Category Archives: Udhiyah/Qurbani Related Issues

MAKING CLOWNS OF QUR’BAANI ANIMALS

Question: Some people have dressed their Qur’baani animals and place even hats on their heads. The animals are also painted in an assortment of colours. It is all part of the fun of the Day of Eid, they say. Please comment.

Answer (by Mujlisul Ulama):

Qur’baani is in commemoration of the supreme sacrifice of Hadhrat Nabi Ibraaheem (alayhis salaam) who had laid his son at the altar of sacrifice for the Pleasure of Allah Ta’ala. It was an occasion when the illustrious father drove the knife on the throat of his illustrious son at the command of Allah Ta’ala.

Qur’baani is not a merry-making kaafir practice to be enacted in the manner in which the kuffaar behave during their Christmas festival season. Qur’baani is a serious and a holy practice. Dressing up Qur’baani sheep as if they are clowns to be subjected to mirth and laughter is haraam. It is an absolute mockery of the ahkaam (laws) as well of the spirit and ethos of Qur’baani to make clowns of the sacred Qur’baani animals. These are such animals which will transport us as swift as lightning over the Siraat (Bridge) over Jahannum. About these animals Rasulullah (sallallahu alayhi wasallam) said that every hair on their bodies and every strand of wool on their bodies is the equivalent of a virtuous deed. Rasulullah (sallallahu alayhi wasallam) said that even before the blood reaches the ground, Allah Ta’ala accepts the intention of Taqwa which underlies the sacrifice.

The blood of these animals are being shed in commemoration of the Blood of Hadhrat Ismaaeel (alayhis salaam) who was offered as the supreme sacrifice of love and devotion. How then can a true Mu’min’s Imaan tolerate this satanic mockery – making a mockery and making clowns of the holy Qur’baani animals?

It is not permissible to paint these animals and to transform them into clowns The spirit of Qur’baani demands responsibility, dignity, decorum and devotion permeated by some grief in consonance with the natural sadness which Hadhrat Ibraaheem (alayhis salaam) must have undergone when he was taking his little son for the sacrifice, and at the time when he drove the knife on his son’s throat.

ARE WE ABOLISHING QURBANI??

Our new way of Qurbani….. We choose an organisation, sometimes looking for the cheapest shares, then we go on the internet, press a few buttons or with the click of a mouse or touchscreen, funds are transferred & Qurbani is done . Whew!!! You breathe a sigh of relief & feel like a burdens lifted off you.

Then there are some of us who go directly to the farm, not only because it is cheaper but everything is taken care off, from the slaughtering to the slicing & distributing. Its so simple, yet I have a huge yard, but I can’t handle all the blood & the mess, so the farm suits me perfectly.

Where have the days gone when we did our own Qurbani, when families gathered to witness & perform this virtuous act? Yes, it was hard work & a lot of cleaning up afterwards, but the real essence of Qurbani was felt & kept alive. It was a joyous, barakah-filled occasion for all especially the children who still remembered every detail for years to come.

But sadly in a few years, Muslims won’t know what Qurbani is anymore. Some of our children haven’t even witnessed a sheep/ goat getting slaughtered & when they become adults the sunnah of Nabi Ebrahim (Alayhis Salaam) will just be a faraway myth, found only between the pages of Islamic history.

To them Eid ul Adha will signify transferring funds to some relief agency & things will be taken care of. The whole idea of experiencing the act, to witness & to feel what Nabi Ebraheem (Alayhis Salaam) had to face, will all be lost but the greater loss will surely be all the huge rewards that we will be throwing away.

Hazrat Ali (Radhiyallahu Anhu) reports that Rasulullah (Sallallahu Alayhi Wasallam) said to Hazrat Fatimah (Radhiyallahu Anha):

“O Fatimah! Go & witness your Qurbani, because the first drop of blood that falls from it causes all your sins to be forgiven…”

Please do your part in keeping the Qurbani spirit alive for the future generations to come. Nabi Ebrahim (Alayhis Salaam) was prepared to sacrifice his beloved son. Surely we can sacrifice our homes & comfort for just one day. Yes, definitely donate & give your Qurbani away to the less priveledge but do this only AFTER you have made ur own Qurbani at home.

