Category Archives: Urdu Articles

اورنگ زیب عالمگیر کون تھے؟

✏ فضیل احمد ناصری

شاہ جہاں کے فرزندوں میں ایک نمایاں نام عالم گیرؒ کا ہے۔ یہ اپنے خاندانی مغلیہ سلطنت کے سب سے بہتر بادشاہ تھے۔ دین دار اور علم دوست۔ تقویٰ اور طہارت میں مثالی۔ اصل نام ابوالمظفر محی الدین تھا۔ لقب اورنگ زیب۔ مگر نام سے زیادہ لقب سے شہرت پائی۔ آج سے چار سو سال قبل 1618 میں پیدا ہوئے اور 1707 میں وفات پائی۔ ولادت گجرات کے داہود میں ہے اور انتقال مہاراشٹر کے احمد نگر میں۔ تدفین اورنگ آباد کے قریب خلد آباد میں ہوئی ۔

مغلیہ سلطنت کا بانی ظہیر الدین بابر تھا۔ اس کا بیٹا تھا نصیرالدین ہمایوں۔ اس کے بیٹے کا نام جلال الدین اکبر تھا۔ نور الدین جہاں گیر اسی کا فرزند تھا۔ جہاں گیر کا بیٹا شاہ جہاں تھا، اورنگ زیب عالمگیر اسی کے بیٹے تھے۔

اورنگ زیب رحمہ اللہ نے اس ملک پر پچاس برس حکومت کی۔ اس وقت کا ہندوستان آج کا ہندوستان نہ تھا۔ پاکستان اسی کا حصہ تھا اور بنگلہ دیش بھی۔ اورنگ زیب نے نظامِ سلطنت جس چابک دستی سے چلایا وہ اپنی مثال آپ ہے۔ ان کی بہت سی یادگاریں آج بھی زندہ ہیں۔

وہ مدارس کے بڑے شوقین تھے۔ ان کے عہد میں بے شمار تعلیم گاہیں کھلیں۔ دہلی کا جامعہ رحیمیہ انہیں کے دور کی یادگار ہے۔ ان کے بڑے کارناموں میں سے ایک *فتاویٰ عالمگیری* بھی ہے۔ فقہ و فتاویٰ پر مشتمل یہ کتاب انہیں کی سرپرستی میں تیار ہوئی۔ اس کی ترتیب کے لیے ملک کے طول و عرض سے پچاس سے زیادہ جید علما نے اپنی خدمات پیش کی ہیں۔ اورنگ زیب عالمگیر نے اس کا ہر ہر جز باقاعدہ سنا ہے اور ضروری پڑا تو اس میں ترمیم بھی کی ہے۔ یہ کتاب جہاں ان کی محبتِ دینی کا منہ بولتا ثبوت ہے، وہیں ان کی علمی شان و شوکت اور فقیہانہ بصیرت کی بھی غمازی کرتی ہے۔

وہ قرآنِ کریم کے اچھے حافظ بھی تھے۔ انہوں نے تحفیظ القرآن کی سعادت بچپن میں نہیں، ادھیڑ عمر میں حاصل کی۔ وہ بھی اس وقت، جب ان کی زندگی کی 47 ویں بہار چل رہی تھی ۔اس کے ساتھ ہی وہ بہترین خوش نویس بھی تھے اور یہی خوش نویسی ان کا ذریعۂ معاش بھی تھی۔ اپنے ہاتھ سے قرآن لکھتے اور اس کے ہدیے سے گزر اوقات کرتے۔ دارالعلوم دیوبند میں ان کے ہاتھ کے لکھے قرآن کے چند پارے آج بھی موجود ہیں۔ قرآن کے ساتھ ایسا شغف آپ نے کسی بادشاہ میں دیکھا ہے؟ گزر اوقات کے لیے ایک دوسرا مشغلہ ٹوپی کی بنائی بھی تھی۔

