Category Archives: Islamic Months

ماہِ صفر کی بدعات اور ایک من گھڑت حدیث کا جائزہ

از: مفتی محمد راشد ڈسکوی‏، استاذ جامعہ فاروقیہ کراچی

اسلامی سال کا دوسرا مہینہ ”صَفَرُ المُظَفَّر“شروع ہو چکا ہے،یہ مہینہ انسانیت میں زمانہ جاہلیت سے ہی منحوس، آسمانوں سے بلائیں اترنے والا اور آفتیں نازل ہونے والا مہینہ سمجھا جاتا ہے،زمانہٴ جاہلیت کے لوگ اس ماہ میں خوشی کی تقریبات (شادی ، بیاہ اور ختنہ وغیرہ )قائم کرنا منحوس سمجھتے تھے اور قابلِ افسوس بات یہ ہے کہ یہی نظریہ نسل در نسل آج تک چلا آرہا ہے؛ حالاں کہ سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت ہی صاف اور واضح الفاظ میں اس مہینے اور اس مہینے کے علاوہ پائے جانے والے والے توہمات اور قیامت تک کے باطل نظریات کی تردیداور نفی فرما دی اور علیٰ الاِعلان ارشاد فرما دیا کہ:(اللہ تعالی کے حکم کے بغیر) ایک شخص کی بیماری کے دوسرے کو (خود بخود)لگ جانے(کا عقیدہ) ، ماہِ صفر (میں نحوست ہونے کا عقیدہ) اور ایک مخصوص پرندے کی بد شگونی (کا عقیدہ) سب بے حقیقت باتیں ہیں۔ملاحظہ ہو:

عَنْ أبي ھُرَیْرَةَ رضي اللّٰہُ عنہ قال: قال النبيُّ ﷺ: ”لا عَدْوَیٰ ولا صَفَرَ ولا ھَامَةَ“․ (صحیح البخاري،کتابُ الطِّب،بابُ الھامة، رقم الحدیث: 5770، المکتبة السلفیة)

 مذکورہ حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلام میں اس قسم کے فاسد و باطل خیالات و نظریات کی کوئی گنجائش نہیں ہے ، ایسے نظریات و عقائد کو سرکارِدو عالم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پاوٴں تلے روند چکے ہیں۔

ماہِ صفر کے بارے میں ایک موضوع اور من گھڑت روایت کا جائزہ

ماہِ صفر کے متعلق نحوست والا عقیدہ پھیلانے کی خاطر دشمنانِ اسلام نے سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب جھوٹی روایات پھیلانے جیسے مکروہ اور گھناوٴنے افعال سے بھی دریغ نہیں کیا، ذیل میں ایک ایسی ہی من گھڑت روایت اور اس پر ائمہ جرح و تعدیل کا کلام ذکر کیا جاتا ہے،وہ من گھڑت حدیث یہ ہے:

”مَنْ بَشَّرَنِيْ بِخُرُوْجِ صَفَرَ، بَشَّرْتُہ بِالْجَنَّةِ “․

ترجمہ: ”جو شخص مجھے صفر کے مہینے کے ختم ہونے کی خوش خبری دے گا ،میں اُسے جنت کی خوش خبری دوں گا“۔

اس روایت سے استدلال کرتے ہوئے صفر کے مہینے کو منحوس سمجھا جاتا ہے،طریقہٴ استدلال یہ ہے کہ چوں کہ اس مہینہ میں نحوست تھی ؛اس لیے سرکار ِدوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مہینے کے صحیح سلامت گذرنے پر جنت کی خوش خبری دی ہے۔

تو اس بارے میں جان لینا چاہیے کہ یہ حدیث موضوع ہے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اس کی نسبت کرنا جائز نہیں ہے؛ چناں چہ ائمہٴ حدیث نے اس من گھڑت حدیث کے موضوع ہونے کو واضح کرتے ہوئے اس عقیدے کے باطل ہونے کو بیان کیا ہے، ان ائمہ میں ملا علی قاری، علامہ عجلونی،علامہ شوکانی اور علامہ طاہر پٹنی رحمہم اللہ وغیرہ شامل ہیں، ان حضرات ِ ائمہ کا کلام ذیل میں پیش کیا جاتا ہے:

چناں چہ ملا علی القاري رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

”مَنْ بَشَّرَنِيْ بِخُرُوْجِ صَفَرَ، بَشَّرْتُہ بِالْجَنَّةِ“ لَا أصْلَ لَہ“․(الأسرار المرفوعة في الأخبار الموضوعة المعروف بالموضوعات الکبریٰ، حرف المیم، رقم الحدیث: 437،2/324، المکتب الإسلامي)

اورعلامہ اسماعیل بن محمد العجلونی رحمہ اللہ ملا علی قاری رحمہ اللہ کے حوالے سے تحریر کرتے ہیں کہ

”مَنْ بَشَّرَنِيْ بِخُرُوْجِ صَفَرَ، بَشَّرْتُہ بِالْجَنَّةِ “ قال القاري في الموضوعات تبعاً للصغاني: ”لَا أصْلَ لَہ“․(کشف الخفاء و مزیل الإلباس، حرف المیم، رقم الحدیث:2418، 2/538،مکتبة العلم الحدیث)

اور شیخ الاسلام محمد بن علی الشوکانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں

”مَنْ بَشَّرَنِيْ بِخُرُوْجِ صَفَرَ، بَشَّرْتُہ بِالْجَنَّةِ “ قال الصغاني: ”موضوع“․ وکذا قال العراقي․ (الفوائد المجموعة في أحادیث الضعیفة والموضوعة للشوکاني، کتاب الفضائل، أحادیث الأدعیة والعبادات في الشھور، رقم الحدیث: 1260،ص:545، نزارمصطفیٰ الباز، مکة المکرمة)

اور علامہ محمد طاہر پٹنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

وکذا (أي: موضوع) ”مَنْ بَشَّرَنِيْ بِخُرُوْجِ صَفَرَ، بَشَّرْتُہ بِالْجَنَّةِ “ قزویني، وکذا قال أحمد بن حنبل:اللآلیٴ عن أحمد ومما تدور في الأسواق ولا أصل لہ․ (تذکرة الموضوعات للفتني،ص:116، کتب خانہ مجیدیہ، ملتان)

فتاویٰ عالمگیری میں ہے کہ:

میں نے ایسے لوگوں کے بارے میں دریافت کیاجو ماہِ صفرمیں سفر نہیں کرتے(یعنی: سفر کرنا درست نہیں سمجھتے) اور نہ ہی اس مہینے میں اپنے کاموں کو شروع کرتے ہیں، مثلاً: نکاح کرنا اور اپنی بیویوں کے پاس جاناوغیرہ اور اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان ”کہ جو مجھے صفر کے مہینے کے ختم ہونے کی خوش خبری دے گا، میں اُسے جنت کی بشارت دوں گا“ سے دلیل پکڑتے ہیں،کیا نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانِ مبارک (سند کے اعتبار سے )صحیح ہے؟ اور کیا اس مہینے میں نحوست ہوتی ہے ؟ اور کیا اس مہینے میں کسی کام کے شروع کرنے سے روکا گیا ہے ؟․․․․․تو جواب ملا کہ ماہِ صفر کے بارے میں جو کچھ لوگوں میں مشہور ہے، یہ کچھ ایسی باتیں ہیں جو اہلِ نجوم کے ہاں پائی جاتیں تھی؛ جنہیں وہ اس لیے رواج دیتے تھے کہ ان کا وہ قول ثابت ہو سکے ،جسے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرتے تھے؛حالاں کہ یہ صاف اورکھلا ہوا جھوٹ ہے(۵/۴۶۱)۔

نمبر: ۲  اس منگھڑت اور موضوع روایت کو ایک طرف رکھیں ، اس کے بالمقابل ماہِ صفر کے بارے میں بہت ساری صحیح احادیث ایسی موجود ہیں جو ماہِ صفر کی نحوست کی نفی کرتی ہیں، تو ایسی صحیح احادیث کے ہوتے ہوئے موضوع حدیث پر عمل کرنایا اس کی ترویج کرنا اور اس کے مطابق اپنا ذہن بنانا کوئی عقل مندی کی بات نہیں۔

نمبر : ۳  محدثین عظام کی تصریحات کے مطابق مذکورہ حدیث موضوع اور منگھڑت ہے، لیکن اگر کچھ لمحات کے لیے یہ تسلیم کر بھی لیا جائے کہ یہ حدیث صحیح ہے تو بھی اس حدیث سے ماہِ صفر کے منحوس ہونے پر دلیل پکڑنا درست نہیں ہے؛ بلکہ اس صورت میں اس کا صحیح مطلب اور مصداق یہ ہو گا کہ چوں کہ سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا ربیع الاول میں وصال ہونے والا تھااور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے رب عزوجل سے ملاقات کا بے حد اشتیاق تھا؛ اس لیے ربیع الاول کے شروع ہونے کا انتظار تھا؛ چناں چہ اس شخص کے لیے آپ نے جنت کی بشارت کا اعلان فرما دیا، جو ماہِ صفر کے ختم ہونے کی (اور ربیع الاول شروع ہونے کی)خبر لے کر آئے۔

خلاصہٴ کلام ! یہ کہ اس حدیث کا ماہِ صفر کی نحوست سے دور کا بھی تعلق نہیں ہے؛ بلکہ اسے محض مسلمانوں میں غلط نظریات پھیلانے کی غرض سے گھڑا گیا ہے۔

 ماہِ صفر کے آخری بدھ کی شرعی حیثیت

ماہِ صفر کے بارے میں لوگوں میں مشہور غلط عقائد و نظریات میں ایک ”اس مہینے کے آخری بدھ “ کا نظریہ بھی ہے،کہ اس بدھ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بیماری سے شفا ملی اور آپ نے غسلِ صحت فرمایا، لہٰذااس خوشی میں مٹھائیاں بانٹی جاتی ہیں، شیرینی تقسیم کی جاتی ہے اور بہت سے علاقوں میں تو اس دن خوشی میں روزہ بھی رکھا جاتا ہے اور خاص طریقے سے نماز بھی پڑھی جاتی ہے؛ حالاں کہ یہ بالکل خلاف حقیقت اور خلاف واقعہ بات ہے، اس دن تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مرضِ وفات کی ابتداء ہوئی تھی ،نہ کہ مرض کی انتہاء اور شفاء، یہ افواہ اور جھوٹی خبر دراصل یہودیوں کی طرف سے آپ کی مخالفت میں آپ کے بیمار ہونے کی خوشی میں پھیلائی گئی تھی اور مٹھائیاں تقسیم کی گئی تھیں۔ ذیل میں اس باطل نظرئیے کی تردید میں اکابر علماء کے فتاویٰ اور دیگر عبارات پیش کی جاتیں ہیں جن سے اس رسمِ بد اور غلط روش کی اور صفر کے آخری بدھ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے شفایاب ہونے یا بیمار ہونے کی اچھی طرح وضاحت ہو جاتی ہے۔

ماہِ صفر کے آخری بدھ کو روزہ رکھنے کا شرعی حکم

 حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ ”امداد المفتین“ میں ایک سوال کے جواب میں صفَر کے آخری بدھ کے روزے کی شرعی حیثیت واضح کرتے ہیں ،جو ذیل میں نقل کیا جاتا ہے۔

سوال: ماہِ صفر کا آخری چہار شنبہ بلادِ ہند میں مشہور بایں طور ہے کہ اس دن خصوصیت سے نفلی روزہ رکھا جاتا ہے اور شام کو کچوری یا حلوہ پکا کر کھایا جاتا ہے،عوام اس کو ”کچوری روزہ“ یا ”پیر کا روزہ“ کہتے ہیں، شرعاً اس کی کوئی اصل ہے یا نہیں؟

جواب: بالکل غلط اور بے اصل ہے، اس (روزہ) کو خاص طور سے رکھنا اور ثواب کا عقیدہ رکھنا بدعت اور ناجائز ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام صحابہ رضوان اللہ علیہم سے کسی ایک ضعیف حدیث میں (بھی) اس کا ثبوت بالالتزام مروی نہیں اور یہی دلیل ہے اس کے بطلان و فساد اور بدعت ہونے کی؛ کیونکہ کوئی عبادت ایسی نہیں ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو تعلیم کرنے سے بخل کیا ہو۔(امداد المفتین، فصل فی صوم النذر و صوم النفل، ص: 416، دارالاشاعت)

ماہِ صفر کے آخری بدھ کو ایک مخصوص طریقے سے ادا کی جانے والی نماز کا حکم

اس دن میں روزہ رکھنے کی طرح ایک نماز بھی ادا کی جاتی ہے، جس کی ادائیگی کا ایک مخصوص طریقہ یہ بیان کیا جاتا ہے، کہ ماہِ صفر کے آخری بدھ دو رکعت نماز ،چاشت کے وقت ،اس طرح ادا کی جائے کہ پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد ﴿قُل اللّٰھُمَّ مَالِکَ الْمُلْکِ﴾ دو آیتیں پڑھیں اور دوسری رکعت میں سورئہ فاتحہ کے بعد ﴿ قُل ادْعُوا اللّٰہَ أوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ﴾ دوآیتیں پڑھیں اور سلام پھیرنے کے بعد نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجیں اور دعا کریں۔