If you have family & friends that live in flats & don’t have the place, open your hєart & homes & invite them to make their Qurbani at ur place. In a time, when there is so much disunity & enmity this is a great way of fostering brotherhood & gaining extra rewards for doing so. It is mentioned in a Hadith that Nabi Kareem (Sallallahu Alayhi Wasallam) said (to the effect):

“On no other days are good actions more beloved to Allah Ta’ala than on these days (i.e. the first ten days of Zul-Hijjah) …” (Bukhari)

رحم دلی سے ذبح کرو

جاری کردہ: مجلس العلماء

ذی الحجہ کی دسویں، گیارویں اور بارہویں تاریق کو مسلمانوں کے لئے جانوروں کی قربانی کرنا ایک بہت عظیم عبادت ہے- یہ عبادت اس اعلی ترین قربانی کی یادگار ہے جو اللہ تعالی کے حکم پر اسکے نبی ابراہیم الیہ السلام نئ اپنے بیٹے کو اللہ کی رضا کے لئے سر جھکا کر قائم کی- والد (ابراہیم الیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو قربان کرنے کے لئے جو عملی قدم اٹھایا تھا وہ کوئی مزاق یا تفریح کا معاملہ نہیں تھا-

اللہ تعالی نے اس بزگوار والد کو، جو اسکے خلیل (دوست) تھے، حکم دیا کہ وی اپنے محبوب بیٹے کی گردن کو اپنے ہاتھوں سے چھری سے کاٹ دیں- اللہ تعالی کے اس خلیل (دوست) نے آزمائش کے اس موقع پر اعلی درجہ کی کایابی حاسل کی- تو اللہ نے انکی اس قربانی کو قبول کرتے ہوئے انکے محبوب بیٹے کی جگہ ایک دنبہ لٹاکر اسکو انسے ذبح کروادیا- اس اعلی ترین اور عظیم الشان قربانی کے عمل کی یاد کے تور پر ہم مسلمانوں کو ہر سال عید الاضحی کے موقع پر جانوروں کی قربانی کرنی ہوتی ہے-

قربانی کی اس عبادت کو ذہن نشین رکھتے ہوئے کہ یہ کس وجہ سے کی جاتی ہے اور کس کی یادگار کے تور پر عمل میں لائی جاتی ہے   تو پھر اپنے جانوروں کو ذبح کرتے ہوئے یا کس سے ذبح کرواتے ہوئے ہمیں حضرت ابراہیم الیہ السلام کو یاد رکھنا چاہئے کہ کس ترح انہوں نے اپنے بیٹے کے گلے پر چھری پھیری ہوگی- مگر یہ خیال اکثر  و بیشتر ان لوگوں کے ذہنوں سے بھت دور ہوتا ہے جو قربانی کرتے ہیں-

سب سے سنگین برتاو جو قربانی کی بنیادی روح کے نفی کرتے ہیں، وہ قربانی کے جانوروں کے ساتھ کھلم لھلا بد سلوکی ہے- جانوروں کو گھسیٹ کر لایا جاتا ہے، انہیں بھوکا پیاسا اور خوف میں رھکا جاتا ہے- بعض دفعہ انہیں کند چھریوں سے ذبح کیا جاتا ہے اور ایسے لوگوں کے ہاتھ جو طریقہ ذبح کے نااہل ہیں – یہ لوگ بجائے جانور کی گردن کو تیز چھری سے اور سفائی سے کاٹ دینے کے – اسئ آری چلانے کی طرح چھری چلا کر کاٹتے ہیں- یہ فعل کھلا ظلم ہونے کی وجہ سے گناہ کبیرہ ہے جو قربانی کے ثواب کو بہت برباد کر دیتا ہے-

اس کے علاوہ ذبح کئے ہوے جانوروں کی کھال  اتارنے کا یہ روش ان جانوروں کے بے حس و حرکت ہونے سے پھلے ہی شروع کردی جاتی ہے – جانوروں میں زندگی کے آثار ہونے کے باوجود کھال اتارنے والے کھال اتارنا شروع کردیتے ہیں- ذبح کرنے کے یہ تمام طریقے ظلم، غیر اسلامی اور سنگ دل ہونے کی وجہ سے حرام ہیں-

