Category Archives: Imam Abu Hanifa

امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ پر کئے جانے والے اعتراض کا تحقیقی جائزہ

(ایک بہت بڑی غلط فہمی کا ازالہ)

ہمارے زمانے کے اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ فقہ حنفی کسی ایک شخص کے اخذ کردہ مسائل کا نام ہے، جب کہ اس بات کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں،

فقہ حنفی، فقہاءِ احناف کے قرآن و حدیث سے اخذ کردہ اُن مسائل کا نام ہے جو مفتیٰ بہ ہیں(یعنی جن مسائل پر فتویٰ دیا گیا ہے) اور فقہاء احناف کے درخشندہ ستاروں میں امام ابو حنیفہ، امام ابو یوسف، امام محمد بن حسن ، امام زفراور امام حسن بن زیاد رحمھم اللہ تعالیٰ ہیں۔

اب جب فقہ حنفی کسی ایک شخصیت کا نام نہیں تو کسی ایک حنفی کی بات کو پوری فقۂ حنفی کی طرف منسوب کردینا جہالت کے سوا کچھ نہیں ہوگا، لیکن اس کے باوجود لوگ تواتر کیساتھ اس قسم کے لغو اعتراضات کرتے رہتے ہیں۔

مذکورہ بالا بات اگر اچھی طرح ذہن نشین کر لی جائے تو بہت سے مسائل پیدا ہی نہیں ہوسکیں گے۔

امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ پر کئے جانے والے اعتراضات

امام اعظم رحمہ اللہ پر بہت اعتراضات کئے گئے ہیں، جن میں سے چند بظاہروزنی نظر آنے والے اعتراضات مع اُنکے جوابات کے زینتِ قرطاس کئے جاتے ہیں،

(۱) امام اعظم رحمہ اللہ پر ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے، اُن کی روایات صحاح ستّہ (حدیث کی چھ مشہور کتابوں) میں موجود نہیں ہیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ائمہ ستّہ کے نزدیک قابل استدلال نہیں تھے۔

یہ ایک انتہائی سطحی اور عامیانہ اعتراض ہے، اِن ائمہ حضرات کا کسی جلیل القدر امام سے روایات کو اپنی کتاب میں درج نہ کرنا ، اُس امام کے ضعیف ہونے کو لازم نہیں، کھلی ہوئی بات یہ ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے امام شافعی رحمہ اللہ کی بھی کوئی روایت نہیں لی ہے، بلکہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ جو امام بخاری کے استاذ ہیں، اور امام بخاری نے جنکی صحبت اٹھائی ہے، اُن کی بھی پوری صحیح بخاری میں صرف دو روایتیں ہیں ، ایک روایت تعلیقاً منقول ہے اور دوسری روایت امام بخاری نے کسی واسطہ سے نقل کی ہے، اسی طرح امام مسلم رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں امام بخاری سے کوئی روایت نقل نہیں کی ،حالانکہ وہ اُنکے استاذ ہیں ، نیز امام احمد رحمہ اللہ نے اپنی مسند میں امام مالک کی صرف تین روایات ذکر کی ہیں ، حالانکہ امام مالک کی سند اصحّ الاسانید شمار کی جاتی ہے، اب کیا اس سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ امام شافعی، امام مالک اور امام احمد رحمہم اللہ تینوں ضعیف ہیں؟؟؟

اس معاملہ میں حقیقت وہ ہے جو علامہ زاہد الکوثری نے’’شروط الائمۃ الخمسۃ للحازمی‘‘ کے حاشیہ پر لکھی ہے کہ در حقیقت ائمہ حدیث کے پیشِ نظر یہ بات تھی کہ وہ اُن احادیث کو زیادہ سے زیادہ محفوظ کر جائیں، جن کے ضائع ہونے کا خطرہ تھا، بخلاف امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد رحمہم اللہ جیسے حضرات کہ اِن کے تلامذہ اور مقلدین کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ اُن کی روایات کے ضائع ہونے کا اندیشہ نہ تھا، اس لئے انہوں نے اس کی حفاظت کی زیادہ ضرورت محسوس نہ کی۔

١ امام ابو حنیفہ پر ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ حافظ شمس الدین ذہبی رحمہ اللہ نے ’’ میزان الاعتدال فی اسماء الرجال‘‘ میں امام ابو حنیفہ کا تذکرہ اِن الفاظ میں کیا ہے،

’’النعمان بن ثابت الکوفی امام اھل الرائ ضعفہ النسائی وابن عدی والدارقطنی واٰخرون‘‘

ترجمہ: نعمان بن ثابت کوفی (رحمہ اللہ) اہل رائے کے امام ہیں ،جنہیں امام نسائی، ابن عدی ، دار قطنی اور دوسرے حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے۔

میزان الاعتدال میں یہ عبارت بلاشبہ الحاقی ہے یعنی مصنف نے خود نہیں لکھی، بلکہ کسی اور شخص نے اِسے حاشیہ پر لکھا اور بعد میں یہ متن میں شامل ہوگئی یا تو کسی کاتب کی غلطی سے یا جان بوجھ کر داخل کی گئی، اس کے دلائل مندرجہ ذیل ہیں:

١ حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے میزان الاعتدال کے مقدمہ میں یہ تصریح فرمائی ہے کہ اِس کتاب میں اُن بڑے بڑے ائمہ کا تذکرہ نہیں کروں گا ،جن کی جلالتِ قدر حدّتواتر کو پہنچی ہوئی ہے، خواہ اُن کے بارے میں کسی شخص نے کوئی کلام بھی کیا ہو، پھر اُن بڑے بڑے ائمہ کی مثال میں امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا نام بھی انھوں نے صراحۃً ذکر کیا ہے، پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ انہوں نے اِس کتاب میں امام صاحب کا ذکر کیا ہو۔

۲ پھر جن بڑے بڑے ائمہ کا تذکرہ حافظ ذہبی نے میزان الاعتدال میں نہیں کیا ، اُن حضرات کے تذکرہ کیلئے انہوں نے ایک مستقل کتاب ’’تذکرۃ الحفاظ‘‘ لکھی ہے ، اور اس کتاب میں امام اعظم ابو حنیفہ کا نہ صرف تذکرہ موجود ہے، بلکہ انکی بڑی مدح و توصیف بیان کی گئی ہے، جیسا کہ حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ’’تذکرۃالحفاظ‘‘ کی جلد اول، صفحہ ۱۹۵ پر اپنی سند سے سفیان بن عیینہ کا قول ذکر کیا ہے، وہ فرماتے ہیں،

’’لم یکن فی زمان ابی حنیفۃ بالکوفۃ رجل افضل منہ واورع ولا افقہ عنہ‘‘

(یعنی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے زمانے میں کوئی شخص ایسا نہیں تھا، جو اُن سے زیادہ فضیلت وتقویٰ والا ہو، اور اس وقت اُن جیسا کوئی فقیہ بھی نہیں تھا۔)

اور حافظ ذہبی ہی نے صفحہ ۱۶۰ پر امام ابو داؤد رحمہ اللہ کا قول ذکر کیا ہے کہ

’’ ان ابا حنیفة کان اماما‘‘

(یعنی ابو حنیفہ رحمہ اللہ، وہ تو امام تھے۔)

﴿۳﴾ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’’لسان المیزان‘‘ کو میزان الاعتدال پر ہی مبنی کیا ہے، یعنی جن رجال کا تذکرہ میزان الاعتدال میں نہیں ہے، اُن کا تذکرہ لسان المیزان میں بھی نہیں ہے، سوائے چند ایک کے اور لسان المیزان میں امام ابو حنیفہ کا تذکرہ موجود نہیں ، یہ اس بات کی صریح دلیل ہے کہ امام ابو حنیفہ کے بارے میں یہ عبارت اصل میزان الاعتدال میں بھی نہیں تھی بعد میں بڑھا دی گئی۔

۴ شیخ عبد الفتاح ابو غدّہ الحلبی رحمہ اللہ نے ’’الرفع و التکمیل‘‘ کے حاشیہ کے صفحہ ۱۰۱ پر لکھا ہے کہ ’’میں نے دمشق کے مکتبہ ظاہریہ میں میزان الاعتدال کا ایک نسخہ دیکھا ہے (تحت الرقم ۳۶۸حدیث) جو پورا کا پورا حافظ ذہبی رحمہ اللہ کے ایک شاگرد علامہ شرف الدین الوانی کے قلم سے لکھا ہوا ہے اور اس میں یہ تصریح ہے کہ میں نے یہ نسخہ اپنے استاد حافظ ذہبی کے سامنے تین مرتبہ پڑھا اور ان کے مسودہ سے اس کا مقابلہ کیا ، اس نسخہ میں امام ابو حنیفہ کا تذکرہ موجود نہیں ہے ۔

اسی طرح حضرت شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی صاحب دام ظلکم العالی نے فرمایا کہ میں نے مراکش کے دار الحکومت رباط کے مشہور کتب خانہ ’’الخزانة العامرہ‘‘ میں ۱۳۹ ق نمبر کے تحت ’’میزان الاعتدال‘‘ کا ایک قلمی نسخہ دیکھا ، جس پر حافظ ذہبی کے بہت سے شاگردوں کے پڑھنے کی تاریخیں درج ہیں اور اس میں یہ بھی تصریح ہے کہ کہ حافظ ذہبی رحمہ اللہ کے ایک شاگرد نے اُن کے سامنے اُن کی وفات سے صرف ایک سال پہلے اسے پڑھا تھا، اس نسخہ میں بھی امام ابو حنیفہ کا تذکرہ موجود نہیں، یہ اس بات کا دستاویزی ثبوت ہے کہ امام ابو حنیفہ کے بارے میں یہ عبارت کسی نے بعد میں بڑھائی ہے ، اصل نسخہ میں موجود نہیں تھی ، لہٰذا ثابت ہوگیا کہ حافظ ذہبی کا دامن امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی تضعیف اور تنقیص کے الزام سے بالکل پاک ہے۔

حافظ ذہبی رحمہ اللہ ایسی بات لکھ بھی کیسے سکتے ہیں جبکہ خود انہوں نے ایک مستقل کتاب امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے مناقب پر لکھی ہے۔

پھر جہاں تک حافظ ابن عدی کا تعلق ہے، بے شک وہ شروع میں امام ابو حنیفہ کے مخالف تھے، لیکن بعد میں جب وہ امام طحاوی رحمہ اللہ کے شاگرد بنے تو امام اعظم کی عظمت اور جلالتِ قدر کا احساس ہوا، چنانچہ انہوں نے اپنے سابقہ خیالات کی تلافی کیلئے مسندِ ابی حنیفہ تحریر فرمائی، لہٰذا اُن کے سابقہ قول کو امام صاحب کے خلاف حجت میں پیش کرنا قطعاً درست نہیں۔

(فائدہ) مسند ابی حنیفہ کے نام سے سترہ یا اس زائد کتابیں لکھی گئیں، جن کو بعد میں علامہ ابن خسرو رحمہ اللہ نے ’’جامع مسانید الامام الاعظم‘‘ کے نام سے جمع کردی ہیں۔

(۳) امام اعظم رحمہ اللہ پر ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ امام نسائی نے اپنی کتاب’’الضعفاء‘‘ میں امام ابو حنیفہ کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ

’’نعمان بن ثابت ابو حنیفہ لیس بالقوی فی الحدیث‘‘ (یعنی نعمان بن ثابت ابو حنیفہ رحمہ اللہ حدیث کے معاملہ میں قوی نہیں تھے۔)