 اس طریقہٴ نماز کی تخریج کے بعد حضرت علامہ عبدالحئی لکھنوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ ”اس قسم کی مخصوص طریقوں سے ادا کی جانے والی نمازوں کا حکم یہ ہے کہ اگر اس مخصوص طریقہ کی شریعت میں مخالفت موجود ہو تو کسی کے لیے ان منقول طریقوں کے مطابق نمازادا کرنا جائز نہیں ہے اور یہ مخصوص طریقے والی نماز شریعت سے متصادم نہ ہو تو پھر ان طریقوں سے نماز ادا کرنا مخصوص شرائط کا لحاظ رکھتے ہوئے جائز ہے، ورنہ جائز نہیں۔

وہ شرائط یہ ہیں:

(1) اِن نمازوں کو ادا کرنے والااِن کے لیے ایسا اہتمام نہ کرے، جیسا کہ شرعاً ثابت شدہ نمازوں (فرائض و واجبات وغیرہ) کے لیے کیا جاتا ہے۔

(2) ان نمازوں کو شارع علیہ السلام سے منقول نہ سمجھے۔

(3) ان منقول نمازوں کے ثبوت کا وہم نہ رکھے۔

(4) ان نمازوں کو شریعت کے دیگر مستحبات وغیرہ کی طرح مستحب نہ سمجھے۔

(5) ان نمازوں کا اس طرح التزام نہ کیا جائے جس کی شریعت کی طرف سے ممانعت ہو۔جاننا چاہیے کہ ہر مباح کام کو جب اپنے اوپر لازم کر لیا جائے ،تو وہ شرعاً مکروہ ہو جاتا ہے۔اس کے بعد لکھا ہے کہ موجودہ زمانے میں ایسے افراد معدوم (نہ ہونے کے برابر)ہیں جو مذکورہ شرائط کی پاسداری رکھ سکیں اور شرائط کی رعایت کیے بغیر ان نمازوں کو ادا کرنے کا حکم اوپر گذر چکا ہے کہ یہ عمل ”نیکی برباد ،گناہ لازم“ کا مصداق تو بن سکتا ہے، تقرب الی اللہ کا نہیں۔ (تفصیل کے لیے دیکھیے مخصوصة، القول الفیصل في ھٰذا المقام: 5/ 103، 104، إدارة القرآن کراتشي)

صفر کے آخری چار شنبہ کا حکم

سوال: صفر کے آخری چہار شنبہ کو اکثر عوام خوشی و سرور وغیرہ میں اطعام ُ الطعام (کھانا کھلانا) کرتے ہیں ،شرعاً اس باب میں کیا ثابت ہے؟

جواب: شرعاً اس باب میں کچھ بھی ثابت نہیں ، سب جہلاء کی باتیں ہیں۔ (فتاوی رشیدیہ، کتاب العلم، ص:171،عالمی مجلس تحفظ ِ اسلام،کراچی)

صفر کے آخری بدھ کی رسومات اور فاتحہ کا حکم

سوال: آخری چہار شنبہ جو صفر کے مہینے میں ہوتا ہے، اس کے اعمال شریعت میں جائزہیں یا نہیں؟

الجواب: آخری چہار شنبہ کے متعلق جو باتیں مشہور ہیں اور جو رسمیں ادا کی جاتی ہیں، یہ سب بے اصل ہیں۔ (کفایت المفتی، کتاب العقائد:2/302، ادارہ الفاروق، جامعہ فاروقیہ کراچی)

صفر کے آخری چہار شنبہ کو مٹھائی تقسیم کرنا

سوال: یہاں مراد آباد میں ماہِ صفر کے آخری چہار شنبہ کو ”کارخانہ دار“ ان ظروف کی طرف سے کاریگروں کو شیرینی تقسیم کی جاتی ہے، بلامبالغہ یہ ہزارہا روپیہ کا خرچ ہے؛ کیونکہ صدہا کاریگر ہیں اور ہر ایک کو اندازاً کم و بیش پاوٴ بھر مٹھائی ملتی ہے، ان کے علاوہ دیگر کثیر متعلقین کو کھلانی پڑتی ہے، مشہور یہ روایت کر رکھی ہے کہ اس دن حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل ِ صحت کیا تھا؛ مگر از روئے تحقیق بات برعکس ثابت ہوئی کہ اس دن حضرت رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے مرضِ وفات میں غیرمعمولی شدت تھی، جس سے خوش ہو کر دشمنانِ اسلام یعنی یہودیوں نے خوشی منائی تھی،احقر نے اس کا ذکر ایک کارخانہ دار سے کیا تومعلوم ہوا کہ جاہل کاریگروں کی ہوا پرستی اور لذت پروری اتنی شدید ہے کہ کتنا ہی ان کو سمجھایا جائے وہ ہرگز نہیں مانتے اور چوں کہ کارخانوں کی کامیابی کا دارو مدار کاریگروں ہی پر ہے،تو اگر کوئی کارخانہ دار ہمت کر کے شیرینی تقسیم نہ کرے تو جاہل کاریگر اس کے کارخانہ کو سخت نقصان پہنچائیں گے، کام کرناچھوڑ دیں گے۔

الف: حقیقت کی رو سے مذکورہ تقسیم شیرینی کا شمار افعال ِکفریہ ، اسلام دشمنی سے ہونا تو عقلاً ظاہرہے ،تو بلا عذر ِ شرعی اس کے مرتکب پر کفر کا فتویٰ لگتا ہے یا نہیں ؟اگرچہ وہ مذکورہ حقیقت سے ناواقف ہی کیوں نہ ہو؟

ب: جاہل کاریگروں کی ایذاء رسانی سے حفاظت کے لیے کارخانہ داروں کا فعلِ مذکور میں معذور مانا جا سکتا ہے؟

ج: ماہِ صفر کے آخری چہار شنبہ سے متعلق جو صحیح روایات اوپر مذکور ہوئیں ،وہ کس کتاب میں ہیں؟

د: حضرت رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے مرضِ وفات میں شدت کی خبر پا کر یہودیوں نے کس طرح خوشی منائی تھی؟

الجواب حامداً و مصلیاً: ماہِ صفر کے آخری چہار شنبہ کو خوشی کی تقریب منانا، مٹھائی وغیرہ تقسیم کرنا شرعاً بے دلیل ہے، اس تاریخ میں غسلِ صحت ثابت نہیں؛ البتہ شدتِ مرض کی روایت ”مدارجُ النبوة“ (2/704 -707 ، مدینہ پبلشنگ کمپنی،کراچی)میں ہے۔

یہود کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے شدتِ مرض سے خوشی ہونا بالکل ظاہر اور ان کی عداوت و شقاوت کا تقاضاہے۔

(الف) مسلمانوں کا اس دن مٹھائی تقسیم کرنا نہ شدتِ مرض کی خوشی میں (ہوتا) ہے، نہ یہود کی موافقت کی خاطر (ہوتا)ہے،نہ ان کو اس روایت کہ خبر ہے، نہ یہ فی نفسی کفر و شرک ہے؛ اس لیے ان حالات میں کفر و شرک کا حکم نہ ہو گا۔ ہاں یہ کہا جائے گا کہ یہ طریقہ غلط ہے، اس سے بچنا لازم ہے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس روز غسل ِصحت (کرنا) ثابت نہیں ہے،(اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف) کوئی غلط بات منسوب کرنا سخت معصیت ہے، (نیز!) بغیر نیتِ موافقت بھی یہود کا طریقہ اختیار نہیں کرنا چاہیے۔

(ب) نہایت نرمی و شفقت سے کارخانہ دار اپنے کاریگروں کو بہت پہلے سے تبلیغ و فہمائش کرتا رہے اور اصل حقیقت اس کے ذہن میں اتار دے ، ان کا مٹھائی کا مطالبہ کسی دوسری تاریخ میں حُسنِ اُسلوب سے پورا کر دے، مثلاً: رمضان، عید، بقر عید وغیرہ کے موقع پر دے دیا کرے، جس سے ان کے ذہن میں یہ نہ آئے کہ یہ بخل کی وجہ سے انکار کرتا ہے، بہر حال کارخانہ دار بڑی حد تک معذور ہے۔

(ج) مدارج ُ النبوہ میں ہے۔ (2/704 -707 ، مدینہ پبلشنگ کمپنی،کراچی)

(د) یہود نے کس طرح خوشی منائی؟ اس کی تفصیل نہیں معلوم۔(فتاویٰ محمودیہ،باب البدعات و الرسوم: 3/ 280،ادارہ الفاروق، جامعہ فاروقیہ کراچی)

صفر کے آخری بدھ میں عمدہ کھانا پکانا

سوال:ماہِ صفر کے آخری بدھ کو بہترین کھانا پکانا درست ہے یا نہیں؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ماہِ صفرکے آخری بدھ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مرض سے شفاء ہوئی تھی، اس خوشی میں کھانا پکانا چاہیے، یہ درست ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا

الجواب:یہ غلط اور من گھڑت عقیدہ ہے؛ اس لیے ناجائز اور گناہ ہے۔فقط واللہ تعالیٰ اعلم (احسن الفتاویٰ، کتاب الایمان والعقائد ،باب فی رد البدعات:1/360، ایچ ایم سعید)

صفر کے آخری بدھ کو چُری کرنا بدعت اور رسم قبیحہ ہے

سوال: ہمارے علاقے صوبہ سرحد میں ماہِ صفر میں خیرات کرنے کا ایک خاص طریقہ رائج ہے، جس کو پشتو زبان میں (چُری) کہتے ہیں، عوام الناس کا عقیدہ یہ ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحت یابی کی خوشی میں کی تھی۔ ”ماہنامہ النصیحہ“ میں مولانا گوہر شاہ اور مولانا رشید احمد صدیقی مفتی دارالعلوم حقانیہ نے اپنے اپنے مضامین میں اس کی تردید کی ہے کہ یہ (چُری ) و خیرات یہودیوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کی خوشی میں کی تھی اور مسلمانوں میں یہ رسم (وہاں ) سے منتقل ہوگئی ہے، اس کی وضاحت فرمائیے؟

الجواب: چوں کہ چُری نہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے اور نہ آثار اور کتبِ فقہ سے۔ لہٰذا اس کو ثواب کی نیت سے کرنا بدعتِ سیئہ ہے اور رواج کی نیت سے کرنا رسمِ قبیحہ اور التزام ما لا یلزم ہے، نیز حاکم کی روایت میں مسطور ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے آخری چہار شنبہ میں زیادتی آئی تھی اور عوام کہتے ہیں کہ بیماری میں خفت آگئی تھی اور عوام حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت کرتے ہیں کہ ”انہوں نے چُری مانگی “ اور یہ نسبت وضع حدیث اور حرام ہے، لِعَدَمِ ثُبُوْتِ ہَذا الْحَدِیْثِ فِي کُتُبِ الأحَادِیْثِ وَلاَ بِالاسْنَادِ الثَّابِتِ، وَہُوَ الْمُوَفِّقُ․(فتاویٰ فریدیہ، کتاب السنة و البدعة، 1/296،مکتبہ دارالعلوم صدیقیہ صوابی)

چُری کے بارے میں دلائل غلط اور من گھڑت ہیں

سوال: کیا فرماتے ہیں علماء دین ، مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ

صفر کے آخری بدھ کو جو چُری کی جاتی ہے  اس کے جواز میں دو دلائل پیش کیے جاتے ہیں، کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس صفر کے مہینے میں بیمار ہوئے تھے،پھر جب اس مہینے میں صحت یاب ہوئے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے شکریہ میں خیرات و صدقہ کیا ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب اس مہینے میں بیمار ہوئے، تو یہود نے اس کی خوشی ظاہر کرنے کے لیے اس مہینے میں خیرات کیا اور خوشی منائی، لہٰذا ہم جو یہ خیرات کرتے ہیں یا تو اس لیے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہانے خیرات کی تھی یا یہود کے مقابلے میں کہ جو انہوں نے خوشی منائی تھی، ہم قصداً ان سے مقابلے میں تشکر ِ نعمت کے لیے کرتے ہیں، لہٰذا علماء دین اس مسئلہ کے بارے میں کیا فرماتے ہیں کہ یہ دلائل صحیح ہیں یا غلط؟

الجواب: ثواب کی نیت سے چُری کرنا بدعت ِسیئہ ہے؛کیوں کہ غیر سنت کو سنت قرار دینا غیرِ دین کو دین قرار دینا ہے ، جو کہ بدعت ہے، ان مجوزین کے لیے ضروری ہے کہ ان احادیث ِ مذکورہ کی سند ذکر کریں اور یا ایسی کتاب کا حوالہ دیں جو کہ سندِ احادیث کو ذکر کرتی ہو یا کم ازکم متداول کتبِ فقہ کا حوالہ ذکر کریں۔

