوگا؟”

ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا :

      ” بلکہ تم بہت کثیر تعداد میں ہوں گے لیکن تم ‘غثاء’ (کچرا، کوڑا) جیسے ہوں گے، پانی پر بہنے والے کچرے/تنکوں کی مانند (یعنی بے حیثیت اور بے وقعت)۔

اللہ تمہارے دشمنوں کے دلوں سے تمہارا خوف نکال دیں گے اور یقینا وہ تمہارے دلوں میں ‘وھن’ ڈال دیں گے۔”

صحابی نے پوچھا:

    “‘وھن’ کیا ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم..؟”

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

         “دنیا کی محبت اور موت سے نفرت”

ہندوستان میں غالبا دنیا کی سب سے بڑی مسلم آبادی ہے، تقریبا دو ہزار (٢٠٠٠) لاکھ سے بھی زائد مسلمان اس ہندو مشرکین کے ملک میں بستے ہیں۔ امت کی اتنی کثیر تعداد کے باوجود سب کے سب ‘غثاء’ بنے ہوئے ہیں جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے۔

یہ بے عقلی درحقیقت بےوقوفی ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کے خلاف سازشیں رچنے کی کمینگی پر گائے کا پیشاب و گوبر کے صارفین اور پجاریوں پر ملامت کی جائے۔ مسلمانوں کی توجہ کو شیطان ان حقیقی وجوہات سے ہٹاتا ہے جن کی وجہ سے مسلمان ذلیل، رسوا اور ہلاک ہوتے ہیں۔

جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن شریف نے مسلمانوں پر کفار غالب ہونے کے وجوہات کو واضح طور پر بیان کیا ہے، اس کے باوجود مسلمانوں کو اپنے ہی (بدعملی کے) سائے اور عکس پر لعن طعن پر قائل کرنے میں شیطان کامیاب ہوتا ہے۔ پس مسلمان یہ سمجھنے میں ناکام ہوتے ہیں کہ ان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے اور کن وجوہات کی بنا پر یہ ہلاکتیں برپا ہو رہی ہیں، جیسا کہ اس مضمون میں بیان کیا گیا ہے اور جیسا برما, شام اور مختلف جگہوں پر نظر آرہا ہے۔

ہندوستان کے مسلمان ہندوؤں کے رنگ میں رنگے ہوئے ہیں۔ جس طرح مغرب میں مسلمانوں نے خود کو مغربیت کے رنگ میں رنگا ہوا ہے ٹھیک اسی طرح ہندوستانی مسلمانوں نے ہندوؤں کے طور طریقے اپنائے ہوئے ہیں۔

اسلامی تہذیب یعنی سنت کو ترک کرنے کی وجہ سے جو خلا پیدا ہوئی ہے وہ ان نجس گائے پجاریوں کے طریقوں سے پر ہو رہی ہے جن کے دھرم میں بنیادی دھارمک کام گائے کا گوبر اور پیشاب پینا اور اپنے ملعون ہاتھوں سے ٹھوک بجا کر تراشے ہوئے پتھر کے بتوں کی پوجا کرنا ہے۔

ذرا غور کریں دو ہزار (٢٠٠٠) لاکھ (یعنی ٢٠ كروڑ) سے بھی زائد مسلمان لیکن پورے ملک کا مسلمان بے ہمت (خوفزدہ) سا ہو گیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے کوڑا/کچرا (غثاء) ہونے کا یہی معنی ہے-

اللہ تعالی ہم پر رحم فرمائے…(آمین)

اَعْمَالُکُمْ اُمَرَاءُکُمْ*

تمہارے اعمال ہی تمہارے حکمران ہیں

ماخوز از مکتوب مع مترجم و اضافی مجلس العلماء جنوبی افریقہ

ہندوستان کے ظالم کفار قائدین، مسلمانوں کی اکثریت کے باطنی و ظاہری کفریہ احوال و اعمال کا عکس ہیں۔ یہ قبیح لیڈران مسلمانوں کے کفر اور ضلالت کو منعکس کرتے ہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے،

“تمہارے اعمال ہی تمہارے حکمران ہیں۔”

  • اللہ تعالی لوگوں پر انہیں ہی حکمران بناتے ہیں جن کے وہ لوگ مستحق ہوتے ہیں۔
  • جس قوم یا ملک کی اکثریت شریعت کے تابع ہو، اللہ تعالی ان پر کبھی بھی ظالم، بدکردار اور بے ہدا حکمران مسلط نہیں فرماتے۔
  • بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی سنّت ہے کہ وہ ظالم، بد اخلاق اور بے رحم حکمرانوں کی حکومت ان لوگوں پر ہی مسلط کرتے ہیں جو فسق و فجور اور کفر میں ڈوبے ہوئے ہوں۔

حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے،

“اللہ کی قسم ! فتنہ اللہ تعالی کے عذاب کے سوا کچھ نہیں۔”