اورنگ زیبؒ نے حکومت سے کبھی تنخواہ نہ لی۔ سلطانِ وقت ہو کر بھی انتہائی فقیرانہ اور سادہ زندگی گزاری۔ کھانا پینا بھی انتہائی سادہ ہوتا۔ اس سلسلے کا یہ واقعہ ضرور پڑھنا چاہیے:

عالم گیرؒ کے ذاتی مطبخ کا باورچی ٹکتا نہیں تھا۔ چند دن کے بعد اپنا تبادلہ لنگر خانے میں کرا لیتا تھا۔ ایک من چلا باورچی تھا، اس نے سوچا: کیا بات ہے کوئی باورچی بادشاہ کے یہاں ٹکتا نہیں؟ میں دیکھوں گا۔ اس نے درخواست دی: حضور! میں آپ کا کھانا پکانا چاہتا ہوں۔ عالم گیر نے فرمایا: ہمارے یہاں کوئی باورچی ٹکتا نہیں، تو بھی چند دن میں بھاگ جائے گا۔ اس نے وعدہ کیا کہ میں ہرگز نہیں جاؤں گا۔ چناں چہ بادشاہ نے اس کو رکھ لیا۔ اس نے دیکھا کہ نپا تلا کھانا پکتا ہے۔ آدھا گھر میں چلا جاتا ہے اور آدھا بادشاہ کے سامنے۔ دیگچی میں کچھ نہیں بچتا۔ جب روز کا یہ معمول دیکھا تو تنگ آ گیا، مگر وہ یہ تو نہیں کہہ سکتا تھا کہ میرا تبادلہ لنگر خانے میں کر دیا جائے۔ اس نے سوچا کہ بادشاہ کو پریشان کرو تاکہ وہ ناراض ہو کر بھگا دے۔ بادشاہ کے یہاں شام کو ایک سیر کھچڑی پکتی تھی۔ آدھی گھر میں جاتی تھی اور آدھی بادشاہ کے سامنے۔ ایک دن اس نے کھچڑی میں نمک نہیں ڈالا۔ بادشاہ نے جب لقمہ لیا تو باورچی کی طرف دیکھا، مگر کچھ نہیں کہا۔ نمک بھی نہیں مانگا۔ پھیکی کھچڑی کھا لی۔ باورچی نے سوچا: بادشاہ کو پھیکی کھچڑی اچھی لگتی ہے۔ اور جو پھیکا کھا سکتا ہے وہ تیز نمک والا نہیں کھا سکتا۔ چناں چہ اگلے دن ڈبل نمک ڈال دیا۔ بادشاہ نے ایک لقمہ کھا کر پھر باورچی کو دیکھا اور کچھ نہیں کہا۔ کھچڑی کھا لی ۔ جب باورچی برتن اٹھانے آیا تو اس سے کہا: کل ڈیڑھ سیر کھچڑی پکانا! اور جتنی گھر میں جاتی ہے اتنی گھر میں بھیجنا، باقی میرے پاس لانا۔ بادشاہ نے حسبِ معمول آدھی کھچڑی کھائی اور آدھی بچ گئی۔ جب باورچی برتن اٹھانے آیا تو اس سے کہا: یہ ہمارا بچا ہوا تبرک ہے، اس کے نو حصے کرو اور ہمارے نو رتنوں (وزیروں) کو ہدیہ پہونچاؤ! باورچی نے اس تبرک کے نو حصے کیے اور خوب سجائے۔ وزیروں کو جب معلوم ہوا کہ آج بادشاہ کا بچا ہوا کھانا ہدیہ آ رہا ہے تو ہر وزیر نے آگے بڑھ کر اس کا استقبال کیا اور باورچی کو ایک ایک لاکھ روپیہ ہدیہ دیا۔ جب باورچی فارغ ہو گیا تو بادشاہ نے پوچھا: ارے ہمارے وزیروں نے تجھے کچھ دیا بھی؟ اس نے کہا: حضور! اتنا دیا ہے کہ میری سات پشتوں تک کے لیے کافی ہے۔ عالم گیرؒ نے فرمایا: پھر نمک ٹھیک ڈالا کرو۔ (تحفۃ الالمعی، ج 5،ص 192،93)