رسولاللہ صلی اللہ علی وسلم نے فرمایا:

بےشک اللہ تعالی نے ہر چیز میں رحم دلی اختیار کرنے کا فرمان جاری کیا ہے- اس لئے جب تم (جنگ میں) قتل کرو تو رحم دلی سے قتل کرو، جب قربانی کرو تو رحم دلی سے قربانی کرو- اپنی چھریوں کو تیز رکھو اور جانوروں کے ساتھ  رحم دل رہو- (مسلم، ابن ماجہ، نسائی)

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

نبی صلی اللہ علی وسلم نے حکم دیا ہے کہ چھری کع تیز کیا جائے اور جانور سے (چھری کو) چبایا جائے- اور یہ بھی فرمایا ہے کہ جب تم سے کوئ ذبح کرے تو پرتی سے کرے- (ابن ماجہ)

یہ حدیث در حقیقت ہمیں آگاہ کرتی ہے کہ جانور اپنے اندر کیسی سمجھ رکھتے ہیں- چھریوں کو دیکھ لینے سے جانوروں کے اندر خوف پیدہ ہو سکتا ہے- اسی لئے جانوروں کی موجودگی میں چھریوں کو ظاہر نہیں کرنا چاہیئے- جانوروں کو غیر ضروری طور سے زمین پر بھی لٹاکر نہیں رکھنا چاہئے، بلکہ انہیں اسی وقت قبلہ رق لٹانا چاہئے جس وقت انہیں ذبح کیا جائے- جب جانور کو ذبح کرنے کے لئے لٹادیں تو پھر انہیں فورا ذبح کردیں، بے ضرورت تاخیر نہ کریں-

ایک حدیث میں رسولاللہ صلی اللہ علی وسلم نے جانوروں کو گھسیٹنے سے منع فرمایا ہے اور یے حکم دیا ہے کہ جانواروں کو گردن سے پکڈا جائے- آپ صلی اللہ علی وسلم  نے اس بات کی بھی ممانعت فرمائی ہے کہ جانور اپنے ذبح ہونے کے انظار میں ہوں اور انہیں بھوکا پیاسا رکھا جائے-

ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخس کو دیھا کہ وہ اپنے جانور کو لٹانے کے بعد  اپنی چھری تیز کر رہا ہے- یہ دیکھ آپ نے اسے ا پنے کوڑے سے مارا اور کہا: کیا تم اس جانور کو کئی موتوں سے مارنا چاہتے ہو-

مطلب یہ ہے کے جانور میں خوف پیدا کرنا اس کی ایک موت میں اور موتوں کا اضافہ کرنا ہے-

جو لوگ جانوروں پر ظلم کرتے ہیں اور قربانی کرنے کے وقت جانوروں کو ستاتے ہیں انہیں رسولاللہ صلی اللہ علی وسلم کی اس حدیث کو یاد رکھنا چاہئے جس میں آپنے فرمایا:

مظلوم کی بدعا سے بجو کیونکہ اس کے (یعنی مظلوم کی بدعا کے) اور اللہ کے درمیان کوئی حائل نہیں ہوتا-  

جس شخس یا جس جانور پر ظلم کیا جائے، بے رحمی کا سلوک کیا جائے، یا اسے ستایا جائے، وہ مظلوم ہوتا ہے- اس لئے ان بے زبان جانوروں کی بددعا سے بھی خبردار رہیں-

یہ جانور بھی اللہ کی ہی مخلوق ہیں- ان کے ساتھ کسی ظلم کا ارتکاب نہ کریں-

جو حضرات قربانی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں وہ مندرجہ ذیل ضروری باتوں کا خیال ضرور رکھیں:

⚫ قربانی کرنے کے لئے چھری بہت تیز لیں-

⚫ اگر قربانی کرنے کے لئے جانور پھلے سے حاصل کر رکھا ہو تو اسے اچی طریقہ سے خوراک مہیا کریں-