مزید بریں! یہ کہ حاکم نے روایت کی ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم آخری چہار شنبہ کو بیمار ہوئے، یعنی بیماری نے شدت اختیار کی اور تاریخ میں یہ مسطور ہے کہ یہود نے اس دن خوشی منائی اور دعوتیں تیار کیں اور یہ ثابت نہیں کہ اہلِ اسلام نے اس کے مقابل کوئی کاروائی کی․ وھُوَ الْمُوَفِّقُ․ (فتاویٰ فریدیہ، کتاب السنة و البدعة، 1/298،مکتبہ دارالعلوم صدیقیہ صوابی )

چُری کی خوراک کھانے کا حکم

 سوال: چُری کا شرعاً کیا حکم ہے؟ اور اس کی خوراک کھانا کیا حکم رکھتا ہے؟ بینوا وتوجروا

الجواب: چُری بقصدِ ثواب مکروہ ہے، لاِٴنَّ فِیْہِ تَخْصِیْصُ الزَّمَانِ وَالنَّوْعِ بِلاَ مُخَصِّصٍ، یَدُلُّ عَلَیْہِ مَا فِي الْبَحْرِ(:2/159) البتہ عوام کے لیے اس کا کھانا مکروہ نہیں ہے، لما في الھندیہ: وَلاَ یُبَاحُ اتِّخَاذُ الضِّیَافَةُ ثَلاَثَةَ أیَّامٍ فِي أیَّامِ الْمُصِیْبَةِ وَاذَا اتَّخَذَ لاَ بَأسَ بِالْأکَِْ مِنْہُ، کذا في خِزانةِ المفتین․5/380․ (فتاویٰ فریدیہ، کتاب السنة و البدعة، 1/299، مکتبہ دارالعلوم صدیقیہ صوابی)

 صفر المظفر کے آخری بدھ کو خوشی منانے کی شرعی حیثیت

 سوال: جناب مفتی صاحب ! بعض علاقوں میں یہ رواج ہے کہ کچھ لوگ ماہِ صفر المظفر کے آخری بدھ کو خوشیاں مناتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مرض سے شفاء ہوئی تھی اور اس دن بلائیں اوپر چلی جاتی ہیں؛ اس لیے اس دن خوشیاں مناتے ہوئے شیرینی تقسیم کرنی چاہیے، دریافت طلب امر یہ ہے کہ ماہِ صفر میں اس عمل کا شرعاً کیا حکم ہے؟

الجواب: ماہِ صفر المظفرکو منحوس سمجھنا خلافِ اسلام عقیدہ ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے سختی سے منع فرمایا ہے، اس ماہِ مبارک میں نہ تو آسمان سے بلائیں اترتی ہیں اور نہ اس کے آخری بدھ کو اوپر جاتی ہیں اور نہ ہی امامُ الانبیاء جنابِ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس دن مرض سے شفاء یابی ہوئی تھی؛ بلکہ موٴرخین نے لکھا ہے کہ ۲۸/ صفر کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تھے، مفتی عبدالرحیمفرماتے ہیں: ”مسلمانوں کے لیے آخری چہار شنبہ کے طور پر خوشی کا دن منانا جائز نہیں۔”شمس التواریخ“وغیرہ میں ہے کہ ۲۶/صفر ۱۱ھ دو شنبہ کو آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو رومیوں سے جہاد کرنے کا حکم دیا اور۲۷/صفر سہ شنبہ کو اُسامہ بن زید رضی اللہ عنہ امیرِلشکر مقرر کیے گئے، ۲۸/صفر چہار شنبہ کو اگرچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوچکے تھے؛ لیکن اپنے ہاتھ سے نشان تیار کر کے اُسامہ کو دیا تھا،ابھی (لشکر کے)کوچ کی نوبت نہیں آئی تھی کہ آخر چہار شنبہ اور پنج شنبہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی علالت خوفناک ہوگئی اور ایک تہلکہ سا مچ گیا، اسی دن عشاء سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھانے پر مقرر فرمایا۔ (شمس التواریخ:2/1008)

اس سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ ۲۸/ صفر کو چہار شنبہ (بدھ) کے روز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض میں زیادتی ہوئی تھی اور یہ دن ماہِ صفر کا آخری چہار شنبہ تھا، یہ دن مسلمانوں کے لیے تو خوشی کا ہے ہی نہیں؛ البتہ یہود وغیرہ کے لیے شادمانی کا دن ہو سکتا ہے، اس روز کو تہوار کا دن ٹھہرانا، خوشیاں منانا، مدارس وغیرہ میں تعظیم کرنا، یہ تمام باتیں خلافِ شرع اور ناجائز ہیں“۔(فتاویٰ حقانیہ،کتاب البدعة والرسوم :2/84،جامعہ دارالعلوم حقانیہ ،اکوڑہ خٹک ، وکذا فی فتاویٰ رحیمیہ،ما یتعلق بالسنة والبدعة: 2/68،69،دارالاشاعت)

 حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلوی رحمہ اللہ اپنی تالیف ”سیرت المصطفیٰ “ میں لکھتے ہیں کہ

”ماہِ صفر کے اخیر عشرہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار شب کو اُٹھے اور اپنے غلام” ابو مویہبہ“ کو جگایا اور فرمایا کہ مجھے یہ حکم ہوا ہے کہ اہلِ بقیع کے لیے استغفار کروں، وہاں سے واپس تشریف لائے تو دفعةً مزاج ناساز ہو گیا، سر درد اور بخار کی شکایت پیدا ہو گئی۔یہ ام الموٴمنین میمونہ رضی اللہ تعالی عنہا کی باری کا دن تھا اور بدھ کا روز تھا“۔(سیرت المصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ، علالت کی ابتداء: 3/156،کتب خانہ مظہری، کراچی)

 سیرة النبی صلی اللہ علیہ وسلم میں علامہ شبلی نعمانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ” صفر / ۱۱ ہجری میں آدھی رات کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم جنت البقیع میں جو عام مسلمانوں کا قبرستان تھا، تشریف لے گئے، وہاں سے واپس تشریف لائے تو مزاج ناساز ہوا، یہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کی باری کا دن تھا اور روز چہار شنبہ تھا“ ۔(سیرة النبی :2/115،اسلامی کتب خانہ)

اسی کے حاشیہ میں ”علامہ سید سلیمان ندوی رحمہ اللہ“ لکھتے ہیں:

”اس لیے تیرہ (۱۳) دن مدتِ علالت صحیح ہے، علالت کے پانچ دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری ازواج کے حجروں میں بسر فرمائے، اس حساب سے علالت کا آغاز چہار شنبہ (بدھ) سے ہوتا ہے“۔ ( حاشیہ سیرة النبی: 2/114،اسلامی کتب خانہ)

 سیرة خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم میں حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں کہ” ۲۸/ صفر ۱۱ ہجری چہار شنبہ کی رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبرستان بقیعِ غرقد میں تشریف لے جا کر اہلِ قبور کے لیے دعا ءِ مغفرت کی اور فرمایا:اے اہلِ مقابرتمہیں اپنا حال اور قبروں کا قیام مبارک ہو ، کیوں کہ اب دنیا میں تاریک فتنے ٹوٹ پڑے ہیں،وہاں سے تشریف لائے تو سر میں درد تھا اور پھر بخار ہو گیا اور بخار صحیح روایات کے مطابق تیرہ روز تک متواتر رہا اور اسی حالت میں وفات ہوگئی“۔ (سیرت خاتم الانبیاء ، ص:126، مکتبة المیزان،لاہور)۔

خلاصہٴ بحث

اوپر ذکر کردہ تفصیل کے مطابق ”مَنْ بَشَّرَنِيْ بِخُرُوْجِ صَفَرَ، بَشَّرْتُہ بِالْجَنَّة“ والی روایت ثابت نہیں ہے ؛ بلکہ موضوع اور من گھڑت ہے، اس کو بیان کرنا اور اس کے مطابق ا پنا ذہن و عقیدہ رکھنا جائز نہیں۔ نیز! ماہِ صفر کے آخری بدھ کی شرعاً کوئی حیثیت نہیں ہے اور اس دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بیماری سے شفاء ملنے والی بات بھی جھوٹی اور دشمنانِ اسلام یہودیوں کی پھیلائی ہوئی ہے،اس دن تو معتبر روایات کے مطابق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کی ابتداء ہوئی تھی نہ کہ شفاء کی۔

لہٰذا ہم سب کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم خود بھی اس طرح کے توہمات و منکرات سے بچیں اور قدرت بھر دوسروں کو بھی اس طرح کی خرافات سے بچانے کی کوشش کریں۔

Muharram: Correction of Beliefs

By Sheikhul Hadith Hadhrat Maulana Fazlur Rahman Azmi (rahimahullah)

The virtues of day of Âshura, its importance and the reason for its significance have already come to your knowledge. The reason is that Hadhrat Mûsa Alayhis-Salâm and the Bani Isrâ’îl were rescued from Fir’aun and his army on this day. As a token of gratitude, Hadhrat Mûsa Alayhis-Salâm fasted on this day. In emulation, Rasulullâh Sallallâhu ‘alayhi wasallam also fasted on this day and instructed the Muslims to do the same. While the compulsion to fast on this day has been waived, the fast has still been retained in the Shari’ah as an optional but highly commendable deed. It is perhaps because of this same incident that people are encouraged to spend freely on their families on this day. Allâh Ta’âla knows best.

A Grave Misconception

Because of misleading propaganda, many people believe that the significance of Muharram and Âshura is linked to the martyrdom of Hadhrat Husain Radhi-Allâhu ‘anhu. This belief is erroneous. The Shari’ah of Rasulullâh Sallallâhu ‘alayhi wasallam was perfected during his very lifetime. How can any aspect of the Shari’ah then pivot on an incident that took place long after the demise of Rasulullâh Sallallâhu ‘alayhi wasallam? In fact, it occurred many years after the period of the four Khulafa Râshideen (the four righteous Khalifs).

Without doubt, the martyrdom of Hadhrat Husain Radhi-Allâhu ‘anhu was an extremely painful and tragic incident. However, Islâm does not permit fanatical mourning because Islâm is not a religion of mourning. Every page of Islâmic history is filled with the blood of martyrs. If Muslims were required to mourn the death of every martyr, their every day of the year would be occupied with mourning. Among the many illustrious martyrs of Islâm were Hadhrat Umar Radhi-Allâhu ‘anhu, Hadhrat Uthmân Radhi-Allâhu ‘anhu and Hadhrat Ali Radhi-Allâhu ‘anhu. In fact, before them was the martyrdom of the “leader of all martyrs” Hadhrat Hamza  Radhi-Allâhu ‘anhu. Many Sahabah Radhi-Allâhu ‘anhum were also martyred during the tragedies of the battle of Muta, Bir Ma’oona and the battle of Rajee. These incidents were not only tragedies for the Muslims, but even Rasulullâh Sallallâhu ‘alayhi wasallam was extremely hurt by them. How can a Muslim forget all these and many more tragedies and remember only the incident of Hadhrat Husain Radhi-Allâhu ‘anhu?

Rather than engaging in bereavement, Islâm encourages Muslims to sacrifice their lives and wealth for the Deen. As Muslims, we have to think about what we have sacrificed for Deen when all these illustrious souls laid down their very lives?

In his book “Mâ Thabata bis Sunnah”, Shah Abdul Haqq Muhaddith Dehlawi Rahmatullâhi Alayhi quotes the following extract from the book “Kitâbus Sawâ’iq”, which was written by the Egyptian Sheikh Ibn Hajar Haythami Rahmatullâhi Alayhi, who was a renowned Mufti of Makkah Mukarramah and one of the leading jurists and Muhadditheen of his era. He writes, “One should remember that what happened to Hadhrat Husain Radhi-Allâhu ‘anhu on the day of Âshura was that he was martyred. This means that Allâh Ta’âla had elevated his status and reunited him with the other members of Rasulullâh  Sallallâhu ‘alayhi wasallam’s pure family. If anyone thinks of the tragedy that occurred on this day, he should recite ‘Innâ Lillâhi wa Innâ Ilayhi Râji’oon’. By doing so, he will be obeying Allâh Ta’âla’s command and will attain the reward that Allâh Ta’âla has promised for those who recite ‘Innâ Lillâhi wa Innâ Ilayhi Râji’oon’ when a tragedy occurs. Concerning such people, Allâh  Ta’âla has mentioned[4]‘These are the ones upon whom the collective and special mercies of Allâh descend and these are the ones who are rightly guided.’