ملا موہن بہاری کا یہ تربیت یافتہ، ملا جیون کا یہ شاگرد، یہ مردِ قلن

ﻓﻠﺴﻔﮧ ﺍﻭﺭ ﻋﻠﻢ ﮐﻼﻡ ‏

ﮨﻢ ﺟﺐ ﻓﻠﺴﻔﮧ ﭘﮍﮬﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﯾﮧ ﺣﮑﻤﺖ ﺍﻭﺭ ﺩﺍﻧﺶ ﻣﻨﺪﯼ ﺳﮯ ﮨﮯ ﻓﻠﺴﻔﯽ ﺑﮍﺍ ﺣﮑﯿﻢ ﻭ ﺩﺍﻧﺶ ﻣﻨﺪ ﻣﺪﺑﺮ ﻣﻔﮑﺮ ﺁﺩﻣﯽ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺑﻨﺪﮮ ﻧﮯ ﺍﺏ ﺗﮏ ﺟﺘﻨﺎ ﻗﺪﯾﻢ ﻓﻠﺴﻔﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻋﻘﻞ ﮐﺎ ﺩﺷﻤﻦ ﮐﻮﺉ ﻧﻈﺮ ﻧﮧ ﺁﯾﺎ ﺍﻥ ﻓﻠﺴﻔﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﯼ ﺑﺪﻗﺴﻤﺘﯽ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺳﺎﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺍﻭﮨﺎﻡ ﺍﻭﺭ ﻭﺳﻮﺳﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮔﺰﺍﺭﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻓﻠﺴﻔﯿﺎﻧﮧ ﻣﻮﺷﮕﺎﻓﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﮐﻮﺉ ﭨﮭﻮﺱ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﺍﻥ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﻧﮩﯿﮟ ﯾﮧ ﻟﻮﮒ ﮐﺘﻨﮯ ﻋﻘﻞ ﻣﻨﺪ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻟﮕﺎﺋﯿﮟ ﮐﮧ ﺑﻌﺾ ﻓﻠﺴﻔﯿﻮﮞ ﻧﮯ ﺭﻧﮕﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﻟﯿﻞ ﯾﮧ ﺩﯼ ﮐﮧ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﺑﺮﻑ ﮨﻤﯿﮟ ﺳﻔﯿﺪ ﻧﻈﺮ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺭﻧﮓ ﺳﻔﯿﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﻭﮦ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺫﺭﺍﺕ ﻣﺎﻟﯿﮑﯿﻮﻟﺰ ﺍﺗﻨﮯ ﻣﺼﻔﯽ ﮨﻮﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﮨﻤﯿﮟ ﺳﻔﯿﺪ ﻧﻈﺮ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ ﭘﺲ ﮨﺮ ﺭﻧﮓ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﺎ ﺩﮬﻮﮐﺎ ﮨﮯ۔۔۔۔ ﯾﺎﺧﺪﺍﯾﺎ !!! ﺍﺭﺳﻄﻮ ﺟﯿﺴﺎ ﻓﻠﺴﻔﯽ ﺳﯿﺎﮦ ﺭﻧﮓ ﮐﻮ ﺗﺴﻠﯿﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﻟﯿﻞ ﯾﮧ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺳﯿﺎﮦ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺑﭩﮭﺎﺩﻭ ﺍﻭﺭ ﮐﻤﺮﮮ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﻣﻮﻡ ﺑﺘﯽ ﻟﯿﮑﺮ ﮔﺰﺭﮮ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﻣﻮﻡ ﺑﺘﯽ ﻧﻈﺮ ﺁﺋﮯ ﮔﯽ ﺍﮔﺮ ﺑﯿﭻ ﻣﯿﮟ ﺳﯿﺎﮦ ﺭﻧﮓ ﺣﺎﺋﻞ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﻮ ﯾﮧ ﻣﻮﻡ ﺑﺘﯽ ﻧﻈﺮ ﻧﮧ ﺁﺗﯽ ۔۔۔۔ ﺷﺎﺑﺎﺵ ۔۔ ﺷﺎﺑﺎﺵ۔۔۔۔ ﺍﯾﮏ ﺧﻮﺩ ﺳﺎﺧﺘﮧ ﻗﺎﻋﺪﮦ ﻧﮑﺎﻻ ﮐﮧ ﺍﻟﻮﺍﺣﺪ ﻻ ﯾﺼﺪﺭ ﻣﻨﮧ ﺁﻻ ﺍﻟﻮﺍﺣﺪ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﮯ ﻋﻘﻞ ﺍﻭﻝ ﮐﺎ ﺻﺪﻭﺭ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﻓﺎﺭﻍ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﯾﻮﮞ ﻋﻘﻮﻝ ﻋﺸﺮﮦ ﮐﮯ ﻗﺎﺋﻞ ﮨﻮﮔﺌﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺣﻤﺎﻗﺖ ﮐﺎ ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻟﮕﺎﺋﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻋﻘﻞ ﺍﻭﻝ ﮐﯿﺴﺎﺗﮫ ﺗﯿﻦ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﯽ ﺗﺴﻠﯿﻢ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺟﺴﻢ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﻧﻔﺲ ﻧﺎﻃﻘﮧ ﺗﯿﺴﺮﺍ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻋﻠﻢ ﺍﺏ ﺍﻥ ﮔﺪﮬﻮﮞ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﻮ ﮐﮧ ﺍﻟﻮﺍﺣﺪ ﻻﯾﺼﺪﺭ ﻣﻨﮧ ﺁﻻ ﺍﻟﻮﺍﺣﺪ ﮐﺎ ﻗﺎﻋﺪﮦ ﮐﮩﺎﮞ ﮔﯿﺎ ؟ ﺟﺴﻢ ﺗﻌﻠﯿﻤﯽ ﺍﺑﻌﺎﺩ ﺛﻼﺛﮧ ﮨﯿﻮﻟﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻧﻮﻋﯿﮧ ﺧﺮﻕ ﻭ ﺍﻟﺘﯿﺎﻡ ﻗﺪﻡ ﺫﺍﺗﯽ ﻭ ﻧﻮﻋﯽ ﺣﺎﺩﺙ ﺫﺍﺗﯽ ﻭ ﻧﻮﻋﯽ ﺟﯿﺴﮯ ﻣﺎﯾﮧ ﻧﺎﺯ ﺑﮑﻮﺍﺳﯽ ﻣﺴﺎﺋﻞ ﮐﮯ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﮐﮩﻨﮯ ۔۔۔۔ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻣﺘﺎﺧﺮﯾﻦ ﻣﺘﮑﻠﻤﯿﻦ ﻧﮯ ﻣﺤﺾ ﺩﻝ ﭘﺸﻮﺭﯾﻮﮞ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻓﻠﺴﻔﮯ ﮐﻮ ﮐﺘﺐ ﮐﻼﻡ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮐﯿﺎ ﻭﺭﻧﮧ ﻣﺘﻘﺪﻣﯿﻦ ﮐﯽ ﮐﺘﺐ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺧﺎﻟﯽ ﮨﯿﮟ ﺩﻟﭙﺸﻮﺭﯼ ﮐﺎ ﻟﻔﻆ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﻟﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺑﻌﺾ ﻣﺘﮑﻠﻤﯿﻦ ﻧﮯ ﺳﻮﻓﺴﻄﺎﺋﯿﮧ ﺟﯿﺴﯽ ﺧﻼﺋﯽ ﻣﺨﻠﻮﻕ ﮐﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺗﯿﻦ ﺧﯿﺎﻟﯽ ﻓﺮﻗﻮﮞ ﻋﻨﺎﺩﯾﮧ ﻋﻨﺪﯾﮧ ﻭ ﻻﺍﺩﺭﯼ ﮐﯿﺴﺎﺗﮫ ﺫﮐﺮ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻏﻀﺐ ﺧﺪﺍ ﮐﺎ ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﻮ ﻣﻮﻗﻒ ﮐﻮ ﻣﺪﻟﻞ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮﮐﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﺎ ﺍﺏ ﺍﺳﮯ ﻣﺤﺾ ﺩﻟﭙﺸﻮﺭﯼ ﺍﻭﺭ ﺗﺸﺤﯿﺬ ﺍﻻﺫﮨﺎﻥ ﻧﮧ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ؟

