Category Archives: Qabar Pujari Sect

کوے کی حلت و حرمت کا مسئلہ – حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ پر اعتراض کا تحقیقی جواب

[علامہ ساجد خان نقشبندی مدظلہ العالی]

قارئین کرام! دراصل قطب الاقطاب فقیہ العصر حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ سے سہانپور کے کسی باشندے نے سوال کیا کہ:

سوال: جس جگہ زاغ معروفہ کو اکثر حرام جانتے ہوں اور کھانے والے کو برا کہتے ہوں تو ایسی جگہ اس کوا کھانے والے کو کچھ ثواب ہوگا۔ یا نہ ثواب ہوگا نہ عذاب؟

جواب: ثواب ہوگا۔

(فتاوی رشیدیہ، ص۱۳۰، ج۲)۔

اتنی سی معمولی بات پر نام نہاد بریلوی مولویوں نے اپنا کمالِ علم یہ ظاہر فرمایا کہ وعظ و تقریر اشتہارات و رسائل غرض جملہ مراحل طے کر ڈالے اپنے اکابر و اساتذہ کو گالیاں دیں اور عوام سے دلوائیں حالانکہ متعارف کوے کا یہ مسئلہ کوئی جدید مسئلہ نہیں ۔دیگر آئمہ کرام کے زمانے میں بھی اس کے متعلق سوال ہوئے اور انھوں نے اس کی حلت پر فتوے دئے۔۔

لیکن زمانہ کا اقتضاء اور چودہویں صدی کی آزادی کا منشاء ہے کہ عقل و فہم کو، اصول و شریعت کو، مسلک حنفیت کو سب کو بالائے طاق رکھ کر آنکھیں بند کرکے وہ وہ خامہ فرسائی کی گئی کہ الامان والحفیظ۔

جبکہ مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کے محض زاغ معروفہ کی حلت کے فتوے کی بنیاد پر اگر علمائے دیوبند کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا جارہا ہے تو یہ حضرات امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں زبان کیوں نہیں کھولتے جو ہر طرح کے کوے کو حلال مانتے ہیں۔حوالہ ملاحظہ ہو:

مسلک مالکی میں ہر قسم کا کوا حلال ہے:

المالکیۃ قالوا: یحل اکل الغراب بجمیع انواعہ۔

(الفقہ علی المذاہب الاربعہ، ج۲، ص۱۸۳، کتاب الحظر والاباحۃ، طبع مصر)

مالکیہ کے نزدیک ہر قسم کا کوا کھانا حلال ہے۔

حیرت ہے کہ مسلک مالکی والے اگر ہر قسم ،ہر نوع کے کوا کھانے کو حلال لکھ دیں تو ان کے خلاف ایک لفظ ان حضرات کے منہ سے نہیں نکلتا۔ مگر علمائے دیوبند اگر فقہ حنفی کی روشنی میں کسی چیز کی حلت کا فتوی دے دیں تو آسمان سر پر اٹھالیا جاتا ہے ۔۔؟؟؟ آخر یہ محض تعصب اور دیوبند دشمنی نہیں تو اور کیا ہے۔؟۔

پھر بریلوی حضرات کو فتاوی رشیدیہ کا یہ فتوی تو نظر آتا ہے مگر کیا کبھی اپنے گھر کی خبر بھی لی ہے کہ جن کے اعلحضرت نے ’’چمگادڑوں ‘‘ اور ’’الوؤں‘‘ تک کے حلت کے فتوے دئے ہیں۔ملاحظہ ہو:

مولوی احمد رضاخان کے نزدیک ’’چمگادڑ‘‘ حلال ہے:

چمگادڑ چھوٹا ہو یا بڑا جسے ان دیار میں باگل کہتے ہیں اس کی حلت و حرمت ہمارے علماء کرام رحمہم اللہ تعالی میں مختلف فیہ ہے ۔بعض اکابر نے اس کے کھانے سے ممانعت فرمائی۔ اس وجہ سے کہ و ہ ذی ناب ہے مگر قواعد حنفیہ کے موافق وہی قول حلت ہے کہ مطلقا دانت موجب حرمت نہیں بلکہ وہ دانت جن سے جانور شکار کرتا ہو۔ ظاہر ہے کہ چمگادڑ پرند شکاری نہیں لہٰذا درمختار میں قول حرمت کی تضعیف کی گئی ہے۔

(فتاوی رضویہ، ج۲۰، ص۳۱۸)

بریلوی حضرات اب بتلائیں کہ تمہارے گروجی احمد رضاخان بریلوی تمہیں کس مقام پر لے آئیں ۔اب تو مہمانوں کی ضیافت پر اور میت کے سوم یعنی تیسرے دن اور میت کے چالیسویں میں اور ششماہی اور سالانہ ختم شریف میں اور شادیوں کے موقعہ پر مرغی کا انتا مہنگا گوشت خریدنے سے تمہاری جان چھوٹ گئی۔

اگر آپ کہیں کہ حضرت آپ ذرا صبر سے کام لیں ہمارے ’’آلہ حضرت ‘‘ نے اس کو اپنی طرف سے حلال نہیں کیا بلکہ فقہاء احناف کے حوالے دئے ہیں تو یہی بات ہم کہتے ہیں کہ ہم بھی کوے کی ایک قسم کی حلت پر فقہاء احناف کے حوالے بطور دلیل رکھتے ہیں اس وقت آپ حضرات کو یہ اصول یاد کیوں نہیں آتے۔۔۔؟؟؟۔

’’الو‘‘ حلال ہے احمد رضاخان صاحب کا فتوی:

اہلسنت والجماعت پر اعتراض کرنے والوں ذرا آنکھیں کھول کر دیکھو کہ آپ کے خان صاحب نے تو ’’الو‘‘ کے حلال ہونے کابھی ایک قول نقل کیا ہے۔ فتوی ملاحظہ ہو:

بعض نے کہا کہ شقراق نہ کھایا جائے اور بوم (الو) کھایا جائے ۔۔۔و عن الشافعی ؒ قول انہ حلال اما م شافعی کا ایک قول ہے کہ یہ (الو) حلال ہے۔

(فتاوی رضویہ ،ج۲۰، ص۳۱۳ ،۱۳۴)

اگرچہ خان صاحب نے الو کھانے کے قول کی تضعیف کی ہے مگر کل کو اگر کوئی بریلوی اس فتوے کو دیکھ کر امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے فتوے پر عمل کرتے ہوئے الو کھانے لگ جائے تو کیا بریلوی حضرات اس شخص پر بھی اسی قسم کے سوقیانہ جملے کسیں گے جو وہ علمائے دیوبند پر بولتے ہیں اور کیا امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے خلاف بھی کبھی ان لوگوں کی دراز زبانیں کھلیں گی ۔۔یا یہ گالیاں صرف حضرات دیوبند کیلئے رہ گئی ہیں؟؟؟۔۔

ہاں ہاں کبھی ان کے خلاف ایک لفظ نہ بولیں گے اس لئے کہ علمائے دیوبند کے خلاف بکواس کرنے پر اوپر سے مرغ مسلم ملتا ہے اور ان حضرات کے خلاف بولنے پر جوتے۔

اے چشم اشکبار ذرا دیکھ تو سہی یہ گھر جو بہہ رہا ہے کہیں تیرا ہی نہ ہو

زاغ معروفہ اور فقہاء احناف

قارئین کرام حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے جو فتوی دیا اور فقہاء حنفیہ کی تصریحات کے عین مطابق ہے اور ان کی فقاہت کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔اس سلسلے میں حضرات سلف رحمہم اللہ کے اقوال پیش کرنے سے پہلے یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ *کو ے کی تین قسمیں ہیں:*

(۱) وہ کوا جس کی خورا ک صرف اور صرف نجاست ہو یہ بالاتفاق حرام ہے۔

(۲) وہ کوا جس کی خوراک صرف پاک چیزیں ہوں جوصرف دانہ وغیرہ کھاتا ہے عموما دیہات وغیرہ میں ہوتا ہے یہ بالاتفاق حلال ہے۔

(۳) وہ کوا جو کبھی غلاظت کھاتا ہے کبھی پاک چیزیں اور اس کی خوراک دونوں قسم کی چیزیں ہیں۔تو یہ کوا امام ابو یوسف علیہ الرحمۃ کے نزدیک مکروہ اور امام اعظم امام ابوحنفیہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک حلال ہے ۔اور فتوی بھی حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے قول پر ہے۔ اور یہی کوا ہمارے علاقے میں پایا جاتا ہے اور اسی کو فتاوی رشیدیہ میں حلال کہا گیا ہے۔

چنانچہ امام محمد بن محمد سرخسی الحنفی رحمۃ اللہ علیہ اپنی مشہور کتاب مبسوط میں کوے کی اقسام اور ان کے احکام کے بارے میں بحث کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:

فان کان الغراب بحیث یخلط فیاکل الجیف تارۃ والحب تارۃ فقد روی عن ابی یوسف ؒ انہ یکرہ لانہ اجتمع فیہ الموجب للحل والموجب للحرمۃ وعن ابی حنیفۃ ؒ انہ لا باس باکلہ وھو الصحیح علی قیاس الدجاجۃ فانہ لاباس باکلھا۔

(المبسوط، ج۱۱، ص۲۴۸، بیروت)

اگر کوا وہ جو کبھی گندگی کھاتا ہے اور کبھی دانے تو حضرت امام ابویوسف ؒ سے روایت ہے کہ وہ مکروہ ہے ۔کیونکہ اس میں حلت و حرمت دونوں موجب جمع ہوچکے ہیں۔ا ور حضرت امام ابو حنیفہ ؒ سے روایت ہے کہ اس کے کھانے میں کوئی حرج نہیں ۔اور یہی صحیح ہے۔ مرغی پر قیاس کرتے ہوئے کیونکہ اس کے کھانے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں۔

اب بریلوی حضرات جواب دیں کہ امام ابو حنیفہ ؒ کو تم لوگ بھی اپنا پیشوا مانتے ہو مندرجہ بالا عبارت کو بار بار پڑھیں اور غور فرمائیں کہ امام سرخسی ؒ امام ابو حنیفہ ؒ سے کیا نقل کرگئے ہیں اور کس طرح اس کو صحیح قرار دے چکے ہیں ۔اور یہ بھی بتادیں کہ کوے کی مذکورہ قسم پر حلت کا فتوی صرف ہمارے پیشوا حضرت گنگوہی ؒ نے ہی دیا ہے یا امام اعظم ؒ سے بھی اس کاکچھ ثبوت ملتا ہے۔۔۔؟؟؟
جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے

اسی طرح امام علاؤ الدین ابو بکر کاسانی حنفی رحمۃ اللہ علیہ کوے کی حلت و حرمت پر بحث کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:

فحصل من قول ابی حنیفۃ ان ما یخلط من الطیور لا یکرہ اکلہ کاالدجاج و قال ابو یوسف ؒ یکرہ لان غالب اکلہ الجیف ۔

(البدائع الصنائع ، ج۶، ص۱۹۷)

امام ابو حنیفہ کے قول سے معلوم ہوا کہ جو پرندے حلال و حرام دونوں طرح کی غذا کھاتے ہیں وہ مکروہ نہیں ہیں جیسے مرغی او ر امام ابویوسف ؒ فرماتے ہیں کہ مکروہ ہیں کیونکہ ان کی غالب غذا مردار ہے۔

اس عبارت سے معلوم ہوگیا کہ امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک اگر کسی جانور میں مردار و نجاست کا غلبہ ہو تو وہ بھی حرام ہے یہی وجہ ہے کہ وہ عام پھرنے والی مرغی کو بھی حرام کہتے ہیں اور امام ابو حنیفہ ؒ کے نزدیک اس قسم کا پرندہ حلال ہے ۔حیرت ہے کہ بریلوی حضرات دیوبند دشمنی میں کوے کی حرمت پر تو امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کی تقلید کرتے ہیں مگر مرغ مسلم ٹھونستے وقت امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کے فتوے کو بالکل پست پشت ڈال دیتے ہیں۔

در مختار میں ہے کہ:

حل (غراب الذرع)الذی یاکل الحب (والارنب والعقعق) ھو غراب یجمع بین اکل جیف و حب والاصح حلہ ۔

(درمختار مع فتاوی شامی، ص۳۷۳، ج۹)

اور کھیتی کا کوا جو دانا کھاتا ہے حلال ہے اور خرگوش اور عقعق وہ کوا ہے جو گندگی اور دانا دونوں کھاتا ہے صحیح قول کے مطابق اس کا کھانا حلال ہے۔

اسی طرح فقہ حنفی کی مشہور و معروف کتاب فتاوی عالمگیری میں ہے کہ:

والغراب الابقع مستخبث طبعا فاما الغراب الذرعی الذی یلتقط الحب مباح طیب و ان کان الغراب بحیث یخلط فیاکل الجیف تارۃ والحب اخری فقد روی عن ابی یوسف رحمۃ اللہ علیہ انہ یکرہ و عن ابی حنیفۃ انہ لا باس باکلہ وھو الصحیح علی قیاس الدجاجۃ۔

