مولانا رشید احمد گنگوہی رحمہ اﷲ کے شجرہ نسب پر اعتراض کا تحقیقی جواب

ایک جاہل رضاخانی کی طرف سے یہ اعتراض کیا گيا ہے کہ مولانا رشید احمد گنگوہی رحمة اللہ علیہ کے نسب میں قاضی پیر بخش (والد کی طرف سے ) اور فرید بخش (والدہ کی طرف سے) کے نام آتے ہیں اور شاہ اسمعیل شہید رحمة اللہ علیہ نے ايسے نام رکھنے والے مسلمانوں کو شرک میں مبتلا ہونے کو کہا ہے۔۔لہٰذا حضرت گنگوہی صاحب کے دادا اور نانا مشرک ہوئے اور وہ نجیب الطرفین ایوبی نہ ہوئے اس لئے ان کا شجرہ بچانے کیلئے تقویة الایمان سے بیزاری ضروری ہے۔(محصلہ)

جواب

دراصل یہ اعتراض رضاخانی مذہب کے حکیم الامت مفتی احمد یار گجراتی نے اپنی کتاب جاء الحق اور مولوی نصیر الدین سیالوی نے بھی اپنی کتاب میں کیا ہے موصو ف نے بغير حوالہ دئے ان کا مواد سرقہ کیا ہے اور پھر اس کو اپنے نام سے شائع کردیا پھر اس پر لاف و گزاف بھی کرتے ہیں۔۔تف ہے ایسی دیانت پر۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہم خود اس مذہب کے حکیم الامت کی عبارت آپ کے سامنے نقل کردیں تاکہ ان کی ذہنی پستی کا بھی آپ لوگوں کو اندازہ ہوجائے اور اس کے بعد تفصیلی جواب ملاحظہ فرمائیں۔

لطیفہ: تقویة الایمان میں علی بخش پیر بخش غلام علی مدار بخش عبد النبی نام رکھنے کوشرک کہا مگر تذکرة الرشید حصہ اول ص ۳۱ میں رشید احمد صاحب کا شجرہ نسب یوں ہے مولانا رشید احمد بن مولانا ہدایت ابن قاضی پیر بخش ابن غلام حسين ابن غلام علی ۔اور ماں کی طرف سے نسب نامہ یوں لکھا ہے رشید احمد ابن کریم النساء بنت فرید بخش ابن غلام قادر ابن محمد صالح ابم غلام محمد ۔دیو بندی بتائیں کہ مولوی رشید احمد صاحب کے خاندانی بزرگ مشرک مرتد تھے یا نہیں؟ اگر نہیں تو کیاں؟ اگر تھے تو مرتد کی اولاد حلالی ہے یا حرامی۔﴾جاءالحق ص ۷۸۳﴿

جواب

لاحول ولا قوة الا بااللہ شیطان اور اس کی اولاد سے پناہ ۔۔مفتی احمد یار گجراتی کی ذريت خبیثہ سے ہماراسوال ہے کہ اگر ماں باپ یا دادا نانا کے مشرک اور کافر ہونے سے اولاد حرامی ہوجاتی ہے تو امام بخاری رحمة اللہ علیہ پر کیا فتوی ہے ۔۔؟؟؟

امام بخاری رحمة اللہ علیہ کا شجرہ نسب

ابو عبد اللہ البخاری محمد بن اسمعیل بن ابراہیم بن المغیرة بن بردزبہ

بردزبہ کے بارے میں ابن حجر رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ وہ ”پارسی “ مجوسی تھے۔۔﴾سیر اعلام النبلاءج ۲۱ص ۱۹۳﴿

بریلویوں لگاؤ امام بخاری پر فتوی کہ معاذ اللہ معاذ اللہ وہ بھی ثابت النسب اور حلالی نہ تھے ۔۔۔۔ہے اتنی ہمت ۔۔۔؟؟؟؟

پیر مہر علی شاہ گولڑوی مرحوم کا شجرہ نسب

قارئین مولوی احمد رضاخان اپنی کتاب ”احکام شريعت“میں لکھتا ہے کہ :

نظام الدین محی الدین تاج الدین اور اسی طرح وہ تمام نام جن میں مسمی کا معظم فی الدین ہونا نکلے جیسے شمس الدین بدر الدین نور الدین فخر الدین شمس الاسلام محی الاسلام بدر الاسلام وغیرہ ذالک سب کو علمائے کرام نے سخت ناپسندیدہ رکھا اور مکروہ و ممنوع رکھا ۔﴾احکام شريعت ،ص ۸۹﴿

اب ذار پیر مہر علی شاہ صاحب کا شجرہ نسب بھی ملاحظہ فرمالیں:

سید مہر علی شاہ ابن سید نذر دین شاہ ابن سید غلام شاہ ابن سید روشن دین ابن سید عبد الرحمن نوری ابن سید عنایت اللہ ابن سید غياث علی ابن سید فتح اللہ ابن سید اسد اللہ ابن سید فخرالدین۔۔۔۔۔

اور پھر آگے چل کر تاج الدین۔۔اوروالدہ کی طرف سے نسب میں سيد صدر الدین کا نام آتا ہے۔۔

اب ہمارا سوال یہ ہے کہ احمد رضا خان نے اسکو سخت ناپسند مکروہ کہا اور مطلق مکروہ حرام پر بولا جاتا ہے ۔۔تو کیا پیر صاحب کے آباوؤ اجداد نے ایک حرام کام کو حلال سمجھ کر کیا اور کیا حرام کو حلال سمجھنے والے مسلمان ہوسکتے ہیں۔۔۔؟؟؟ اگر ہاں تو کیسے؟ ۔۔اگر نہیں تو پیر صاحب کے نسب کے بارے میں کیا فتوی ہے کہ آیا وہ معاذ اللہ حلالی رہے یا حرامی۔۔۔؟؟؟ ان کے آباؤ اجداد فاسق فاجر تھے یا مشرک؟۔۔۔اور کافر یا مسلمان؟۔۔۔

بریلویوں ۔۔اب بتاؤ پیر صاحب کو نجيب الطرفين سيد ثابت کرنے کیلئے احمد رضاخان کی کتابوں پر تين حرف بھيجنے پڑيں گے یا نہیں؟

احمد رضاخان کا فتوی اور بریلوی ملاں کے ماں باپ کا ایمان

اسی احکام شريعت میں احمد رضاخان لکھتا ہے کہ:

لوگوں سے دیکھئے کیا اپنی اولاد کانام شیطان ملعون رافضی خبيث خوک وغيرہ رکھنا گوارا کریں گے ؟ہرگز نہیں تو قطعا معنی اصلی کی طرف لحاظ باقی ہے پھر کس منہ سے اپنے آپ اور اپنی اولاد کو نبی کہلواتے ہیں کیا کوئی مسلمان اپنا یا اپنے بيٹے کا نام رسول اللہ خاتم النبيين یا سید المرسلین نام رکھنا روا رکھے گا؟حاشا و کلا۔پھر محمد نبی، احمد نبی ،نبی احمد کیونکر روا ہوگيا یہاں تک کہ بعض خدا نا ترسوں کا نام نبی اللہ سنا ہے۔لاحول ولا قوة الا باللہ العلی العظیم ۔کیا رسالت و ختم نبوت کا ادعاءحرام ہے اور نری نبوت کا حلال؟ مسلمانوں پر لازم ہے کہ ایسے ناموں کو تبدیل کردیں۔﴾احکام شريعت ،ص ۴۹،۵۹﴿

اس عبارت سے معلوم ہوا نبی احمد نام رکھنا حرام ہے اس کا تبدیلی کرنا ضروری ہے یہ نام رکھنا گويا نبوت کا دعوی کرنا ہے ۔۔

اب اٹھاؤ عبد اؒلحکیم شرف قادری کی کتاب ”تذکرہ اکابر اہلسنت “ کھولو اس کاص ۲۵ جس پر اس نے اپنی جماعت کے ایک بزرگ کا تعارف دیا ہے جس کانام

خواجہ نبی احمد

بریلوی جاہل معترضین بتائيں کہ کیا نبی احمد کے والدین نے اپنے بيٹے کیلئے نبوت کے دعوے کو پسند کیا۔۔؟؟؟کیا انھوں نے حضور ﷺ کی نام کی توہین نہ کی۔۔؟؟؟اگر نہیں تو کیسے ۔۔؟؟ اگر ہاں تو کیا نبی احمد صاحب کے والدین مسلمان رہے۔۔؟؟؟اور بدون تجدید ایمان و نکاح ان کی ہمبستری زنا خالص اور اولاد ولد الحرام ہوئی یا نہ ہوئی۔۔۔؟؟؟

یا تو جواب ہاں میں دو یا اپنے مولویوں اور ان کے والدین کو حلالی اور مسلمان ثابت کرنے کیلئے احمد رضاخان کی کتاب پر لعنت بھیجو اورآپ ہی کی زبان میں

غرض دو گونہ عذاب است جان مجنوں را

بلائے صحبت لیلےٰ و فرقت لیلےٰ

بریلوی ہمارے سوال کا جواب دیں

اگر ماں باپ یا دادا نانا کے مشرک ہونے سے اولاد حرامی ہوجاتی ہے جیسا کہ احمد یار گجراتی نے کہا تو ان صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین پر کیا فتوی ہے جن کے ماں باپ مشرک تھے۔۔۔؟؟؟؟