He further writes, “On this day of Âshura, one should engage only in good deeds such as fasting and should specifically avoid the baseless innovations that the Shias and Rawâfidh practice. Some of these misleading practices include excessive wailing, mourning and crying. These are not among the practices of Muslims. If it were, then the day on which Rasulullâh Sallallâhu ‘alayhi wasallam passed away would have been more deserving of bereavement. Muslims should also avoid the practices of the Nawâsib, who are the enemies of Rasulullâh Sallallâhu ‘alayhi wasallam’s family. Such people are ignorant. They oppose falsehood with falsehood, Bid’ah with Bid’ah and evil with evil. In opposition to mourning, they make the day a day of rejoicing and celebration. On this day, they adorn themselves, apply henna and kohl, wear new clothing and spend their wealth very liberally. They also prepare elaborate meals that are not prepared on other days. They regard these practices as Sunnah practices and have made them customary. However, they are actually opposing the Sunnah because none of these practices have been reported from Rasulullâh Sallallâhu ‘alayhi wasallam.”

“When the scholars of Fiqh (Islâmic jurisprudence) and Ahadeeth were asked about applying henna and kohl, about wearing new clothes, about taking a bath and expressing joy on the day of Âshura, they made it clear that no narration has every proven that these acts were practised by Rasulullâh Sallallâhu ‘alayhi wasallam. Neither the Sahabah Radhi-Allâhu ‘anhum nor the Imâms of Fiqh or any other scholar ever regarded such practices as being Mustahab (commendable) for this day. There is neither any authentic or weak narration in this regard reported in any of the reliable Islâmic books. Among the many virtues cited about this day, the narration concerning spending freely on one’s family has been established from the Ahadeeth. However, comments have been made about the authenticity of its chain of narrators. The famous virtues of the day of Âshura that are all fabrications are:

• That the person applying kohl on this day will not have any pain in the eyes for the entire year.

• That the person who baths on this day will not suffer any illness for the year.

• That there is a special salâh to be performed on this day.

• That the repentance of Hadhrat Âdam Alayhis-Salâm was accepted on this day.

• That the ark of Hadhrat Nûh Alayhis-Salâm settled on Mount Judi on this day.

• That Hadhrat Ibraheem Alayhis-Salâm was saved from the fire on this day.

• That on this day Allâh Ta’âla sent the ram to be sacrificed in place of Hadhrat Isma’eel Alayhis-Salâm.

• That on this day Allâh Ta’âla  returned Hadhrat Yusuf Alayhis-Salâm to his father Hadhrat Ya’qûb Alayhis-Salâm.

Because of their ignorance, the Nawâsib regard the day of Âshura as a day of celebration whereas the Rawâfidh regard it to be a day of grief and bereavement. Both these attitudes oppose the Sunnah. Thus have the Scholars of Ahadeeth stated.”[5]

It is therefore evident that the above are all fabrications, save for the narration concerning spending freely on one’s family. Allâma Ibn Qayyim Rahmatullâhi Alayhi has also made it clear that the narrations about applying kohl, oil, perfume and other things specifically on the day of Âshura have all been concocted.[6]

Shah Abdul Haqq Muhaddith Dehlawi Rahmatullâhi Alayhi has also quoted another narration which Sheikh Ali bin Muhammad Ibn Arrâq Rahmatullâhi Alayhi [7] has classified as a fabricated hadith. The fabricated hadith states that the person who fasts on the day of Âshura will receive the reward of fasting for sixty years and for standing in salâh for sixty years. In addition to this, he will also receive the rewards of ten thousand angels and the rewards of a thousand people performing Hajj and Umrah. He will also receive the rewards of ten thousand martyrs together with all the rewards of the seven heavens. This fabricated hadith also states that the person who feeds a hungry person on the day of Âshura will receive the reward of feeding every poor person from the Ummah of Muhammad  Sallallâhu ‘alayhi wasallam to his fill. Furthermore it states that the person who on this day places his hand on the head of an orphan will have his status in Jannah raised by a degree for every strand of the orphan’s hair that falls beneath his hand. The other false impressions that the fabrication creates is that Allâh Ta’âla created the creation on the day of Âshura, including the heavens, the earth, the pen, the Lowhul Mahfoodh, Hadhrat Jibra’eel Alayhis-Salâm, Hadhrat Mika’eel Alayhis-Salâm and Hadhrat Âdam Alayhis-Salâm. It also states that Hadhrat Ibraheem Alayhis-Salâm was born on this day, that he was rescued from the fire on this day, that the ram was sent in place of Hadhrat Isma’eel Alayhis-Salâm on this day, that Fir’oun was drowned on this day, that Hadhrat Idrees  Alayhis-Salâm was raised to the heavens on this day and that Hadhrat Âdam Alayhis-Salâm’s repentance was accepted on this day. Moreover, it states that Hadhrat Dawood Alayhis-Salâm was forgiven on this day, that Allâh Ta’âla focuses His attention to His throne on this day and that Qiyâmah shall take place on this day. Allâma Ibn Jowzi Rahmatullâhi Alayhi has also stated that this hadith has been concocted by a person called Habeeb Ibn Abi Habeeb and attributed to Hadhrat Abdullâh bin Abbâs Radhi-Allâhu ‘anhu.[8]

After mentioning all of the above, Hadhrat Shah Abdul Haqq Rahmatullâhi Alayhi quotes another fabrication. This fabrication states that on this day Hadhrat Yusuf Alayhis-Salâm was freed from prison, Hadhrat Ya’qoob Alayhis-Salâm’s eyesight was restored, Hadhrat Ayyoob Alayhis-Salâm was cured and Hadhrat Yunus Alayhis-Salâm was removed from the belly of the fish. It also states that on this day the past and future mistakes of Rasulullâh Sallallâhu ‘alayhi wasallam were forgiven, the repentance of Hadhrat Yunus Alayhis-Salâm’s nation was accepted and the first rains fell. In addition to this, the “hadith” states that the person who fasts on the day of Âshura shall have forty years of his sins forgiven and that the day of Âshura was the first creation of Allâh Ta’âla. It states that the person who fasts on this day will be rewarded like one who fasts all the time and the person who stands in Ibâdah during the night preceding the day of Âshura will receive the reward of the Ibâdah of everything within the seven heavens. Furthermore, it states that all the Ambiya Alayhum-Salâm fasted on this day and that fifty years of a person’s future sins and fifty years of his past sins will be forgiven if on this day he performs four rakât salâh and recites Surah Fâtiha once, followed by Surah Ikhlâs (Surah 112) fifty times in every rakât. In addition to this, the “hadith” states that such a person will have a thousand pulpits of Nûr (celestial light) erected for him in the highest echelons of the heavens. It also asserts that the person who gives a single sip to another to drink on this day, his status will be like one who has not disobeyed Allâh Ta’âla for even a moment as brief as the blink of an eye. It says also that one who feeds a poor person to his fill on this day will cross over the bridge of Sirât with the speed of lightning. Another concocted detail of this “hadith” is where it states that the person who gives charity on this day is like one who never refuses any beggar and someone who passes his hand over the head of an orphan will be rewarded like one who has behaved kindly to every orphan among mankind. In a similar fashion, it states that whoever visits a sick person on this day will be equal to one who has visited every sick person from among mankind.

Allâma Ibn Jowzi Rahmatullâhi Alayhi has mentioned that this narration has certainly been fabricated although its chain of narrators include all reliable narrators. It is therefore obvious that whoever concocted this “hadith” attached a reliable chain of narrators to it.[9]

Conclusion

Everything said above has made it evident that the day of Âshura is especially important because it was the day in which Hadhrat Moosa Alayhis-Salâm and the Bani Isrâ’eel were saved while Fir’oun and his army were drowned. It is also because of this that the fast is observed on this day. Everything else pertaining to its importance is unfounded. No injunction of the Shari’ah pertaining to this day is related to the martyrdom of Hadhrat Husain Radhi-Allâhu ‘anhu. There are no special salâhs to be performed and no special foods that have to be prepared either.

Although Allâma Ibn Kathîr Rahmatullâhi Alayhi has recorded a narration in his Tafsîr stating that the ark of Hadhrat Nûh Alayhis-Salâm settled on Mount Judi on the day of Âshura, he has added that this narration is “Ghareeb”. As noticed in many of his comments, when Allâma Ibn Kathîr Rahmatullâhi Alayhi classifies a hadith as “Ghareeb”, he means that the hadith should be disregarded. We will therefore suffice only with what has been stated in authentic Ahadeeth.

May Allâh Ta’âla grant the Ummah the ability to remain steadfast on the Qur’ân and Sunnah, remaining aloof from all acts of Bid’ah and all customs. May Allâh Ta’âla also guide them to refrain from adding baseless beliefs and injunctions to the Shari’ah. May Allâh’s choicest blessing and mercies be showered on our leader Rasulullâh Sallallâhu ‘alayhi wasallam, his family and all his Companions Radhi-Allâhu ‘anha. All praises are definitely for Allâh Ta’âla alone. Âmîn.

References

[1] Surah Baqara, verse 157.
[2]  Maa Thabata bis Sunnah Pg. 16. 
[3]  Maa Thabata bis Sunnah Pg. 17.
[4]  From his book “Tanzi’atush Shari’atul Marfu’ah Anil Ahadeethil Mowdoo’ah”. 
[5]  Maa Thabata bis Sunnah Pg. 20
[6]  Maa Thabata bis Sunnah Pg. 21.
[7]  Ma’aarifus Sunan Vol. 4 Pg. 306. 
[8]  In his book “Tanzi’atush Shari’atul Marfu’ah Anil Ahadeethil Mowdoo’ah” Vol. 2 Pg.149.
[9]  In his book “Al La’aalil Masnoo’ah” Vol. 2 Pg. 108. 

Muharram: Spending Freely on One’s Family

By Shaykhul Hadith Maulana Fazlur Rahman Azami (rahimahullah)

Is it commendable to spend freely on one’s family during the day of Âshura or not? There is a group of Ulama who are of the opinion that this practice is unfounded. They maintain that the hadith substantiating this practice is unreliable. However, this standpoint of theirs is neither sound nor rational. It is a case of swaying to extremities. Judicious Muhadditheen are of the opinion that the hadith in this regard is reliable. This practice is therefore commendable. Allâma Sakhâwi Rahmatullâhi Alayhi has approved of this hadith in his book “Al Maqâsidul Hasana”.

The hadith is narrated by Hadhrat Abdullâh bin Mas’ood Radhi-Allâhu ‘anhu, who mentions that Rasulullâh Sallallâhu ‘alayhi wasallam said:

من وسع  علي عياله في يوم عاشوراء وسع الله عليه السنة كلها

{“Allâh Ta’âla will grant prosperity throughout the year to the person who spends freely on his family on the day of Âshura.”}

Tabrâni, Bayhaqi and Abu Sheikh have all narrated this hadith from Hadhrat Abdullâh bin Mas’ood Radhi-Allâhu ‘anhu. Tabrâni and Bayhaqi have also narrated it from Hadhrat Abu Sa’eed Khudri (Radhi-Allahu ‘anhu), while Bayhaqi reports narrations of this hadith from Hadhrat Jâbir Radhi-Allâhu ‘anhu and Hadhrat Abu Hurayra Radhi-Allâhu ‘anhu as well. Although the chains of narrators of these Ahadeeth are not reliable, their sheer numbers lend strength to them[1].

The actual text of Imâm Sakhâwi  Rahmatullâhi Alayhi’s “Al Maqâsidul Hasana” is as follows:

حديث } 1193 {: من وسع  علي عياله في يوم عاشوراء وسع الله عليه السنة كلها.

رواه الطبراني ، والبيهقي في الشعب وفضائل الأوقات ، وأبو الشيخ ،عن ابن مسعود   والأولان فقط عن أبي سعيد ، والثاني فقط في الشعب عن جابر و أبي هريرة ، وقال انّ أسانيده كلها ضعيفة ،ولكن اذا ضمّ بعضها الي بعض أفاد قوة.

بل قال العراقي في أماليه : لحديث أبي هريرة طرق صحح بعضها ابن ناصر الحافظ ، وأورده ابن الجوزي في الموضوعات من طريق سليمان بن أبي عبد الله ، وقال : سليمان مجهول ، وسليمان ذكره ابن حبان في الثقاتفالحديث حسن علي رأيه. قال : وله طريق عن جابر علي شرط مسلم ، أخرجها ابن عبد البر في الاستذكار من رواية أبي الزبير عنه ، وهي أصح طرقه .

ورواه هو والدارقطنى في الأفراد بسند جيد عن عمر موقوفا عليه ، والبيهقي في الشعب من جهة محمد بن المنتثر ، قال : كان يقال فذكره ، قال : وقد جمعت طرقه في جزء.