اس کا جواب یہ ہے کہ علماء نے جرح و تعدیل کے کچھ قاعدے مقرر کئے ہیں ، اور کسی راوی کے بارے میں جرح و تعدیل کا فیصلہ کرتے ہوئے اُن قواعد کو مد نظر رکھنا نہایت ضروری ہے ورنہ کسی بڑے سے بڑے محدث کی بھی عدالت و ثقاہت ثابت نہ ہو سکے گی ، کیونکہ تمام بڑے بڑے ائمہ پر کسی نہ کسی کی جرح ضرور موجود ہے ، چنانچہ امام شافعی پر یحییٰ بن معین نے ، امام احمد پر امام کرابیسی نے ، امام بخاری پر ذہلی نے اور امام اوزاعی پر امام احمد نے جرح کی ہے ، اگر اِن تمام اقوال کا اعتبار کیا جائے تو ان میں سے کوئی بھی ثقہ قرار نہیں پاسکتا ، انتہاء یہ ہے کہ ابن حزم نے امام ترمذی اور امام ابن ماجہ جیسے حضرات کو مجہول کہا ہے ،اور خود امام نسائی پر اتنے ہی علماء نے تشیّع (شیعہ) کا الزام کیا ہے اور اسی بناء پر انہیں مجروح کہا ہے ۔

حقیقت یہ ہے کہ علماء نے جرح و تعدیل میں کچھ اصول مقرر فرمائے ہیں ، اِ ن میں سے پہلا اصول یہ ہے کہ جس شخص کی امامت و عدالت حدّ تواتر کو پہنچی ہوئی ہو، اُس کے بارے میں ایک دو افراد کی جرح معتبر نہیں ، اورامام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی عدالت و امامت بھی حدّ تواتر کو پہنچی ہوئی ہے ، بڑے بڑے ائمہ حدیث نے آپ کے علم و تقویٰ کو خراج تحسین پیش کیا ہے ، اس لئے امام صاحب پر بھی آحاد کی جرح ہرگز معتبر نہیں۔

اس جواب پر ہمارے زمانے کے بعض جہلاء یہ اعتراض کرتے ہیں کہ محدثین کا معروف قاعدہ ہے کہ ’’الجرح مقدم علی التعدیل‘‘ (یعنی جرح تعدیل پر مقدم ہوتی ہے) لہٰذا جب امام صاحب کے بارے میں جرح و تعدیل دونوں منقول ہیں تو جرح راجح ہوگی، لیکن یہ اعتراض جرح و تعدیل کے اصول سے ناواقفیت پر مبنی ہے کیونکہ ائمہ حدیث نے اِس بات کی تصریح کی ہے کہ’’الجرح مقدم علی التعدیل‘‘ کا قاعدہ مطلق نہیں ، بلکہ چند شرائط کے ساتھ مقید ہے، اس کی تفصیل یہ ہے کہ اگر کسی راوی کے بارے میں جرح اور تعدیل کے اقوال متعارض ہوں ،ان میں ترجیح کے لئے علماء نے اوّلاً دو طریقے اختیار کئے ہیں، پہلا طریقہ جو کہ جرح و تعدیل کے دوسرے اصول کی حیثیت رکھتا ہے ،اُسے خطیب بغدادی نے ’’الکفایۃ فی اصول الحدیث والروایۃ‘‘ میں یہ بیان کیا ہے کہ
’’ایسے مواقع پر یہ دیکھا جائے گا کہ جارحین کی تعداد زیادہ ہے یا معدلین کی، جس کی طرف تعداد زیادہ ہوگی ، اُسی جانب کو اختیار کیا جائے گا ۔‘‘

شافعیہ میں سے علامہ تاج الدین سبکی رحمہ اللہ بھی اسی کے قائل ہیں ، اگر یہ طریقِ کار اختیار کیا جائے تب بھی امام ابو حنیفہ کی تعدیل میں کوئی شبہ نہیں رہتا ، کیونکہ امام صاحب پر جرح کرنے والے صرف معدودے چند افراد ہیں ،جن میں ایک نام حافظ ابن عدی رحمہ اللہ کا ہے، اور یہ تحریر کیا جا چکا کہ ابن عدی امام طحاوی کے شاگرد بننے کے بعد امام اعظم کی عظمت کے قائل ہوچکے تھے۔

اور دوسری طرف امام صاحب کے مادّحین اتنی بڑی تعداد میں ہیں کہ اُن کو گِنا بھی نہیں جاسکتا، نمونہ کے طور پر ہم چند اقوال پیش کرتے ہیں،
علمِ جرح و تعدیل کے سب سے پہلے عالم، جنہوں نے سب سے پہلے رجال پر باقاعدہ کلام کیا ،وہ امام شعبہ ابن الحجاج رحمہ اللہ ہیں ، جو امیر المؤمنین فی الحدیث کے لقب سے مشہور ہیں، وہ امام ابو حنیفہ کے بارے میں فرماتے ہیں ’’کان واﷲ ثقة ثقة‘‘ (یعنی میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں کہ وہ ثقہ تھے)

جرح و تعدیل کے دوسرے بڑے امام یحییٰ بن سعید القطّان ہیں ، یہ خود امام ابو حنیفہ کے شاگرد ہیں ، اور حافظ ذہبی نے ’’تذکرۃالحفاظ‘‘ میں اور حافظ ابن عبد البر رحمہ اللہ نے ’’الانتقاء‘‘ میں نقل کیا ہے کہ وہ امام ابو حنیفہ کے اقوال پر فتویٰ دیا کرتے تھے، اور جیسا کہ تاریخ بغداد، ج۱۳، ص۳۵۲ میں اُن کا مقولہ ہے،  ’’جالسنا واﷲابا حنیفة و سمعنا منہ فکنت کلما نظرت الیہ عرفت وجھہ انہ یتقی اﷲ عزوجل‘‘ (یعنی اللہ کی قسم ہم نے امام اعظم کی مجلس اختیار کی، اور اُن سے سماع کیا، اور میں نے جب بھی ان کی جانب نظر کی ،تو اُن کے چہرہ کو اس طرح پایا کہ بلاشبہ وہ اللہ سے ڈرنے والے ہیں۔)

امام یحییٰ بن سعید القطّان کا دوسرا مقولہ علامہ سندھی کی ’’کتاب التعلیم‘‘ کے مقدمہ میں منقول ہے ’’انہ لأعلم ھذہ الامۃ بماجاء عن اﷲ و رسولہ صلی اﷲعلیہ و سلم‘‘ (یعنی بلاشبہ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی جانب سے آنے والے احکام کو اس امت میں سب سے بہتر جاننے والے امام اعظم تھے۔)

جرح و تعدیل کے تیسرے بڑے امام یحییٰ بن سعید القطّان کے شاگرد یحییٰ بن معین ہیں، وہ امام ابو حنیفہ کے بارے میں فرماتے ہیں ، ’’کان ثقة حافظاً ،لا یحدث الا بما یحفظ ما سمعت احداً یجرحہ‘‘

(یعنی وہ معتمد علیہ اور حافظ تھے، اور وہی حدیث بیان کرتے تھے، جو انہیں حفظ ہوتی تھی، میں نے کسی کو نہیں سنا، جو اُن کی جرح کررہا ہو۔)

جرح و تعدیل کے چوتھے بڑے امام حضرت علی بن المدینی رحمہ اللہ ہیں ، جو کہ امام بخاری کے استاذ اور نقدِ رجال کے بارے میں بہت متشدد ہیں ، جیسا کہ حافظ ابن حجر نے فتح الباری کے مقدّمہ میں اس کی صراحت کی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ

’’ابو حنیفة روی عنہ الثوری و ابن المبارک و ھشام و وکیع و عباد بن العوام و جعفر بن عون و ھوثقة لا بأس بہ‘‘

(یعنی! امام ابو حنیفہ سے امام ثوری، ابن مبارک، ہشام، وکیع ، عبادبن عوام اور جعفر بن عون رحمھم اللہ نے روایت کی ہے، وہ ثقہ ہیں، ان سے روایت لینے میں کوئی حرج نہیں۔)

نیز حضرت عبد اللہ بن المبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں، ’’ لولا اعاننی اﷲ بابی حنیفة و سفیان لکنت کسائر الناس‘‘

(اگر اللہ عزوجل امام ابو حنیفہ اورامام سفیان ثوری رحمہما اللہ کے ذریعہ میری اعانت نہ فرماتے تو میں بھی عام لوگوں کی طرح ہوتا۔)

اور مکی بن ابراہیم کا مقولہ یہ ہے کہ ’’کان اعلم اھل زمانہ‘‘ (یعنی امام اعظم اپنے زمانے کے سب سے بڑے عالم تھے۔)

ان کے علاوہ یزہد بن ھارون ، سفیان ثوری ، سفیان بن عیینہ، اسرائیل بن یونس ، یحییٰ بن آدم، وکیع بن الجراح ، امام شافعی اور فضل بن دکین رحمہم اللہ جیسے ائمہ حدیث سے بھی امام ابو حنیفہ کی توثیق منقول ہے، علم حدیث کے ان بڑے بڑے اساطین کے اقوال کے مقابلہ میں دو تین افراد کی جرح کس طرح قابلِ قبول ہوسکتی ہے، لہٰذا اگر فیصلہ کثرتِ تعداد کی بنیاد ہو تب بھی امام صاحب کی تعدیل بھاری رہے گی۔

جرح و تعدیل کے تعارض کو رفع کرنے کا دوسرا طریقہ جو کہ جرح و تعدیل کے تیسرے اصول کی حیثیت رکھتا ہے، وہ حافظ ابن الصلاح رحمہ اللہ نے مقدمہ میں بیان کیا ہے اور اسے جمہور محدثین کا مذہب قرار دیا ہے، ’’وہ یہ کہ اگر جرح مفسَّر نہ ہو، یعنی اس میں سبب جرح بیان نہ کیا گیا ہو تو تعدیل اس میں ہمیشہ راجح ہوگی ، خواہ تعدیل مفسَّر ہو یا مبہم۔‘‘

اس اصول پر دیکھا جائے تو امام ابو حنیفہ کے خلاف جتنی جرحیں کی گئی ہیں ، وہ سب مبہم ہیں ، اور ایک بھی مفسَّر نہیں ، لہٰذا ان کا اعتبار نہیں اور تعدیلات تمام مفسَّر ہیں ، کیونکہ اس میں ورع اور تقوی اور حافظہ تمام چیزوں کا اثبات کیا گیا ہے ، خاص طور سے اگر تعدیل میں اسباب جرح کی تردید کر دی گئی ہو تو وہ سب سے زیادہ مقدم ہوتی ہے اور امام صاحب کے بارے میں ایسی تعدیلات بھی موجود ہیں ، خلاصہ یہ ہے کہ ’’الجرح مقدم علی التعدیل‘‘ کا قاعدہ اُس وقت معتبر ہوتا ہے جبکہ جرح مفسَّر ہو، اور اس کا سبب بھی معقول ہو اور بعض علماء کے نزدیک یہ شرط بھی ہے کہ معدلین کی تعداد جارحین سے زیادہ نہ ہو۔

(۴) امام اعظم پر ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ امام دار قطنی رحمہ اللہ نے اپنی سنن میں حدیث نبوی ﷺ ’’من کان لہ امام فقراء ۃالامام لہ قراء ۃ‘‘ کے تحت لکھا ہے کہ’’ لم یسندہ عن موسیٰ بن ابی عاءشة غیر ابی حنیفة و الحسین بن عمارۃ وھما ضعیفان‘‘

(یعنی اس حدیث کو موسی بن ابی عائشہ سے امام ابو حنیفہ اور حسین بن عمارہ کے علاوہ کسی نے روایت نہیں کیا، اور یہ دونوں حضرات ضعیف ہیں)

بلاشبہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے بارے میں امام دار قطنی رحمہ اللہ کی جرح ثابت ہے ، لیکن اس کا جواب وہی ہے ، جو امام نسائی کی جرح کا ہے، غور کرنے کی بات ہے کہ امام ابو حنیفہ کے بارے میں امام شعبہ، یحییٰ بن سعید القطان، یحییٰ بن معین، علی بن المدینی، عبد اللہ بن مبارک، سفیان ثوری، وکیع بن الجراح، مکی بن ابراہیم، اسرائیل بن یونس اور یحییٰ بن آدم جیسے ائمہ حدیث کا قول معتبر ہوگا ، جو امام ابو حنیفہ کے معاصر ہیں یا اُنکے قریب العہد ہیں یا امام دار قطنی کا، جو امام صاحب کے دو سال بعد پیدا ہوئے ، بلکہ یحییٰ بن معین کے قول سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اُن کے زمانہ تک کسی شخص نے بھی امام صاحب پر جرح نہیں کی ، کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ’’ ما سمعت احداً یجرحہ‘‘