(فتاوی عالمگیری، ج۵، ص۳۵۸)

اور غراب ابقع جو صرف مردار کھاتا ہے طبعا گندہ ہے اور غراب زرعی جو صرف دانہ چگتا ہے مباح اور پاکیزہ ہے۔اور اگر کوا ایسا ہو جو مردار اور دانہ دونوں کھالیتا ہو تو اس کے بارے میں امام ابو یوسف ؒ سے مروی ہے کہ مکروہ ہے اور امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک اس کے کھانے میں کوئی حرج نہیں یہی صحیح قول ہے جیسا کہ مرغی دونوں چیزیں کھانے کا باوجود حلال ہے۔

ان حوالوں سے بھی صاف طور پر معلوم ہوا کہ وہ کوا یا کوئی بھی پرندہ جو غلاظت اور پاک اشیاء دونو ں کھائے وہ صحیح تر قول کے مطابق ہے حلال ہے اور اسی بنیاد پر فتاوی رشیدیہ میں حلت کا فتوی دیا گیا۔ غرض اس قسم کے کوے کی حلت میں کسی قسم کا کوئی شبہ نہیں مگر چونکہ متروک الاستعمال ہے اس لئے نہ کسی نے اس کو کھانے کا خیال کیا نہ استفتاء کی ضرورت پیش آئی بلکہ عوام کا خیال یہی رہا ہے کہ حرام کوا یہی ہے۔لہٰذا سہارنپور کے کسی باشندے نے شیخ المشائخ مولانا رشید احمد گنگوہی ؒ سے استفتاء کیا اور مولانا ممدوح نے معمولی طور پر جواب دے دیا۔اتنی سی معمولی بات پر نام نہاد مولویوں نے اپنا کمال علم یہ ظاہر فرمایا کہ وعظ و تقریر میں وہ وہ گالیاں دی کہ الامان والحفیظ حالانکہ ان جاہلوں نے ذرا یہ نہ سوچا کہ ان گالیوں کی زد میں صرف حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی ؒ ہی نہیں آرہے ہیں۔۔بلکہ یہ اعلام امت بھی اس کا نشانہ بن رہے ہیں۔غرض فقہ حنفی کی ہر مستند کتاب میں یہ مسئلہ مذکور ہے طوالت کے خوف سے ہم انہی حوالہ جات پر بس کرتے ہیں اس لئے کہ ماننے والے کیلئے ایک حوالہ بھی کافی ہے اور نہ ماننے والے کیلئے دفتر کے دفتر بھی ناکافی۔

پس ہم نے ثابت کردیا کہ امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ زاغ معروفہ کو حلال مانتے ہیں

پس یہ کس قدر حیرت کی بات ہے کہ علمائے دیوبند کی ضد میں ان لوگوں نے نہ صرف امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی تقلید کو چھوڑدیا بلکہ اپنے دین کے بانی جن کے نام پر ان کے پیٹ کے دھندے چل رہے ہیں کہ تقلید کو بھی خیر باد کہہ دیا۔

پھر یہ بھی دیکھیں کہ ہم نے ماقبل میں ثابت کردیا کہ اما م ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک مرغی کھانا مکروہ ہے یہ لوگ کوے کی حرمت پر تو ان کے قول پر فتوی دیتے ہیں مگر نہ معلوم مرغی کے حرام ہونے پر یہ لوگ امام ابو یوسف کے مذہب پر کب فتوی دیں گے۔۔؟؟؟

مرجائیں گے مگر مرغی کھانا نہ چھوڑیں گے اگرچہ حرام کی ہی کیوں نہ ہو ۔۔

پس بریلوی حضرات کو بھی غور کرنا چاہئے کہ اگر وہ کوے کے مسئلہ میں امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کے مذہب پر فتوی دیں گے تو رد عمل میں مرغی کی حرمت پر بھی فتوی دینا ہوگا۔ اور اس صورت میں مولوی احمد رضاخان کے وصایا شریف میں درج ایک درجن مرغن غذاؤں سے بھی ہاتھ دھونا پڑے گا۔۔ توکیا اس کیلئے تیار ہو۔۔۔؟؟؟

DECEPTION OF “ADDING BEAUTY TO THE SUNNAH”

By Mujlisul Ulama

The Ahle Bid’ah (people of bid’ah) have all along endeavoured and laboured to confuse the minds of the unwary and ignorant by misinterpretation and manipulation of the terms “bid’ah” and “sunnat.” They attempt to seek sanction and justification for their evil bid’ah practices of meelad, salaami, faatehah thaani, etc. by vainly toiling to slip in these practices under the condonable technical bid’ah category defined in Islamic Jurisprudence. The innocent public is befuddled by such trickery and manipulation, but those of knowledge know the deception that these “shayaateen in human bodies” are perpertrating under the hollow facade of “beautifying the Sunnah.”

The bid’atees (innovators of evil bid’ah) claim that their practice of salaami and meelad “add beauty to Sunnat”, hence such practices are categorized as “Bid’ah Hasanah” which does not conflict with the Sunnah of Rasulullah (sallallahu alayhi wasallam). In attempting to pass their evil bid’ah off as Bid’ah Hasanah, the bid’atees lump these practices together with such laudable and necessary institutions as Madaaris, Khaanqahs and practices such as the compilation of the Qur’aan and Hadith in book form. They thus argue that their meelaad and salaami customs are like the Bid’ah Hasanah practices of the Madressas, Qur’aan and Hadith compilation and the formulation of Fiqh. Insha’Allah, it will be shown that the meelaad and salaami of the Ahle Bid’ah are bid’ah sayyiah (evil innovation) practices and not Bid’ah Hasanah or practices which “add beauty to the Sunnah of our Nabi (sallallahu alayhi wasallam).

The people of bid’ah have committed a basic and a fundamental error in their understanding of the meaning of “SUNNAT”, and because of their misconception of the meaning of Sunnat they fumble around in utter confusion – confusing evil practices with holy and essential institutions imperative for the safeguarding of the ORIGINAL Deen of Allah Ta’ala. The Ahle Bid’ah understand by Sunnat only such acts which were practiced by Rasulullah (sallallahu alayhi wasallam) whereas “Sunnat” cover both practice and abstention of Nabi (sallallahu alayhi wasallam). In the Shariah, Rasulullah’s (sallallahu alayhi wasallam) abstention is also Sunnat and as such, daleel or proof for a claim. Hadhrat Mullah Ali Qaari (Rahimahullah) explains in Mirqaat:

“Mutaaba’ah (following or obedience) is in both practice and in abstention (tark). Therefore, he who is constant in practicing on an act which was not practiced by Rasulullah (sallallahu alayhi wasallam) is a bid’atee.”

Shaikh Abdul Haqq Muhaddith Dahlawi (Rahimahullah) states in As-Katul Lama’aat in this regard:

“Like following is Waajib in acts  so it is Waajib in abstention  (tark). Therefore, he who is constant in an act which was not practiced by Rasullullah (sallallahu alayhi wasallam) is a bid’atee.”

In Sharh Musnad Imaam Abu Hanifah (Rahimahullah) it appears:

“Like Ittibad (to follow, to obey) is in practice (fe’l) so is it in abstention (tark). Therefore, he who is constant in a practice not rendered by Rasulullah (sallallahu alayhi wasallam) is a bid’atee because it (constancy in such an act) comes under the purview of Rasullullah’s (sallallahu alayhi  wasallam) statement:

He who practices an act on which there is not our proof, it is rejected.

Imaam Allaamah Sayyid Jamaaluddin Muhaddith said:  “The abstention of Rasulullah (sallallahu alayhi wasallam) is Sunnat just like his action is Sunnat.”

From the aforementioned quotations it will be understood that Rasulullah’s (sallallahu alayhi wasallam) abstention or refraining from certain acts is likewise Sunnat and whoever opposes such abstention has been unanimously branded in the Shariah as a bid’atee.

The question now is: To what is this abstention applicable? Does this abstention cover all acts and practices from which Rasullullah (sallallahu alayhi wasallam) abstained? For example: Rasulullah (sallallahu alayhi wasallam) did not use automobiles, etc. Does the aforementioned verdicts of the authorities of Islam cover such abstentions as well? It is quite evident that such mundane practices do not fall within the purview of such abstention. The abstention mentioned here refers to all such practices for which the motive and means existed during the time of Nabi (sallallahu alayhi wasallam), but were nevertheless refrained from. We shall illustrate by means of examples.

Janaazah Salaat:

The motive or purpose of the Janaazah Salaat is “DUA FOR THE MAYYIT.” Such DUA (i.e. Janaazah Salaat) was taught and offered by Rasulullah (sallallahu alayhi wasallam) and the Sahaabah. Hence, the method in which Rasulullah (sallallahu alayhi wasallam) performed Janaazah Salaat is the Sunnat method, and needless to say, no method could be more beautiful than the method taught and practised by Rasulullah (sallallahu alayhi wasallam). The Qur’aan places the seal of ultimate and perfect beauty on the Sunnat practice of Nabi (sallallahu alayhi wasallam) in the following words:

“Verily, there is for you in the Rasul of Allah a BEAUTIFUL”

Anyone who argues that a method other than the method of Rasulullah (sallallahu alayhi wasallam) is of greater beauty is guilty of kufr and is mardood, for it would amount to belittling

Faatihah Thaani:

The Ahle Bid’ah have a compulsory practice of performing a congregational dua (which they call faatehah) after the Sunnat and Nafl Salaat of every Fardh Salaat. The faatehah thaani (second faatehah) has become part and parcel of the daily Fardh Salaat. Rasulullah (sallallahu alayhi wasallam) performed the daily Fardh Salaat and imparted the knowledge and method of these Salaat, but the method imparted to the Ummah by Rasulullah (sallallahu alayhi wasallam) excludes this faatehah thaani practice. The method of our Nabi (sallallahu alayhi wasallam) is the most beautiful, but the Ahle Bidah claim that they are “adding beauty” to this Sunnah by the innovation of the second faatehah. This is tantamount to saying that the method of Nabi (sallallahu alayhi wasallam) is not as beautiful as the method of the innovators, hence the need for the innovation. The motive for “adding beauty” to the Sunnah and the motive for second, third, and fourth duas existed during the time of Nabi (sallallahu alayhi wasallam), but Rasulullah (sallallahu alayhi wasallam) by his practical example and teaching abstained from this faatehah thaani. This abstention of Rasulullah (sallallahu alayhi wasallam) is then the Sunnat to be followed Deviation from this abstention is in fact conflict with the Sunnah.

Recitation by the Muazzin on Jumu’ah prior to handing the Asaa to the Khateeb:

It is the standard practice of the Ahle Bid’ah to have their Muazzin hand the Asaa to the Khateeb on. Jumu’ah and standing with Asaa in hand the Muazzin recites some incantations. Now Rasulullah (sallallahu alayhi wasallam) performed Jumu’ah Salaat and delivered Jumu’ah Khutbah. His practice and teaching in this regard are Sunnah which in terms of the Qur’aan Majeed is “BEAUTIFUL SUNNAH.” Further, in accordance with the Qur’aan Shareef this “beautiful example” of the Nabi (sallallahu alayhi wasallam) is the most beautiful practice – the practice of perfect beauty – the practice that could not be further beautified by us. The Qur’aan is explicit on the completion and perfection of the Deen. If then the Asaa-holding and incanting­ Muazzin custom has been designed to “add beauty” to the Sunnah, it will be an tacit admission of the imperfect beauty of the Sunnah of our Nabi (sallallahu alayhi wasallam). Such admission is kufr since it clashes with the clear declarations of the Qur’aan. The motive for this practice (viz., the beautification of the Sunnah) existed during the time of Rasulullah (sallallahu alayhi wasallam), but he abstained from this custom of the Muazzin. This abstention of Nabi (sallallahu alayhi wasallam) is, therefore, Sunnat which cannot be opposed. Departure from the set and defined practice of Nabi (sallallahu alayhi wasallam) is opposition to the Sunnat of abstention.

We will now cite a few examples from the lives of the Sahaabah to indicate that they regarded Rasulullah’s (sallallahu alayhi wasallam) abstention (tark) from a practice as SUNNAT TO FOLLOW.

Saja’ in dua:

Hadhrat Ibn Abbaas (radiallahu anhu) warned the Ummah to abstain from saja’ in dua. Saja’ in dua is to make dua in poetic form. He said:

“Refrain from saja’ in dua, for, verily, Rasulullah (sallallahu alayhi wasallam) and his Sahabah did not make saja’ in duct.”
[Bukhaari]

If the argument of “adding beauty” to the Sunnah propounded by the Ahle Bid’ah has to be accepted. it will follow that Hadhrat Ibn Abbaas (Radhiyallahu anhu) erred in prohibiting saja’ in dua because ostensibly saja’ merely “adds beauty” to the Sunnat of dua. However, he rejected saja’ in dua on the basis of Nabi’s (sallallahu alayhi wasallam) abstention from saja’.