قلت واستدرك عليه شيخنا رحمه الله كثيراً لم يذكره وتعقب اعتماد ابن الجوزي في الموضوعات قول العقيلي في هيصم بن شداخ راوي ابن مسعود انّه مجهول بقوله بل ذكره ابن حبان في الثقات والضعفاء  (المقاصد الحسنة للسخاوي  ص674)

In his book “Mâ Thabata Bis Sunnah”, Hadhrat Shah Abdul Haqq Muhaddith Dehlawi  Rahmatullâhi Alayhi has quoted the above dissertation of Imâm Sakhâwi Rahmatullâhi Alayhi. He has also quoted the following discussion of Hâfidh Zaynud Deen Iraqi Rahmatullâhi Alayhi who says, “This hadith has some weakness although Ibn Hibbân  Rahmatullâhi Alayhi regards it to be an authentic hadith. There is also another version of this hadith, which Hâfidh Abul Fadhl Muhammad bin Nâsir  Rahmatullâhi Alayhi has passed as authentic. From what Imâm Bayhaqi Rahmatullâhi Alayhi says, it appears as if the hadith about spending freely on one’s family is authentic according to other Muhadditheen besides Ibn Hibbân. This is evident from the fact that he has narrated this hadith from many Sahabah Radhi-Allâhu ‘anhum who all narrate from Rasulullâh Sallallâhu ‘alayhi wasallam. He has also mentioned that although the chains of narrators of these Ahadeeth are not reliable, their sheer numbers lend strength to them. As for Allâma Ibn Taymiyyah Rahmatullâhi Alayhi who rejects this hadith and says that nothing of the sort was reported from Rasulullâh Sallallâhu ‘alayhi wasallam, this is his misunderstanding. When Imâm Ahmad Rahmatullâhi Alayhi stated that this hadith is not authentic, he most probably meant that the hadith is itself not perfectly reliable. However, he did not refute the fact that the hadith may receive credibility because of other factors. After all, a hadith that becomes reliable because of other factors can also be regarded as a legitimate proof.”[2]

In his commentary of “Durrul Mukhtâr”, Allâma Shâmi Rahmatullâhi Alayhi writes, “The hadith concerning spending freely on one’s family is authentic, as Hâfidh Suyuti Rahmatullâhi Alayhi has mentioned in his book ‘Ad Durar’. However, the narration about applying kohl on the day of Âshura is a fabrication, as Allâma Sakhâwi Rahmatullâhi Alayhi has mentioned with conviction in ‘Al Maqâsidul Hasana’. Mulla Ali Qâri Rahmatullâhi Alayhi supports this view in his book ‘Kitâbul Mowdu’ât’. In his book ‘Durar Muntashira’ Allâma Suyuti Rahmatullâhi Alayhi has quoted Hâkim as saying that this narration is Munkar. In his book ‘Kashful Khifâ’, Imâm Jarrâhi has quoted Hâkim as stating that no narration has been reported from Rasulullâh Sallallâhu ‘alayhi wasallam about applying kohl on the day of Âshura. Doing so is regarded as a Bid’ah (innovation).” [3]

References:

[1]  Al Maqaasidul Hasanah Pg. 674.    
[2]  Maa Thabata bis Sunnah Pg. 17.
[3]  Shaami Vol. 2 Pg. 124.

Muharram: The Method of Fasting on the day of Âshura

By Sheikhul Hadith Hadhrat Maulana Fazlur Rahman Azmi (rahimahullah)

Hadhrat Abdullâh bin Abbâs Radhi-Allâhu ‘anhu narrates that Rasulullâh Sallallâhu ‘alayhi wasallam fasted on the day of Âshura and instructed the Muslims to fast as well. When the Muslims told Rasulullâh Sallallâhu ‘alayhi wasallam that the Jews and the Christians revere this day, he replied, “If I am alive next year, Insha Allâh I shall fast on the ninth as well.” However, Rasulullâh Sallallâhu ‘alayhi wasallam passed away before the next year.[1]

Hadhrat Hakam bin A’raj  Rahmatullâhi Alayhi narrates that he once came to Hadhrat Abdullâh bin Abbâs Radhi-Allâhu ‘anhu  while he was reclining on a shawl near the well of Zamzam. He then asked Hadhrat Abdullâh bin Abbâs Radhi-Allâhu ‘anhu, “Tell me how I should observe the fast of the day of Âshura?” Hadhrat Abdullâh bin Abbâs Radhi-Allâhu ‘anhu replied, “When you see the moon of Muharram, count the days and then fast on the morning of the ninth day.” When asked whether Rasulullâh Sallallâhu ‘alayhi wasallam fasted in this manner, Hadhrat Abdullâh bin Abbâs Radhi-Allâhu ‘anhu replied in the affirmative.[2]

According to another hadith, Hadhrat Abdullâh bin Abbâs Radhi-Allâhu ‘anhu said that Rasulullâh Sallallâhu ‘alayhi wasallam instructed them to fast on the tenth[3]. Yet another narration of Hadhrat Abdullâh bin Abbâs Radhi-Allâhu ‘anhu states that he said, “Fast on the ninth and tenth, thereby opposing the Jews.”[4]

All the above narrations make it clear that the preferred method of fasting for the day of Âshura is to fast on the 9th and 10th of Muharram. When Hadhrat Abdullâh bin Abbâs Radhi-Allâhu ‘anhu told Hadhrat Hakam bin A’raj Rahmatullâhi Alayhi that fasting on the 9th was the way Rasulullâh Sallallâhu ‘alayhi wasallam fasting, he meant that if Rasulullâh Sallallâhu ‘alayhi wasallam lived longer, he would have fasted on the 9th as well because he had intended to do so. Although Rasulullâh Sallallâhu ‘alayhi wasallam really did not fast on the 9th, his desire to do so is as good as him doing it. Allâh Ta’âla knows best.

There is another hadith reported by Hadhrat Abdullâh bin Abbâs Radhi-Allâhu ‘anhu which is famously quoted in many books of Ahadeeth. The narration is from Muhammad Ibn Abi Layla and it says that Rasulullâh Sallallâhu ‘alayhi wasallam mentioned, “Fast on the day of Âshura but oppose the Jews by fasting a day before or a day after.”[5] 

According to this narration, a person may fast either on the 9thand 10th or on the 10th and 11th of Muharram. However, the narrator Muhammad Ibn Abi Layla has been classified as a weak narrator, a factor which weakens the status of the hadith. Ibn Rajab Hambali Rahmatullâhi Alayhi has mentioned that the word “or” towards the end of this hadith could indicate a doubt in the narrator’s mind. This means that the narrator could be unsure whether Rasulullâh Sallallâhu ‘alayhi wasallam said “a day before” or “a day after”. Ibn Rajab Rahmatullâhi Alayhi has also mentioned those Ahadeeth that contain the word “and” instead of the word “or”. These narrations therefore mention that one should fast on three days, viz. the 9th, 10th and 11th of Muharram.

An examination of the various narrations seems to reveal that there are discrepancies in the various copies of Imâm Ahmad Rahmatullâhi Alayhi’s “Musnad”. Whereas Hâfidh Ibn Hajar Rahmatullâhi Alayhi has quoted the hadith with the word “or” in his books “Fat’hul Bâri” and “Talkheesul Habeer”, the book “Naylul Awtâr” reports the hadith with the word “and”. Quoting from “Jam’ul Fawâ’id”, the book “Khutubâtul Ahkâm” also narrates the hadith with the word “and”. In a like manner, while some narrations of Bayhaqi contain the word “or’, other narrations of the same hadith contain the word “and”.[6]

If it is assumed that the correct word is “and”, as Ibn Rajab  Rahmatullâhi Alayhi feels, then the fact is established that one should fast for three days. It is with this in mind that Sheikh Abdul Haqq Muhaddith Dehlawi Rahmatullâhi Alayhi has mentioned the following in his footnotes of Tirmidhi, titled “Lam’ât”:

“With regard to the fast on the day of Âshura, there are three ranks, viz. (1) on the 9th, 10thand 11th, which is the best method of fasting, (2) on the 9th and 10th and (3) on the 10th only. There are several Ahadeeth to substantiate fasting on the 9th and 10th. Fasting on the 10th and 11th holds no status at all, while it is not Sunnah to fast only on the 9th.[7]

According to the canonical work “Durrul Mukhtâr”[8], it is Makrooh Tanzihi to fast on the 10th only. (i.e. excluding the day before or the day after)

NOTE: The above discussion makes it clear that the Shari’ah dislikes that the Ibâdah of Muslims should resemble the Ibâdah of the Jews and Christians. This is the reason why fasting only on the 10this Makrooh. Although Rasulullâh Sallallâhu ‘alayhi wasallam fasted only on the 10th, he had intended to oppose the ways of the Jews. There should therefore be some sort of opposing (their practice), whether it be by fasting a day before or after.

Hadhrat Abdullâh bin Abbâs  Radhi-Allâhu ‘anhu narrates that Rasulullâh Sallallâhu ‘alayhi wasallam used to allow his hair to fall without making a path, as was the practice of the Ahlul Kitâb. The Mushrikeen, however, used to make paths in their hair. Rasulullâh Sallallâhu ‘alayhi wasallam used to prefer resembling the Ahlul Kitâb in those matters concerning which Allâh Ta’âla did not specifically instruct him. However, Rasulullâh Sallallâhu ‘alayhi wasallam later started making a path through his hair.[9] It proves that in this matter Rasulullâh Sallallâhu ‘alayhi wasallam was instructed to oppose the Ahlul Kitâb just as he was instructed to oppose them concerning the fast of the day of Âshura. One should therefore not fast only on the 10th.

References

[1]  Muslim Vol. 1 Pg. 359. 
[2]  Tirmidhi Vol. 1 Pg. 158. This hadith is sound. 
[3] Tahaawi and Bayhaqi narrate this hadith with a reliable chain of narrators, as mentioned in “Tuhfatul Ah’wadhi”.
[4]  Tirmidhi Vol. 1 Pg. 158.
[5]  Musnad Ahmad Vol. 1 Pg. 241, Tahaawi, Bayhaqi, Bazzaar and others.
[6]  Lataa’iful Ma’aarif by Ibn Rajab Hambali (Rahmatullaahi Alayhi) Pg. 108.
[7]  Tirmidhi Vol. 1 Pg. 157 (footnotes). 
[8]  Vol. 2 Pg. 91.(Rashidia) 
[9]  Bukhari Vol. 1 Pgs. 503 & 562.

محرم کی بدعات اور رسوم

من جانب: محمد راشد حنفی

محرم کوفضلیت کس لئے حاصل ہوئی؟

کسی وقت، کسی دن یا مہینہ کو عظمت وفضلیت حاصل ہونے کی اصل وجہ اﷲ تعالی کی خاص تجلیات، انوار و برکات اور رحمتوں میں متوجہ اورظاہر ہوناہے، (لیکن بعض اہم واقعات کا اس وقت میں واقع ہوجانا بھی دوسرے درجہ میں فضلیت کا باعث ہو جاتا ہے جیسا کہ رمضان میں قرآن مجید کا نازل ہونا اور شب قدر وغیرہ کا واقع ہونا وغیرہ) اور فضلیت حاصل کرنے کا طریقہ(اصولی یا جزوی طریقہ پر) وحی کے ذریعہ سے ہی معلوم ہوسکتا ہے، اپنی طرف سے کسی دن یا تاریخ میں خاص فضلیت کی بنیاد اپنی طرف سے کسی اور چیز کو قرار دے دینا یا فضلیت حاصل کرنے کاکوئی خاص طریقہ اپنی طرف سے متعین کر لینا يہ تمام چیزیں ناجائز، گناہ اور شریعت پر زیادتی ہیں۔ لہٰذا جو لوگ يہ سمجھتے ہیں کہ محرم کے مہینے یا دس محرم کے دن کی فضلیت حضرت حسینؓ کی شہادت کی وجہ سے حاصل ہو ئی وہ لوگ غلطی میں مبتلا ہیں۔ کیونکہ اس مہینہ کی فضلیت تو کربلا کے واقعہ سے بہت پہلے آسمان وزمین کی پیدائش سے ہی چلی آرہی ہیں اور ظاہر ہے کہ اس وقت کربلا کے واقعہ کا نام ونشان بھی نہیں تھا۔ اسی طرح دس محرم کے دن کی فضلیت بھی بہت پہلے سے چلی آرہی ہے۔ يہاں تک کہ يہودونصاریٰ اور قریش مکہ بھی اس دن کی عظمت و فضلیت کے قائل تھے۔ حضور ﷺنے دس محرم کے روزے کے فضائل بیان فرمائے اور ظاہر ہے کہ اسو قت تک کربلا کا واقعہ پیش نہیں آیا تھا،البتہ يہ کہا جائے گا کہ خود حضرت حسینؓ کی شہادت اس مہینے اور اس دن میں اسلئے واقع ہوئی کہ يہ مہینہ اور دن فضلیت کا تھا ، اﷲ تعالیٰ نے اس مقدس مہینے کے اس مبارک دن کواپنے مقبول بندے حضرت حسینؓ کی شہادت کے واسطے منتخب فرما دیا غرضیکہ اس دن کو حضرت حسینؓ کی شہادت کی وجہ سے کوئی فضلیت حاصل نہیں ہوئی بلکہ خود حضرت حسینؓ کو دن شہید ہونے سے فضلیت حاصل ہوئی۔