اب سوال یہ رہ جاتا ہے کہ امام نسائی اور امام دار قطنی جیسے ائمہ حدیث نے امام صاحب کے بارے میں ایسی بے بنیاد بات کیسے کہہ دی؟؟

اس کا جواب یہ ہے کہ ہمیں ان بزرگوں کے اخلاص پر کوئی بد گمانی نہیں ، لیکن واقعہ یہ ہے کہ امام اعظم ابو حنیفہ کو اللہ تعالیٰ نے جو مقام بخشا تھا ، اُس کی بناء پر اُن کے حاسدین بے شمار تھے اور انہوں نے امام صاحب کے بارے میں طرح طرح کی باتیں مشہور کر رکھی تھی، مثلاً یہ پروپیگنڈہ تو عام تھا کہ امام صاحب قیاس کو احادیث پر ترجیح دیتے ہیں ، یہ پروپیگنڈہ اس شدت کیساتھ کیا گیا کہ بعض ایسے اہل علم بھی اس سے متاثر ہوگئے ،جو امام ابو حنیفہ کے حالات سے ذاتی طور پر واقف نہیں تھے ، اِن اہل علم میں سے جن حضرات کو حقیقتِ حال کا علم ہوگیا انہوں نے بعد میں امام صاحب کی مخالفت سے رجوع کرلیا، جیسے حافظ ابنِ عدی ،( جیسا کہ ان کے بارے میں بیان ہوچکا)

دوسری مثال امام اوزاعی کی ہے،
علامہ کردری نے صیمری سے اپنی سند سے عبد اللہ بن البارک کا یہ قول ’’مناقب الامام الاعظم‘‘ جلد اول میں صفحہ ۳۹ پر نقل کیا ہے کہ ’’میں شام آیا اور امام اوزاعی سے ملا ، انہوں نے جب یہ سنا کہ میں کوفہ سے آیا ہوں تو مجھ سے پوچھا،  ’’من ھٰذا المبتدع الخارج بالکوفة یکنی بابی حنیفة ‘‘ ٰ(یعنی کوفہ میں یہ بدعتی و خارجی کون ہے؟ وہ امام ابو حنیفہ سے کنایہ کر رہے تھے۔)
عبد اللہ ابن المبارک فرماتے ہیں کہ میں نے اس وقت اُن کوئی مفصل جواب دینا مناسب نہیں سمجھا اور اپنے ٹھکانے پر واپس آگیا، البتہ بعد میں نے یہ کیا کہ امام ابو حنیفہ کے مستنبط کئے ہوئے فقہی مسائل، جو میرے پاس محفوظ تھے، تین دن میں اُن کا مجموعہ تیار کیا اور اُن کے شروع میں’’قال ابو حنیفہ‘‘ (ابو حنیفہ نے فرمایا) کے بجائے ’’قال النعمان بن ثابت‘‘ لکھ دیا، اور اسے تیسرے دن امام اوزاعی کے پاس لے گیا، انہوں نے اس کا مطالعہ کیا اور مجھ سے دریافت کیا ’’من النعمان؟ (کون ہے یہ نعمان؟) ’’قلت ابو حنیفة الذی ذکرتہ‘‘ (میں نے کہا یہ امام ابو حنیفہ ہیں ، جنکا آپ نے ذکر کیا تھا)  اس کے بعد میں نے دیکھا کہ امام اوزاعی کی ملاقات ابو حنیفہ سے ہوئی، دونوں میں انہی مسائل میں گفتگو ہوتی رہی، جو مسائل میں نے لکھ کر امام اوزاعی کو پیش کئے تھے، امام اعظم اُن مسائل کو مجھ سے زیادہ کھول کھول کر وضاحت کے ساتھ بیان کرتے رہے،  جب امام ابو حنیفہ چلے گئے تو میں نے امام اوزاعی سے دریافت کیا ’’کیف رأیتہ؟ (آپ نے ان کو کیسا پایا؟) تو انہوں نے جواب دیا
’’غبطت الرجل لکثرۃ علمہ و فور عقلہ استغفر اﷲ لقد کنت فی غلط ظاھر الزمہ فانہ بخلاف ما بلغنی عنہ‘‘ (مجھے اس شخص پر، اس کی کثرتِ علم اور بے انتہاء دانائی کی وجہ رشک آتا ہے، میں اللہ سے معافی چاہتا ہوں، میں ان الزامات کے بارے میں واضح طور پر غلط تھا، بلاشبہ وہ تو ،ان الزامات کے بالکل برعکس ہیں ،جو مجھ تک پہنچے۔)

البتہ جن اہل علم کو امام صاحب کے بارے میں حقیقت معلوم نہ ہو سکی وہ اپنے موقف پر قائم رہے، اپنے اخلاص کی وجہ سے وہ انشاء اللہ معذور ہیں، لیکن اُن کے اقوال کو ایسے لوگوں کے مقابلہ میں حجت نہیں بنایا جا سکتا، جو امام اعظم رحمہ اللہ سے حقیقتاً واقف تھے،
خلاصہ یہ کہ علمِ حدیث میں امام ابو حنیفہ کا مقام نہایت بلند پایہ ہے اور جن حضرات کو اس سے تکدّر ہوا، وہ غلط اطلاعات کی بناء پر ہوا، یہی وجہ ہے کہ جن حضرات نے انصاف کے ساتھ امام صاحب کے حالات کا مطالعہ کیا ہے، وہ اسی نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ علمِ حدیث میں بھی امام ابو حنیفہ بلند مقام کے حامل ہیں اور اُن پر اعتراضات درست نہیں۔

چنانچہ نواب صدیق حسن خان صاحب نے اپنی کتاب ’’التاج المکلل‘‘ میں امام ابو حنیفہ کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کی فقہ اور ورع کی تعریف کرتے ہیں اور آخر میں لکھتے ہیں ’’ولم یکن یعاب بشیءٍ سویٰ قلّة العربیة‘‘ (یعنی ان میں کوئی عیب نہیں تھا، سوائے قلّتِ عربیت کے)

یہاں نواب صدیق حسن خان صاحب نے علمِ حدیث کے اعتبار سے امام ابو حنیفہ پر کوئی اعتراض نہیں کیا ، البتہ قلّتِ عربیہ کا الزام لگایا ہے اور یہ الزام بھی کسی طرح بھی درست نہیں، دراصل یہ جملہ نواب صاحب نے قاضی ابنِ خلکان کی ’’وفیات الاعیان‘‘ سے نقل کیا ہے، لیکن آگے خود قاضی ابنِ خلکان نے اِس الزام کی جو تردید نقل کی ہے، اسے نواب صاحب نے نقل نہیں کیا (اب اِس ادھوری بات کے نقل کرنے کو کیا کہا جائے؟؟؟)
قاضی ابنِ خللکان نے لکھا ہے کہ امام صاحب پر قلّتِ عربیہ کا جو الزام عائد کیا گیا ، اِ س کی بنیاد صرف ایک واقعہ پر ہے، اور وہ یہ کہ ایک مرتبہ امام ابو حنیفہ مسجد حرام میں تشریف فرماتھے، وہاں ایک مشہور نحوی نے اُن سے پوچھا کہ اگر کوئی شخص کسی کو پتھر مار کر ہلاک کردے، تو اس پر قصاص آئے گا یا نہیں؟

امام صاحب نے فرمایا کہ نہیں، اس پر نحوی نے متعجب ہوکر پوچھا ’’ولو رماہ بصخرۃ ؟‘‘ (اگرچہ اس نے چٹان سے مارا ہو؟) اس پر امام صاحب نے فرمایا کہ’’نعم ولو رماہ بابا قبیس‘‘

اس سے اس نحوی نے یہ مشہور کردیا کہ امام صاحب کو عربیت میں مہارت نہیں ،کیونکہ ’’بابی قبیس‘‘ کہنا چاہیئے تھا، لیکن قاضی ابنِ خلکان لکھتے ہیں کہ امام صاحب پر یہ اعتراض درست نہیں کیونکہ بعض قبائلِ عرب کی لغت میں اسماء ستّہ مکبّرہ کا اعراب حالتِ جرّی میں بھی الف سے ہوتا ہے، چنانچہ ایک شاعر کا مشہور شعر ہے ع
ان اباھا و ابا اباھا۔۔۔ قد بلغا فی المجد غایتاھا
(بلا شبہ اُس کا باپ اور اُس کے باپ کا باپ، دونوں بزرگی کی انتہاء کو پہنچ گئے)
یہاں قاعدہ کی رُو سے ’’ابا ابیھا‘‘ ہونا چاہیئے تھا، لیکن شاعر نے حالتِ جری میں بھی اعراب الف سے ظاہر کیا ، لہٰذا امام ابو حنیفہ کا مذکورہ بالاقول انہی قبائلِ عرب کی لغت کے مطابق تھا، صرف اس واقعہ کو بنیاد کر امام اعظم ابو حنیفہ جیسی شخصیت پر قلّتِ عربیت کا الزام نا انصافی اور شاید حسد کے سوا کچھ نہیں، یہاں اِس بحث کا مختصر خلاصہ ذکر کیا گیا ہے ، تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو ، علامہ ظفر احمد عثمانی نور اللہ مرقدہ کی کتاب ’’انجاء الوطن من الازدراء بامام الزمن‘‘ میں دیکھی جاسکتی ہے۔

(۵) امام اعظم پر ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ امام بخاری نے ’’تاریخ صغیر‘‘ میں نعیم ابن حماد کے حوالہ سے روایت کیا ہے کہ جب امام ابو حنیفہ کی وفات کی خبر سفیان ثوری کی مجلس میں پہنچی، تو انہوں نے فرمایا ’’الحمد اﷲ کان ینقض الاسلام عروۃعروۃ ما ولد فی الاسلام اشئم منہ‘‘

(الحمد للہ! وہ اسلام کو واضح طور پر ڈھانے والا تھا، اس سے نامبارک شخص اسلام میں نہیں آیا)

اس کا جواب یہ ہے کہ یہ روایت بلاشبہ غلط ہے، اس کے بارے میں امام بخاری کو تو متّہم نہیں کیا جاسکتا، انہوں نے جیسا سنا ویسا لکھ دیا، یہ نعیم بن حماد امام ابو حنیفہ کے بارے میں نہایت متعصب ہے، اس لئے اس روایت کی تکذیب کے لئے صرف اتنا کہنا ہی کافی ہے کہ یہ نعیم بن حماد سے مروی ہے، کیونکہ حافظ ابنِ حجر نے ’’تہذیب التہذیب‘‘ میں کئی ائمہ حدیث سے نقل کیا ہے کہ اگرچہ بعض لوگوں نے نعیم کی توثیق کی ہے، لیکن وہ امام ابو حنیفہ کے معاملہ میں جھوٹی روایات نقل کرتے ہیں، حافظ فرماتے ہیں ’’یروی حکایات فی ثلب ابی حنیفة کلہا کذب‘‘ (یعنی وہ امام ابو حنیفہ کو عیب دار کرنے کے لئے ایسی حکایات روایت کرتا ہے، جو ساری کی ساری جھوٹی ہیں)

