Category Archives: Udhiyah/Qurbani Related Issues

رحم دلی سے ذبح کرو

جاری کردہ: مجلس العلماء

ذی الحجہ کی دسویں، گیارویں اور بارہویں تاریق کو مسلمانوں کے لئے جانوروں کی قربانی کرنا ایک بہت عظیم عبادت ہے- یہ عبادت اس اعلی ترین قربانی کی یادگار ہے جو اللہ تعالی کے حکم پر اسکے نبی ابراہیم الیہ السلام نئ اپنے بیٹے کو اللہ کی رضا کے لئے سر جھکا کر قائم کی- والد (ابراہیم الیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو قربان کرنے کے لئے جو عملی قدم اٹھایا تھا وہ کوئی مزاق یا تفریح کا معاملہ نہیں تھا-

اللہ تعالی نے اس بزگوار والد کو، جو اسکے خلیل (دوست) تھے، حکم دیا کہ وی اپنے محبوب بیٹے کی گردن کو اپنے ہاتھوں سے چھری سے کاٹ دیں- اللہ تعالی کے اس خلیل (دوست) نے آزمائش کے اس موقع پر اعلی درجہ کی کایابی حاسل کی- تو اللہ نے انکی اس قربانی کو قبول کرتے ہوئے انکے محبوب بیٹے کی جگہ ایک دنبہ لٹاکر اسکو انسے ذبح کروادیا- اس اعلی ترین اور عظیم الشان قربانی کے عمل کی یاد کے تور پر ہم مسلمانوں کو ہر سال عید الاضحی کے موقع پر جانوروں کی قربانی کرنی ہوتی ہے-

قربانی کی اس عبادت کو ذہن نشین رکھتے ہوئے کہ یہ کس وجہ سے کی جاتی ہے اور کس کی یادگار کے تور پر عمل میں لائی جاتی ہے   تو پھر اپنے جانوروں کو ذبح کرتے ہوئے یا کس سے ذبح کرواتے ہوئے ہمیں حضرت ابراہیم الیہ السلام کو یاد رکھنا چاہئے کہ کس ترح انہوں نے اپنے بیٹے کے گلے پر چھری پھیری ہوگی- مگر یہ خیال اکثر  و بیشتر ان لوگوں کے ذہنوں سے بھت دور ہوتا ہے جو قربانی کرتے ہیں-

سب سے سنگین برتاو جو قربانی کی بنیادی روح کے نفی کرتے ہیں، وہ قربانی کے جانوروں کے ساتھ کھلم لھلا بد سلوکی ہے- جانوروں کو گھسیٹ کر لایا جاتا ہے، انہیں بھوکا پیاسا اور خوف میں رھکا جاتا ہے- بعض دفعہ انہیں کند چھریوں سے ذبح کیا جاتا ہے اور ایسے لوگوں کے ہاتھ جو طریقہ ذبح کے نااہل ہیں – یہ لوگ بجائے جانور کی گردن کو تیز چھری سے اور سفائی سے کاٹ دینے کے – اسئ آری چلانے کی طرح چھری چلا کر کاٹتے ہیں- یہ فعل کھلا ظلم ہونے کی وجہ سے گناہ کبیرہ ہے جو قربانی کے ثواب کو بہت برباد کر دیتا ہے-

اس کے علاوہ ذبح کئے ہوے جانوروں کی کھال  اتارنے کا یہ روش ان جانوروں کے بے حس و حرکت ہونے سے پھلے ہی شروع کردی جاتی ہے – جانوروں میں زندگی کے آثار ہونے کے باوجود کھال اتارنے والے کھال اتارنا شروع کردیتے ہیں- ذبح کرنے کے یہ تمام طریقے ظلم، غیر اسلامی اور سنگ دل ہونے کی وجہ سے حرام ہیں-

رسولاللہ صلی اللہ علی وسلم نے فرمایا:

بےشک اللہ تعالی نے ہر چیز میں رحم دلی اختیار کرنے کا فرمان جاری کیا ہے- اس لئے جب تم (جنگ میں) قتل کرو تو رحم دلی سے قتل کرو، جب قربانی کرو تو رحم دلی سے قربانی کرو- اپنی چھریوں کو تیز رکھو اور جانوروں کے ساتھ  رحم دل رہو- (مسلم، ابن ماجہ، نسائی)

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

نبی صلی اللہ علی وسلم نے حکم دیا ہے کہ چھری کع تیز کیا جائے اور جانور سے (چھری کو) چبایا جائے- اور یہ بھی فرمایا ہے کہ جب تم سے کوئ ذبح کرے تو پرتی سے کرے- (ابن ماجہ)

یہ حدیث در حقیقت ہمیں آگاہ کرتی ہے کہ جانور اپنے اندر کیسی سمجھ رکھتے ہیں- چھریوں کو دیکھ لینے سے جانوروں کے اندر خوف پیدہ ہو سکتا ہے- اسی لئے جانوروں کی موجودگی میں چھریوں کو ظاہر نہیں کرنا چاہیئے- جانوروں کو غیر ضروری طور سے زمین پر بھی لٹاکر نہیں رکھنا چاہئے، بلکہ انہیں اسی وقت قبلہ رق لٹانا چاہئے جس وقت انہیں ذبح کیا جائے- جب جانور کو ذبح کرنے کے لئے لٹادیں تو پھر انہیں فورا ذبح کردیں، بے ضرورت تاخیر نہ کریں-

ایک حدیث میں رسولاللہ صلی اللہ علی وسلم نے جانوروں کو گھسیٹنے سے منع فرمایا ہے اور یے حکم دیا ہے کہ جانواروں کو گردن سے پکڈا جائے- آپ صلی اللہ علی وسلم  نے اس بات کی بھی ممانعت فرمائی ہے کہ جانور اپنے ذبح ہونے کے انظار میں ہوں اور انہیں بھوکا پیاسا رکھا جائے-

ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخس کو دیھا کہ وہ اپنے جانور کو لٹانے کے بعد  اپنی چھری تیز کر رہا ہے- یہ دیکھ آپ نے اسے ا پنے کوڑے سے مارا اور کہا: کیا تم اس جانور کو کئی موتوں سے مارنا چاہتے ہو-

مطلب یہ ہے کے جانور میں خوف پیدا کرنا اس کی ایک موت میں اور موتوں کا اضافہ کرنا ہے-

جو لوگ جانوروں پر ظلم کرتے ہیں اور قربانی کرنے کے وقت جانوروں کو ستاتے ہیں انہیں رسولاللہ صلی اللہ علی وسلم کی اس حدیث کو یاد رکھنا چاہئے جس میں آپنے فرمایا:

مظلوم کی بدعا سے بجو کیونکہ اس کے (یعنی مظلوم کی بدعا کے) اور اللہ کے درمیان کوئی حائل نہیں ہوتا-  

جس شخس یا جس جانور پر ظلم کیا جائے، بے رحمی کا سلوک کیا جائے، یا اسے ستایا جائے، وہ مظلوم ہوتا ہے- اس لئے ان بے زبان جانوروں کی بددعا سے بھی خبردار رہیں-

یہ جانور بھی اللہ کی ہی مخلوق ہیں- ان کے ساتھ کسی ظلم کا ارتکاب نہ کریں-

جو حضرات قربانی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں وہ مندرجہ ذیل ضروری باتوں کا خیال ضرور رکھیں:

⚫ قربانی کرنے کے لئے چھری بہت تیز لیں-

⚫ اگر قربانی کرنے کے لئے جانور پھلے سے حاصل کر رکھا ہو تو اسے اچی طریقہ سے خوراک مہیا کریں-