کیا محرم غم کا مہینہ ہے؟

بعض نا واقف لوگ ایسے بھی ہیں محرم کے مہینے کو رنج وغم کا مہینہ سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس مہینہ میں کربلا کا سانحہ پیش آیا تھا جس میں حضرت حسین ؓاور دوسری عظیم ہستیوں کو بے دردی کے ساتھ شہید کر دیا گیا تھا لہٰذا يہ مہینہ غم کا ہے اور اسی وجہ سے يہ لوگ اس مہینے میں خوشی کے کام (شادی بیاہ وغیرہ) انجام دينے سے پرہیز کرتے ہیں اور بعض لوگ خوشی کے کاموں سے پرہیز کرتے ہوئے مختلف قسم کے سوگ کرتے ہیں (مثلاً کالا لباس پہننا، عورتوں کا زیب وزینت اور بناﺅ سنگھار چھوڑ دینا، میاں بیوی کے خصوصی تعلقات سے رکے رہنا، مرثيے پڑھنا، نوحہ ، ماتم کرنا وغیرہ وغیرہ) اس سلسلہ میں سب سے پہلے تو يہ سمجھ لینا چاہیے کہ يہ خیال بالکل غلط ہے کہ يہ مہینہ غمی کا ہے کیونکہ يہ مہینہ تو بہت محترم اور فضلیت بلکہ عبادت والا مہینہ ہے اور دس محرم کے دن، تاریخ اسلام کے بہت بڑے عظیم اور خوشگوار واقعات رونما ہوئے ہیں اور دوسری بات يہ ہے کہ غمی کا واقعہ پیش آنے سے وہ مہینہ یا دن غم کےلئے مخصوص نہیں ہو جاتا کہ اس میں ہمیشہ غم کیاجاتا رہے اور صدییاں گزرنے کے باوجود اس کو غم کا مہینہ بنائے رکھنا تو بہت بڑی حماقت ہے ۔۔

کیا محرم نحوست کا مہینہ ہے ؟؟؟

بعض لوگ اس مہینہ کو نحوست کا مہینہ سمجھتے ہیں۔زمانہ جاہلیت میں لوگ بعض دنوں بعض تاریخوں اوربعض جانوروں یا انسانوں میں نحوست سمجھتے تھے خاص کر عورت، گھوڑے اور مکان میں نحوست کا زیادہ اعتقاد رکھتے تھے اور آج کل بعض مہینوں (مثلاً محرم ،صفر وغیرہ) اور بعض دنوں، تاریخوں اور جگہوں میں نحوست سمجھی جاتی ہے خاص طور پر جس تاریخ یا جس جگہ میں کوئی حادثہ ، ہلاکت یا کوئی نقصان اورغمی کا واقعہ پیش آجائے اس کو منحوس سمجھاجاتا ہے ،اور واقعہ کربلا کے محرم کے مہینہ میں پیش آجانے کی وجہ سے اسی بنیاد پر محرم کے مہینہ کو بہت سے لوگ منحوس خیال کرتے ہیں يہاں تک کہ جو بچہ محرم کے مہینہ میں پیدا ہوجائے اس کو بھی منحوس خیال کیا جاتا ہے ۔ جبکہ اسلام کے اصولوں اور رسول اﷲ ﷺ کی احادیث سے ثابت ہے کہ کوئی زمانہ یا دن تاریخ اپنی ذات میں منحوس نہیں ہے،غمی کا واقعہ پیش آنے سے زمانہ منحوس نہیں بن جاتا ، اور زمانہ تو اﷲ تعالیٰ کی مخلوق ہے اس کی طرف نحوست یا برائی منسوب کرنا گناہ ہے احادیث میں اس کی ممانعت آئی ہے۔ ايک حدیث قدسی میں ہے :۔

نبی کریم ﷺ سے مروی ہے کہ اﷲ تعالی فرماتے ہیں کہ بنی آدم مجھے ایذاء دیتا ہے  (یعنی میری شان کے خلاف بات کہتا ہے اور وہ اس طرح) کہ وہ زمانہ و برا بھلا کہتا ہے حالانکہ زمانہ میں ہوں (یعنی زمانہ ميرے تابع اور ماتحت ہے) میرے قبضہ قدرت میں تمام حالات اور زمانے ہیں میں ہی رات ودن کو پلٹتا(کم زیادہ کرتا) ہوں ۔

(بخاری، مسلم، ابو داود، موطا امام مالک، مشکوة ص13)

فائدہ:

زمانہ بذات خودکوئی چیز نہیں وہ تو اﷲ تعالیٰ کے حکم سے وجود میں آیا ہے اوراسی کے حکم سے چلتا ہے، نحوست اگر ہے تو انسان کی بد اعمالیوں یا اپنے خیالات کی بنیاد پر ہے ۔ اول محرم کا مہینہ خود فضلیت والا مہینہ ہےاوراس میں کوئی نحوست نہیں ہے دوسرے حضر حسین ؓ کی شہادت کی وجہ سے اس مہینہ کو غمی یا نحوست کا مہینہ سمجھنے سے يہ لازم آتا ہے کہ نعوذ باﷲ شہادت کوئی بری یا منحوس چیز ہے جبکہ شرعی اعتبار سے شہادت ايک عظیم سعادت والا عمل ہے جو ہرکس وناکس کو بآسانی میسر نہیں آتا، اور شہادت ایسی عظیم سعادت اور دولت ہے جس کی تمنا خود اپنے لئے محمد مصطفےٰﷺ نے بھی کی ہے اور امت کو بھی اس کی ترغیب دی ہے اور شہید کے لئے بڑے اجروانعام ، اعزاز و اکرام اور بےشمار نعمتوں کی خوشخبری سنائی ہے ۔

شہادت کے فضائل

آیت: ولا تقولوا لمن یقتل فی سبیل اﷲ اموات، بل احیاءولکن لا تشعرون (البقرہ)

ترجمہ: اور جو لوگ اس کی راہ میں قتل کئے جاتے ہیں ان کی نسبت یوں بھی مت کہو کہ وہ (معمولی مردوں کی طرح) مردے ہیں بلکہ وہ تو (ايک ممتار حیات کے ساتھ) زندہ ہے لیکن تم (ان) حواس سے (اس حیات کا) ادارک نہیں کر سکتے۔

آیت: ولا تحسبن الذین قتلوا فی سبیل اﷲ امواتا، بل احیاءعند ربھم یرزقون۔ فرحین بما اتا ہم اﷲ من فضلہ۔(آل عمران)

ترجمہ: اور جو اﷲ کے راستے میں شہید ہو جائیں ان کو مردے مت خیال کرو بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے مقرب ہیں ان کو رزق ملتا ہے وہ اﷲ کے فضل میں سے دئيے ہوئے پر خوش ہوتے ہیں۔

ان آیات میں اﷲ تعالی نے شہیدوں کی کئی فضلتیں ذکر فرمائی ہيں۔ ايک يہ کہ شہیدوں کو شہادت کے بعد برزخ میں ہمیشہ کی امتیازی زندگی عطا ہوتی ہے تم ان کو عام مردوں کی طرح مردہ نہ خیا ل کرو دوسری فضلیت يہ ذکر ہوئی کہ شہید اپنے رب کے مقرب ہیں ان کو خصوصی قرب حاصل ہوتا ہے۔تیسری فضلیت يہ ذکر ہوئی کہ شہیدوں کو رزق عطا ہوتا ہے اس پر خوش ہوتے ہیں يہ روحانی رزق يہ یعنی جسمانی و روحانی دونوں قسم کا رزق ملتے ہیں۔ یاد رہے شہید کو شہادت کے بعد جو زندگی عطا ہوتی ہے يہ صرف روح کی زندگی نہیں ہے بلکہ روح کا تعلق جسم کے ساتھ بھی خاص درجہ کا دوسروں سے امتیازی ہوتا ہے ورنہ تو ان کو مردہ کہنے کی ممانعت کو کائی مطلب نہیں کیونکہ روح تو تمام مردوں ہی کی زندہ ہے۔

آیت: ولئن قتلتم فی سبیل اﷲ اومتم لمغفرة من اﷲ ورحمة خیر مما یجمعون (آلعمران)

ترجمہ: اور اگر تم اﷲ کے رساتے میں شہید ہو گئے یا طبعی موت کا شکار ہوئے بہر صورت اﷲ تعالی کی طرف سے حاصل ہونے والی مغفرت اور رحمت (جو اﷲ کے راستے میں حاصل ہوتی ہے) وہ ان چیزوں سے بہتر ہے جو لوگ جمع کرتے ہیں۔

اس آیت میں شہیدوں کو مغفرت اور رحمت حاصل ہونے کی خوشخبری ہے اور اس کا ثبوت ہے کہ دنیا کی مال ودولت اور دوسری چیزوں سے بہتر نعمتیں ان کو حاصل ہوتی ہیں۔

آیت: والذین ھاجروا سبیل اﷲ ثم قتلوا اوماتو الیرزقنہم اﷲ رزقا حسنا، وان اﷲ لھو خیر الرازقین۔ لیدخلنھم مدخلا یرضونہ (الحج)

ترجمہ: اور جنہوں نے اﷲ کے راستے میں ہجرت کی پھر شہید ہوگئے یا طبعی موت کا شکار ہوئے اﷲ تعالیٰ نے ان کو بہترین رزق عطا فرمائے گا اور بیشک اﷲ بہترین رزق دينے والے ہیں۔ اور ان کو ایسی جگہ داخل کرےگا جس کو وہ خود پسند کریں گے۔

اس آیت میں شہید سے دو چیزوں کا وعدہ ہوا ہے ايک بہترین رزق کا دوسرا اپنی پسند کی جگہ یعنی جنت میں داخلہ کا يہ دونوں بہت بڑے اعزاز ہیں۔

آیت: ومن یطع اﷲ والرسول فاولئک مع الذین انعم اﷲ علیھم من النبین والصدیقین والشھداءوالصالحین(نسائ)

ترجمہ: اور جو اﷲاور رسول کی اطاعت کرے گا تو ایسے آدمی ان لوگوں کے ساتھ ہوں کے جن پر اﷲ نے انعام فرمایا یعنی انبیاء، صدیقین، شہدااور صالحین۔

اس آیت میں اﷲ تعالی نے شہيدوں کی يہ فضلیت بیان فرمائی ہے کہ وہ اﷲ تعالی کے انعام یافتہ لوگوں میں سے ہیں، اور يہ کہ انبیا ءصدیقین کے بعد سب سے بڑھ کر شہیدوں کا مقام و مرتبہ ہے۔

حدیث: لوددت انی اعزوفی سبیل اﷲ فاقتل ثم اغزو فاقتل ثم اغرو فاقتل (بخاری فی الجہاد، مسلم فی الا مارة، نسائی فی الجھاد، ابن ماجہ فی الجہاد، مسند احمد ، دارمی فی الجہادو موطا امام مالک فی الجہاد)

ترجمہ: حضور ﷺ نے فرمایامیںپسند کرتا ہوں کہ میں اﷲ کے راستے میں جہاد کروں اور شہید کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں پھر شہید کیا جاؤں، پھر زندہ کی جاؤں پھر شہید کیا جاؤں۔

حدیث: ما احد یدخل یحب ان یرجع الی الدنیا، ولہ ما علی الارض من شیئی الا الشہیدیتمنی ان یرجع الی الدنیا فیقتل عشر مرات لما یری من الکرامة (البخاری فی الجہاد، مسلم فی الامارة، ترمذی فی الجہاد، نسائی فی الجہاد ومسند احمد)

ترجمہ: کوئی شخص جنت میں داخل ہونے کے بعد يہ تمنا نہیں کرے گا کہ اس دنیا میں لوٹایا جائے یا دنیا کی کوئی چیز دی جائے سوائے شہید کے کہ وہ تمنا کرےگا کہ وہ دنیا میں لوٹایا جائے اور دس مرتبہ شہید کیا جائے، يہ تمنا وہ (شہید) اپنی تعظیم(اور مقام) ديکھنے کی وجہ سے کرے گا۔

حدیث: من سال اﷲ الشہادة بصدق بلغہ اﷲ منازل الشہدآ ءو ان ما ت علی فراشہ۔(مسلم فی الا مارة ترمذی فی الجہاد، نسائی فی الجہاد، ابو ادؤد فی الصلوة، ابن ماجہ فی الجہاد، دارمی فی الجہاد)

ترجمہ: جس نے سچے دل کے ساتھ اﷲتعالی سے شہادة مانگی اﷲ تعالی اسے شہیدوں کے مقام تک پہنچا دے گا اگرچہ وہ بستر پر مرے ۔

اس کے علاوہ شہید کے بارے میں فضائل بھی احادیث میں آئے ہیں مثلاً:

(1) شہید کے قرض کے علاوہ تمام گناہ بخشش ديئے جاتے ہیں (مسلم)

(2) شہید پر فرشتوں کے پروں کے سايہ ہوتا ہے (بخاری ومسلم)