Raising the hands higher than the breast in dua:

Upon seeing a man raising his hands higher than his breast while engaged in dua, Hadhrat Abdullah Bin Umar (radhiyallahu anhu), a great Sahaabi. branded the practice as bid’ah. And, his branding the practicing as bid’ah is evidently a reference to bid’ah sayyiah – an evil bid’ah. He said:

“Verily, your raising your hands (in thismanner) is bid’ah. Rasullullah (sallallahu alayhi wasallam) did not raise his hands higher than this (i.e. the breast).” [Musnad Ahmad]

Hadhrat Ibn Umar (radhiyallahu anhu) cited as the proof for
this practice being bid’ah, Rasullullah’s (sallallahu alayhi wasallam) abstention. Because Nabi (sallallahu alayhi wasallam) refrained from this manner of hand-raising, this illustrious Sahaabi brands the practice as bid’ah.

Raising hands in dua during the Friday Khutbah:

Hadhrat Umaarah Bin Ruwaibah (radhiyallahu anhu) upon observing Marwaan raising his hands in dua while reciting the Khutbah remarked:

“May Allah destroy those two little hands. Verily I saw Rasulullah (sallallahu alayhi wasallam) not exceeding during the recitation (of the Khutbah) the indication of a finger.” [Muslim]

This Sahaabi condemns the practice of raising the hands in dua during the Khutbah, not on the basis of any prohibition issued by Rasulullah (sallallahu alayhi wasallam), but solely on the basis of Nabi’s (sallallahu alayhi wasallam) abstention from the practice.

Halqah Zikr in the Musjid:

Who can deny the benefit and the significance of Zikr? But, Hadhrat Abdullah Ibn Mas’ud (radiallahu anhu) expelled a group from the Musjid for indulging in some form of halqah zikr. Once at the time of Maghrib Salaat he entered the Musjid and observed that a group was sitting in halqah zikr. The leader of the group was instructing the others to recite Subhaanallah, Alhamdulillah, Allahu Akbar and La-ilaahi il-lallah. He went up to the group and severely reprimanded in the following terms:

“I swear by Allah that undoubtedly you have indulged in an extremely dark (evil) bid’ah. (If you assert the contrary then it will mean) that you are superior in  knowledge to the Sahaabah of Rasulullah (sallallahu alayhi wasallam).” [Majaalisul Abraar]

He then ordered the expulsion of the group from the Musjid.

This eminent Sahaabi brands this form of halqah zikr as an evil bid’ah, not because Rasulullah (sallallahu alayhi wasallam) had at any time prohibited such form of Zikr, but because Rasulullah (sallallahu alayhi wasallam) had abstained from this form of Zikr inspite of the motive of Zikr existing during his time and inspite of him having the ability to resort to such form of zikr.

Nafl Salaat:

Allaamah Sayyidud Deen Kaashaghri Hanafi (rahimahullah) states:

“Exceeding on eight raka’ts (nail Salaat with a single Salaam)  during the night and on four raka’ts during the day is unanimously (by Ijma’) forbidden.”
[Muniyatul Musalli]

In presenting the basis for this prohibition the Fuqahaa of Islam advance “li–admi wuroodil athar  bihi”, i.e. no narration existing or being narrated. In other words, the authorities of the Shariah unanimously opine that the abstention of Rasulullah (sallallahu alayhi wasallam) from a practice for which the motive and means existed during the time is daleel (proof) of such abstention being Sunnat. Introduction of such an ‘abstained from practice’ is branded by the authorities as bid’ah sayyiah or bid’ah dalaalah.

The performance of eight raka’ts nafl Salaat with a single Salaam during the night and more than four raka’ts with one Salaam during the day has been branded as conflicting with the Sunnah despite the fact that the performance of Nafl Salaat is an Ibaadat of the highest merit. However, since performance of Nafl Salaat in this fashion has never been rendered by Nabi (sallallahu alayhi wasallam), it is branded as forbidden by the authorities of the Shariah. Those who advance as substantiation for the prohibition, Rasulullah’s (sallallahu alayhi wasallam) abstention. This daleel of abstention in regard to this form of Nafl Salaat is cited in Al-Badaai `Was-sanaa’ as follows:

“It (Salaat in this method) is forbidden because it has not been narrated from Nabi (sallallahu alayhi wasallam).”

Hidaayah propounds the daleel for the prohibition in the following words:

“The daleel (proof) of the prohibition is that, verily, Rasulullah (alayhis salaam) did not exceed on this (i.e. eight and four raka’ts with a single Salaam). And, if there was no prohibition (to perform Nafl Salaat in this manner) then Nabi (alayhis salaam) would have exceeded (this number) to convey the permissibility (of such a practice).

Dua at the Khatm of the Qur’aan during Ramadhaan and in congregation:

Another example of Rasulullah’s (sallallahu alayhi wasallam) abstention being Sunnat and daleel for the Ummah is the practice of making dua in congregation during Ramadhaan on the occasion of completing the recital of the Quraan Majeed. The authoritative Books of Islam such as Fatawa Kabeeri, Durr Mukhtaar, etc. states:

“Dua is forbidden (Makruh  Tahrimi) on the occasion of the khatm of the Qur’aan during the month of Ramadhaan and on the occasion of khatm of the Quraan in congregation because this (form of dua) has not been narrated from Nabi (sallallahu alayhi wasallam) nor from the Sahaabah.” [AI-Junnah]

TRICKS OF DECEPTION BY FAKE “SHAYKHS”

By Mujlisul Ulama

Among the Ahl-e-Bid’ah some so-called shaikhs of tasawwuf perpetrate great deceptions when initiating mureeds (disciples). Supposedly miraculous demonstrations are shown to win the confidence and awe of the initiated. Explaining such tricks of deception, Hadhrat Maulana Ashraf Ali Thaanvi (rahmatullah alayh) said:

“Some dervishes, by virtue of certain mental powers which they had acquired after practice, conjure the forms of the sun and the moon to the person intending to become mureed. The brilliance of the sun is demonstrated and the mureed is told that this is the Noor of Allah. The form of the moon is demonstrated and the mureed is told that this is the Noor of Muhammad (sallallahu alayhi wasallam). But, in fact all these perceptions are mental imagination which the mureed believes to be real and true manifestations of divinity.

A greater calamity than this is the practice in some quarters of showing to mureeds certain anwaar (lights). Each light has been given a name. For example, it will be said that this light is the Rooh (soul) of Hadhrat Saabir (rahmatullah alayh) and that light is the Rooh of Hadhrat Shaikh Mu-eenuddeen Chishti (rahmatullah alayh). As the lights appear in succession, the mureed is told that this is the soul of that saint and that light is the soul of that saint. But, in reality all such lights are satanic manifestations. This feat is is accomplished solely by mental powers. It is devoid of realitity. The poor mureed labours under the notion that he has seen the great Auliya of past times.”

ﻣﺰﺍﺭﺍﺕ ﭘﺮ ﺣﺎﺿﺮﯼ ﺩﯾﻨﮯ ﺳﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻣﺸﮑﻼﺕ ﮐﯿﻮﮞ ﺣﻞ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ؟

ﻣﺰﺍﺭﻭﮞ ﭘﺮ ﺣﺎﺿﺮﯼ ﺩﯾﻨﮯ ﺳﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻣﺸﮑﻞ ﺣﻞ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﺣﻘﯿﻘﯿﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﮐﺎ ﺍﻣﺘﺤﺎﻥ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮔﻤﺮﺍﮦ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﯽ ﺭﺳﯽ ﮐﻮ ﮈﻫﯿﻼ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ. ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺍﻧﻬﯿﮟ ﺳﺮ ﮐﺸﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﻬﻼ ﭼﻬﻮﮌ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺳﺮﮔﺮﺩﺍﮞ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ.

ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﮔﺮ ﻣﺜﺎﻝ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﻤﺠﮭﻨﺎ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﺧﺎﻟﺪ ﺑﻦ ﻭﻟﯿﺪ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﺎ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﺑﮍﯼ ﻭﺍﺿﺢ ﺩﻟﯿﻞ ﮨﮯ: ﺟﺐ ﻭﮦ ﻧﺒﯽ ﺍﮐﺮﻡ ﷺ ﮐﮯ ﺣﮑﻢ ﺳﮯ ﻃﺎﺋﻒ ﮐﮯ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﺁﺳﺘﺎﻧﮯ ‘ﻋﺰﯼٰ’ ﮐﻮ ﮔﺮﺍ ﮐﺮ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺗﯿﻦ ﺩﺭﺧﺘﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﺎﭦ ﮐﺮ ﻭﺍﭘﺲ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﻧﺒﯽ ﺍﮐﺮﻡ ﷺﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ: ﺍﮮ ﺧﺎﻟﺪ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺟﺎﺅ ﺗﻢ ﺍﺑﻬﯽ ﺗﮏ ﮐﭽﮫ ﺑﻬﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺁﺋﮯ، ﺣﻀﺮﺕ ﺧﺎﻟﺪ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺗﻠﻮﺍﺭ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﮔﺌﮯ ﺗﻮ ﺁﺳﺘﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺟﮕﮧ ﭘﺮ ﺣﻀﺮﺕ ﺧﺎﻟﺪ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﺑﺮﮨﻨﮧ ﺍﻭﺭ ﺑﮑﻬﺮﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﺎﻟﻮﮞ ﻭﺍﻟﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﺩﯾﮑﻬﯽ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺮ ﭘﺮ ﻣﭩﯽ ﮈﺍﻝ ﺭﮨﯽ ﺗﻬﯽ ﺗﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﺧﺎﻟﺪ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﺗﻠﻮﺍﺭ ﮐﯽ ﺿﺮﺏ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺩﻭ ﭨﮑﮍﮮ ﮐﺮ ﺩﺋﮯ ، ﭘﻬﺮ ﻧﺒﯽ ﺍﮐﺮﻡ ﷺ ﮐﻮ ﺁ ﮐﺮ ﯾﮧ ﻭاﻗﻌﮧ ﺑﺘﻼﯾﺎ ﺗﻮ ﺁﭖؐ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﯾﮧ ﻋﻮﺭﺕ ‏(ﺷﯿﻄﺎﻥ) ﻋﺰﯼٰ ﺗﻬﯽ ، ﺟﻮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﺮﺍﺩﯾﮟ ﭘﻮﺭﯼ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﻬﯽ ‏[ﺗﻔﺴﯿﺮ ﺍﺑﻦ ﮐﺜﯿﺮ]

ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﻣﺰﺍﺭﻭﮞ ﭘﺮ ﭼﻮﻧﮑﮧ ﻟﻮﮒ ﻏﯿﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﻮ ﺳﺠﺪﮦ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺷﺮﮎ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ،ﻟﮩٰﺬﺍ ﺍﯾﺴﮯ ﺷﺮﮎ ﮐﮯ ﺍﮈﻭﮞ ﭘﺮ ﺷﯿﺎﻃﯿﻦ ﮈﯾﺮﮦ ﮈﺍﻝ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺁﻧﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﻌﺾ ﻣﺮﺍﺩﻭﮞ ﮐﻮ ﭘﻮﺭﺍ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﺟﺲ ﺳﮯ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻣﻨﺪ ﮐﺎ ﺍﻋﺘﻘﺎﺩ ﭘﺨﺘﮧ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﯾﮩﺎﮞ ﭘﺮ ﺣﺎﺿﺮﯼ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﺣﻞ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ ﺟﺒﮑﮧ ﯾﮧ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﺍﺱ ﺁﺩﻣﯽ ﮐﮯ ﺷﺮﮎ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﻧﮯ ﺣﻞ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ. ﺑﻌﺾ ﺩﻓﻌﮧ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﺧﻮﺩ ﺑﻬﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﭘﮩﻨﭽﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﺎ ﺁﺩﻣﯽ ﮈﺍﮐﭩﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﻋﻼﺝ ﮐﺮﻭﺍﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﭘﻬﺮ ﺩﺭﺑﺎﺭﻭﮞ ﭘﺮ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺷﺮﮎ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﭼﻬﻮﮌ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﺟﺲ ﺳﮯ ﺁﺩﻣﯽ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺷﺮﮎ ﻣﯿﮟ ﻣﺒﺘﻼ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ.

ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﮨﺮ ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ ﮐﯽ ﺷﻔﺎﺀ ﺍﻭﺭ ﻣﺸﮑﻞ ﮐﮯ ﺣﻞ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﻭﻗﺖ ﻣﻘﺮﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ، ﻣﺰﺍﺭﻭﮞ ﭘﺮ ﻣﻨﺘﯿﮟ ﻣﺎﻧﮕﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﯾﮩﯽ ﺳﻤﺠﻬﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﮨﻤﯿﮟ ﺷﻔﺎﺀ ﺍﻭﺭ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﻣﺸﮑﻼﺕ ﮐﺎ ﺣﻞ ﻣﺰﺍﺭﻭﮞ ﭘﺮ ﺣﺎﺿﺮﯼ ﺩﯾﻨﮯ ﯾﺎ ﻣﻨﺖ ﻣﺎﻧﮕﻨﮯ ﺳﮯ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ، ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﺷﺮﮎ ﺍﮐﺒﺮ ﻣﯿﮟ ﻣﺒﺘﻼ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ .
ﻗﺎﺭﺋﯿﻦ ﮐﺮﺍﻡ ﺁﭖ ﺫﺭﺍ ﺧﻮﺩ ﺳﻮﭼﯿﮟ!

ﺟﻮ ﻣﺰﺍﺭﻭﮞ ﭘﺮ ﺣﺎﺿﺮﯾﺎﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﻨﺘﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺎﻧﮕﺘﮯ ﮐﯿﺎ

ﻭﮦ ﺑﮭﻮﮐﮯ ﺳﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ؟
ﯾﺎ ﻭﮦ ﺑﮯ ﺍﻭﻻﺩ ﻣﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ؟
ﯾﺎ ﻭﮦ ﺷﻔﺎﺀ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺎﺗﮯ؟
ﯾﺎ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﺿﺮﻭﺭﯾﺎﺕ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﭘﻮﺭﯼ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﻗﺎﺻﺮ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ؟

ﯾﻘﯿﻨﺎ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﺍﻧﻬﯿﮟ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﻣﯿﺴﺮ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ. ﺟﺐ ﻣﺰﺍﺭﻭﮞ ﭘﺮ ﺣﺎﺿﺮﯾﺎﮞ ﺩﯾﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﺎﺹ ﻓﺮﻕ ﻧﻤﺎﯾﺎﮞ ﻧﮩﯿﮟ ‘ ﺗﻮ ﭘﻬﺮ ﮐﯿﻮﮞ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﺒﺤﺎﻧﮧ ﻭﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﻣﺨﻠﻮﻕ ﮐﻮ ﺷﺮﯾﮏ ﭨﻬﮩﺮﺍ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﺁﺧﺮﺕ ﺑﺮﺑﺎﺩ ﮐﺮﯾﮟ. ۔۔۔

ﺑﮩﺮ ﺣﺎﻝ!-
ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﮐﺴﯽ ﻗﺒﺮ ﭘﺮﺳﺖ ﺍﻭﺭ ﻗﺒﻮﺭﯼ ﺷﺮﮎ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺳﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﻣﺰﺍﺭﻭﮞ ﭘﺮ ﺟﺎ ﮐﺮ ﻣﺎﻧﮕﻨﺎ ﺷﺮﮎ ﮨﮯ ، ﺗﻮ ﻭﮦ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ ﮐﮧ!

ﺟﺐ ﮨﻢ ﻣﺰﺍﺭ ﭘﺮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﭨﮑﭩﮑﯽ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﮐﺮ ﻣﺰﺍﺭ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺻﺎﺣﺐِ ﻣﺰﺍﺭ ﺳﮯ ﺑﺮﺍﮦ ﺭﺍﺳﺖ ﺭﺍﺑﻄﮧ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﺴﮯ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﻣﺎﻧﮕﯽ ﮔﺌﯽ ﺩﻋﺎﺋﯿﮟ ﻗﺒﻮﻝ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ۔

ﺍﯾﺴﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮐﮧ ﮐﯿﺎ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻗﺮﺏ ﻭ ﺟﻮﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﻨﺪﺭ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺁﭖ ﺍﺱ ﻣﻨﺪﺭ ﻣﯿﮟ ﭼﻠﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﯾﮩﯽ ﻋﻤﻞ ﯾﻌﻨﯽ ﭨﮑﭩﮑﯽ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﮐﺮ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﺑُﺖ ﯾﺎ ﺩﯾﻮﯼ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﺭﮨﺌﮯ۔ ﮐﭽﮫ ﮨﯽ ﺩﯾﺮ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﺎ ﺩﯾﻮﯼ ﺳﮯ ﺫﮨﻨﯽ ﺭﺍﺑﻄﮧ ﻗﺎﺋﻢ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ، ﭘﮭﺮ ﺍﺳﯽ ﻟﻤﺤﮧ ﮐﭽﮫ ﻣﺎﻧﮓ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﺌﮯ۔ ﯾﻘﯿﻨﺎً ﺁﭖ ﮐﯽ ﻣﺎﻧﮓ ﭘﻮﺭﯼ ﮨﻮﮔﯽ۔

ﺍﺱ ﺑﺮ ﺻﻐﯿﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺍﺭﺏ ﺳﮯ ﺯﺍﺋﺪ ﻟﻮﮒ ﻣﻨﺪﺭﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﺎﻧﮕﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻣﺮﺍﺩﯾﮟ ﺑﮭﯽ ﭘﻮﺭﯼ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﮔﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ ﺗﻮ ﺁﺝ ﻭﮨﺎﮞ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﺟﺎﺗﺎ۔ ﺁﭖ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﮐﺮ ﺍﻭﺭ ﻣﺎﻧﮓ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﺌﮯ۔

ﮐﺴﯽ ﻣﺰﺍﺭ ﯾﺎ ﻣﻨﺪﺭ ﻣﯿﮟ ﻣﺎﻧﮕﻨﮯ ﭘﺮ ﻣﻞ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﯾﮧ ﻣﻄﻠﺐ ﮨﺮﮔﺰ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻥ ﺳﮯ ﻣﺎﻧﮕﻨﺎ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﺷﺮﯾﻌﺖ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺋﺰ ﮨﮯ۔ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﺗﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﮨﮯ ﺟﻮ ﮐﺎﻓﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺸﺮﮐﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ۔ ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﮐﺎﻓﺮﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﺸﺮﮐﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮐﻔﺮﯾﮧ ﻭ ﺷﺮﮐﯿﮧ ﺍﻋﻤﺎﻝ ﮐﯽ ﺑﺪﻭﻟﺖ ﺩﯾﻨﺎ ﺑﻨﺪ ﮐﺮﺩﮮ ﺗﻮ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮨﯽ ﺩﻥ ﺳﺎﺭﮮ ﻣﺸﺮﮎ ﻭ ﮐﺎﻓﺮ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮨﻮﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﭘﮭﺮ ﯾﮧ ﺍﻣﺘﺤﺎﻥ ﻧﮧ ﮨﻮﮔﺎ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺩﻧﯿﺎ ﺗﻮ ﺩﺍﺭﺍﻻﻣﺘﺤﺎﻥ ﮨﮯ ….. ۔

ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﻣﺴﻌﻮﺩ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﺳﯿﺪﮦ ﺯﯾﻨﺐ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮫ ﻣﯿﮟ ﺩﺭﺩ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﺳﮯ ﺩﻡ ﮐﺮﻭﺍﺗﯿﮟ ﺗﻮ ﺗﻨﺪﺭﺳﺖ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯿﮟ ‘ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﻮ ﭘﺘﮧ ﭼﻼ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﯾﮧ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﮐﯽ ﮐﺎﺭﺳﺘﺎﻧﯽ ﮨﮯ ﺟﺐ ﺗﻮ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﺳﮯ ﺩﻡ ﮐﺮﻭﺍﺗﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺁﻧﮑﮫ ﮐﻮ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮩﻨﭽﺎﺗﺎ ﺟﺐ ﺗﻮ ﺩﻡ ﮐﺮﻭﺍﻧﺎ ﭼﻬﻮﮌ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺁﻧﮑﮫ ﮐﻮ ﭼﻬﻮ ﮐﺮ ﺩﺭﺩ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ . ﻟﮩٰﺬﺍ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﺳﮯ ﺩﻡ ﮐﺮﻭﺍﻧﮯ ﮐﯽ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﻣﺴﻨﻮﻥ ﺩﻡ ﮐﺮﻭﺍ . ﻏﻮﺭ ﻃﻠﺐ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺐ ﺍﯾﮏ ﺻﺤﺎﺑﯿﮧ ﮐﻮ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﭘﮩﻨﭻ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﺳﮯ ﺩﻡ ﮐﺮﻭﺍﻧﮯ ﺳﮯ ﺁﺭﺍﻡ ﺁ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ، ﺣﺎﻻﻧﮑﮧ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﺑﮍﺍ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﺗﻬﺎ ﺗﻮ ﺁﺝ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﺁﺭﺍﻡ ﺳﮯ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﯿﭩﮫ ﺳﮑﺘﺎ ‘… ﻭﮦ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﮔﻤﺮﺍﮦ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻟﮕﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ . ﻟﮩﺬﺍ ﺟﻮ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺷﺮﮎ ﮐﺎ ﺍﺭﺗﮑﺎﺏ ﮐﺮ ﮐﮯ ﯾﮧ ﺳﻤﺠﻬﺘﮯ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻓﻼﮞ ﺯﯾﺎﺭﺕ ﯾﺎ ﻓﻼﮞ ﻣﻨﺖ ﺳﮯ ﺷﻔﺎﺀ ﯾﺎ ﻣﺸﮑﻞ ﺣﻞ ﮨﻮﺋﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺳﭽﯽ ﺗﻮﺑﮧ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻋﻘﯿﺪﮮ ﮐﯽ ﺍﺻﻼﺡ ﮐﺮ ﻟﯿﻨﯽ ﭼﺎﮨﺌﯿﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﯾﮧ ﻧﮧ ﮨﻮ ﮐﮧ ﭼﻬﻮﭨﯽ ﺳﯽ ﻣﺸﮑﻞ ﺣﻞ ﮐﺮﻭﺍﻧﮯ ﮐﯽ ﺧﺎﻃﺮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﺳﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﺩﻫﻮ ﺑﯿﭩﮭﯿﮟ .
ﮐﺴﯽ ﺟﮕﮧ ﺳﮯ ﻣﺮﺍﺩ ﮐﺎ ﭘﻮﺭﺍ ﮨﻮ ﺟﺎﻧﺎ ﯾﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﻘﺪﺱ ﺍﻭﺭ ﺑﺮﮐﺖ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﺩﻟﯿﻞ ﻧﮩﯿﮟ ‘ ﮐﺘﻨﮯ ﻟﻮﮒ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺨﺎﻟﻔﯿﻦ ﭘﺮ ﺟﺎﺩﻭ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻧﻘﺼﺎﻥ ﭘﮩﻨﭽﺎﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﺎ ﻣﻘﺼﺪ ﺣﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺩﻭ ﻣﻘﺪﺱ ﻋﻤﻞ ﮐﮩﻼﺋﮯ ﮔﺎ .. ؟ ﺑﯿﺸﮏ ﺟﺎﺩﻭ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺸﮑﻞ ﺣﻞ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﯾﺎ ﻣﺮﺍﺩ ﭘﻮﺭﯼ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ‘ ﭘﻬﺮ ﺑﻬﯽ ﺍﺳﮯ ﺳﯿﮑﻬﻨﺎ ‘ ﺳﮑﻬﺎﻧﺎ ‘ ﮐﺮﻧﺎ ‘ ﮐﺮﻭﺍﻧﺎ ﺻﺮﯾﺤﺎ ﮐﻔﺮ ﮨﮯ.

ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﺣﺴﻦ ﻇﻦ ‘ ﺍﻋﺘﻘﺎﺩ ﯾﺎ ﻋﻤﻞ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺣﺮﺍﻡ ﺣﻼﻝ ﺍﻭﺭ ﮐﻔﺮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻦ ﺳﮑﺘﺎ . ﺍﻭﺭ ﺑﮩﺖ ﺳﺎﺭﮮ ﻟﻮﮒ ﭼﻮﻧﮑﮧ ﻋﻘﯿﺪﮮ ﮐﯽ ﺍﮨﻤﯿﺖ ﺳﮯ ﻧﺎ ﻭﺍﻗﻒ ﮨﯿﮟ ‘ ﺗﻮﺣﯿﺪ ﺍﻭﺭ ﺷﺮﮎ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﯿﺰ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﻗﺎﺻﺮ ﮨﯿﮟ . ﻟﮩﺬﺍ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮨﺎﮞ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﺳﮯ ﻣﺎﻧﮕﻨﺎ ﯾﺎ ﻏﯿﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﮯ ﻣﺎﻧﮕﻨﺎ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﮨﮯ ، ﺑﻠﮑﮧ ﻏﯿﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﮯ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻭﺍﺑﺴﺘﮕﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺳﮯ ﺑﻬﯽ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ . ﻋﻮﺍﻡ ﺍﻟﻨﺎﺱ ﺟﺲ ﻗﺪﺭ ﮐﺜﯿﺮ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﺐ ﻓﯿﺾ ﯾﺎ ﻣﺸﮑﻼﺕ ﮐﮯ ﺣﻞ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻣﺰﺍﺭﻭﮞ ﭘﺮ ﺣﺎﺿﺮﯼ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺗﻨﮯ ﺑﮍﮮ ﻣﺴﺌﻠﮯ ﮐﯽ ﺩﻟﯿﻞ ﺗﻮ ﻗﺮﺁﻥ ﻣﺠﯿﺪ ﻣﯿﮟ ﻭﺍﺿﺢ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﻧﯽ ﭼﺎﮨﯿﺌﮯ ﺗﻬﯽ . ﻣﮕﺮ ﭘﻮﺭﮮ ﻗﺮﺁﻥ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﮏ ﺁﯾﺖ ﺑﻬﯽ ﻗﺒﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﮐﺴﺐ ﻓﯿﺾ ﮐﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮐﻬﺎﺋﯽ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﯽ ﺗﻮ ﭘﻬﺮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﺎﺧﺬ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ۔۔۔۔

Raising the Hands for Ta’ziyat at the Graves

Question:  A prominent Aalim whilst refuting the erroneous beliefs of the Ahl-e-Bid’ah, writes inter alia: “Ta’ziyat is only for three days…….” At the conclusion of the section dealing with Ta’ziyat appears a note which reads: “Note: It is permissible to raise the hands and make dua for the deceased. Nabi (sallallahu alayhi wasallam) also raised the hands when making dua for the deceased (See Bukhaari Shareef, Vol.2, page 619 and Muslim Shareef, Vol.2, page 303).