اس عبارت میں فتنے سے مراد شیطانی حکمرانوں کا ظلم اور زیادتی ہے جیسا کہ برما کے بے رحم بدھ مت، ہندوستان کا ظالم مودی، مصر کا بدبخت سیسی، شام کا وحشی بشار  اسد اور ان جیسے دیگر ابلیسی گروه کے حکمران (لیڈران)۔

ظالم لیڈران اور حکمران تو آئینہ ہیں

جب کہ ہم ان شیطانی حکمران و لیڈران پر تنقید کرتے ہیں، ہمیں اس حقیقت سے اپنی توجہ نہیں ہٹانی چاہئے کہ اللہ تعالی هی نے انہیں سزا کے طور پر بالکل نافرمان اور باغی مسلمانوں پر مسلط کیا ہے، جنہوں نے فسق و فجور اور کفر سے اپنا ایمان ختم کر رکھا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں،

           “یقینا اللہ تعالی فرماتے ہیں، میں اللہ هوں، میرے سوا کوئی الٰہ (معبود) نہیں۔ میں حکمرانوں کا حاکم ہوں اور حکمران میرے تابع ہیں۔ حکمرانوں کے قلوب میرے قبضے میں ہیں۔ جب لوگ میری اطاعت کرتے ہیں تو میں ان کے حکمرانوں کے قلوب کو ان کے لیے رحمت و شفقت پر پھیر دیتا ہوں۔ جب وہ میری نافرمانی کرتے ہیں تو میں ان کے حکمرانوں کے قلوب کو ان کے خلاف بے رحمی و ظلم پر پھیر دیتا ہوں۔ پھر وہ حکمران (لیڈران) لوگوں کو سخت ترین سزا دیتے ہیں۔

اس لیے حکمرانوں پر لعنت بھیجنے میں خود کو مشغول مت رکھو۔ اس کے برعکس میری یاد (ذكر) اور میری اطاعت میں مشغول ہو جاؤ۔ پھر میں حکمرانوں کے خلاف تمہارا خیال رکھوں گا۔”

نبی موسی علیہ السلام نے اللہ تعالی سے پوچھا،

       “اے میرے رب آپ آسمانوں میں ہیں اور ہم زمین پر، آپ کی ناراضگی اور رضامندی کی نشانیاں کیا ہے..؟”

اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا،

“جب میں تم میں سے بہترین لوگوں کو حاکم بناتا ہوں تو وہ (حاکم) نشانی ہے میرے تم سے راضی ہونے کی۔ اور جب میں تم میں سے بدترین لوگوں کو حاکم بناتا ہوں تو وہ (حاکم) نشانی ہے میرے تم سے ناراض ہونے کی۔”

ہم بظاہر لوگوں کی نماز اور رسمی اسلامی اعمال کو دیکھ کر دھوکے میں نہ آئیں۔ آج کل اسلام کا منافقانہ مظاہرہ کوئی ایمان کی دلیل نہیں ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنه اس سلسلے میں حدیث نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں،

”ایسا زمانہ آئے گا کہ لوگ اپنی مساجد میں جمع ہو کر نماز پڑھیں گے جبکہ ان میں سے کوئی ایک بھی مومن نہ ہوگا۔”

ظاہری طور پر اسلام کے دعوے اور چند رسمی اعمال کے مظاہرے سے ہم فریب میں نہ آئیں۔

ان تمام باتوں کے مدنظر اگر ہم ہندوستان میں جاری  احوال کا سنجیدگی کے ساتھ ایمانی نگاہ سے جائزہ لیں تو ہمیں یہ واضح ہو گا کہ هم مسلمانوں کے خلاف تشدد کا ماحول اور مارپیٹ کی وجہ کوئی راز یا در اصل ظلم نہیں ہے۔ بلکہ یہ مسلمانوں کی خود اپنے ہاتھوں سے کمائی ہوئی بداعمالیوں اور گناہوں کا نتیجہ ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں کی اکثریت کے اخلاقی بگاڑ، فسق و فجور اور کفر کی ظاہری شکل مودی، یوگی، شاہ وغیرہ ہیں۔

جب تک ہم مسلمان توبہ کے ساتھ اللہ تعالی کی اطاعت کے ذریعے اس کی یاد(ذکر) میں مشغول نہیں ہوں گے تب تک یہ تشدد کا ماحول ختم ہو، مشکل معلوم ہوتا ہے۔

تمہارے اعمال ہی تمہارے حکمران ہیں

ماخوز از مکتوب مع مترجم و اضافی مجلس العلماء جنوبی افریقہ

ہندوستان کے ظالم کفار قائدین، مسلمانوں کی اکثریت کے باطنی و ظاہری کفریہ احوال و اعمال کا عکس ہیں۔ یہ قبیح لیڈران مسلمانوں کے کفر اور ضلالت کو منعکس کرتے ہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے،

“تمہارے اعمال ہی تمہارے حکمران ہیں۔”