ﺍﻧﮩﯽ ﺧﺮﺍﻓﺎﺕ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻓﻠﺴﻔﮧ ﻣﯿﮟ ﺩﺳﺘﺮﺱ ﻧﮧ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺟﻠﯿﻞ ﺍﻟﻘﺪﺭ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﻧﮯ ﻋﻠﻢ ﮐﻼﻡ ﮐﮯ ﺣﺮﺍﻡ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﻓﺘﻮﯼ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﺍﻥ ﺍﻭﮨﺎﻡ ﮐﻮ ﭘﮍﮪ ﮐﺮ ﺁﺩﻣﯽ ﻣﺰﯾﺪ ﻭﮨﻤﯽ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔۔۔۔ ﺍﻭﺭ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﺑﮭﯽ ﯾﮩﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﻓﻠﺴﻔﮧ ﭘﺮ ﻋﺒﻮﺭ ﻧﮧ ﮨﻮ ﻋﻠﻢ ﮐﻼﻡ ﺍﯾﮏ ﺧﻄﺮﻧﺎﮎ ﻋﻠﻢ ﮨﮯ۔۔۔

ﺍﻟﺒﺘﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﻣﺸﻮﺭﮦ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻋﻠﻢ ﮐﻼﻡ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻓﻠﺴﻔﮧ ﭘﮍﮬﯿﮟ ﺟﺐ ﻓﻠﺴﻔﮧ ﭘﮍﮪ ﮐﺮ ﺩﻝ ﻭ ﺩﻣﺎﻍ ﮐﻮ ﺍﻭﮨﺎﻡ ﺟﮑﮍ ﻟﮯ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﻗﺮﺁﻥ ﻭ ﺣﺪﯾﺚ ﮐﻮ ﮐﮭﻮﻟﺘﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﮍﮬﺘﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﻟﻔﻆ ﮐﯽ ﺣﻘﺎﻧﯿﺖ ﮐﺎ ﺣﻖ ﺍﻟﯿﻘﯿﻦ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﮔﺎ ۔۔۔۔

سفر حج کے لیے شرعی شرائط

ماخوذ از مکتوب کتاب ‘ٹورزم اينڈ اسلام’ مجلس العلماء جنوبی افریقہ

ہر مسلمان جانتا ہے کہ حج اسلام کے پانچ اراکین میں سے ایک اہم رکن ہے۔  یہ ہر اس مسلمان پر زندگی میں ایک مرتبہ فرض ہے جو مکہ مکرمہ شریعت کے طے شدہ کچھ شرائط کے ساتھ پہنچ سکے۔ اس قدر اہم ومطلوب بنیادی رکن عبادت ہو نے کے باوجود حج کا سفر طے کرنا جائز نہ ہوگا اگر اس میں کوئی گناہ کا ارتکاب ہو, مثلا نماز چھوٹ جائے یا اس سے غفلت ہو یا کوئی ناجائز فعل میں مبتلا ہونا پڑے۔ اس معاملہ میں فقہاء کا قول یہ ہے،