Hadhrat Shah Muhammad Ishaq (rahmatullah alayh) passed away 1262 A.H, states that it is permissible to raise the hands and make dua for the deceased during ta’ziyat. (Masaail Arbaeen, page 34). It has also been established from Nabi (sallallahu alayhi wasallam) to raise the hands when making dua for the deceased at the grave.” (Muslim, Vol.1, page 313).”
Please comment on these views.

Answer (by Mujlisul Ulama):

Subhaanallaah! Directing the ignorant masses to Bukhaari Shareef and Muslim Shareef, and Hadhrat Shah Muhammad Ishaaq (rahmatullah alayh) is like placing pearls and diamonds in front of asses. What mileage will the masses acquire from these kutub which are closed books for them? The simple, accepted Masnoon practices as transmitted to us from the Akaabireen – from generation to generation – have to be proffered to the masses for practical purposes. They are not in position to extract masaail from the kutub of Hadith. It is therefore futile and ludicrous to cite these kutub for consumption of the masses.

The views of any person, be he a great Aalim, if in conflict with the Sunnah as taught by the Math-hab we follow, will be set aside. It is wrong for the Aalim Sahib to cite as proof the views of an Aalim who appeared on the scene 1262 years after the Sahaabah. It is also improper for him or anyone else to bypass the teachings of the Math-hab.

It is highly improper for Muqallideen to attempt to substantiate a view by direct reference to the Ahaadith. All types of Ahaadith are found in the kutub of Hadith. The Ahaadith on Rafa’ Yadain (raising the hands) during the different postures of Salaat, folding the hands on the breast, reciting Aameen audibly, and many other Ahaadith pertaining to rules which we, the Hanafis do not follow, are authentic and are to be found in Bukhaari Shareef and many other Hadith books. In fact all Math-habs, acquire their Hadith proofs from authentic Ahaadith. Yet, despite acknowledging the authenticity of the Ahaadith, the Hanafi Math-hab teaches that during the course of Salaat, the hands should not be raised.

The function of examining the Ahaadith and deciding which are the valid practices, was the preserve exclusively of the Aimmah-e-Mujtahideen. The Hadith which explains that Rasulullah (sallallahu alayhi wasallam) placed twigs on two graves is authentic, yet we do not follow that practice. Similarly, it is improper for an Aalim in this day to refer us to the Hadith. It is necessary to see what the Math-hab teaches. Muqallideen have to follow their Imaam. If we have to ignore what the Math-hab instructs and teaches, and resort directly to the Hadith books, then the entire Shariah will collapse and chaos will reign in the wake of obedience to the nafs.

The view of Shah Muhammad Ishaaq (rahmatullah alayh) is not a valid argument. Since his view is not in conformity with the Sunnah, it shall not be adopted. The practice of raising hands for dua when making ta’ziyat is not Sunnah. Surely the Aalim Sahib should have produced a better daleel for his view than to cite Hadhrat Ishaq Saheb. Ta’ziyat is a Masnoon practice. This practice is explained by our Akaabir Ulama. If one wishes to know what to recite after At-tahiyaat, there is no need to journey into the distant past for an answer. Simple masaail should be ascertained from the elementary kitaabs or from kitaabs such as Behesti Zewer.

It is wrong for a Muqallid after seeing a practice recorded in a Hadith to claim that the practice is established from Nabi (sallallahu alayhi wasallam). The practice of camel’s urine for sickness is also established from Rasulullah (sallallahu alayhi wasallam). The practice of Rafa’ Yadain is also established from Rasulullah (sallallahu alayhi wasallam). However, we are not allowed to adopt just every practice which we see in the Hadith narrations.

There are sharp and severe differences between practices of the Hanafi and Shaafi’ Math-habs. The Shaafis prove from the authentic Ahaadith the incumbency of reciting Surah Faatihah after the Imaam while according to the Hanafi Math-hab, this is not permissible. There is no need for the layman to reconcile these conflicts. Everyone should follow his/her own Math-hab.

Furthermore, even Mustahab acts become bid’ah when they have been elevated to a higher status. Raising the hands by the graveside is a prominent practice of the Ahle-Bid’ah. They regard it as an incumbent practice. Holding a staff during the khutbah is permissible. However, due to the status of Wujoob assigned to it, the Akaabireen have branded it bid’ah. It is thus not permissible to act in accordance with just every practice which is found in the Hadith books.

It is necessary for the Aalim to explain why did the Sahaabah not raise their hands at the graveside and for Ta’ziyat as a regular practice. If someone had occasionally done so, it would have been an isolated personal act which was not taught to be a Masnoon practice. We have to ascertain what the normal and permanent practice is. It is highly erroneous to dig out a rare practice, then present it in conflict with the official Sunnah practice.

Raising the hands during Ta’ziyat is not the Masnoon practice nor is raising the hands at the graveside. The prominent Aalim Sahib has incorrectly made ta’leem of these masaa-il.

علمائے اہل السنہ والجماعۃ دیوبند پر وہابیت کا الزام اور اس کا جواب

مولانا ساجد خان نقشبندی

کاشف اقبال رضاخانی نے وہی گھسا پٹا اعتراض کیا ہے کہ دیوبندی وہابی ہیں ان کے بڑے خود کو وہابی کہتے رہے یہی اعتراض آج کل دیگر بریلوی رضاخانی مولویوں کی طرف سے بڑے شد و مد کے ساتھ کیا جارہا ہے اسلئے ہم اس اعتراض پر ذرا تفصیل سے بات کرنا چاہتے ہیں۔

دراصل ہندوستان کے اہل بدعت کی طرف سے وہابی کا لفظ اپنے مخالفین جن کو یہ لوگ بدمذہب اور بے دین سمجھتے ہیں کیلئے وضع کیا گیا ان کے نزدیک ہر متبع سنت اللہ کی توحیدنبی کریم ﷺ کی سنت اور بدعات و خرافات و رسوم جاہلیت سے منع کرنے والا ’’وہابی‘‘ کہلاتا ہے ۔یہاں میں خود اہل بدعت کے گھر سے ایک حوالہ نقل کرتا ہوں جس سے کافی حد تک وضاحت ہوجائے گی کہ ان کے نزدیک وہابی کسے کہا جاتا ہے:

اہل بدعت کے سرخیل مولوی احمد رضاخان بریلوی سے سوال کیا گیا:

’’بخدمت جناب مجدد ہند مولوی صاحب احمدرضاخان صاحب بعد تسلیم کے گزارش حال یہ ہے کہ آپ کے نام پیر ڈلیہ سے فتوی لکھا ہے وہ شخص مولوی اشرف کاپیرو ہے اور یہاں پر چور سو مکان سنت و جماعت کے ہیں اونکو مولوی اشرف علی کے سپرد کرنا چاہتا ہے یعنی ہمارے پر دستور ہے کہ شادی میں نکاح کے وقت تاشہ بجایا کرتے ہیں اوس کا سبب یہ ہے کہ غیر مقلد ہمار ی جماعت میں نہ آنے پائیں مگر یہ شخص اشرف علی کے پیرو ہوکر تاشہ بجانا منع کرتا ہے اور جس شے میں گناہ نہ ہو اوسکو بھی منع کرتا ہے اس واسطے آپ اسحاق اللہ کے نام پر لکھنا تاکہ ہم ان شیطانوں کے پھندوں سے بچیں اگرچہ یہاں پر تاشہ بجنا بند ہوجائے تو ہم کو مذہب سے پھر جانے کا خوف ہے‘‘ ۔

مولوی احمد رضاخان بریلوی نے اس کا جو جواب دیا اس کا ایک جز کافی دلچسپ ہے جو ہم یہاں نقل کرنا مناسب سمجھتے ہیں:

’’ناجائز بات کو اگر کوئی بدمذہب یاکافر منع کرے تو اوسے جائز نہیں کہا جاسکتا کل کو کوئی وہابی ناچ کو منع کرے تو کیا اوسے بھی جائز کردینا ہوگا ؟‘‘۔ (فتاوی رضویہ قدیم ،ج10حصہ دوم ،ص65،دارالعلوم امجدیہ کراچی)

اس سے اہل بدعت کی سوچ سامنے آجاتی ہے کہ چونکہ تاشہ (تغاری یا تشلہ کی شکل کاکھال منڈھا ہوا چھوٹا باجا جو گلے میں ڈال کر دو پتلی لکڑیوں سے بجایا جاتا ہے اس کی آواز ڈھول سے زیادہ تیز مگر کم گونجدا رہوتی ہے ۔اردو لغت) ناچ گانے سے منع کرنے والا ایک وہابی ہے اس لئے آپ اسے بجانے کی اجازت ہمیں دیں ورنہ ہمارا سارا محلہ وہابی ہوجائے گا معاذ اللہ۔
اب ہمارے اکابر نے جہاں اپنے لئے وہابی کا لفظ استعمال کیا تو اسے اہل بدعت کے مقابلے میں انہی معنوں میں اپنے لئے استعمال کیا کہ چونکہ رسوم و رواج سے منع کر نے والے کو یہ لوگ وہابی سمجھتے ہیں اس لئے ہم وہابی ہی صحیح۔چنانچہ فخر المحدثین مولانا خلیل احمد سہارنپوری رحمۃ اللہ علیہ اسی بات کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’ہندوستان میں لفظ وہابی کا استعمال اس شخص کیلئے تھا جو آئمہ رضی اللہ عنہم کی تقلید چھوڑبیٹھے پھر ایسی وسعت ہوئی کہ یہ لفظ ان پر بولاجانے لگاس جو سنت محمدیہ پر عمل کریں اور بدعات سیۂ و رسول قبیحہ کو چھوڑ دیں یہاں تک ہواکہ بمبئی اور اس کے نواح میں یہ مشہور ہے کہ جو مولوی اولیاء کی قبروں کو سجدہ اور طواف کرنے سے منع کرے وہ وہابی ہے بلکہ جو سود کی حرمت ظاہرے کرے وہ بھی وہابی ہے گو کتنا ہی بڑا مسلمان کیوں نہ ہو ‘‘۔ (المہند ،ص 31,32)

فقیہ العصر حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی صاحب رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:

’’اس وقت اور ان اطراف میں وہابی متبع سنت اور دیندار کو کہتے ہیں ‘‘۔ (فتاوی رشیدیہ،ج1،ص 282)

حکیم الامت مجدد دین و ملت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ اہل ھوآء کے نزدیک اسی لفظ ’’وہابی‘‘ کا مطلب بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’ایک صاحب نے مجھ سے بیان کیا تھا کہ ایک مرتبہ حیدرآباد دکن میں ایک شخص وہابیت کے الزام میں پکڑا گیا اور دلیل یہ بیان کی گئی کہ تم کو جب دیکھو مسجد سے نکلتے ہوئے جب دیکھو قرآن پڑھتے ہوئے جب دیکھو نماز پڑھتے ہوئے ایک اور ان کے خیر خواہ شخص نے کہا کہ نہیں یہ وہابی نہیں ہیں میں نے انکو فلاں رنڈی کے مجرے میں دیکھا تھا فلاں جگہ قوالی میں دیکھا فلاں قبر کو سجدہ کرتے دیکھا تب بیچارے چھوڑے گئے اور جان بچی ‘‘۔ (ملفوظات ،ج3،ص101،ملفوظ نمبر 168)

ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:

’’میں کہا کرتا ہوں کہ بدعتیوں میں دین نہیں ہوتا اور دین کی باتوں کو وہابیت کہتے ہیں‘‘ ۔
(ملفوظات ،ج4،ص123، ملفوظ نمبر 178)