اس جملہ کے کے بعد اس حکایت کی جواب دہی کی ضرورت نہیں رہتی اور سوچنے کی بات ہے کہ سفیان ثوری ایسی بات کیسے کہہ سکتے ہیں، جبکہ وہ خود امام صاحب کے شاگرد ہیں، اور تقریباً نوّے فیصد مسائلِ فقہیّہ میں امام ابو حنیفہ کی موافقت کرتے ہیں، اور خود انہی کا واقعہ ہے، جو غالباً حافظ ابنِ حجر ہی نے نقل کیا ہے کہ جب امام ابو حنیفہ اُن کے بھائی کی تعزیت کے لئے اُن کے پاس آئے تو سفیان ثوری نے اپنے حلقۂ درس سے کھڑے ہوکر اُن کا استقبال کیا، بعض حاضرین نے اس تعظیم پر اعتراض کیا، تو امام سفیان ثوری نے جواب دیا، ’’ھٰذا رجل من العلم بمکان فان لم اقم لعلمہ قمت لسنّہ و ان لم اقم لسنّہ قمت لفقھہ و ان لم اقم لفقھہ قمت لورعہ‘‘ (یعنی یہ شخص علم کی بناء پر ایسے مقام پر ہے، اگر میں اس کے علم کی وجہ سے کھڑا نہ ہوں، تو اس کی عمر وجہ سے کھڑا ہوں گا، اور اگر میں اس کی عمر وجہ سے کھڑا نہ ہوں تو اس فقاہت کی وجہ سے کھڑا ہوں گا اور اگر اس کی فقاہت کی وجہ سے بھی نہ کھڑا ہوں، تو پھر اس کے تقویٰ کی وجہ سے کھڑا ہوں۔)

اس سے صاف ظا ہر ہے کہ سفیان ثوری امام ابو حنیفہ کی کتنی عزت کرتے تھے۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ امام بخاری جیسے جلیل القدر محدث نے ایسا جھوٹا قصہ کیونکر روایت کردیا؟؟؟

اس کا جواب یہ ہے کہ امام ابو حنیفہ کے خلاف تعصب رکھنے والوں نے امام بخاری کو امام ابو حنیفہ کے خلاف بہت مکدر کیا ہوا تھا، اس لئے انہیں نعیم بن حماد کی روایات میں کوئی خرابی محسوس ہی نہ ہوسکی، حاسدین کی سازشوں کے علاوہ امام بخاری کے تکدر کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ کے استاذ حُمیدی ظاہری المسلک تھے، اور ظاہریہ کو حنفیہ کے خلاف ہمیشہ سے غیظ رہا ہے، لہٰذا امام بخاری بھی اپنے استاذ کے اثرات سے خالی نہ رہ سکے۔

شیخ عبد الوہاب شعرانی نے ’’المیزان الکبریٰ‘‘ میں نقل کیا ہے کہ شروع میں سفیان ثوری بھی بعض لوگوں کے اس خیال سے متاثر ہوگئے تھے کہ امام صاحب قیاس کو نصوص پر مقدم رکھتے ہیں، چنانچہ ایک دن سفیان ثوری مقاتل بن حیان، حماد بن سلمہ اور جعفر صادق رحمہ اللہ اُن کے پاس گئے، اور بہت سے مسائل پر صبح سے ظہر تک گفتگو رہی، جس میں امام صاحب نے اپنے مذہب کے دلائل پیش کئے، تو آخر میں سب حضرات نے امام صاحب کے ہاتھ چومے اور اُن سے کہا کہ ’’انت سیّد العلماء فاعف عنا فیما مضیٰ منا من وقیعتنا فیک بغیر علم ‘‘
(آپ تو علماء کے سردار ہیں، ہم سے آپ کے متعلق لاعلمی میں جو کچھ ہوا، اسے درگزر فرمادیں)

امام اعظم امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالٰی پر کئے جانے والے اعتراضات کا تحقیقی جائزہ

(۶) امام اعظم پر ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ ولید بن مسلم کہتے ہیں کہ ’’قال مالک بن انس ایذکر ابو حنیفة فی بلادکم قلت نعم فقال ما ینبغی لبلادکم ان تسکن‘‘ (ترجمہ) امام مالک بن انس رحمہ اللہ نے فرمایا، کیا تمہارے شہروں میں ابو حنیفہ کا تذکرہ ہوتا ہے، میں نے کہا، ہاں! تو انہوں نے جواب میں فرمایا کہ ان شہروں میں تمہارا رہنا مناسب نہیں۔

اس کے جواب میں شیخ عبد الوہاب شعرانی ’’المیزان الکبریٰ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ حافظ مزنی نے فرمایا ہے کہ اس روایت کے راوی ولید بن مسلم ضعیف ہیں، اور اگر بالفرض امام مالک رحمہ اللہ کا یہ قول ثابت بھی ہو تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ جس شہر میں امام ابو حنیفہ جیسا عالم موجود ہو تو وہاں کسی اور عالم کی ضرورت نہیں۔

(۷) امام ابو حنیفہ پرسب سے بڑا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ وہ قیاس کو نصوص پر مقدم کرتے ہیں۔

اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بات واقعہ کے بالکل خلاف ہے، اس کے برعکس امام صاحب تو بعض اوقات متکلم فیہ حدیث کی وجہ سے بھی قیاس کو چھوڑ دیتے ہیں، جیسا کہ ’’نقض الوضوء بالقھقھة‘‘ کے مسئلہ میں انہوں نے قیاس کو ترک کر دیا، حالانکہ اس باب میں احادیث متکلم فیہ ہیں اور دوسرے ائمہ نے اُن کو چھوڑ کر قیاس پر عمل کیا ہے۔

اس مسئلہ میں شیخ عبد الوہاب شعرانی نے ،جو خود شافعی المسلک ہیں، اپنی کتاب ’’المیزانالکبریٰ‘‘ میں ایک مستقل فصل قائم کی ہے،  ’’فصل فی بیان ضعف قول من نسب الامام ابا حنیفة الیٰ انہ یقدّم القیاس علیٰ حدیث رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم‘‘
(یعنی یہ فصل اُس شخص کے قول کے ضعیف ہونے کے بیان میں ہے ،جو امام ابو حنیفہ کی طرف اس بات کی نسبت کرتا ہے کہ وہ قیاس کو حدیث پر مقدم رکھتے ہیں)

’’اعلم! ان ھٰذا الکلام صدر من متعصب علی الامام متھور فی دینہ غیر متورع فی مقالہ غافلاً عن قولی تعالٰی ’’ان السمع و البصر و الفؤاد کل اولٰٓئک کان عنہ مسؤلاً‘‘ و عن قولہ تعالیٰ ’’مایلفظ من قول الا لدیہ رقیب عتید‘‘ وقد روی الامام جعفر الشیزاماری (نسبۃ الٰی قریۃمن قری بلخ) بالسند المتصل الی الامام ابی حنیفة رضی اﷲ عنہ‘‘ کذب واﷲ وافتری علینا من یقول عنا اننا نقدم القیاس علی النص وھل یحتاج بعد النص الٰی قیاس وکان رضی اﷲ عنہ یقول نحن لانقیس الا عند الضرورۃالشدیدۃ وذٰلک اننا ننظر اولا فی دلیل تلک المسءلة من الکتاب والسنة وقضیة الصحابۃ فان لم نجد دلیلا قسنا حینئذ،  وفی روایة اخری کا یقول ماجاء عن رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم فعلی الرأس والعین بابی ھووامی ولیس لنا مخالفة ولاجائنا عن اصحابہ تخیرنا وماجاء نا عن غیرھم فھم رجال ونحن رجال‘‘

(ترجمہ)خوب جان لو، کہ بلاشبہ یہ کلام امام ابو حنیفہ کے خلاف ایسے متعصب سے صادر ہوا، جو اپنے دین سے لاپرواہی کرنے والا اور اپنے کلام میں غیر محتاط ہے اور اللہ رب العزت کے اس فرمان سے غفلت برتنے والا ہے ’’بلاشبہ کان، آنکھ اور دل، ان سب کے متعلق اس سے پوچھا جائے گا۔‘‘ اوروہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے بھی غافل ہے، ’’وہ کوئی بات نہیں بولتا مگر اس کے پاس ایک نگہبان تیار ہوتا ہے۔‘‘ تحقیق امام ابو جعفر شیزاماری (شیزاماری بلخ کی بستیوں میں سے ایک بستی کی طرف نسبت ہے) نے سندِ متصل سے امام اعظم رضی اللہ عنہ روایت کیا کہ ’’خدا کی قسم !یہ ہم پر جھوٹ اور افتراء ہے ، جو ہمارے بارے میںیہ کہتا ہے کہ ہم قیاس کو نص پر مقدم کرتے ہیں، اور کیا نص کے آنے کے بعد قیاس کی احتیاج ہوسکتی ہے؟؟؟ (یعنی ہرگز نہیں ہوسکتی)

امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو یہ کہتے تھے کہ ہم صرف ضرورتِ شدیدہ کے وقت ہی قیاس کرتے ہیں اور وہ بھی اس طرح کہ ہم اوّلاً ، اس مسئلہ کی دلیل کتاب اللہ، سنتِ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے قضایا میں دیکھتے ہیں، اور اگر ہم اِن تمام میں کوئی دلیل نہیں پاتے ، تو پھر اُس وقت ہم قیاس کرتے ہیں۔

اور دوسری روایت میں ہے کہ امام اعظم فرماتے ہیں کہ جو چیز رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے ، وہ تو ہمارے سر آنکھوں پر، ان پر میرے ماں باپ قربان ہوں،اس سے تو کوئی مخالفت نہیں اور جو چیز صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے ثابت ہے، اُسے تو ہم اختیار کرتے ہیں ، اور جو چیز ان کے علاوہ اور لوگوں سے ثابت ہے، تو وہ تو لوگ ہیں اور پھر ہم بھی تو لوگ ہیں۔

اس کے علاوہ شیخ شعرانی رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں، ’’اعلم یا اخی! انی لم اجب علٰی الامام بالصدر واحسان الظن فقط کما یفعل بعض وانما اجبت عنہ بعد التتبع والفحص فی کتب الادلة و مذھبہ اول المذاھب تدویناً و اٰخرھا انقراضاً کما قال بعض اھل الکشف‘‘

(ترجمہ) خوب اچھی طرح جان لو میرے بھائی! میں امام ابو حنیفہ کے خلاف ہونے اعتراض کا جواب فقط اپنے دل سے پوچھ کر یا صرف انکے ساتھ حنِ ظن ہی کی وجہ سے نہیں دے دیتا ، جیسا کہ بعض حضرات کرتے ہیں،بلکہ میں دلائل کی کُتب کی خوب چھان پھٹک اور تحقیق کے بعد جواب دیتا ہوں، امام اعظم کامذہب(مسلک) وہ پہلا مذہب ہے ، مدوّن ہونے کے اعتبار سے اور آخری مذہب ہے ، مٹ جانے کے اعتبار سے ، جیسا کہ بعض اہلِ کشف نے فرمایا۔

(۸) امام اعظم پر ایک اعتراض یہ بھی کیا جاتا ہے کہ اُن کے مستدلات علمِ حدیث کی رُو سے ضعیف ہوتے ہیں۔

اس کا تفصیلی جواب جو تو ہر ہر ایسے مسئلہ کے ذیل میں ہی دینا مناسب ہے، جس مسئلہ کے مستدل کو لوگوں نے ضعیف کہا ہے، البتہ ان کا مجموعی جواب شیخ عبد الوہاب شعرانی رحمہ اللہ نے دیا ہے، وہ لکھتے ہیں کہ ’’میں نے امام ابو حنیفہ کے ادلّہ پر خوب غور کیا ، اور اس نتیجہ پر پہنچا کہ امام صاحب کے دلائل یا تو قرآن کریم سے ماخوذ ہیں یا احادیثِ صحیحہ سے یا احادیث سے حسنہ سے، یا ایسی ضعیف احادیث سے جو تعددِ طُرق کی وجہ سے حَسَن کے درجہ میں آگئی ہیں، اس سے نیچے کوئی دلیل نہیں۔

المصادر و المراجع و التفاصیل

(۱) انجاء الوطن عن الازدراء بامام الزمن للشیخ ظفر احمد عثمانی نور اﷲ مرقدہ
(۲)الرفع و التکمیل فی الجرح والتعدیل للامام عبد الحیی اللکھنوی مع تعلیقہ للشیخ عبدالفتاح ابی غدۃ الحلبی رحمہ اﷲ
(۳)مقدمۃ التعلیق الممجد علی المؤطا للامام محمد للشیخ اللکھنوی
(۴)الانتقاء فی فضائل الثلاثۃ الائمۃ الفقہاء للحافظ ابن عبد البر الاندلسی
(۵)تبییض الصحیفۃ فی مناقب الامام ابی حنیفۃ لجلال الدین السیوطی

Misunderstanding Imam Abu Hanifa’s Quote of 99 Factors of Kufr and 1 Factor of Imaan

By Mujlisul Ulama

According to Imaam Abu Hanifah (rahmatullah alayh), if there are 99 factors of kufr and one factor of Imaan in a person, the 99 factors of kufr should be discarded and the person proclaimed a Muslim. This statement of Imaam-e-A’zam has been gravely misunderstood.