“المدخل میں یہ ارشاد ہے : ہمارے علماء کہتے ہیں :جب مکلف شخص جانتا ہے کہ اگر وہ حج کے سفر پر چلا جائے گا تو اس کی ایک بھی نماز چھوٹ جائے گی تو یقینا حج ساقط ہوگا۔ ایک اور جگہ ارشاد ہے : حج کا ادا کرنا  اس طرح پر کہ اس میں  نماز کو اس کے اپنے وقت پر پڑھ نہ سکنے ( قضاء کرنے) یا اس جیسا (کوئی اور فعل یعنی گناہ) کرنے کے بغیر  ممکن ہی نہ ہو تو پھر حج ساقط ہو گا۔” (یعنی نماز کو قضا کئے بغیر اور اُس طرح کے گناہ سے بچے بغیر سفرِ حج ممکن نہ ہو تو ایسے حالات میں حج کا فریضہ اس کے ذمہ نہیں رہتا، وہ ان حالات میں حج نہ کرے۔)

البرزلی نے المازری سے نقل کرتے ہوئے فرمایا,

“حج کے سفر کے دوران اگر وہ (مسافر) نماز سے اس قدر غفلت برتے کہ نماز کا وقت چلا جائے یا کہ اسے متبادل طریقہ پر ادا کرے (یعنی بیٹھ کر ادا کرے) تو پھر یقینا یہ سفر جائز نہیں ہے اور اس سے حج کی فرضیت ساقط ہو گی۔”

التادلی نے المازری سے نقل کرتے ہوئے فرمایا,

“دراصل استطاعت (حج کرنے کی استعداد کے شرائط میں)  یہ ہے کہ بیت (کعبہ شریف) بغیر کسی مشقت کے اور اپنی جان و مال کی حفاظت کے ساتھ پہنچا جائے اور اس سفر میں دیگر  فرائض کو ادا کرنے کی بھی  استعداد ہو, غلو سے بچا جائے اور گناہوں کو چھوڑ دیا جائے۔”

ابن منیر نے اپنے منسک میں تذکرہ کیا ہے،

“جان لو کہ ایک نماز کو بھی ختم کرنا (یعنی وقت پر ادا نہ کرنا) بہت بڑا گناہ ہے، حج کی فضیلت اس گناہ کی تلافی نہیں کر سکتی- در حقیقت، یہ (نماز) اس سے افضل ہے، (یعنی حج سے افضل ہے) کیونکہ نماز کی زیادہ اہمیت ہے۔ لہذا اگر سمندر یا زمین پر مسافروں کو چکر آنے کا معمول ہو اگر چہ ایک نماز کے لئے بھی (یعنی اس بیماری کی وجہ سے وہ ایک نماز سے بھی محروم ہوجائے گا) تو اس کے لئے حج حرام ہے۔ (یعنی اگر وہ نماز کو ضائع کر کے ہی مکہ مکرمہ پہنچ سکتا ہے تو اس کے لئے یہ سفر جائز نہیں)……

“جو شخص یہ جانتا ہے کہ اگر وہ کسی سمندری سفر پر (یہاں تک کہ ہوائی یا زمینی سفر پر) جاتا ہے تو وہ سر چکرانے یا کسی بھی دوسری بیماری سے متاثر ہوگا جو اسے ذہنی طور پر نقصان پہنچائے گی یا بے ہوشی کا باعث بنائے گی، جس کی وجہ سے وہ نماز سے غفلت کرے گا یا مکمل طور پر نماز ترک کردے گا۔ پھر اس میں (فقہا کے درمیان) کوئی اختلاف نہیں ہے کہ اس کے لئے سفر(حج) کرنا جائز نہیں ہے۔ اس نوعیت کے فرد کا سفر صرف نفسانی خواہش ہے۔ در حقیقت، یہ شیطان کا ایک وسوسہ ہے۔