ظاہر ہے کہ اگر وہابیت اس کا نام ہے تو ہمیں اس وہابیت پر فخر ہے البتہ اگر وہابیت سے مراد محمد بن عبد الوہاب نجدی کے پیروکار مراد لئے جائیں یا غیر مقلدین جیساکہ ہمارے ہاں اب جماعت اسلامی اور غیر مقلدین اہل حدیث کو وہابی کہا جاتا ہے بلکہ ہمارے پشاور و افغانستان کے علاقوں میں تو ان کو ان کے ان ناموں سے کوئی نہیں جانتا ہے انہیں ان دیار میں وہابی ہی کہاجاتا ہے تو اس معنی میں ہمارے اکابر نے اپنے وہابیت کا انکار پہلے بھی کیا اور اب بھی ہم کرتے ہیں ۔آج کل ہمارے دیار میں وہابی ان کو کہا جاتا ہے جو:

(۱) تصوف اور بیعت طریقت اور اسکے اشغال ذکر مراقبہ توجہ کے سخت مخالف و منکر ہیں جبکہ الحمد للہ علمائے دیوبند ان پر کاربند ہیں۔

(۲) تقلید شخصی کے مخالف ہیں مگر ہمارے اکابر اسے واجب کہتے ہیں اور خو د سراج الآئمہ امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے مقلد ہیں ۔

(۳) توسل کے منکر ہیں ہم قائل ہیں ۔

(۴) بزرگان دین و محترم شخصیات سے تبرکات کے منکرہم قائل۔

(۵) حیات النبی ﷺ کے منکر ہیں جبکہ ہم زور و شور سے اس کے قائل ہیں اب تک اس عقیدے کے ثبوت پر ہمارے علماء کئی مناظرے کرچکے ہیں۔

(۶) روضہ مبارک ﷺ کیلئے سفر کو ممنوع قرار دیتے ہیں جبکہ ہم اسے افضل المستحبات جانتے ہیں۔

(۷) نبی کریم ﷺ کے روضہ مبارک کے سامنے سلام و تشفع کے منکر ہیں ہم اس کے قائل ہیں ۔
غرض اس معنی میں ہمیں ’’وہابی ‘‘ کہنا یا سمجھنا تہمت صریح و کذب بیانی ہے اور ہمارے اکابر نے بھی اس معنی میں خود پر وہابیت کی تہمت کی سختی سے تردید کی ہے چنانچہ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

’’ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ کتنے غضب اور ظلم کی بات ہے کہ ہمارے بزرگوں کو بدنام کرتے ہیں اور وہابی کے لقب سے یاد کرتے ہیں ہمارے قریب میں ایک قصبہ ہے جلال آباد وہاں پر ایک جبہ شریف ہے جو حضور ﷺ کی طرف منسوب ہے اس کی زیار ت حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ اور مولانا شیخ محمد صاحب کیا کرتے تھے اور حضرت مولانا رشید احمد صاحب گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کے متعلق میرے خط کے جواب میں تحریر فرمایا تھا کہ اگر منکرات سے خالی وقت میں زیارت میسر آنا ممکن ہو تو ہرگز دریغ نہ کریں بتلائے یہ باتیں وہابیت کی ہیں ان بدعتیوں میں دین تو ہوتا نہیں جس طرح جی میں آتا ہے جسکو چاہتے ہیں بدنام کرنا شروع کردیتے ہیں خود تو بد دین دوسروں کو بد دین بتلاتے ہیں‘‘ ۔ ( ملفوظات ،ج4،ص32،ملفوظ 55)

ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:

’’ایک جماعت ہے جو ہم لوگوں کو وہابی کہتی ہے لیکن ہماری سمجھ میں آج تک یہ بات نہیں آئی کہ ہمیں کس مناسبت سے وہابی کہتے ہیں کیونکہ وہابی وہ لوگ ہیں کو ابن عبد الوہاب کی اولاد میں سے ہیں یاوہ لوگ ہیں جو اس کا اتباع کرتے ہیں ابن عبد الوہاب کے حالات کتابوں میں موجود ہیں ہر شخص ان کو دیکھ کر معلوم کرسکتا ہے کہ وہ نہ اتباع کی رو سے ہمارے بزرگوں میں ہیں نہ نسبت کی رو سے البتہ آج کل جن لوگوں نے تقلید چھوڑ کر غیر مقلدی اختیار کرلی ان کو ایک اعتبار سے وہابی کہنا درست ہوسکتا ہے کیونکہ ان کے اکثر خیالات ابن عبد الوہاب سے ملتے ہیں ہم لوگ حنفی ہیں کیونکہ یہ معلوم ہوچکا ہے کہ اصول چار ہیں کتاب اللہ حدیث رسول اجماع امت اور قیاس مجتہد سوا ان چار کے اور کوئی اصل نہیں اور مجتہد بہت سے ہیں لیکن اجماع امت سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ چار امام یعنی امام ابو حنیفہ امام شافعی امام احمد بن حنبل اور امام مالک رحمھم اللہ کے مذاہب سے باہر ہوجانا جائز نہیں نیز یہ بھی ثابت ہے کہ ان چاروں میں جس کا مذہب رائج ہو اس کا اتباع کرنا چاہئے تو چونکہ ہندوستان میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا مذہب رائج ہے اس لئے ہم انہیں کا اتباع کرتے ہیں ہم کو جولوگ وہابی کہتے ہیں قیامت میں اس بہتان کی ان سے باز پرس ضرور ہوگی ‘‘۔(اشرف الجواب)

خود رضاخانیوں کو بھی اس بات کا اقرار ہے کہ وہابی اصل اور آج کل کے عرف کے اعتبار سے غیر مقلدین کو کہا جاتا ہے چنانچہ بریلوی مناظر مفتی حنیف قریشی کہتا ہے:

’’اہل حدیث جماعت پر لفظ وہابی کا عمومی اطلاق ہوتا ہے‘‘ ۔ ( مناظرہ گستاخ کون ،ص65)

بریلوی حکیم الامت مولوی منظور اوجھیانوی المعروف احمد یار گجراتی صاحب اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ وہابی غیر مقلدین کو کہا جاتا ہے چنانچہ لکھتا ہے:

’’اسمعیل کے معتقدین دو گروہ بنے ایک تو وہ جنہوں نے اماموں کی تقلید کا انکار کیا جو غیر مقلد یا وہابی کہلاتے ہیں‘‘۔(جاء الحق ،ص13)

خود کاشف اقبال رضاخانی نے جب اہل السنۃ والجماعۃ کے خلاف کتاب لکھی تو اس کا نام دیوبندیت کے بطلان کا انکشاف رکھا اور جب غیر مقلدین کے خلاف کتاب لکھی تو اس کانام وہابیت کے بطلان کا انکشاف لکھا سوال یہ ہے کہ اگر یہ دونوں ایک ہی ہیں تو دو الگ الگ ناموں سے دو مختلف کتابیں لکھنے کی کیا ضرورت تھی؟
مفتی حنیف قریشی ایک اور مقام پر کہتا ہے:

’’آپ کے سرخیل مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کتاب فتاوی ثنائیہ جلد اول ص99 پر لکھتے ہیں: یہ بات وہابیت کی تاریخ میں واضح طور پر موجود ہے کہ وہابی کی اصطلاح کا عموم اطلاق جماعت اہل حدیث پر ہوتا ہے‘‘ ۔ (مناظرہ گستاخ کون ،ص64)

اپنے گھر کی خبر لو

بریلوی جامع المعقول والمنقول غلام محمد پپلانوی لکھتے ہیں:

’’وہابی دو قسم کے پائے جاتے ہیں ایک مسلمان وہابی دوم منافق وہابی‘‘ ۔(نجم الرحمان ،ص36)

بریلوی شمس الاسلام مولانا معین الدین اجمیری مرحوم لکھتے ہیں:

’’اعلی حضرت نے ایک دنیا کو وہابی کر ڈالا ایسا بد نصیب کون ہے جس پر آپ کا خنجر وہابیت نہ چلا ہو وہ اعلی حضرت جو بات بات میں وہابی بنانے کے عادی ہوں وہ اعلی حضرت جنکی تصانیف کی علت غائیہ وہابیت جنہوں نے اکثر علماء اہل سنت کو وہابی بناکر عوام کالانعام کو ان سے بدظن کرادیا جن کے اتباع کی پہچان کہ وہ وعظ میں اہل حق سنیوں کو وہابی کہہ کر گالیوں کو مینہ برسائیں جنہوں نے وہابیت کے حیلہ سے علماء ربانیین کی جڑ کاٹنے میں وہ مساعی جمیلہ کیں کہ جن کا خطرہ حسن بن صباح جیسے مدعی امامت و نبوت کے دل میں بھی نہ گذراہوگا اور جن کے فتنہ و فساد کے سامنے حسن بن صباح کے خدائی بھی گرد ہوں اگر حسن بن صباح زندہ ہوکر آجاوے تو اس کو اعلی حضرت کے کمالات کے بالمقابل سوائے زانوائے ادب نہ کرنے کے چارہ کا ر نہو غرض ایسی مقتد جماعت کا پیشوا جنکی زبانیں سوائے وہابی اور وہبڑے اور لہبڑے کے دوسرے الفاظ سے اثناء وعظ میں آشنا ہی نہیں ہوتیں اگر درپردہ وہابی ثابت ہوجاوے تو پھر تعجب کی کوئی حد نہیں رہتی خلقت کہتی ہے وہ اعلی حضرت جو اپنے آپ کووہابی کش ظاہر فرماتے ہیں بالآخر خودوہابی ثابت ہوئے اور اس طرح وہ وہابی کش کے درحقیقت خود کش ہیں خلقت اپنے اس جزمی دعوے کے ثبوت میں اعلی حضرت کے چند اقوال پیش کرتی ہے‘‘ ۔
(تجلیات انوار المعین ،ص42)

اس سے دو باتیں معلوم ہوئیں پہلی بات تو یہ کہ احمد رضاخان نے کئی سنی علماء کو وہابی بنا ڈالا دوسرا احمد رضاخان بریلوی خود بہت بڑا وہابی تھا اور یہ بات پوری خلقت میں مشہور تھی۔

بریلوی وہابی کس کو کہتے ہیں 

مولانا معین الدین اجمیری صاحب لکھتے ہیں:

’’خلقت کہتی ہے کہ اعلحضرت صر ف وہابی ہی نہیں بلکہ ان کے سرتاج ہیں لیکن ہم کو خلقت کے اس خیال سے اتفاق نہیں اصل یہ ہے کہ وہابیت کے مفہوم سمجھنے میں خلقت نے غلطی کی وہ وہابی اس کو سمجھتی ہے جو اکابر کی شان میں گستاخی اور آئمہ کے دائرہ اتبا ع سے خارج ہوا اور اعلی حضرت صرف اس کو وہابی کہتے ہیں جو ان کے مجددیت کا منکر ہو پھر وہ خواہ خلقت کے نزدیک کیسا ہی زبردست سنی ہو لیکن اعلی حضر ت کے نزدیک وہابی ہے اور جو حضرت کی تجدید کا اعتراف کرے پھر وہ وہابی ہی کیوں نہ ہو لیکن وہ اعلی درجہ کا سنی ہے‘‘ ۔
(تجلیات انوار المعین ،ص44)

اس سے مندرجہ ذیل باتیں معلوم ہوئیں:

(۱) ہندوستان میں عام خلقت کا تاثر یہی تھا کہ احمد رضاخان نہ صر ف خود وہابی ہیں بلکہ وہابیوں کے سرتاج ہیں ۔

(۲) یہ تاثر اس لئے تھا کہ احمد رضاخان اکابر کی شان میں گستاخی کا ارتکاب کرنے والا اور آئمہ کے دائرہ اتباع سے خارج ہونے والا تھا۔

(۳) حضرت مولانا معین الدین صاحب کا تجزیہ یہ ہے کہ اعلی حضرت اور ان کے ماننے والوں کے نزدیک جو احمد رضاخان کو مجدد نہ مانے ان کی بزرگی کا قائل نہ ہو تو وہ خواہ کتنا ہی پکا سنی ہو ان کے مذہب میں وہ وہابی ہے۔ اور ایک شخص کتنا ہی بڑا وہابی کیوں نہ ہو مگر احمد رضاخان کو مجدد مانتا ہو تو ان کے نزدیک سنی ہے۔

ہم پر رضاخانیوں کی طرف سے وہابیت کا الزام بھی صرف اسی وجہ سے ہے کہ ہم احمد رضاخان بریلوی کی بزرگی کے قائل نہیں اور ہمارے بزرگوں نے بھی جو بعض مقامات پر اہل بدعت کے مقابلے میں خود کو ہابی کہا تو وہ اس بناء پر کہ وہ خود کو احمد رضاخان کا نہ تو متبع مانتے ہیں اور نہ اس کے دعوی مجددیت کی حمایت کرتے ہیں۔