مقدس ہستیوں کے نسب میں مشرکانہ نام

٭حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت سعد رضی اللہ تعالی عنہ جو کہ عشرہ مبشرہ صحابہ میں سے ہیں اور حضو ر ﷺ کی والد ہ محترمہ حضرت طیبہ طاہری سیدہ آمنہ خاتون کے شجرہ نسب میں ”عبد مناف“ کا نام آتا ہے جو ”مناف“ بت کی نسبت سے رکھا گےا تھا۔

٭ حضرت زبير بن عوام رضی اللہ تعالی عنہ ۔۔اور ام المومنین خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا اور ورقہ ابن نوفل کے سلسلہ نسب ”عبد العزی“ سے جاملتا ہے اور ”عزی “بت کا نام تھا۔

٭ حضرت خواجہ ابو طالب کا اصل نام ”عبد مناف “تھاان کے بيٹے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ ہیں ۔

٭ حضرت سیدہ زینب رضی اللہ تعالی عنہا ان کا نکاح ابو لعاص بن ربيع بن عبدالشمس بن عبد مناف بن قصی ۔سے ہوا۔

٭ ام المومنین سودہ رضی اللہ تعالی عنہا بنت زمعہ بن قیس بن عبد شمس بن عبدود بن نصر ۔۔۔

٭ ام المومنین ام حبےبہ بنت ابو سفيان بن امیہ بن عبد الشمس بن عبد مناف بن قصی۔

غرض فہرست طویل ہے یہ چند مقدس و مکرم ہستیوں کے شجرے میں نے نقل کردئے ہیں۔۔۔اب احمد یار گجراتی کی ذريت ناپاک جس میں

بریلویوں کچھ تو شرم کرو کہ تمہارے ان گستاخ قلموں سے کیسی کیسی مقدس شخصيات پر حرف آرہاہے۔۔۔دراصل تمہارا حقيقی مقصد بھی اسلام کی انہی مقدس ہستیوں پر نکہ چینی کرنا ہوتا مگر عوام کے خوف وڈرسے نام علمائے اہلسنت کا لیتے ہو۔

دراصل قارئین کرام یہ بریلوی حضرات کا محض افتراء ہے کہ حضرت شاہ صاحب نے یہ فتوی دیا ہے کہ پیر بخش یا فرید بخش نام رکھنے والا مشرک اور مرتد ہوجاتے ہیں بلکہ ان کی بات کا مقصد یہ تھاکہ چونکہ عام طور پر ہندوستان کے معاشرے میں لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ بيٹا فلاں بزرگ نے ديا ہے یہ فلاں نے پھر انہی کی نسبت سے لوگ اپنی اولاد کی نسبت ان زبرگان دین کی طرف کرتے ہیں اس لئے ایسے ناموں میں چونکہ شرک کا شائبہ ہے اس لئے اس سے پرہیز لازم ہے۔لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ جو بھی یہ نام رکھے گا اسکاعقیدہ یہی ہوگا بلکہ بعض اوقات عرف کی وجہ سے بھی لوگ اس قسم کے نام رکھ لیتے ہیں حالانکہ ان کے معنی یا مراد کی طرف ہرگز ان کا دھيان نہیں ہوتا جیسا کہ احمد رضاخان نے کہا کہ میں نے خود بعض لوگوں کا نام رسول اللہ سنا حالانکہ کوئی بھی یہ نام اس وجہ سے نہیں رکھتا کہ وہ معاذ اللہ حقيقت میں اللہ کا رسول ہے ۔

غرض ان کا مقصد صرف بطور تہدید و تنبیہ کے تھا کہ اس قسم کے ناموں میں شرک کا شائبہ موجودہے اس لئے نہ رکھے جائیں نہ یہ کہ رکھنے والا ہی مرتد کافر اور مشرک ہوجاتا ہے۔

جیسا کہ حديث میں آتا ہے کہ جان بوجھ کر ایک نماز چھوڑنے والا کافر ہے ایک حديث میں آتا ہے کہ باوجود استطاعت کے حج نہ کرنے والا یہودیت اور نصرانيت پر مرنے والا ہے۔تو علماءنے ان احاديث کی تشريح میں یہی کہا کہ اس سے مراد یہ نہیں کہ وہ مسلمان مشرک یا کافر یا یہودی ہوجاتا ہے بلکہ یہ قول صرف بطور توبيخ و تہدید کے ہے۔

One thought on “مولانا رشید احمد گنگوہی رحمہ اﷲ کے شجرہ نسب پر اعتراض کا تحقیقی جواب”

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s