البرزلی نے کہا – “ہمارے شیخ ابو محمد الشبیبي نے طالب سے روایت کیا اور انہوں نے کہا:

“مشرق اور مغرب کے شیاطین ایک جھگڑے میں الجھ گئے اس بات میں کہ ان میں سے کون سب سے بڑا دھوکہ باز (لوگوں کو گمراہ کرنے والے) ہے..؟

مشرق کے شیاطین نے مغرب کے شیاطین سے کہا :‘ہم دھوکا دینے مین تم سے آگے ہیں کیونکہ ہم ایک شخص کو گناہ کرنے کے لئے ابھارتے ہیں اور انبیاء کے مقامات (مقدس مقامات میں) میں ممنوعات کا مرتکب کراتے ہیں۔’

مغرب کے شیاطین نے جواب دیا : ‘ہم (دھوکہ دہی کے فن میں) اس سے آکے ہیں۔ ہمیں ایک شخص اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ فرض نماز و زکوٰۃ ادا کرتے اور دیگر نیک اعمال (مشقت کے ساتھ) کرتے ہوئے ملتا ہے۔ وہ آرام کی حالت میں ہوتا ہے اور اس کے فرشتے بھی اس کے ساتھ ہوتے ہیں۔

اس کے بعد (حج/عمرہ) ایجنٹ (ٹریول ایجنسیاں جیسے سہوق، خدمت العوام) لوگوں کو حجاز کی سرزمین کا (حج اور عمرہ کے لئے) سفر کرنے کے لئے آمادہ کرتا ہے تو ہم (مغرب کے شیاطین) اس میں دلچسپی لے اس میں کود پڑتے ہیں اور ایک ایک کو باہر نکل آنے پر آمادہ کرتے ہیں (یعنی سفر شروع کرنے پر)، ہم انہیں گُدگُدی کرتے ہیں (شیطان کے جال میں پھانسنے کے لئے مثالی محاورہ)، یہاں تک کہ وہ لوگ (عمرہ جانے کے لئے) تڑپ اٹھتے ہیں اور وہ سفر کے لئے نکل پڑتے ہیں، سفر کے لئے جس دن سے وہ (اپنا گھر) چھوڑتے ہیں، اس دن سے ہم انہیں فرائض کو نظرانداز کرنے اور (شریعت کی) ممانعت کی خلاف ورزی پر آمادہ کرتے ہیں، ان کی روانگی کے دن سے لے کر اپنے اہل خانہ میں واپسی کے دن تک، اس طرح وہ مشرق اور مغرب میں اپنے دین و ایمان اور اپنی جان و مال کے لحاظ سے سب سے زیادہ نقصان میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔

تب مشرق کے شیاطین نے فریب کاری کے فن میں مغرب کے شیاطین کی فوقیت کو تسلیم کر لیتے ہیں(کہ حج اور عمرہ کے مقدس ناموں سے ابھار کر  تم ان کو فرائض سے غافل اور ممنوعات کا مرتکب بنا دیتے ہو ،یہ تمہاری بڑی جسارت جرأت ہے، واقعی تم ہم سے بھی زیادہ دھوکہ باز اور گمراہ گروہ ہو)۔

البرزلی نے کہا : “بیشک میں نے اپنے حج کے سفر میں اس کا مشاہدہ کیا ہے۔ ہم اللہ سے حفاظت مانگتے ہیں۔ “(مواہب الجلیل)

شیاطین کے دونوں گروہوں کی اس بحث میں ان لوگوں کے لئے ایک اہم سبق ہے جو اس مقدس سفر کو سیر و سیاحت، جہاں گردی، گھومنا پھرنا بنا کر رکھ دے رہے ہیں۔ جس میں وہ خود اپنے نفس اور شیطان کے دھوکے میں رہتے ہیں۔

ارشاد الساری میں مندرجہ ذیل تذکرہ کیا گیا ہے – “فریضہ حج کی شرائط میں سے ایک یہ ہے کہ فرض نمازیں ادا کر نے کی استعداد ہو ، اور (وہ) قضا نہ کی جائیں۔”