احمد رضاخان کے نزدیک وہابی ہمارے اپنے ہیں
بریلوی محقق دوراں رائیس القلم سید عبد الکریم سید علی ہاشمی لکھتا ہے:

’’اگرچہ احمدرضاخان سید احمدزینی دحلان کے شاگرد اور مرید تھے آپ نے ہندی وہابیوں کی سرکوبی کیلئے اسی شدت سے کام نہیں لیا جو علمائے حرمین کا طریقہ تھا کیوں کہ وہ لوگ وہابیوں کو غیر سمجھتے تھے اور احمد رضا یہاں کے وہابیوں کو غیر نہیں سمجھتے تھے بلکہ سنیوں کی اولاد سمجھتے تھے اور یقین رکھتے تھے کہ وعظ و پند سے وہ سدھر جائیں گے‘‘ ۔
( المیزان کا امام احمد رضا نمبر ،ص614)

وہابیوں کا مذہب صوفیا ء کا مذہب ہے

بریلوی فرید ملت خواجہ غلام فرید کوٹ مٹھن فرماتے ہیں:

’’آپ نے فرمایا کہ بے شک اسی طرح ہے وہابی نہ صحابہ کرام کو برا کہتے ہیں نہ ولایت سے انکار کرتے ہیں ۔۔۔ اس کے بعد فرمایا کہ تو حید کے بارے میں وہابیوں کے عقائد صوفیاء کرام سے ملتے جلتے ہیں وہابی کہتے ہیں کہ انبیاء اور اولیاء سے مدد مانگنا شرک ہے بے شک غیر خدا سے امداد مانگنا شرک ہے توحید یہ ہے کہ خاص حق تعالی سے مدد طلب کرے چنانچہ ایاک نعبد و ایا ک نستعین ( ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے مدد مانگتے ہیں) کا مطلب یہی ہے ‘‘۔( مقابیس المجالس ،ص797)

علماء حق پر وہابیت کی تہمت کس نے لگائی 
خرم ملک فاروق ملک صاحبان لکھتے ہیں:

’’پنجاب یوپی اور دوسرے تمام صوبوں سے مسلم مجاہد ین تواترسے آرہے تھے اب سکھوں نے مذہبی حربہ استعمال کیا انہوں نے سید احمد شہید کو وہابی مشہور کیا او عام مسلمانوں کو بھڑکا دیا کہ آپ صحیح اسلامی عقائد کے حامل نہیں سرحد اور پنجاب میں سید صاحب کے مذہبی نظریات کے خلاف شدید ردعمل شروع ہوا فتوے جاری ہونے لگے اور سید صاحب کی سیاسی قوت کوشدید دھچکا لگا‘‘۔ (مطالعہ پاکستان رائج ڈگری کلاسز صدارتی ایوارڈ اعزاز فضیلت ،خرم بکس اردو بازار لاہور ،ص54)

تو کاشف اقبال رضاخانی صاحب آپ بھی تو کہیں ان سکھوں کی روحانی اولاد نہیں جو آباء معنوی کی پیروی میں علمائے حق پر وہابیت کی تہمت لگارہے ہیں؟ اہل السنۃ والجماعۃ علمائے دیوبند پر وہابیت کا الزام سب سے پہلے احمد رضاخان بریلوی نے لگایا چنانچہ شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ اس کے متعلق لکھتے ہیں:

’’اسی وجہ سے اہل عرب خصوصا اس کے اور اس کے اتباع سے دلی بغض تھا اور ہے اور اس قدر ہے کہ اتنا قوم یہود سے ہے نہ نصاری سے نہ مجوس سے نہ ہنود سے غرض کہ وجوہات مذکورۃ الصدر کی وجہ سے ان کو اس کے طائفہ سے اعلی درجہ کی عدوات ہے اور بے شک جب اس نے ایسی ایسی تکالیف دی ہیں تو ضرور ہونا بھی چاہئے وہ لوگ یہود و نصاری سے اس قدر رنج و عدوات نہیں رکھتے جتنی کہ وہابیہ سے رکھتے ہیں چونکہ مجدد المضلین اور اس کے اتباع کو اہل عرب کی نظروں میں خصوصا اور اہل ہند کی نگاہوں میں عموما ان کے بہی خواہ اور دوسروں کو ان کا دشمن دین کا مخالف ظاہر کرنا مقصود ہونا ہے اس لئے اس لقب سے بڑھ کر ان کو کوئی لقب اچھا معلوم نہیں ہوتا جہاں کسی کو متبع شریعت و تابع سنت پایا چٹ وہابی کہہ دیا تاکہ لوگ متنفر ہوجائیں اور ان لوگوں کے مصالح اور تر لقموں میں جو طرح طرح کے مکاریوں سے حاصل ہوتی ہیں فرق نہ پڑے ۔صاحبوا ! شراب پیو داڑھی منڈواؤ گور پرستی کرو نذر لغیر اللہ مانو زناکاری اغلام بازی ترک جماعت و صوم و صلاۃ جو کچھ کرو یہ سب علامات اہل السنت والجماعت ہونے کی ہو اور اتباع شریعت صورۃ و عملا جسکو حاصل ہو و ہوہابی ہوجائے گا مشہور ہے کہ کسی نواب صاحب نے کسی اپنے ہم نشین سے کہا کہ میں نے سناہے تم وہابی ہو انہوں نے جواب دیا حضور میں تو داڑھی منڈاتا ہو ں میں کیسے وہابی ہوسکتا ہوں میں تو خالص سنی ہوں دیکھئے علامت سنی کی داڑھی منڈانا ہوگیا دجال المجددین نے اس رسالہ میں اس غرض خاص سے ان اکابر کو وہابی کہا تا کہ اہل عرب دیکھتے ہی غیظ و غضب میں آکر تلملا جائیں اور بلا پوچھے گچھے بغیر تامل تکفیر کا فتوی دے دیویں اور پھر لفظ وہابیت کو متعدد جگہوں میں مختلف عنوانوں سے الفاظ خبیث سے یاد کیا حالانکہ عقائد وہابیہ اور ان اکابر کے معتقدات و اعمال میں زمین و آسمان بلکہ اس سے زائد کا فرق ہے ‘‘۔( الشہاب الثاقب ،ص184,185)

وہابیت کا ایک خوفناک تصور

بریلوی مجاوروں پیشہ ور واعظوں اور علماء سو کو چونکہ علم ہے کہ ان کی عوام جب تک جاہل رہے گی ان کے نذرانے چلتے رہیں گے اسی لئے جہاں انہوں نے عوام کو یہ باور کرایا ہوا ہے کہ ہر متبع سنت اور بدعات و شرک سے منع کرنے والا وہابی ہے ۔ان کے ذہنوں میں وہابیت کا ایسا خوفناک تصور بٹھایا ہوا ہے کہ کوئی شخص وہابیت کے اس تصور کے بعد ان کے قریب بھی نہیں پھٹکے گا ۔مولاا بو الکلام آزاد بھی اسی ماحول میں پلے بڑھے اپنے والد مولانا خیر الدین دہلوی جن کا شمار بریلوی اکابر میں ہوتا ہے کی تربیت کا نتیجہ بتاتے ہیں کہ انہوں نے اپنے گھر اور مریدین کے درمیان وہابیت کا کیا تصور قائم کیا ہوا تھا:

’’ہمیں اس وقت یقین تھا کہ وہابی ان لوگوں کو کہتے ہیں جو اول تو نبی ﷺ کی فضیلت کے قائل ہی نہیں اگر قائل ہیں بھی تو صرف اتنے جیسے چھوٹے بھائی کیلئے بڑا بھائی معجزات کے بھی منکر ہیں ختم نبو ت کے بھی قائل نہیں آنحضرت ﷺ سے ان کو تو ایک خاص بغض ہے ۔ جہاں کوئی بات ان کی فضیلت و منقبت کی آئی اور انہیں مرچیں لگیں مجلس میلاد کے اس لئے منکر ہیں کہ اس میں آنحضرت ﷺ کے فضائل بیان کئے جاتے ہیں ۔درود پڑھنے کو بھی برا جانتے ہیں کہتے ہیں کہ یا رسول اللہ مت کہو کیونکہ رسول اللہ کی یاد انہیں کیوں پسند آنے لگی جہاں کوئی بات رسول کی فضیلت اولیاء اللہ کی منقبت بزرگان دین کی بزرگی کی کہی جائے یا کی جائے فورا اسے شرک و بدعت کہہ دیتے ہیں اس لئے کہ انہیں ان سب سے بغض و کینہ ہے اور ان کی توہین و تذلیل ان کو خوش آتی ہے بحیثیت مجموعی وہابیوں کے بدترین خلائق ہونے کافر ہونے کافروں میں بھی بدترین قسم کے کافر ہونے میں کسی ردو کد کی ضرور ت نہیں سمجھی جاتی تھی وہابیت کے متعلق یہ فضا تھی جس میں میں نے پرورش پائی‘‘۔ (آزاد کی کہانی خود آزاد کی زبانی ،ص279,278)

ظاہر ہے کہ وہابیت کے اس مکروہ تصور کو ادنی سے ادنی مسلمان بھی اپنے لئے قابل قبول تصور نہیں ہوسکتا۔اہل بدعت کی اسی سوچ اور تصور کے مقابلے میں علمائے اہل السنت والجماعت نے خود پر وہابیت کے الزام جس سے مقصود درپردہ اس قسم کے مکروہ عقائد کی نسبت تھی ہمیشہ سے سخت تردید کی اور ہم اب بھی کرتے ہیں۔
الحمد للہ یہاں تک تو ہم نے کھل کر وضاحت کردی کہ ہماری طرف وہابیت کی نسبت محض افتراء اور غلط ہے ہم اہل السنت والجماعت اور فروع میں امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے مقلد ہیں ہمارے اکابر نے اگر بعض مقامات پر خود کو وہابی کہا ہے تو وہ بھی بطور طنزا تعریضا ایسا کہا اس کے ہر گز یہ معنی نہ تھے نہ ہیں کہ معروف معنی میں بھی وہ وہابی ہیں معاذ اللہ۔دیکھیں امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ سے منسوب ایک معروف شعر ہے:

ان کان رفضا حب آل محمد فلیشھد الثقلان انی رافضی 
اگر آل محمد کی محبت رافضیت ہے تو اے جن و انس گواہ رہو میں رافضی ہوں

اب کوئی اس شعر کی بنیاد پر کہہ سکتا ہے کہ معاذ اللہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ رافضی تھے حالانکہ وہ اپنی رافضیت پر گواہ بھی قائم کررہے ہیں ؟ ہرگز نہیں بلکہ امام صاحب تو تعریضا ایک بات کہہ رہے ہیں کہ اگر تم نے اہل بیت سے محبت کو رافضیت کا نام دے دیا ہے تو ٹھیک ہے مجھے رافضی سمجھو مگر اہل بیت کی محبت نہیں چھوڑ سکتا۔یہی ہمارے اکابر کا مقصود تھا کہ اگر تم نے سنت کی دعوت بدعات رسومات و خرافات سے منع کرنے کو ’’وہابیت ‘‘ سمجھ لیا ہے تو ہم وہابی ہی سہی مگر دعوت توحید و سنت نہیں چھوڑ سکتے۔

بریلوی علماء کا اقرار کے دیوبندی وہابیت کے مخالف ہیں

مولوی غلام مہر علی لکھتا ہے:

’’اگر وہابیوں کو برا کہنا ہی پیٹ پرستی ہے اور دنیا پرستی کی دلیل ہے تو پھر فیروز الدین صاحب کے سب اکابر دیوبندی مولوی بھی حرام خور ثابت ہوں گے‘‘۔ ( دیوبندی مذہب ،ص137)

ظاہر ہے کہ یہ حرام خوری اسی صورت میں ثابت ہوسکتی ہے جب اکابر دیوبند نے وہابیوں کو برا بھلا کہا ہو۔

مولون حسن علی رضوی آف میلسی لکھتا ہے: 

’’علاوہ ازیں جس طرح علماء اہلسنت کو علماء نجد کے ساتھ اعتقادی اختلافات ہیں اسی طرح علماء دیوبند کو بھی علماء نجد محمد بن عبد الوہاب سے شدید اختلاف و نفرت ہے لہذا اگر علماء اہلسنت کا نجدی سعودی مکتب فکر سے اختلاف کوئی گناہ ہے تو خود اکابر علماء دیوبند بھی اس گناہ کے مرتکب ہیں ۔۔۔علماء دیوبند علماء نجد کے ساتھ اپنے اکابر دیوبند کا شدید اختلاف و نفرت ملاحظہ کریں‘‘ ۔ (رضائے مصطفی ،جمادی الاخری 1407ھ،ص2,3)

جب پاکستان میں اپنے لوگوں سے نذرانے وصول کرنے ہوں تو دیوبندی وہابی بن جاتے ہیں اور جب سعودی عرب کو مشترکہ طور پر گالیاں دینے کا موقع تلاش کرنا ہو تو دیوبندی وہابیوں کے شدید مخالف بن جاتے ہیں عجیب منافقت ہے۔

Reality of the “Konday” Custom of 22nd Rajab

This custom was started in the year 1906 in Rampur (Uttar Pradesh, India) by a famous Rafidhi named Ameer Minai who was afflicted with the curse of enmity towards Hadhrat Ameer Mu’awiyah (radhiyallahu anhu). He invented this custom out of his malice towards Hadhrat Ameer Mu’awiyah (Radhiyallahu Anhu). This custom is celebrated on 22nd Rajab as a pretence of “Niyaz” on the birthday of Sayyidina Ja’far Sadiq (rahmatullahi alayh), whereas 22nd Rajab is neither the birthday of Sayyidina Ja’far Sadiq (Rahimahullah) nor his death day, rather this is the death day of Sayyidina Mu’awiyah bin Abi Sufyan (Radhiyallahu Anhu) who is honoured to be maternal uncle of the believers, scriber of wahy, conqueror of Syria, Rome and Africa as well as the head of believers and chief of the pious ones.