On the basis of the misconception some believe that the validity of Imaan requires only one factor of Imaan. Even if there exist 99 factors of kufr, a man still remains a Mu’min in terms of this huge misconception.

It is indeed a terrible error to believe that even 99 factors of kufr do not eliminate Imaan. In fact, according to the Ijma’ (Consensus) of the authorities of the Shariah, the presence of just one factor of kufr renders a person a kaafir.

The meaning of Imaam-e-A’zam’s statement is that if there are 99 probabilities of kufr and only one probability of Imaan in any particular statement of a man, then the statement will not be given an interpretation of kufr. The verdict of Imaan will be issued. The statement of Imaam Abu Hanifah (rahmatullah alayh) has been formulated as the standard for Takfeer, i.e. proclaiming a person to be a kaafir. If a particular statement of a man can be interpreted to save him from the proclamation of kufr, a fatwa of kufr will not be issued.

This standard of the Fuqaha never means that a man remains a Muslim if, for example, he refutes the essentials of Islam and accepts only one belief. If a man denies the Eternity of Allah Ta’ala, the Finality of Nubuwwat, the Resurrection in Qiyaamah, the Five Fardh Salaat, Zakaat, Hajj, the Ambiya, etc., etc., but believes in the Messengership of Rasulullah (sallallahu alayhi wasallam), such a person will never be a Muslim. If the erroneous conception has to be accepted, it will follow that all Qadianis, Bahais, the multitudes of kuffaar and even Shaitaan himself, are Muslims because in all these kuffaar there will be one or more factors of Imaan. Christians who subscribe to the kufr and shirk of trinity believe in Qiyaamah, in Jannat, in Jahannum, etc. Thus, in terms of the fallacious conception, they all will be Muslims. Such clear-cut conflict with the Qur’aan is without doubt a misundertanding.

The Sunnah Style of the Kurtah

QUESTION:
What is the Sunnah style of the kurtah for a man? Which style has a greater resemblance with the Sunnah – the maxi-kurtah which the Arabs wear or the kurtah with side slits worn by the Ulama of India and Pakistan? There appears to be much controversy on this issue.

ANSWER (By Mujlisul Ulama): 

The unnecessary controversy in this regard is the nafsaani machination of such ‘learned’ men and their students whose primary concern is not the Sunnah. They are influenced by the Salafi Arabs who have adopted the long, maxi kurtah. Some of the maxi-kurtahs worn by the present-day Arabs are even below the ankle.

There is no resemblance whatsoever between the current maxi Arab-style kurtah and the kurtah which Rasulullah (sallallahu alayhi wasallam) wore. The maxi-kurtah which is on or below the ankles is haraam. The question of Sunnah simply cannot be directed towards it. It is also a clumsy garment in emulation of female dresses. It hampers free movement. It thus is a garment which is unbefitting for a Muslim male.

The kurtah worn by the Ulama of India and Pakistan has a very close resemblance to the (Kurtah) original of Qamees Rasulullah (sallallahu alayhi wasallam) and the Sahaabah. Firstly, its length is the Sunnah length stated in the Hadith. According to the Hadith, the length of Rasulullah’s kurtah was midway between the knees and ankles. This attribute exists in the kurtah of our Akaabir Ulama. 

As for the side slits – although we have not been able to find an explicit reference to it in the Hadith, the presumption that the Sunnah kurtah did have slits is based on two factors:

(1) The Akaabir Ulama and Auliya of India and Pakistan did not forge this style. They did not call a conference to decide on a kurtah style. They inherited it from the seniors above them who in turn inherited it from the seniors above, and so on until the Chain of inheritance links up with the Sahaabah. From the life-style and ideology of our Akaabir Ulama, it is clear that there exists Ta-aamul (unbroken practice on which there is continuity from one generation to the other).

Our senior Ulama and Auliya were meticulous in their observance of inherited practices. Furthermore, they had a natural aversion for new and innovated practices. It should be remembered that the Silsilah of our Akaabireen who were all top-ranking Auliya who meticulously practised every detail of the Sunnah, is an unbroken Chain linking directly to the Sahaabah. There is no missing link anywhere in this golden Silsilah.

It has always been the practice to adopt the ways and styles of the senior Shaikh above. In this manner, the practices were transmitted and transferred from one generation to the next. For example, our Shaikh Hadhrat Maulana Masihullah (rahmatullah alayh) did not invent the kurtah which he used to wear. He simply wore the style which his Asaatizah and Mashaaikh wore. His Shaikh, Hadhrat Maulana Ashraf Ali Thaanvi (rahmatullah alayh), did not introduce the kurtah style we are wearing. He simply adopted the style of his seniors who in turn had adopted the style of their seniors, and so on until the Chain ends with the Sahaabah. Thus, it is safe to presume that the Masnoon kurtah did have side-slits.

(2) Everyone is well aware that the Sahaabah were the greatest of fighters. They were expert horseman. Horse-riding was not a hobby or a part-time activity for them. It was a way of life. It is quite obvious that the clumsy, womanish maxi-kurtah which extends below the ankles, as well as the Salafi maxi-kurtah without slits but above the ankles and not in conformity with the Masnoon length, do not permit free and fast movement. Running, jumping and leaping with the womanish kurtah is most difficult. Unrestricted movement is hampered. The maxi-kurtah is a most unbefitting garment for a horseman and a Mujaahid in the battlefield.

Giving naseehat to an army of the Sahaabah setting out to conquer the lands of the kuffaar and to settle there, Ameerul Mu’mineen, Hadhrat Umar (radhiyallahu anhu) stressed two acts: (a) Do not shy away from the sun. Sunshine is our bath. Sun-bathing was a way of life for the Sahaabah. They were robust and courageous. Hadhrat Umar (radhiyallahu anhu) instructed them to beware of the luxury and comfort of the Ajam (non-Arabs). (b) Do not mount your horses like the Ajam. While non-Arabs would climb onto their horses, the Sahaabah would leap on to their horses. They would sprint and leap into the saddle. We are certain that this act is not possible with the maxi-womanish kurtah which the flabby and obese Arabs of this age have adopted, and which some molvis in our circles are advocating. There is a nafsaani agenda for this advocacy.

It should now be clear that the kurtah of our Akaabir Ulama and Auliya has the greatest resemblance with the kurtah of Rasulullah (sallallahu alayhi wasallam), and perhaps it is identical. Ta-aamul of the Akaabireen is the strongest argument to bolster this claim.

Related Reading: Islamic Dress Code According To The Sunnah

Gunyat al-Talibeen and Answer to the Accusation of Irja to Imam Abu Haneefah (Rahmatullah Alayh)

Ghair Muqallideen, the so-called Ahl-e-Hadith, target Hanafis and present a text of Gunyat al-Talibeen by Shaikh Abdul Qadir  Jeelani (rahmatullah alayh) against the Hanafis and label them as deviant and Bid’ati sect.

The Ghair Muqallideen say that Sheikh Abdul Qadir Jeelani (rahimahullah) has counted Hanafis and their Imam Abu Hanifa Nu’man  Bin Thabit (rahimahullah) under the category of Murjiya sect and regarded them as Ghair Naji (who will not get deliverance from hellfire).  [Gunyat al-Talibeen by Sheikh Abdul Qadir Jeelani (rh), Page: 222, Translation: Hafiz Mubassir Hussain Lahori, Darul Ilm Mumbai]

So, therefore, let us analyze this text in detail:

Answer 1:

Imam Ibn Hajr Haythami  (rahimahullah) says about the book Gunyat al-Talibeen: “There were inserted many things in the book which were not therein earlier” as Imam Ibn Hajar Haythami (rahimahullah) writes in his book:

ﻭَﺇِﻳَّﺎﻙ ﺃَﻥ ﺗﻐﺘﺮ ﺃَﻳْﻀﺎ ﺑِﻤَﺎ ﻭَﻗﻊ ﻓِﻲ ‏[ﺍﻟﻐُﻨْﻴﺔ‏] ﻹِﻣَﺎﻡ ﺍﻟﻌﺎﺭﻓﻴﻦ ﻭﻗﻄﺐ ﺍﻟْﺈِﺳْﻠَﺎﻡ ﻭَﺍﻟْﻤُﺴْﻠِﻤﻴﻦ ﺍﻟْﺄُﺳْﺘَﺎﺫ ﻋﺒﺪ ﺍﻟْﻘَﺎﺩِﺭ ﺍﻟﺠﻴﻼﻧﻲ، ﻓَﺈِﻧَّﻪُ ﺩﺳَّﻪ ﻋَﻠَﻴْﻪِ ﻓِﻴﻬَﺎ ﻣَﻦْ ﺳﻴﻨﺘﻘﻢ ﺍﻟﻠَّﻪُ ﻣِﻨْﻪُ ﻭَﺇِﻟَّﺎ ﻓَﻬُﻮَ ﺑﺮﻯﺀ ﻣﻦ ﺫَﻟِﻚ ﻭَﻛَﻴﻒ ﺗُﺮﻭَّﺝ ﻋَﻠَﻴْﻪِ ﻫَﺬِﻩ ﺍﻟْﻤَﺴْﺄَﻟَﺔ ﺍﻟْﻮَﺍﻫِﻴَﺔ ﻣَﻊَ ﺗﻀَّﻠُﻌﻪ ﻣﻦ ﺍﻟْﻜﺘﺎﺏ ﻭَﺍﻟﺴّﻨﺔ ﻭَﻓﻘﻪ ﺍﻟﺸَّﺎﻓِﻌِﻴَّﺔ ﻭﺍﻟﺤﻨﺎﺑﻠﺔ ﺣَﺘَّﻰ ﻛَﺎﻥَ ﻳُﻔْﺘِﻲ ﻋﻠﻰ ﺍﻟﻤﺬﻫﺒﻴﻦ،

“You must not be deceived by the contents of the book [Ghuniya] of Sheikh Abdul Qadir Jeelani  (rahimahullah)”, THESE THINGS WERE ADDED TO IT, Allah Ta’ala  will take revenge from them, otherwise the author should not be blamed for it. And how can this issue be hidden from him even being well-versed in the Qur’an, Sunnah and the fiqh of Shafi’i and Hanbali Schools, even he used to issue fatwas according to these schools.” [Fatawa Hadaththiyah by Ibn Hajr  Haythami, Vol.: 2, Page: 280]

Note: There are distortions at many places in Gunyat al-Talibeen as it was quoted by Ibn Hajr Haythami (rahimahullah). Therefore, calling Hanafis as deviant by referring to the distorted book is stubborness and fraud.

Answer 2:

Even the Ghayr Muqallid scholar, Hafiz Mubasshir Hussain Lahori  Sahib, has written marginal note on GUNYAT AL-TALIBEEN (Published by DARUL ILM, MUMBAI) and therein he very categorically refuted the attribution of Irja to Imam AbuHanifa (rahimahullah) with the reference of Ibn Taymiyyah.

Hafiz Mubasshir Hussain Lahori  Sahib writes in the footnote:

“In some versions of Gunyat al-Talibeen, there is mention of GHASSANIYA instead of Hanafis. See for example: Al-Gunyat Ma-Ta’aliq Wa Takhreej by Iza Abu  Abdur Rahman Saleeh Bin Muhammad Bin Owaizi Vol. 1, Page: 185.