⚫ ایک جانور کو دوسرے جانور کے سامنے ذبح نہ کریں

⚫ وہ جانور جو قربانی  کے لئے لایا جائے اسے دوسرے جانور کا خون نضر نہ آئے-

⚫ اگر ذبح کرنے کے بعد جانور میں زندگی کی ذرا سی بھی رمق باقی ہو تو  اس کی کھال نہ اتاریں-

⚫ جب قربانی کے جانور کو ذبح کرنے کے لئے لے جایا کریں تو اس کو ان جانوروں ان جانوروں کے پاس نہ گزارا جائے جن کی کھال اتری جا رہی ہو-

⚫ قربانی کے جانور کو اسی وقت پکڑ کر لانا چاہئے جب ذبح کرنے والا بلکل تیار ہو- عام طور سے قربانی کے جانوروں کو پھلے سے پکڑ کر رکھتے ہیں- اس طرح سے بے چارہ جانور کو دبا کر رکھتے ہیں حالانکہ ذبح کرنے والا اپنے ذبح سے فارغ بھی نہیں ہوا-

⚫ جانور کو قبلہ کی طرف اس طرح لٹا یا جائے کہ وہ اپنی بائیں کروٹ پر رہیں-

⚫ قربانی کے جانوروں کی گردن پر چھری آری کی طرح نہیں چلانی چاہئے، بلکہ تیزی اور صفائی سے کاٹ دیں-

رسولاللہ صلی اللہ علی وسلم نے فرمایا کہ:

جو رحم دلی نہیں دکھاتا اس کو بھی رحم دلی نہیں دکھائی جاتی- 

Laybying Non-Existent ‘Qurbaani’ Spectacled Sheep

QUESTION:
A darul uloom is advertising the sale of sheep fitted with spectacles. The pictures have also been published by the darul uloom. They are offering Qur’baani sheep for sale. The sheep have not yet been purchased by them. However, they have advertised the sale of these sheep-to-be-bought for sale by the laybye system. They have provided their banking details. What is the ruling of the Shariah regarding these sheep for the purposes of Qur’baani?

ANSWER (by Mujlisul Ulama):

The sale of the spectacled ghost sheep is baatil (baseless, haraam, null and void). It is not permissible to purchase objects which are not in the ownership and possession of the seller.

The consequence of faasid and baatil sales is the effect of RIBA. It will be like making qur’baani of stolen animals – animals acquired by theft.

The entity offering non-existent sheep and displaying the haraam pictures of the sheep with the added mockery of spectacles on the sheep, is not a darul uloom. It is DAARUL JAHL (the Abode of Ignorance). It is totally unexpected of a Deeni institution to engage in such brazen and flagrant haraam acts for the sake of monetary objectives.

They are shockingly ignorant and insensitive regarding the great and sombre act of Qur’baani. They are more ignorant of the spirit underlying this momentous sacrifice offered by Hadhrat Ibraaheem, (Alayhis salaam). Their dastardly act of mockery is akin to the type of mockery which the kuffaar make of the Ahkaam and Shiaar of Islam.

IT IS NOT PERMISSIBLE TO PURCHASE THESE GHOST SHEEP. YOUR QUR’BAANI WILL NOT BE VALID.

Reprimanding these types of mockers, the Qur’aan Majeed says:

“Say (to them, O Muhammad!) What! Do you jest with His Laws and His Rasool? Do not now make excuses. Verily, you have committed kufr after your Imaan.”

For their flagrant acts of mockery of Allah’s Ahkaam and for their flagrant portrayal of haraam pictures, they should resort to Taubah and also renew their Imaan, for it is palpably clear that they believe that haraam pictures are halaal.

Even according to the most liberal Deobandi Molvi who has strayed from Siraatul Mustaqeem on several major issues, pictures of animate objects are haraam. Whilst he baselessly claims that digital pictures are permissible, he maintains that when such pictures are printed on paper then it is HARAAM. We do not know whom these miscreants of Daarul Jahl are following. From whence did they gain the idea that the haraam pictures of the sheep are halaal?

“Salaam on those who follow the Hidaayat (of Allah).”