  • اللہ تعالی لوگوں پر انہیں ہی حکمران بناتے ہیں جن کے وہ لوگ مستحق ہوتے ہیں۔
  • جس قوم یا ملک کی اکثریت شریعت کے تابع ہو، اللہ تعالی ان پر کبھی بھی ظالم، بدکردار اور بے ہدا حکمران مسلط نہیں فرماتے۔
  • بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی سنّت ہے کہ وہ ظالم، بد اخلاق اور بے رحم حکمرانوں کی حکومت ان لوگوں پر ہی مسلط کرتے ہیں جو فسق و فجور اور کفر میں ڈوبے ہوئے ہوں۔

حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے،

“اللہ کی قسم ! فتنہ اللہ تعالی کے عذاب کے سوا کچھ نہیں۔”

اس عبارت میں فتنے سے مراد شیطانی حکمرانوں کا ظلم اور زیادتی ہے جیسا کہ برما کے بے رحم بدھ مت، ہندوستان کا ظالم مودی، مصر کا بدبخت سیسی، شام کا وحشی بشار  اسد اور ان جیسے دیگر ابلیسی گروه کے حکمران (لیڈران)۔

ظالم لیڈران اور حکمران تو آئینہ ہیں

جب کہ ہم ان شیطانی حکمران و لیڈران پر تنقید کرتے ہیں، ہمیں اس حقیقت سے اپنی توجہ نہیں ہٹانی چاہئے کہ اللہ تعالی هی نے انہیں سزا کے طور پر بالکل نافرمان اور باغی مسلمانوں پر مسلط کیا ہے، جنہوں نے فسق و فجور اور کفر سے اپنا ایمان ختم کر رکھا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں،

           “یقینا اللہ تعالی فرماتے ہیں، میں اللہ هوں، میرے سوا کوئی الٰہ (معبود) نہیں۔ میں حکمرانوں کا حاکم ہوں اور حکمران میرے تابع ہیں۔ حکمرانوں کے قلوب میرے قبضے میں ہیں۔ جب لوگ میری اطاعت کرتے ہیں تو میں ان کے حکمرانوں کے قلوب کو ان کے لیے رحمت و شفقت پر پھیر دیتا ہوں۔ جب وہ میری نافرمانی کرتے ہیں تو میں ان کے حکمرانوں کے قلوب کو ان کے خلاف بے رحمی و ظلم پر پھیر دیتا ہوں۔ پھر وہ حکمران (لیڈران) لوگوں کو سخت ترین سزا دیتے ہیں۔

اس لیے حکمرانوں پر لعنت بھیجنے میں خود کو مشغول مت رکھو۔ اس کے برعکس میری یاد (ذكر) اور میری اطاعت میں مشغول ہو جاؤ۔ پھر میں حکمرانوں کے خلاف تمہارا خیال رکھوں گا۔”

نبی موسی علیہ السلام نے اللہ تعالی سے پوچھا،

       “اے میرے رب آپ آسمانوں میں ہیں اور ہم زمین پر، آپ کی ناراضگی اور رضامندی کی نشانیاں کیا ہے..؟”

اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا،

“جب میں تم میں سے بہترین لوگوں کو حاکم بناتا ہوں تو وہ (حاکم) نشانی ہے میرے تم سے راضی ہونے کی۔ اور جب میں تم میں سے بدترین لوگوں کو حاکم بناتا ہوں تو وہ (حاکم) نشانی ہے میرے تم سے ناراض ہونے کی۔”

ہم بظاہر لوگوں کی نماز اور رسمی اسلامی اعمال کو دیکھ کر دھوکے میں نہ آئیں۔ آج کل اسلام کا منافقانہ مظاہرہ کوئی ایمان کی دلیل نہیں ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنه اس سلسلے میں حدیث نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں،

”ایسا زمانہ آئے گا کہ لوگ اپنی مساجد میں جمع ہو کر نماز پڑھیں گے جبکہ ان میں سے کوئی ایک بھی مومن نہ ہوگا۔”

ظاہری طور پر اسلام کے دعوے اور چند رسمی اعمال کے مظاہرے سے ہم فریب میں نہ آئیں۔

ان تمام باتوں کے مدنظر اگر ہم ہندوستان میں جاری  احوال کا سنجیدگی کے ساتھ ایمانی نگاہ سے جائزہ لیں تو ہمیں یہ واضح ہو گا کہ هم مسلمانوں کے خلاف تشدد کا ماحول اور مارپیٹ کی وجہ کوئی راز یا در اصل ظلم نہیں ہے۔ بلکہ یہ مسلمانوں کی خود اپنے ہاتھوں سے کمائی ہوئی بداعمالیوں اور گناہوں کا نتیجہ ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں کی اکثریت کے اخلاقی بگاڑ، فسق و فجور اور کفر کی ظاہری شکل مودی، یوگی، شاہ وغیرہ ہیں۔

جب تک ہم مسلمان توبہ کے ساتھ اللہ تعالی کی اطاعت کے ذریعے اس کی یاد(ذکر) میں مشغول نہیں ہوں گے تب تک یہ تشدد کا ماحول ختم ہو، مشکل معلوم ہوتا ہے۔

One thought on “تمہارے اعمال ہی تمہارے حکمران ہیں”

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s