Moreover, he writes in refutation of Murjiya sect: “However if we suppose it means Hanafis, so why Shaikh Abdul Qadir Jeelani  (rahimahullah) has regarded Hanafis a branch of Murjiya? The reason seems that it was due to allegation of Irja against Imam Abu Hanifa (rahimahullah)! But what is the reality of the quotes from which this allegation was hatched. Shaikh Ibn Abi Al-Izz, the commentator of Aqeeda al-Tahawiyah has presented several interpretations of the same. (Sharah Aqeeda al-Tahawiyah, Page: 232-234). It is also to be clear that IBN TAYMIYYAH has mentioned several praiseworthy attributes of Imam Abu Hanifa (rahimahullah) and refuted many allegations levelled against him and counted him among the Aimma-E-Salaf. See for example: Minhaj Al-Sunnah Vol.: 1, Page: 259 and Vol.: 2, Page: 333. [Gunyat al-Talibeen, Translated: Hafiz Mubasshir  Hussain Lahori, Page: 222, 223, Darul Ilm, Mumbai]

Note: There are two clarifications in the footnote of Ghayr Muqallid scholar Hafiz  Mubasshir Hussain Lahori.

1. The distorters replaced the word Ghassaniyah with Hanfiya.

2. Imam Ibn Taymiyyah  (rahimahullah) refuted the allegation of being Murjiya against the Imam Abu Hanifah.

Answer 3:

According to the great scholar and Imam of Ghair Muqallideen, Shaykh Zubair Ali Zai, the versions of GUNYAT AL-TALIBEEN are not proved with right connected chains, as he writes in the answer to a question:

“As far as I know the prevalent version of GUNYAT AL-TALIBEEN are not proved with right connected chain, Allah Knows Best.” [Fatawa ‘Ilmiyyah, Vol.: 2, Page: 421]

Therefore, referring to the book which is not proved as per the Imam and Shaykh of Ghayr Muqallideen is mere deceit and fraud.

Answer 4:

Even Allama Ibrahim Sialkoti, the prominent Ghayr Muqallid scholar, has refuted this accusation as he writes in his book Tareekh Ahl-e-Hadith:

“Indeed some authors (may Allah have mercy on them) have counted Imam Abu Hanifa  (Rahimahullah), Imam Muhammed (Rahimahullah), and Imam Abu Yusuf (Rahimahullah) among the Murjiya sect.” while in the next lines he discards this notion saying: “This is an accusation against him. [Tareekh Ahl-e-Hadith, Page: 56]

Answer 5:

There are scores of Muhaddithin and Ulama who have refuted the allegation of Irja to Imam Abu Hanifah (rahimahullah); for example:

1. Imam Muhammad (rahimahullab) writes that labeling any “SALAF” as Murjiya is “KUFR”. [Kitab Zad al-Sunnah]

2. Imam Ibn Qayyim says that accusing any Salaf of being  Murjiya is destroying one’s own faith.

3. Imam Ibn Rajab and Shaykh Abdul Aziz Bin Bazz wrote that it is Kufr to associate the Salaf and the Four (4) Imams with the Murjiya sect… [Mukhtasar Zadal- Ma’ad]

4. Ibn Taymiyyah says: “It is a great Innovation (Bid’at) to accuse the Four (4) Imams as being Murjiya.” [Fatawa Ibn Taymiyyah, Vol.: 4, Page: 46]

5. Saleh Al-Fawzaan also has refuted the allegations of Irja to Imam Abu Haneefa (rahimahullah). [Lu’mat Ul-I’tiqaad, Page: 312]

6. Imam Ali Ibn Abi Al-Izz Hanafi (d. 792 Hijri) also refuted the accusation of Irja to Imam Abu Hanifa (rahimahullah). [Sharh  Aqeedah Tahawiyah, Page: 283-284]

7. Allama Anwar Shah Kashmiri (rahimahullah) also rejected the attribution of Imam Abu Hanifa  (rahimahullah) to Murjiya. [Faydh al-Baari, Vol. 1, Page: 61]

Answer 6:

Allama Ibn Abdul Barr Maliki  (Rahimahullah) has very emphatically refuted the attribution of Imam Abu Hanifa  (Rahimahullah) to Murjiya, as he writes:

“Some scholars of Hadith have accused Imam Abu Hanifa  (Rahimahullah) with Irja, whereas there are many Ulama who have been accused with it, but the accusation towards Imam Abu Hanifa (Rahimahullah) was very much publicized unlike others;since it is also fact that some people have malice against him and accuse him with things that he never had. They fabricate improper things against him, whereas he was overwhelmingly commended by a large number of Ulama and they admitted his merits and virtues.” [Jaame Bayan al-Ilm Wa Fazlihi, Vol.: 1, Page: 1081]

Therefore, I request the Ghayr Muqallideen to pay heed to the words of the “SALAF” at least, otherwise abandon proclaiming to be SALAFI.”

NOTE: The famous scholar of Ghair Muqallideen, Maulana Ibrahim Sialkoti , the author of “Salaatur Rasool”, writes: “One who disrespects the Imams of Deen is semi-Rafidhi.” [Taarekh Ahl-e-Hadith, Page: 73]

Therefore, one who accuses  Imam-E-Azam Abu Haneefa (rahimahullah) he, according to Ghayr Muqallid scholars, is as semi-Rafidhi (Shia).

And Allah Knows Best!

Imam Abu Hanifa’s View on Tawassul/Waseelah and the Position of the Hanafi Math-hab

Question: Asalaamu Alaykum Wa Rahmatullahi Wa Barakatuhu Maulana Sahib,

Recently, I received a mail by a Ghayr-Muqallid who rejected Waseela or Tawassul even in its permissible concept claiming that Imam Abu Hanifah and his student Imam Muhammad (rahmatullah alayhim) have prohibited even the correct form of Tawassul, I would like to produce the mail here as follows:

“It occurs in Durr ul Mukhtar (the famous book on Fatwa in the Hanafi Madhab) (2/630), ‘From Abu Hanifa: “It is not fitting at all that anyone should supplicate to Allah except by Him (Allah), and using such supplications have been permitted and ordered in the like of the Saying of Allah, the Most High, “And (all) the Most Beautiful Names belong to Allah, so call upon Him by them.”

In al-Fatawa al-Hindiyya (5/280), and al-Quduri (d. 428/1037) said in his large book of Fiqh called Sharh ul Kharkie in the chapter of detested matters: “Bishr Ibn al-Walid said: ‘Abu Yusuf (the students of Imam Abu Hanifa) narrated to us that Abu Hanifa said: ‘It is not right that anyone should supplicate to Allah except by Him, and I hate that anyone should say: ‘By the right of so and so’ or ‘By the right of your Prophets and Messengers’ or ‘By the right of your sacred house and the sacred area (of Muzdalifah).”

Murtada Az-Zabidi (d. 1205/1790) says in Sharh ul Ihya (2/285): “Abu Hanifah and his two companions hated that a person should say, ‘I ask You by the right of so and so’ or ‘By the right of Your Prophets and Messengers’ or ‘By the right of the sacred house and sacred area (of Muzdalifah)’ and the like, since no one has any right upon Allah. Likewise, Abu Hanifah and Muhammed Ibn Hasan ash-Shaybani hated that a person who made supplication should say: ‘O Allah I ask you by the glory of Your Throne.”

Al-Quduri (d. 428/1037) also said: “Asking Him by His creation is not allowed since the creation had no right over the Creator, therefore it cannot be allowed.”

Similar statements can be found in many Hanafi Fiqh books like;

-Al Ikhtiyaar of Imam Mawsili (d. 683/1284)

-Molla Husraw’s (d. 885/1480) ; Durar al-hukkam fi Sharh Ghurar al-Ahkam

-Multaka-Al Abhur of of Ibrahim al-Halabi (d. 956/1549)

-Al Hidaya of Imam Burhan al-Din al-Marghinani (d. 593/1197)

From these quotes it is clearly that Imam Abu Hanifa and his students hated these kinds of Waseelah. (End of the mail).

Maulana Sahib please comment on this issue, 

1. Did Imam Abu Hanifa and his student really prohibit Tawassul? If yes then is it permissible to cite the later Hanafi scholars who justified a specific form of Tawassul?

2. Which principle should be applied if the main Imam of the Math-hab and his student has ruled prohibition on a mas’alah and some later scholars of the same Math-hab had given permissibility for the same mas’alah?

Maulana Sahib, please guide me regarding this issue as I am very confused and feeling guilty regarding this Issue.

Jazakallahu Khayr

Answer: (by Mujlisul Ulama):

The makrooh view is one view of the Hanafi Fuqaha. The other view is of permissibility and this is according to Imaam Abu Yusuf, Faqeeh Abu Layth, and obviously innumerable Fuqaha and Ulama subscribe to this view of permissibility in the same way as numerous subscribe to the karaahat view. Add to the above the consensus of all the Auliya of former times and all our Akaabireen of recent times.

This brief explanation suffices for claiming that there is no absolute certitude for the view of prohibition.

The only reason for karaahat stated on the basis of the narration pertaining to the Waseelah of the Arsh is possibility of the idea of the annihilation of Allah Ta’ala’s Izzat (Greatness and Glory) because the Arsh itself is a creation which can be annihilated. Therefore, there is the possibility of people understanding that Allah’s Glory can also be annihilated. From this perspective the karaahat view is pure figment of human opinion. It is unsubstantiated by Nass.

It appears that the primary difference pertains to the word ‘Haqq’ in view of the possibility of the idea of divinity stemming from the word Haqq which is the attribute of Allah Ta’ala, especially when there is such a great prevalence of shirk by the Ahl-e-Bid’ah. It is advisable and best to refrain from using the term Haqq in supplications involving Waseelah. But to understand that the concept of Waseelah is impermissible on the basis of the ibaarat of Shaami and other kutub is unintelligent and not valid. It is not possible for all the Auliya and innumerable Fuqaha and Ulama of all ages confirming permissibility if there was absolute certitude for karaahat.

Our Akaabireen were all branded kaafir because of their resolute opposition to bid’ah and to the slightest vestige of shirk.

Imaam Abu Hanifah (Rahmatullahi alayh) was faced with the peculiar shirki situation of the Khawaarij and Mu’tazilah. For this reason certain of the views of Imaam Abu Hanifah (Rahmatullahi alayh) ostensibly appear in conflict with the views of the other Fuqaha. Hadhrat Thaanvi (Rahmatullahi alayh) mentions that the Mu’tazilah’s brains are deranged for they consider that makhlooq has a right over Allah Ta’ala. Imaam Abu Hanifah’s proscription of using the words Bihaqqi Fulaan was thus in this context.

As far as the Ahlus Sunnah Wal Jamaa’ah are concerned, wherever the words Haqqan Alallah, etc. appear it means that Allah Ta’ala will treat it like a Haqq, not that Allah Ta’ala is now bonded and compelled to fulfil the right. Since the deviant sects treated the word Haqq as an obligation upon Allah Ta’ala Imaam Abu Hanifah (Rahmatullahi alayh) thus proscribed its use.

And Allah Ta’ala knows best.

Was-Salaam

(Mufti) AS Desai

Mujlisul Ulama of SA

The Timing of Salaat al-‘Asr – Analysis of the Different Views of Imam Abu Hanifa and his Students

Question: Asalaam alaikum. In the Hanafi Madh-hab it says the Mufta-bihi opinion is that ‘Asr enters around two shadow length but there is an opinion (within the Madh-hab) that says it is one shadow length.

I am confused because recently we got a new Imam he is Bengali and he told me that the two shadow length opinion is the weaker opinion and ‘Asr enters at one shadow length he said this is the mufta bihi opinion and Imam Abu Hanifah held this opinion a few days before he died.

Is this true? he told me only Hanafis from the Asian Sub-Continent ascribe to the two shadow length view whereas the Arab Hanafis ascribe to the one shadow opinion.

Which is the stronger view in the Madh-hab. I’m asking as I am very confused and unsure.

Answer (by Mufti Waseem Khan): 

Wa Alaikum As Salam,

With respect to the time Salaah Al-Asr enters (according to the Madh-hab of Imam Abu Hanifa), there are two famous opinions. One is that it enters at ‘two shadows’ length’, and the other is that of one shadow’s length. Both of these opinions have been accepted and, none of the great Hanafi Jurists from the former and latter times has considered the ‘two shadows’ length’ to be the weaker opinion. In fact, it is a very strong opinion and it is a saheeh (sound) one. It is also not evident that Imam Abu Hanifa (rahimahullah) held the opinion of ‘one shadow’s length’ before he died.