(3) شہادت پر جنت میں داخلہ کی ضمانت (ایضاً)

(4) شہید سب سے پہلے جنت میں داخل ہونے والوں میں سے ہے (ترمذی)

(5)شہیدوں کی روحیں سبز پرندوں میں داخل کر دی جاتی ہیں وہ جنت کی نہروں پر اترتے ہیں جنت کے میوے کھات ہیں، عرش کے سائے کے نيچے سونے کی قندیلوں پر بيٹھتے ہیں(صحیح مسلم، ابوداؤد و مستدرک)

(6)قبر کے فتنے اور قیامت کے دن کی بے ہوشی سے نجات دی جاتی ہے(نسائی )

(7)اپنے گھر والوں میں سے ستر(70) کی شفاعت کا حق عطا کیا جاتا ہے (ابو داود، بیہقی)

(8) شہید کے پہلے قطرے کے ساتھ بخشش کر دی جاتی ہے ،جنت میں اس کا مقام دکھا دیا جاتا ہے قیامت کے دن کی گھبراہٹ سے امن ديدے جاتا ہے، اس کے سر پروقار کا تاج رکھا جاتا ہے جس کا ايک یاقوت دنیا اور اس کی تمام چیزوں سے بہتر ہے،72حورعین سے اس کی شادی کر دی جاتی ہیں (مسند احمد، ترمذی، مصنف عبدالرزاق، ابن ماجہ)

(9) خون خشک ہونے سے پہلے حور عین کی زیارت کرادی جاتی ہے (ابن ماجہ، ابن ابی شبیہ، مصنف عبدالرزاق)

يہاں شہادت کے چند فضائل ذکر کيے گئے ہیں ورنہ شہید کہ بارے میں بے شمار فضائل آئے ہیں اور جب محرم الحرام عبادت اور عظمت والا مہینہ ہے تو اس مہینہ میں شہادت کی عظمت اس مہینے کی وجہ سےاور بھی زیادہ ہوجاتی ہے، لہٰذا حضرت حسینؓ کی شہادت کی وجہ سے اس مہینہ کو نحوست یا غم کا مہینہ سمجھنا سراسر غلط ہے۔ اگر کوئی شبہ کرے کہ يہ فضائل تو شہید کے لئے ہیں لیکن ہمارے اعتبار سے اس طرح کی شہادت رنج وغم کا باعث ہے لہٰذا ہمیں اس پر سوگ اور ماتم کرنا چاہيے اس کا جواب آگے آرہا ہے۔

محرم میں سوگ اور ماتم

شرعی اعتبار سے سو گ کرنا صرف چند صورتوں میں عورتوں کے حق میں ثابت ہے اور وہ يہ ہیں:

(1) جس عورت کو اس کے شوہر نے طلاق بائن (ایسی طلاق جس میں نکاح ختم ہوجاتا ہے) دیدی ہو اس پرعدت کے زمانہ میں سوگ کرنا واجب ہے ۔عدت ختم ہونے کے بعد واجب نہیں بلکہ جائز بھی نہیں۔

(2) جس عورت کا خاوند فوت ہوگیا ہو اس پر عدت کے زمانہ میں سوگ کرنا واجب ہے عدت کے بعد واجب نہیں بلکہ جائز بھی ۔

(3) شوہر کے علاوہ کسی قریبی رشتہ دار (باپ بيٹے وغیرہ) کے فوت ہونے پر صرف تین دن تک عورت کو سوگ کرنے کی اجازت ہے واجب اور ضروری نہیں تین دن کے بعد يہ اجازت بھی نہیں۔

اس کے علاوہ اورکسی موقعہ پر عورت کو سوگ کرنے کی اجازت نہیں اورمرد کو تو سوگ کرنا کسی حال میں بھی جائز نہیں اور شرعی سوگ کاطریقہ يہ ہے کہ عورت اتنے عرصہ میں ایسے کپڑے نہ پہننے اور ایسا رنگ ڈھنگ اختیار نہ کرے جس سے مردوں کو کشش اور میلان ہوتا ہو۔ خوشبو ، سرمہ، مہندی اور دوسری زیب و زینت اور بناؤ سنگھار کی چیزیں چھوڑدے۔ اس کے علاوہ اپنی طرف سے سوگ کے طریقے اختیار کرنا جائز نہیں مثلاً غم کے اظہار کےلئے مخصوص رنگوں کے (مثلا کالے) کپڑے پہننا وغیرہ۔

حدیث: حضرت ام سلمہؓ حضور اکرم ﷺ نے نقل کرتی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ جس عورت کا شوہر وفات پاگیا وہ عدت گزرنے تک عصفر سے رنگا ہوا اور خوشبو والی مٹی سے رنگا ہوا کپڑا اور خضاب بھی نہ لگائے اور سرمہ نہ لگائے۔ (مشکوة ص289بحوالہ ابوداود، نسائی )

حدیث: حضرت ابو سلمہؓ کی صاحبزادی حضرت زینت ؓ نے بیان فرمایا کہ جب ام المومنین حضرت ام حبیبہؓ کو (ان کے والد) حضرت ابو سفیانؓ کی موت کی خبر پہنچی تو انہوں نے تیسرے دن خوشبو منگائی جو زردرنگ کی تھی اور اپنے بازروں اور رخساروں پر ملی اور فرمایاکہ مجھے اس کی ضرورت نہ تھی (لیکن اس ڈر سے کہ کہیں میں تین دن سے زیادہ سوگ کرنے والی عورتوں میں شمار نہ ہو جاﺅ میں خوشبو لگائی) میں نبی کریمﷺ کو فرماتے ہو ئے سنا ہے کہ ” ایسی عورت کے لئے جو اﷲ تعالیٰ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو يہ حلال نہیں ہے (کسی کے فوت ہونے پر) تین دن رات سے زیادہ سوگ کرے سوائے شوہر کے کہ اس (کی موت ہو جانے) پر چار مہینہ دس دن سوگ کرے  (صحيح مسلم)

فائدہ:

حضر ت حسن وحسینؓ کے نانا جان اور حضرت فاطمہؓ کے والد ماجد حضورﷺ نے تو فرمایا کہ جو عورت اﷲ اور آخرت پر ایمان رکھتی ہو اس کےلئے حلال نہیں کہ شوہر کے علاوہ کسی بھی شخص کی وفات پر (خواہ کتنا بڑا بزرگ ہی کیوں نہ ہو) تین دن سے زیادہ سوگ کرے، پھر تعجب کی بات ہے کہ حضرت فاطمہؓ اور حضرت حسن و حسینؓ سے محبت کے دعوی ہوتے ہوئے 1400 سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے بعد بھی سوگ ہو رہا ہے کہ حضرت حسن و حسین اپنے نانا جان ﷺ کے ارشادات اور احکام کے خلا ف چلنے والوں سے کيسے خوش ہوں گے؟

ذرا سوچئے اور غور کیجئے یہ کیسا سوگ ہے

کہ جس میں اﷲ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت ہو اور اس میں اتنی وعید ہو کہ اﷲ اور آخرت پر ایمان رکھنے کے عقیدہ کو (جو کہ ایمان کی بنیاد ہے) اس کے ساتھ وابستہ کر دیا گیا ہو؟

اس تفصیل کی روسنی میں وہ حضرات اپنا جائزہ لیں جو محرم میں حضرت حسین ؓ کی شہادت کے غم میں مختلف من گھڑت رسمیں اور سوگ کرتے ہیں اور يہ سمجھتے اور کہتے ہیں کہ ہم تو حضرت حسینؓ کی یاد میں يہ سوگ کرتے ہیں جبکہ شریعت مطہرہ نےکسی ايسے دن یا مہینہ کے منانے کے اجازت نہیں دی جو اس طرح کے رنج وغم کے اظہار یا رونے دھونے کے مظاہرہ کے لئے مخصوص ہو، بلکہ اسلام میں کسی بڑے سے بڑے آدمی کی موت و حیات یا شخص حالات کو مقصود و بنیاد بنا کر غمی وخوشی کو کوئی دن منانے کا تصور نہیں ہے۔ حضرت حسینؓ کی شہادت کا واقعہ اگرچہ انتہائی المناک ہے مگر لوگوں کے ذہنوں میں يہ غلط بات بیٹھی ہوئی ہے کہ دنیا میں حضرت حسین ؓ کی شہادت اور کوئی سانحہ پیش نہیں آیا حالانکہ دنیا میں اس سے بدرجہا زیادہ مظلومیت کے بے شمار انوہناک واقعات ہیں۔ اور اسلام میں اگر يہ غم کے دن منانے کی رسم چلے تو ايک لاکھ بیس ہزار سے زیادہ انبیاءکرام ؑ ہیں جن کی پیدائش سے لیکر شہادت اور وفات تک دنیا میں پیش آنے والے مصائب وتکالیف کی ايک لمبی فہرست ہے، قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں سینکڑوں واقعات انبیا ؑ کے مصايب و تکالیف سے متعلق موجود ہیں۔

نوحؑ کا قصہ ہو یا ابراہیم ؑ کا،یعقوبؑ کا ہو یا موسیؑ کا ، یونس ؑ کا ہو یا لوط ؑ کا، ہر ايک واقعہ تکلیفوں کے بے شمار انبار نظر آئیں گے۔انبیاء کے بعد خاتم الانبیائﷺ کی حیا ت طیبہ کو ديکھا جائے تو آپ کی زندگی کاکوئی دن نہیں ہر گھنٹہ اور ہر ساعت ولمحہ دنیا کی خاطر تکلیفوں، امت کے دوروغم اور آخرت کی فکر میں مصروف نظر آئے گا۔ آنحضرت ﷺ کے بعد تقریباً ڈیڑھ لاکھ صحابہ کرام ؓ وہ ہیں جن میں سے ہر ايک در حقیقت رسول اﷲ ﷺ کا زندہ معجزہ ہے ۔ اور يہ سلسلہ چل پڑے تو پھر صحابہ کرام ؓ کے بعد امت کے اکابر ،اولیاءاﷲ، علما و مشائخؒ پر نظر ڈالی جائے جو کروڑوں کی تعداد سے بھی زیادہ ہےں۔ ان حضرات کو دین کی خاطر پیش آنے والے مصائب ، تکالیف اور مشقتوں کا ايک طویل باب ہے جن کو سن کر کلیجہ منہ کو آتا ہے۔اوراگر يہ طے کر لیا جائے کہ سبھی کے یاد گاری دن منائے جائیں تو سال بھر میں ايک دن بھی یاد گار منانے سے خالی نہیں رہے گا بلکہ ہر دن کے ہر گھنٹہ میں کئی کئی یادگاریں منانی پڑیں گی ؟ ان کی یا دگار اصل يہی ہے کہ ان سے عبرت اور سبق حاصل کرکے اپنی آخرت کی تیاری کی جائے ۔

ماہِ محرم الحرام کی فضیلت و اہمیت

روز ازل ہی کو جب زمین کا سبزہ زار فرش اور آسمان کی نیلگوں چھت تیار ہوئی تھی اور اس میں سورج کا روشن چراغ اور چاند کی خوشنما قندیل جلائی گئی تھی یہ بات نوشتہ الٰہی میں لکھ دی گئی کہ صبح وشام کی تبدیلیوں اور شب وروز کے الٹ پھیر سے ہفتہ اور پھر جو مہینہ وجود میں آتا ہے وہ بارہ ہیں جن میں چار مہینے بڑ ے ہی مبارک ومحترم ہیں ۔ چنانچہ خلاق عالم اپنی آخری کتاب کی سورت برأت میں یوں گویا ہوتا ہے کہ

إِنَّ عِدَّۃَ الشُّہُورِ عِنْدَ اللَّہِ اثْنَا عَشَرَ شَہْرًا فِی کِتَابِ اللَّہِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ مِنْہَا أَرْبَعَۃٌ حُرُمٌ (التوبۃ:۳۶)

’’بیشک مہینوں کی تعداد اللہ کے نزدیک اللہ کے حکم میں بارہ ہے جس دن اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ان میں چار حرمت والے مہینے ہیں۔‘‘

کسی شاعر نے اس بات کو یوں بیان کیا ہے:

سورۃ توبہ میں فرماتا ہے رب

سال اندر چار ہیں ماہ ادب

وہ مہینے ہیں بہت با احترام

قتل وجنگ وظلم ان میں ہے حرام

ان میں سے محرم کا مہینہ بڑا ہی قابل احترام ہے اس کا احترام جاہلیت کے تاریک ترین زمانے میں بھی باقی تھا ریگزار عرب کے بدو جو علم سے دور اور عقل سے بیگانہ، وحشت سے قریب اور جنگ وجدال کے رسیا ودلدادہ تھے وہ بھی ان مہینوں کے احترام میں قتل وقتال، جنگ وجدال، کشت وخون، لوٹ مار اور غارت گری ورہزنی سے باز رہتے تھے یہی وجہ ہے کہ محرم کے مہینہ کو محرم الحرام کہا جاتا ہے کہ اس میں معرکہ کارزار گرم کرنا اور انسانوں کے خون کی ہولی کھیلنا حرام ہے ۔