Through this custom, the extremist rafidhi Ameer Minai celebrated the death of Sayyidina Amir Mu’awiyah (radhiyallahu anhu) out of his enmity towards him. It is regrettable that our Sunni brothers were influenced by the Rafidhi propaganda and adopted this evil custom which in fact is an insult to a Sahabi, especially our mothers and sisters are engrossed in such activities due to ignorance. It is to be noted that Sayyidina Ja’far as-Sadiq (Rahimahullah) was born on 8th Ramadhan and died on 15th Sha’ban and thus this custom has nothing to do with the birth and demise of Sayyidina Ja’far as-Sadiq (Rahumahullah), it is only due to malice towards Sayyidina Mu’awiyah (Radhiyallahu Anhu) about which “Imam-e-Ahl-e-Sunnat” Hadhrat Maulana Shah Ahmad Raza Khan Barelvi says:

“Whoever puts a blame on Amir Mu’awiyah (Radhiyallahu Anhu) is the dog of Hell.” [Shifa Sharif]

While Hadhrat Qibla Sayyid Mustafa Ali Shah, the senior Khalifa of Hadhrat Pir Sayyid Qibla Ali shah, also confirmed that this evil custom was introduced in 1906 in Rampur by Amir Minai’s family (which was known for its malice towards Hadhrat Mu’awiyah Radhiyallahu Anhu) [Jawahir al-Manaqib]

Moreover, here are some fatwas of Barelvi Ulama quoted from the book of a famous Barelvi scholar Mufti Muhammad Abu Sa’eed Ghulam Sarwar Qadri entitled ‘Afzaliyat Sayyidina Abu Bakr Siddiq Akbar’:

1. Famous Debater Hadhrat Allama Maulana Muhammad Sarwar Uchhrawi Lahore

“The denier of the khilafat of Sayyidina Abu Bakr Siddiq and Sayyidina Umar Farooq (may Allah be pleased with them) is out of the fold of Islam, while one who considers Hadhrat Ali (Radhiyallahu Anhu) greater in virtue than both of them is deviant and Shia, while one who finds faults in Hadhrat Mu’awiyah bin Abu Sufyan is also out of the fold of Islam.

2. Shaik al-Islam Hadhrat Maulana Qamruddin Siyalwi, “Sajjadah Nashin” of Siyal Sharif Shrine

The merits of Hadhrat Mu’awiyah are established by Hadiths, and blaspheming him will amount to kufr (disbelief). Accusing Hadhrat Mu’awiyah bin Abu Sufyan (Radhiyallahu Anhu) that he had enmity with Hadhrat Ali and other members of Ahl al-Bayt or used to abuse them is merely baseless and ignorant stand. All such accusations are based on the narrations of Raafidhis like Nadar bin Marahim, Yunus bin Khabbab, Marhub and others. A true Muslim may not forget the saying of the Prophet ﷺ who said: “Fear Allah about my Sahaba.”

3. Expert Scholar Mufti Ghulam Rasool Shaikh al-Hadith of Jamia Rizwiya Layllpur (Faisalabad), deputy of Imam-e-Ahl-e-Sunnat Muhaddith of Pakistan Janab Sardar Ahmad Qadri Rizwi

Hadhrat Mu’awiyah (Radhiyallahu Anhu) is a fair, trustworthy and pious Sahabi, his sister Umm-e-Habiba was the wife of the Prophet ﷺ. He was a great scholar and mujtahid Sahabi, the Prophet ﷺ prayed for him. One who blasphemes him or abuses him is Raafidhi and Shia and can never be a Sunni, Salah should never be offered behind him and such a person should never be appointed imam in the mosques of Ahlal-Sunnah waal-Jama’at.

4. Researcher of Ahl-e-Sunnat Mufti Ahmad Yar Khan Na’imi of Gujarat

One who regards Hadhrat Ali (Radhiyallahu Anhu) greater in virtue than Hadhrat Abu Bakr Siddiq and Hadhrat Umar Faruq (may Allah be pleased with them) or calls Hadhrat Amir Mu’awiyah (Radhiyallahu Anhu) as a fasiq is deviant and a Shia who presents himself as Ahl-e-Sunnat by the way of Taqiyya. Such a person should be dismissed from Ahl-e-Sunnat mosque and no Muslim should offer Salah behind him.

[See for reference: Afzaliyat Sayyidina Abu Bakr Siddiq Akbar, Abu Sa’eed Ghulam Sarwar Qadri, p155 to 186, published by Maktaba Faridiya Sahewal]

Merits of Ameer Mu’awiyah in the Sayings of the Prophet ﷺ

1. Narrated ‘Abdur-Rahman bin Abu ‘Umaira (Radhiyallahu Anhu): from the Prophet ﷺ, that he said about Mu’awiyah (Radhiyallahu Anhu): “O Allah, make him a guiding one, and guide (others) by him.” [Sunan al-Tirmidhi, p 224]

2. Abu Idris Al-Khawlani said: “Do not mention Mu’awiyah except with good, for indeed, I heard the Messenger of Allah ﷺ saying: “O Allah guide (others) by him.” [Sunan al-Tirmidhi, p 224]

3. Abdur Rahman bin Abu Umaira narrated that the Prophet ﷺ said about Mu’awiyah (Radhiyallahu Anhu): “O Allah, give him the knowledge of Quran and maths and protect him from the punishment.” [Kanzal-Ummal 7/87, al-Bidaya wa al-Nihaya 8/120]

4. Once Hadhrat Mu’awiyah (Radhiyallahu Anhu) rode an animal with the Prophet ﷺ, so he asked: “Mu’awiyah, which part of your body is closer to me?” He said: my stomach. So, the Prophet ﷺ said: “O Allah, fill it with knowledge and toleration.” [al-Tarikh al-Kabir by Imam Bukhari,4/180]

5. Hadhrat Abdullah bin Abbas (Radhiyallahu Anhu) narrated that Sayyidina Jibril came to the Prophet ﷺ and said: “O Muhammad, enjoin Mu’awiyah with good as he is the Amin (i.e. the honest man) and he is the best of them.” [Tathir al-Jinan by Allama Ibn Hajar Makki, p13]

6. The Prophet ﷺ said: “Paradise is granted to the first batch of my followers who will undertake a naval expedition. “Umm Haram asked: ‘O Allah’s Messenger ﷺ! Will I be amongst them?’ He replied, ‘You are amongst them.’ [Sahih Bukhari, Kitab al-Jihad, bab ma jaa’a fi qital al-rome].

Ameer Mu’awiyah’s High Status in the Eyes of the Pious Elders of Ummah

1. Hadhrat Abu Darda’ (Radhiyallahu Anhu) said: “I did not find anyone who prays similar to the Prophet ﷺ than your Amir i.e. Mu’awiyah.” [Tathir al-Jinan, p.24]

2. Hadhrat Ibrahim bin Musaira said: “Hadhrat Umar bin Abdul Aziz (Rahimahullah) did not whip any person with his hands except one who abused Hadhrat Amir Mu’awiyah, so he lashed three whips on him.” [al-Isti’ab with al-Isaba fi Tamyiz al-Sahaba, 3/403]

3. Hadhrat Abdullah bin Mubarak, the famous Imam, muhaddith, jurist and an eminent disciple of Imam Abu Hanifa, was asked whether Amir Mu’awiyah is better or Umar bin Abdul Aziz? He replied: “By Allah, the dust that entered in the nostrils of Mu’awiyah’s horse in the company of the Prophet ﷺ is thousand times better than Umar bin Abdul Aziz [Tathiral-Jinan, p 10-11]

4. Hakim al-Ummat Maulana Ashraf Ali Thanwi (rahimahullah) has quoted the words of Hadhrat Shaikh Abdul Qadir Jilani (Rahimahullah): “If Is it and the dust of Amir Mu’awiyah’s horse reaches my body, I will take it as source of my deliverance.” [Imdadul-Fatawa, 4/23]

Prominent Achievements of Ameer Mu’awiyah (Radhiyallahu Anhu)

Hadhrat Ameer Mu’awiyah (Radhiyallahu Anhu) enjoys longest tenure of governance since the Prophet ﷺ till this day. He conquered 5400 new regions, while Sayyidina Umar Faruq (Radhiyallahu Anhu) conquered 2400 areas and if you see the list in detail those were small areas compared to the conquered regions of Hadhrat Ameer Mu’awiyah (Radhiyallahu Anhu). For instance, he himself conquered cities like Kasariya which had 300 bazaars, 100,000 police and built a magnificent mosque in the middle of the city which is four times bigger than Lahore’s Shahi Mosque. Hadhrat Ameer Mu’awiyah (Radhiyallahu Anhu) is the first ruler who covered Ka’ba with kiswa (ghilaf). He introduced the department of child welfare. He irrigated 750000 acre land of Arabia and made them farmable and green. He promoted agriculture and gardening in Madinah to an unmatched extent. His rule extended from Syria to China borders and he undertook countless religious services in these areas. In 45 AH, he sent Sinan bin Maslama in expedition to Afghanistan with 12000 soldiers. Kabul, Jalalabad, Ghazni were conquered by Amir Mu’awiyah. Samarqand was annexed with Islamic caliphate by him and Peshawar was also cleansed from Buddhism by Hadhrat Mu’awiyah bin Abu Sufyan (Radhiyallahu Anhu).

Dear Sunni Brothers!

For Allah’s sake, get this evil custom (of Konday) out of your home, do not invite the curse of Allah by intentionally or unintentionally abusing a great Companion of the Prophet ﷺ  and do not let your good deeds go waste. Deliver this message to each member of the community so that other Muslims also can avoid this evil deed. May Allah Almighty grant us true love of the Sahaba and protect us against all evil customs.

Forward this Truth to Others; it is Your Religious and Moral Duty

It is obligatory on each Muslim to pay respect to all Sahaba including Hadhrat Ameer Mu’awiyah (Radhiyallahu Anhu). By abusing a Sahabi, one goes out of the fold of Islam. Our beloved Master and the Messenger of Allah (may Allah bless him and grant him peace) said: “(Fear) Allah! (Fear) Allah regarding my Companions! Do not make them objects of insults after me. Whoever offends them will incur the Curse of Allah, the angels, and all the people, and Allah will accept from him neither obligatory acts nor nafl. Whoever loves them is free from nifaq (hypocrisy) and whoever abuses Sahaba is bid’ati, munafiq and anti-Sunnah, it is feared that none of his good deeds are accepted until he loves them and keeps his heart free from malice towards them. May Allah protect all Muslims from such acts and fill our hearts with true love of the Sahaba (may Allah be pleased with them all), Aameen!

CONCLUSION

To summarize, we know now that there are many false rituals introduced in the month of Rajab and “koonda” or “konday” is one of them held on 22nd Rajab. “Koonday” in Urdu refers to earthen bowls or food containers. This “koonday” tradition started with Shias in India in the early 1900s (probably 1905 or so). It was introduced by an Indian Shia family named Ameer Menai. The purpose of this tradition is to send blessings or reward to the soul of Imam Jafar Sadiq (Rahimahullah) the 6th descendant of Ali (Radhiyallahu Anhu) who is respected by both  Shias and Sunnis. According to this tradition, on the fulfillment of a “promise,” traditional South Asian dishes are prepared and laid on the table in earthen bowls called “koonday.” It is similar to the polytheist custom of dedicating festival foods in the name of false deities or pagan gods. Quite obviously Ameer Menai of India picked up this tradition from the Indian hindus. This false story claims that Imam Jafar Sadiq instructed the people to observe this practice, promising them that whoever observes it, their desires will be fulfilled. Needless to say, this is total nonsense. The pious Imam NEVER said such things.  Moreover, 22nd Rajab has no connections with Imam Sadiq either. It is neither his birth nor his death anniversary.    Historians unanimously agree that Imam Jafar Sadiq was born in the month of Ramadan and died in the month of Shawwal.

Not to mention, in majority of those rich households where this nonsensical practice is observed, the food of the “koonday” tradition is mainly prepared for friends and relatives of those households and not for the needy. The needy only get the left over crumbs.