The difference of opinion held in this regard is as follows:-

Imam Abu Hanifa (rahimahullah) says, ‘the ending time for Dhuhr Salaah (upon which ‘Asr time begins) is when the shadow of anything becomes twice its size besides its original size at midday. While explaining this opinion of Imam Abu Hanifa (Rahmatullah Alayh) which is to be found in all the famous classical texts on the Hanafi Fiqh, the author of Al-Lubab (commentary of Mukhtasar Al Qudoori) writes, ‘This opinion of Imam Abu Hanifa is the Dhahir riwayah from the Imam (An Nihayah), and is also the riwayah of Imam Muhammad in Al-Asl. It is the Saheeh (sound/correct) opinion as mentioned in Al Yanabee, Al-Badaa’i, Al-Ghayah Al-Muniyah and Al-Muheet. Burhan Ash-Shari’ah Mahboobi has also preferred it. An Nasafi has relied upon this opinion. Sadr Ash-Shariah has agreed with/conformed to the opinion and has given preference to its proof. In Al-Ghayathia it is mentioned that it is the chosen/preferred opinion. The authors of the Mutoon (classical texts of Fiqh) have preferred it. The expounders of these texts have also agreed with it.  [Al-Lubab – Sharh Mukhtasar Al-Qudoori Vol.1 pg. 71 Qadeemi Kutub Khana Karachi Pakistan].

The author of Al-Lubab Fi-Sharh Al-Kitab has further written, ‘The author of Miraj Ad-Dirayah has explained its evidence (that is, the evidence of Imam Abu Hanifa in which he said ‘Asr enters when the shadow becomes twice its size besides the original) and stated, ‘To adopt that which is precautious in the chapter of worship is better, since it is agreed by all that (when the shadow is twice its size, then) it is ‘Asr time (all scholars agreed that this is a good and valid time for Asr Salaah). Therefore, it is better in the Deen, since at this time when a person performs ‘Asr Salaah it would be established with certainty that he has fulfilled his responsibility (by performing his ‘Asr Salaah). As for one’s performing ‘Asr Salaah after ‘one shadow’, this is not unanimously agreed upon, and all scholars have agreed that performing Salaah before its time is not permissible, while delaying it from its beginning time is permissible. [Al-Lubab – Sharh of Mukhtasar Al Qudoori Vol.1 pg.71 Qadeemi Kutub Khana Karachi Pakistan].

With respect to the other opinion, it is stated in the classical books of the Hanafi Fiqh, ’And Abu Yusuf and Muhammad have stated that the ending time for Dhuhr Salaah (upon which ‘Asr time enters) is when the shadow of anything becomes one of its size besides its original size at Midday’. While explaining this opinion, the great scholar, Shaikh Abdul Ghani Al-Ghunaimi Al-Maidani, the author of Al Lubab says, ‘This is also a narration from Imam Abu Hanifa. Imam Zufar and the three Imams, Imam Malik, Shafi and Ahmad have adopted this. Imam Tahawi from among the Hanafi Jurists has stated, ‘This is what we accept’. In Al-Burhan it is mentioned, ‘This is a clearer opinion’. In ‘Al-Faidh’ it is stated, ‘This is the practice of the people of the times and fatwa is given upon this’. After giving these references, the Shaikh has stated, ‘The best is that which has been mentioned in As-Siraj from Shaikh Al-Islam that precaution in this matter is that one should not delay Dhuhr Salaah until the shadow has become one of its size, and should not perform ‘Asr Salaah except when the shadow reaches twice of its size.

In this way, one will perform the two Salaah in their respective timings which have been agreed by all’. [Al-Lubab – Sharh of Mukhtasar Al Qudoori Vol.1 pg.72 Qadeemi Kutub Khana Karachi Pakistan].

From the above explanation, it shows that there are two well established opinions in the Hanafi Madh-hab regarding the entering time for the ‘Asr Salaah. One is that which Imam Abu Hanifa (Rahmatullah Alayh) has officially preferred/accepted and viewed as the correct verdict. The other is that of the two great students of Imam Abu Hanifa, namely Imams Abu Yusuf and Muhammad. Although, this is an opinion narrated from the Imam himself, it is not evident that he held on to it or adopted it as the correct verdict.

As for the Imam’s verdict of ‘two shadows’ length of an object’, this has been well accepted as Saheeh (sound/correct) by many great/leading Hanafi Fuqaha from the former and latter times. These were from among the most reliable and noteworthy scholars whose works have been accepted by the leading Hanafi jurists with great authority.

It has also been explained that Imam Abu Hanifa’s position (of two shadows’ length) is the Dhahir Riwayah, which is the strongest and most authentic narration in Hanafi Fiqh.

It is well known in the Usool of Hanafi Fiqh that the status of narrations that are known as Dhahir Ar-Riwayah is of the highest and strongest (as mentioned in Sharh Uqood Rasm Al-Mufti by Allama Shami).

The author of Al-Lubab has also explained that the authors of the classical Hanafi texts have all preferred the stance of Imam Abu Hanifa (rahimahullah), and the commentators of these texts have also agreed with this position.

As cited above, many great Hanafi jurists have given preference to the opinion of Imam Abu Hanifa. In this regard, the great jurist Ash Shaikh, Al-Allama, Al-Faqih, Sirajudeen has also written in his famous ‘Fatawa As-Siraji’ah’, ‘And the time for ‘Asr comes in when the shadow of anything is twice besides the original size according to Imam Abu Hanifa. This is the chosen/preferred opinion’. [Al-Fatawa As-Siraji’ah by the great Jurist Sirajuddeen Abu Muhammad Ali bin Uthman bin Muhammad Al ‘Oushi Al Farghawi died 569 A.H pg. 57 Zam Zam Publishers Karachi Pakistan 2011].

The great Scholar, Allama Ibn Abideen Shami, while explaining the opinion of Imam Abu Hanifa which states, ‘The time for Dhuhr is from Zawal until the shadow reaches twice its size’, writes, ‘This is the Dhahir Riwayah from the Imam- (Nihayah), and is Saheeh (sound/correct) – Badaa’i, Muheet and Yanabi’. It is the preferred opinion – Ghayathia, Imam Al-Mahboobi has chosen it. Imam An Nasafi and Sadr Ash-Shariah have relied upon it – Tasheeh Qasim. The authors of the classical/authoritative texts (of Hanafi Fiqh) have preferred it. The expounders and commentators of the Fiqh texts have agreed and approved of this position of Imam Sahib.

Hence, the statement of At-Tahawi (rahimahullah), in which he has stated, ‘and we have accepted the opinion of Imams Abu Yusuf and Muhammad’, does not give any proof that this is the official stance/verdict of the Madh-hab (of Imam Abu Hanifa). As for that which is written in ‘Al-Faidh’ that Fatawa is given upon the statement of Imams, Abu Yusuf and Muhammad with respect to (the time for) ‘Asr and ‘Isha, this is only with regards to ‘Isha [Raddul Muhtaar Ala Ad Dur Al Mukhtar Vol.1 pg. 359 H.M. Saeed Company Karachi Pakistan 1406 A.H].

Further, while responding to the statement of the author of Ad-Durr in which he says that the opinion of ‘One shadow’s length’ is clearer, on account of the explanation given by Jibra’eel (Alayhissalaam), and that this is the determined text (evidence) in this chapter, ‘Allama Ibn Abideen Shami writes, ‘In the statement of the author of Ad-Durr, the evidence is suitable (for the opinion of Imam Abu Yusuf and Muhammad). However, this does not show the weakness of the opinion of Imam Abu Hanifa. In fact, his proofs are also strong’. [Raddul Muhtaar Ala Ad-Durr Al-Mukhtar Vol.1 pg.359 H.M Saeed Company Karachi Pakistan 1406 A.H].

Similarly, while discussing the opinion of Imam Abu Hanifa (rahimahullah) and that of his two famous students, the great Hanafi jurist, Ash-Shaikh Zainuddeen Ibn Nujaim (Alayhi Rahmah) writes, ‘The best opinion is that of Imam Abu Hanifa’. In Al-Bada’I, it is stated that this is what is mentioned in Asl and that it is correct opinion. And in An-Nihayah, it is mentioned that this is the Dhahir Riwayah from Imam Abu Hanifa’. In this way, Allama Ibn Nujaim mentioned all the other references given before in Al-Lubab and Raddul Muhtaar, showing that many of the great jurists have adopted, preferred and accepted the opinion of Imam Abu Hanifa as the official stance of the Hanafi Madh-hab in this regard. [Al-Bahr Ar-Raiq – Sharh Kanz Ad-Daqaa’iq Vol.1 pg. 245 Maktaba Rasheediya Queta Pakistan].

Allama Ibn Nujaim has also explained that the official Madh-hab of Imam Abu Hanifa in this matter is that of the verdict of the Imam himself regarding the entering time of ‘Asr Salaah (as being when the shadow of anything becomes twice its size besides the original size at midday). [Ibid.].

On account of the differences in this mas’alah, the great jurists like Allama Ibn Nujaim and Ibn Abideen Shami have mentioned the approach one should take in this matter. They have stated, ‘Shaikh Al-Islam has stated that precaution (in this mas’alah) is that one should not delay Dhuhr Salaah until the shadow of anything reaches one of its size besides the original size at midday, and one should not perform Asr Salaah except when the shadow of an object reaches twice of its size. In this way one will perform both Salaah in their respective timings which have been agreed by all scholars. [Raddul Muhtaar Ala Ad-Durr Al-Mukhtar Vol.1 pg. 359 H.M. Saeed Company Karachi Pakistan 1406 A.H.; Al-Bahr Ar-Ra’iq Vol.1 pg. 245 Maktaba Rasheediya Queta Pakistan].

The great Hanafi jurist, Imam Burhan al-Deen (died 551 A.H) has narrated the opinion of Imam Abu Hanifa which states, ‘The time of ‘Asr does not enter until the shadow of a thing becomes twice its size’ and then states, ‘Abul Hasan (Alayhi Rahmah) states, ‘This narration is the Most Correct one’ [Al-Muheet Al-Burhani Vol.2 pg. 6 Idaratul Quran wal Uloom Al Islamiya Karachi Pakistan 2004].

From all these narrations and explanations of the great scholars and jurists of the Hanafi Fiqh (who did not belong to the Asian Sub-Continent) it can be clearly seen that the well-established position in the Hanafi Madh-hab is that ‘Asr enters when the shadow of a thing is twice its size besides the size at midday. This is the verdict of Imam Abu Hanifa (Alayhi Rahmah). It is the Dhahir riwayah, the most correct opinion and the one that has been preferred and agreed upon by the most reliable and authoritative Hanafi jurists of the early centuries until today.

None of the jurists has stated that Imam Abu Hanifa’s opinion is weak, nor has anyone from among them stated that he adopted the opinion of his two students before he died.

With respect to which is the Mufta bihi opinion, the great scholars have ruled that Imam Abu Hanifa’s opinion of ‘two shadows’ length’ is the Mufta bihi opinion. In this regard, the jurist and scholar of Islam, Faqihul Ummah Mufti Mahmood Hasan Gangohi (rahimahullah) writes. ‘The preferred opinion and the Mufta bihi statement/verdict is that the time for Asr starts when the shadow of an object is twice its size besides the original size at midday’. [Fatawa Mahmoodiya Vol.5 pg. 338 Idarah Al-Farooq Karachi Pakistan 2009].

Similarly, the great jurist expert and scholar Mufti Sayyid Abdur Raheem Lajpuri (rahimahullah) writes, ‘The Mufta bihi opinion and that which Fatawa is given upon is that ‘Asr enters when the shadow of something is twice its size besides the original size at midday’. [Fatawa Raheemiya Vol.4 pg. 77 Darul Ishaa’at Karachi Pakistan 2009].