اس مبارک مہینہ کی دسویں تاریخ تو گویا خوبیوں اور فضیلتوں کا گلدستہ ہے کہ اسی دن پیغمبر جلیل موسیٰ علیہ السلام کلیم اللہ نے اپنی قوم بنی اسرائیل کو فرعون کے ظالمانہ وجابرانہ شکنجہ اور غلامی کی ذلت آمیزقید وسلاسل سے آزاد کرایا۔اس دن کی فضیلت کیلئے اس سے بڑ ھ کر اور کیا شہادت ہو سکتی ہے کہ رمضان کے بعد اسی دن کے روزہ کو افضلیت حاصل ہے چنانچہ ریاض محبت کی بہار جاوداں کا آخری نغمہ خواں عندلیب اور مستور ازل کے چیرہ زیر نقاب پہلا بند کشا ، پیغمبر اسلام محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح بیان فرماتے ہیں ۔

’’اَفضَلُ الصِّیَامِ بَعدَ رَمَضَانَ شَہرَ المُحَرَّمِ۔‘‘ (صحیح مسلم)

’’رمضان کے مہینہ کے بعد محرم کے مہینہ کا روزہ افضل ترین روزہ ہے ۔‘‘

لہذا یہ دن تو وہ دن ہے کہ اللہ کا بندہ کمال بندگی کے ساتھ اپنے رب کی محبت میں سرشار ہوکر اس کی اطاعت وفرمانبرداری میں ہمہ تن مشغول ہوجائے انتہائی عجز ونیاز کے ساتھ اپنی عبادت اور اعمال صالحہ کا نذرانہ اس کے دربار عالی میں پیش کرے اور روزہ ونماز ذکر وتسبیح کے ذریعے اس کی خوشنودی ورضا مندی کا جویا وطلبگار ہو۔ رسول ا کرم نے حج کے خطبہ میں فرمایا۔ زمانہ گھوم کر اپنی اصلیت پر آ گیا ہے سال کے بارہ مہینے ہوا کرتے ہیں جن میں سے چار حرمت وادب والے ہیں تین تو پے درپے ذوالقعدہ ، ذوالحجہ، محرم الحرام اور چوتھا رجب المرجب جو جمادی الآخر اور شعبان کے درمیان ہے ۔ (بخاری ومسلم)

اسلام سے پہلے لوگ عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے اور اس کے خاتمہ پر عید کرتے تھے ۔ ابتدائے اسلام میں عاشورہ کا روزہ فرض تھا جب رمضان کے روزے فرض ہوگئے تب عاشورہ کے روزے کی فرضیت منسوخ ہوگئی جس کا دل چاہے رکھے جی نہ چاہے تو نہ رکھے ۔

جب آنحضرت مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لے گئے تو یہودیوں کو محرم کا روزہ رکھتے ہوئے دیکھا تو فرمایا :’’تم اس روزکیوں روزہ رکھتے ہو؟‘‘ انہوں نے جواب دیا کہ یہ ہماری نجات کا دن ہے ۔ اس دن اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو فرعون سے نجات دلائی اس دن حضرت موسیٰ علیہ السلام نے شکرانے کے طور پر روزہ رکھا۔ آپ نے فرمایا: حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہم تم سے زیادہ موافقت رکھنے کے حقدار ہیں ۔ اس لئے نبی ا کرم نے خود بھی روزہ رکھا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ (بخاری ومسلم)

لیکن یہودیوں کی مشابہت سے بچنے کیلئے آپ نے فرمایا کہ ’’اگر میں زندہ رہا تو محرم کی نویں اور دسویں کا روزہ رکھوں گا۔ ‘‘

مگر آئندہ سال آپ محرم کے آنے سے پہلے خالق حقیقی سے جاملے لیکن یہ حکم باقی رہا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عمل کیا لہذا محرم کی نویں دسویں یا دسویں گیارہویں یعنی دو دن کا روزہ رکھنا چاہیے ۔رسول ا کرم نے فرمایا:

’’صوموا یوم عاشوراء وخالفوا فیہ الیہود صوصوا قبلہ یوما أو بعدہ یوماً ۔ (أحمد)

’’عاشورہ کا روزہ رکھو اور یہودیوں کی مخالفت کرو دسویں کے ساتھ ایک دن اور روزہ رکھو چاہے ایک دن پہلے ہو یا ایک دن بعد کا۔‘‘

ماہ محرم کی فضیلت اس لحاظ سے بھی ہے کہ یہ سن ہجری(اسلامی سال) کا پہلا مہینہ ہے جس کی بنیاد سرور کائنات کے واقعہ ہجرت پر ہے لیکن اس کا تقرر اور آغاز استعمال ۱۷ ہجری میں عہد فاروقی سے ہوا۔ یمن کے گورنر حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے احکامات آتے تھے جن پر تاریخ کا اندراج نہیں ہوتا تھا چنانچہ ۱۷ہجری میں ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے توجہ دلانے پر خسر مصطفیٰ سیدنا عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے مجلس شوریٰ کا اجلاس بلایا اور ان کے سامنے یہ مسئلہ رکھا ۔ طے یہ پایا کہ اپنے سن تاریخ کی بنیاد واقعہ ہجرت کو بنایا جائے اور اس کی ابتداء محرم سے کی جائے کیونکہ۱۳ نبوی کے ذوالحجہ کے بالکل آخر میں مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کا منصوبہ طے کر لیا گیا تھا اور اس کے بعد جو چاند طلوع ہوا وہ محرم کا تھا۔

مسلمانوں کا سن ہجری اپنے معنی ومفہوم کے اعتبار سے منفرد حیثیت کا حامل ہے ۔ دوسرے مذاہب میں جو سن رائج ہیں وہ یا تو کسی شخصیت کے یوم ولادت کی یاد دلاتے ہیں یا کسی قومی واقعہ مسرت وشادمانی سے وابستہ ہیں ۔ نسل انسانی کو اس کا کوئی فائدہ نہیں ۔

جیسا کہ سن عیسوی کی ابتداء سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت ہے ۔ یہودی سن حضرت سلیمان علیہ السلام کی فلسطین پر تخت نشینی کے ایک پر شکوہ واقعہ سے وابستہ ہے روی سن سکندر فاتح اعظم کی پیدائش کو ظاہر کرتا ہے ۔ بکرمی سن راجہ بکر ماجیت کی پیدائش کی یاد دلاتا ہے ۔

لیکن اسلامی سن ہجری عہد نبوی کے ایسے عظیم الشان واقعہ کی یادگار ہے جس میں ایک سبق پنہاں ہے کہ اگر مسلمان پر اعلائے کلمہ الحق کے بدلے میں مصائب وآلام کے پہاڑ ٹوٹ پڑ یں ۔ سب لوگ دشمن ہوجائیں ، اعزہ واقربا بھی اس کو ختم کرنے پر تل جائیں اس کے دوست احباب بھی اسی طرح تکالیف میں مبتلا کر دئیے جائیں تمام سربر آوردہ لوگ اسے قتل کرنے کا عزم کر لیں ، اس پر عرصہ حیات تنگ کر دیا جائے اس کی آواز کو بھی دبانے کی کوشش کی جائے تو اس وقت وہ مسلمان کیا کرے ؟اسلام یہ نہیں کہتا کہ کفر وباطل سے مصالحت کر لی جائے یا حق کی تبلیغ میں مداہنت اور رواداری سے کام لیا جائے اور اپنے عقیدے اور نظرئیے میں نرمی پیدا کر کے ان کے اندر گھل مل جائے تاکہ مخالفت کا زور کم ہو جائے ۔ نہیں ، بلکہ اسلام ایسی بستی اور شہر پر حجت تمام کر کے ہجرت کا حکم دیتا ہے ۔

اسی واقعہ ہجرت پر سن ہجری کی بنیاد ہے جو نہ تو کسی انسانی فوقیت وبرتری کو یاد دلاتی ہے اور نہ ہی کسی پر شکوہ واقعہ کو … بلکہ مظلومی وبے بسی کی ایسی یادگار ہے جو ثابت قدمی ، عزم واستقلال ، صبر واستقامت اور رضائے الٰہی پر راضی ہونے کی زبردست مثال اپنے اندر پنہاں رکھتا ہے ۔

یہ واقعہ ہجرت ہمیں یاد دلاتا ہے کہ وہ مظلوم ، بے کس بے بس اور لاچار مسلمان کس طرح اپنے مشن میں کامیاب ہوئے اور کس طرح وہ خارستان میں گئے ، بیابان اور جنگل میں گئے اپنے آبلوں سے کانٹوں سے تواضع کی ، صرصر کو دیکھاو سموم کو دیکھا، لو اور دھوپ کو دیکھا ، تپتی ریت اور دہکتے کوئلوں کو ٹھنڈا کیا، جسم پر چرکے کھائے ، سینے پر زخم سجائے ، آخرمنزل مقصود پر پہنچ کر دم لیا ، کامرانی وشادمانی کازریں تاج اپنے سر پر رکہا اور پستی وگمنامی سے نکل کر رفعت وشہرت اور عزت وعظمت کے بام عروج پر پہنچ گئے ۔لیکن سوائے ناکامی آج ہم نے ہجرت کے حقیقی درس کو فراموش کر دیا اور خودساختہ بدعات وخرافات سے نئے سال کی ابتداء کرتے ہیں ۔

سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کا اس ماہمحرم الحرام کی حرمت سے کوئی تعلق نہیں ۔ یہ سانحہ تو رسول ا کرم کی وفات سے پچاس برس بعد پیش آیا۔ اور دین رسول کی حیات طیبہ میں مکمل ہو گیا تھا اگر بعد میں ہونے والی شہادتوں کی شرعی حیثیت ہوتی تو خسر مصطفی ، مراد مصطفی اور شہید محراب سیدنا عمر فاروق کی شہادت اور سیدنا عثمان کامل الحیاء والایمان کی مظلوم شہادت اس لائق تھیں کہ مسلمان ان کی یادگار مناتے اور اگر ماتم وشیون کی اجازت ہوتی تو اسلامی تاریخ میں یہ شہادتیں ایسی تھیں کہ اہل اسلام اس پر جتنی بھی سینہ کوبی اور ماتم وگریہ زاری کرتے کم ہوتا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ سارے واقعات تکمیل دین کے بعد پیش آئے ۔

The Month of Muharram and the Day of Âshura

By Sheikhul Hadith Hadhrat Maulana Fazlur Rahman Azmi (rahimahullah)

The Ahadeeth mention that the month of Muharram and the day of Âshura (10th of Muharram) enjoy special virtues that other days do not possess. The Qur’ân mentions the virtue of the “As’hurul Hurum” (“The Sacred Months”). Among these months is also the month of Muharram, as specified by the Qur’ân and the Ahadeeth of Rasulullâh Sallallâhu ‘alayhi wasallam.

A Note of Caution

Although certain virtues of Muharram and the day of Âshura have been mentioned in the Ahadeeth, there are many baseless beliefs concerning this month and day that have spread in the Ummah. The Muhadditheen (scholars of Ahadeeth) can find no substantiation for many of these beliefs concerning Muharram and the day of Âshura even though such beliefs are regarded as common knowledge. It is therefore necessary to be cautious in this regard. One of the objectives of this article is to bring such unsubstantiated beliefs to light. 

Our Shari’ah is founded on the Qur’ân and the practices of Rasulullâh Sallallâhu ‘alayhi wasallam. Just as the injunctions of the Shari’ah are grounded in these two sources, so too are the virtues of deeds. No due is given to fabricated narrations in this regard. Of course, when the narrations of the Sahabah Radhi-Allâhu ‘anhum and the Tâbi’een Rahmatullâhi Alayhi reach us through reliable sources, their word will be placed on the same platform as the Ahadeeth concerning matters about which they were unable to form their own opinion. Because they cannot form their own opinion concerning the virtues of deeds, their narrations about such virtues will be regarded as being heard from Rasulullâh Sallallâhu ‘alayhi wasallam.

Although the injunctions of the Shari’ah are also sourced from Ijmâ and Qiyâs, these two sources cannot be used to prove the virtue of any deed, place or time. To prove such virtues, a clear narration from Allâh Ta’âla or His Rasul Sallallâhu ‘alayhi wasallam is required. When such a narration is found, it is the duty of the Muhadditheen to judge its authenticity. It is therefore necessary for the person presenting such a narration to also furnish a reference for such a narration so that it can be verified. The Muhadditheen have already written many books concerning those Ahadeeth that have become popular among Muslims that are not authentic. Among such books are “Al Maqâsidul Hasana” written by Allâma Sakhâwi Rahmatullâhi Alayhi, “Kashful Khifa” by Allâma Ajlooni Rahmatullâhi Alayhi and “At Tadhkira” by Imâm Zarkashi Rahmatullâhi Alayhi.