⚫ ایک جانور کو دوسرے جانور کے سامنے ذبح نہ کریں

⚫ وہ جانور جو قربانی  کے لئے لایا جائے اسے دوسرے جانور کا خون نضر نہ آئے-

⚫ اگر ذبح کرنے کے بعد جانور میں زندگی کی ذرا سی بھی رمق باقی ہو تو  اس کی کھال نہ اتاریں-

⚫ جب قربانی کے جانور کو ذبح کرنے کے لئے لے جایا کریں تو اس کو ان جانوروں ان جانوروں کے پاس نہ گزارا جائے جن کی کھال اتری جا رہی ہو-

⚫ قربانی کے جانور کو اسی وقت پکڑ کر لانا چاہئے جب ذبح کرنے والا بلکل تیار ہو- عام طور سے قربانی کے جانوروں کو پھلے سے پکڑ کر رکھتے ہیں- اس طرح سے بے چارہ جانور کو دبا کر رکھتے ہیں حالانکہ ذبح کرنے والا اپنے ذبح سے فارغ بھی نہیں ہوا-

⚫ جانور کو قبلہ کی طرف اس طرح لٹا یا جائے کہ وہ اپنی بائیں کروٹ پر رہیں-

⚫ قربانی کے جانوروں کی گردن پر چھری آری کی طرح نہیں چلانی چاہئے، بلکہ تیزی اور صفائی سے کاٹ دیں-

رسولاللہ صلی اللہ علی وسلم نے فرمایا کہ:

جو رحم دلی نہیں دکھاتا اس کو بھی رحم دلی نہیں دکھائی جاتی- 

Laybying Non-Existent ‘Qurbaani’ Spectacled Sheep

QUESTION:
A darul uloom is advertising the sale of sheep fitted with spectacles. The pictures have also been published by the darul uloom. They are offering Qur’baani sheep for sale. The sheep have not yet been purchased by them. However, they have advertised the sale of these sheep-to-be-bought for sale by the laybye system. They have provided their banking details. What is the ruling of the Shariah regarding these sheep for the purposes of Qur’baani?

ANSWER (by Mujlisul Ulama):

The sale of the spectacled ghost sheep is baatil (baseless, haraam, null and void). It is not permissible to purchase objects which are not in the ownership and possession of the seller.

The consequence of faasid and baatil sales is the effect of RIBA. It will be like making qur’baani of stolen animals – animals acquired by theft.

The entity offering non-existent sheep and displaying the haraam pictures of the sheep with the added mockery of spectacles on the sheep, is not a darul uloom. It is DAARUL JAHL (the Abode of Ignorance). It is totally unexpected of a Deeni institution to engage in such brazen and flagrant haraam acts for the sake of monetary objectives.

They are shockingly ignorant and insensitive regarding the great and sombre act of Qur’baani. They are more ignorant of the spirit underlying this momentous sacrifice offered by Hadhrat Ibraaheem, (Alayhis salaam). Their dastardly act of mockery is akin to the type of mockery which the kuffaar make of the Ahkaam and Shiaar of Islam.

IT IS NOT PERMISSIBLE TO PURCHASE THESE GHOST SHEEP. YOUR QUR’BAANI WILL NOT BE VALID.

Reprimanding these types of mockers, the Qur’aan Majeed says:

“Say (to them, O Muhammad!) What! Do you jest with His Laws and His Rasool? Do not now make excuses. Verily, you have committed kufr after your Imaan.”

For their flagrant acts of mockery of Allah’s Ahkaam and for their flagrant portrayal of haraam pictures, they should resort to Taubah and also renew their Imaan, for it is palpably clear that they believe that haraam pictures are halaal.

Even according to the most liberal Deobandi Molvi who has strayed from Siraatul Mustaqeem on several major issues, pictures of animate objects are haraam. Whilst he baselessly claims that digital pictures are permissible, he maintains that when such pictures are printed on paper then it is HARAAM. We do not know whom these miscreants of Daarul Jahl are following. From whence did they gain the idea that the haraam pictures of the sheep are halaal?

“Salaam on those who follow the Hidaayat (of Allah).”