And Allah Knows Best

Darul Uloom Trinidad & Tobago
—————————————–

Also Read: Refuting La-Madhabi’s Regarding the Timing of Salaat al ‘Asr

Sajdah Shukr (Prostration of Gratitude) according to Hanafiyyah

By Mufti Abu Hajira

“Prostration of gratitude” in terms of fiqh means that when some blessing of Allāh is bestowed, or when Allāh Ta’ālā opens the doors of myriads of bounties upon His servant that it is mustaḥabb (desirable) and afḍal (virtuous) to face the Qiblah and prostrate. While prostrating, the servant shall praise Allāh and recite the tasbīḥ. Thereafter he says the takbīr (“Allāhu Akbar”) and raises his head. At this juncture he will neither recite the tashahhud nor perform the salām.

As for the Ḥanafiyyah, many echo the opinion of Imām Abū Ḥanīfah (raḥimahullāh) that he did not regard such a prostration to be “anything”, that rather he regards it to be makrūh and that it should be left out. Such is mentioned in the primers like Nūr al-Īḍāḥ:

“According to Imām Ṣāḥib, the prostration of gratitude is disliked, not rewarded, and one should leave it out. The Ṣāḥibayn say that it is a means of proximity [to Allāh] and one will be rewarded for it; its modality is like that of sajdah al-tilāwah.”

While understanding this difference of opinion between the teacher and his two students, we come across varied statements.

‘Allāmah Ibn ‘Ābidīn al-Shāmī al-Ḥanafī (raḥimahullāh) has mentioned, quoting from al-Muḥīṭ al-Burhānī of ‘Allāmah Burhān al-Dīn (raḥimahullāh), that Imām Abū Ḥanīfah (raḥimahullāh) was of the opinion that this prostration of gratitude is not wājib. This is because if it were wājib to perform this prostration at the reception of any bounty of Allāh, then a servant would be forever liable to perform these prostrations of gratitude because Allāh’s bounties are bestowed around the clock like rain. This would obviously render undue hardship, which is not stipulated in the Sharī’ah.

The Ṣāḥibayn (Imām Abū Yūsuf and Imām Muḥammad (raḥimahumallāh)) on the other hand say that this prostration is a type of worship and that one who performs it will be rewarded. In other words, according to the Ṣāḥibayn, the prostration of gratitude is mustaḥabb and virtuous.

‘Allāmah al-Shāmī (raḥimahullāh) has mentioned at the end of his discussion that the difference between the opinions of Imām Ṣāḥib and the Ṣāḥibayn (raḥimahumullāh) is in regard to the sunniyyah of this prostration, and not in its permissibility in the Sharī’ah. He says,

“And the relied upon opinion is that the difference is in regard to the prostration being a sunnah, and not in regard to it being permissible.”

While the above is a nice and concise reconciliation of the issue, it does not seem to explain away exactly why Imām Ṣāḥib (raḥimahullāh) would regard such a prostration to be “disliked”, not rewarding, and worthy of being left out. If there is no difference about the permissibility of the matter, then carrying out a permissible does not warrant dislike. Let us then look further.

In al-Fatāwā al-Tātārkhāniyyah, quoting from al-Qudūrī, it has been mentioned that Imām Ṣāḥib considered the prostration of gratitude to be makrūh. The same has been attributed to Imām Ibrāhīm al-Nakha’ī (raḥimahullāh), a teacher of Imām Ṣāḥib, in al-Siyar al-Kabīr. In al-Mukhtalif, Imām Ṣāḥib has been reported to have said that the prostration of gratitude is not a stipulated (mashrū‘) way of gaining proximity (qurbah).

‘Allāmah Ibn Kamāl Pāshā (raḥimahullāh) has mentioned that according to the Shaykhayn (Imām Ṣāḥib and Imām Abū Yūsuf (raḥimahumallāh)), anything less than one unit (rak’ah) is not a means of proximity (qurbah) except in cases where there is a clear naṣṣ, and the case of this is the prostration of tilāwah. So a singular prostration cannot be a means of proximity (in attaining the shar’ī status of qurbah) aside from what has been narrated.

Ḥusām al-Dīn al-Sighnāqī (raḥimahullāh) mentions that Imām Muḥammad (raḥimahullāh) considered the prostration of gratitude to be a masnūn act, while according to Imām Abū Ḥanīfah and one of the opinions of Imām Abū Yūsuf (raḥimahumallāh), it is not a sunnah. In one narration of Imām Abū Ḥanīfah (raḥimahullāh) through Imām Muḥammad (raḥimahullāh), it is mentioned to be makrūh. It is also mentioned from Imām Ṣāḥib (raḥimahullāh) that he does not regard the prostration of gratitude to be “anything”.

The Mutaqaddimūn have differed in interpreting Imām Ṣāḥib’s statement regarding this prostration “not being anything”:

A. It means that he does not regard it to be a sunnah.

B. His intent is to negate the wujūbiyyah.

C. His intent is to negate the mashrū’iyyah (inceptual stipulation from the side of the Sharī’ah)

D. It is not a complete form of gratitude

Since “A & B” both essentially decrease the rank of the prostration and do not negate it completely, let’s focus on “C & D”, where Imām Ṣāḥib (raḥimahullāh) did not consider such a prostration to be a proper perfection in thanking Allāh for the bounties (kamāl al-shukr). The perfection of gratitude then is in offering a two rak’ah prayer as Rasūlullāh (ṣallallāhu alayhi wasallam) did on the day of the Conquest of Makkah, as mentioned in al-Siyar al-Kabīr. This understanding is not baseless either.

The ṣalāh performed by Rasūlullāh (ṣallallāhu ʿalayhi wasallam) on the day of the Conquest at the house of Umm Hāni’ (raḍiyallāhu ‘anhā) were two rak’ahs as a form of gratitude towards Allāh. This is the complete form of gratitude. Ibn al-Qayyim (raḥimahullāh) affirmed this in Zād al-Ma’ād, refuting those who considered these two rak’ahs to be Ḍuḥā (forenoon prayer). He says, “This ṣalāh is the Ṣalāh al-Fatḥ. In the incident is the evidence indicating that it was due to the conquest made, as a gratitude towards Allāh. For indeed, Umm Hāni’ (raḍiyallāhu ‘anhā) stated, ‘I never saw him perform this ṣalāh, neither before this instance nor after it.’”

This above interpretation is what Imām Ṣāḥib (raḥimahullāh) has adopted as his view of the prostration of gratitude, i.e. that it refers to a two rak’ah ṣalāh for gratitude. This is because using the term “prostration” in its general form (iṭlāqan) to refer to a complete ṣalāh is abundantly prevalent in the Sharī’ah as well. Sayyidunā Thawbān (raḍiyallāhu ʿanhu) narrates that Rasūlullāh (ṣallallāhu ‘alayhi wasallam), “You should adopt abundant prostrations for sake of Allāh (i.e abundance of ṣalāh).” And in the narration of Rabīʿah (raḍiyallāhu ‘anhu), he (ṣallallāhu ʿalayhi wasallam) said, “Aid me in that with abundance of prostrations.” Imām al-Nawawī (raḥimahullāh) mentions in its explanation: “What is intended by it (prostration) is prostrating during ṣalāh.”

And if we can take the meaning of “prostration” to mean complete ṣalāh in these narrations, then the same can be done in other instances as well where there is no indication to interpret it otherwise. By this response we can also substantiate the interpretation that Imām Abū Ḥanīfah (raḥimahullāh) negated stipulation of such prostration from the side of the Sharī’ah (i.e interpretation C) since these evidences then would all refer to complete units of ṣalāh. 

It will hence be said that this does not negate the stipulation of this prostration as a means of proximity, rather the intent here is to negate the stipulation of it as a compulsory (wājib) act of gratitude since it is impossible to measure the bounties of Allāh. With this understanding, we may look towards “A & B” as an explanation of “C & D”. While Imām Ṣāḥib drops the level of such prostration down from wājib and sunnah, he does so by negating their stipulation in the Sharī’ah as a sunnah or wājib. And since it is not a complete form of gratitude, one should rather opt for a complete form. But this still begs the question of why there would be no reward for such prostration, since negation is not being made of prostration as a means of proximity (qurbah).

On the other side of the coin, Imām Abū Yūsuf and Imām Muḥammad (raḥimahumallāh) opine according to one narration from them that the prostration of gratitude is a means of proximity and worthy of being rewarded. This is due to the narrations mentioned in the six books of aḥādīth except for al-Nasā’ī on authority of Abū Bakrah (raḍiyallāhu ʿanhu) that whenever Rasūlullāh (ṣallallāhu ‘alayhi wasallam) would face a matter that pleased him or he received glad tidings, then he would perform prostration. On authority of ‘Abdur Raḥmān ibn ʿAwf (raḍiyallāhu ‘anhu), it is mentioned that Rasūlullāh (ṣallallāhu ‘alayhi wasallam) came out towards his orchard, faced the Qiblah, and went down into prostration. He prolonged his prostration and thereafter raised his head and said, “Indeed Jibrīl came to me, gave me glad tidings, and said, ‘Indeed Allāh (azza wajall) says to you that whosoever sends salutations upon you, I shall bestow salutations upon him (have mercy on him).’ Hence I prostrated to Allāh as a form of gratitude.”

Similarly, Sa’d ibn Abī Waqqāṣ (raḍiyallāhu anhu) mentions, “We came out with Rasūlullāh (ṣallallāhu alayhi wasallam) from Makkah intending toward Madīnah, then when we were closer to Ḥarūrā, he dismounted, raised his hands in supplication toward Allāh for some time and then went down into prostration. He did this thrice, and said, ‘I sought from Allāh and interceded to him for my Ummah and He bestowed me the intercession of a third of my Ummah, so I prostrated for gratitude. Then I raised my head and asked Allāh for my Ummah and He bestowed another third of my Ummah, so I went into prostration of gratitude. I then raised my head and asked Allāh for my Ummah, and He bestowed the last third of my Ummah, so I went down into prostration of gratitude.’”

Sayyidunā Abū Bakr (raḍiyallāhu anhu) also prostrated for gratitude when the news of the demise of Musaylimah, the false prophet, reached him. And Sayyidunā ‘Alī (raḍiyallāhu anhu) also prostrated for gratitude when he found Dhū al-Thudayyah among the dead bodies of the Khawārij.

Hence, the narration of the occurrence of such prostration of gratitude are many, recorded in many acceptable compilations. Those who hold to the opinion that Imām Ṣāḥib (raḥimahullāh) did not consider such prostration to be anything, contend that these are either interpreted towards full ṣalāh, or are abrogated. However, the Ṣaḥābah (raḍiyallāhu anhum) having done it gives strength to the permissibility of it.

An appropriate reconciliation is mentioned in al-Fatāwā al-Tātārkhāniyyah, that the statements of Imām Abū Ḥanīfah (raḥimahullāh) are contextual to the prostration being “wājib” while the statements of Imām Muḥammad (raḥimahullāh) are contextual to it being “mustaḥabb”. The two should not be mixed or confused, and both will be acted upon. One must not feel the need to prostrate for gratitude upon realization of every bounty of Allāh as Imām Ṣāḥib (raḥimahullāh) mentions, but at the same time it is permissible to do so when bestowed with some particular bounty of Allāh which pleases one. In this reconciliation, the dislikeness (karāhiyah) will refer to sanctioning something which is mubāḥ or mustaḥabb to a higher status of sunnah or wājib, which will become a bid’ah and blameworthy in the Sharī’ah, hence makrūh just like Imām Ṣāḥib’s statement. Whereas without such belief of wujūbiyyah, one’s exertion to thank Allāh through this permissible action will be a means of proximity and reward from Allāh, in accordance with the Ṣāḥibayn’s statement.

Hence we shall not stop the masses from carrying out the prostration of gratitude within its right confinement, embodying humility, servitude, and worship. This is our fatwā on the issue. And with this detail we may understand the statement of Nūr al-Īḍāḥ when it says, “According to Imām Ṣāḥib, the prostration of gratitude is disliked, not rewarded, and one should leave it out. The Ṣāḥibayn say that it is a means of proximity [to Allāh] and one will be rewarded for it; its modality is like that of sajdah al-tilāwah.”

~Abuhajira

[prepared from study notes for “Nur al Idah” Ijazah Class for ilmhub.com]