اگر جماعت کے بغیر ایک بھی نماز پڑھی جائے تو یہ 700 بڑے (کبیره) گناہ کرنے کے مترادف ہے۔ حضرت ابو بکر ورّاق (رحمة اللہ علیہ) اپنے سفر حج کے پہلے ہی دن جماعت کے ساتھ ایک نماز پڑھنے سے قاصر رہے، ایک نماز کی جماعت چھوٹ گئی، اس کے بعد انہوں نے کہا کہ کاش وہ پیچھے رہ جاتے اور اس مقدس سفر پر نہ نکلتے  کیونکہ سفر کے پہلے ہی دن جماعت کی نماز چھوڑ دی اور 700 کبیرہ گناہ کا ارتکاب ہوا۔

اب جب کہ فرض عبادت حج کے اسفار کے لئے بھی یہ شرعی شرائط ہیں تو اگر دورانِ سفر نماز کا چھوٹنا یا حرام (فعل) کا ارتکاب لازم آتا ہو تو پھر اس سفر کا کرنا جائز نہیں ہوگا۔

اور پھر جب حج کے بارے میں شریعت کا یہ نظریہ ہے تو پھر مزے کے ٹور (tour) دھوکہ میں مبتلا نفل عمرے اور “تین حرم” کی خوش کُن سیاحت کے بارے میں کسی مؤمن کا ایمان اسے اندر سے کیا حکم دے گا..؟

فقہاءِ کرام نے واضح طور پر حکم بیان کیا ہے اور ایمانی سمجھ بھی یہی حکم کرتی ہے کہ حج کے لئے جانا جائز نہیں ہوگا اگر سفر میں ایک نماز بھی چھوٹ جائے یا قضا ہو جائے۔

اب آج کل کی صورتِ حال میں کیا کیا جائے گا..؟ کیا حکم دیا جائے گا جب لوگ ان مزاحیہ مزے دار تفریحی ٹور کو دینی القاب دے کے سفر کرتے ہیں۔؟

نقاب پر پابندی

ماخوذ از مکتوب رسالہ ‘المجلس’ مجلس العلماء جنوبی افریقہ مع مترجم

یوروپی ممالک اور الجیریا کی کافر حکومت نے نقاب پر پابندی لگائی ہے۔ بظاہر یہ اسلام دشمنی اور نفرت معلوم ہوتی ہے۔ اس کے باوجود اس پابندی کی حقیقی (بنیادی) وجہ مسلمانوں کا خود شرعی حجاب کو ترک کر دینا ہے۔ جب کہ یہ اللہ تعالی کی طرف سے سزا ہے۔

حجاب صرف نقاب پہننے پر محدود نہیں ہے۔ حجاب تو ایک مکمل نظام ہے جو تقاضہ کرتا ہے کہ مسلمان مستورات گھر كے حدود میں رہیں۔ مسلمان مستورات نے پوری دنیا میں حجاب کو ترک کردیا ہے۔ دراصل وہ نقاب کو آزاد بروک گھومنے اور لوگوں کے مجموعوں میں پھرنے کے لیے اجازت (لائسنس) سمجھتی ہیں۔اب سزا کے طور پر اللہ تعالی نے اسلاموفوبیا (مسلمانوں کے خلاف تعصب) لگا دیا ہے جس کی وجہ سے وہ مستورات جو لوگوں کے مجموعوں میں بھٹکتے پھرنے کی قائل ہیں ان کے لیے ذلت اور خطرہ ہے۔

جب مسلمان خود شریعت کے احکام کو کھلے طور پر  پامال کرتے ہیں تو اللہ تعالی ہمیں مختلف طریقوں سے سزا دیتے ہیں اور ذلیل کرتے ہیں- اسلاموفوبیا (مسلمانوں کے خلاف تعصب) ان میں سے ایک طریقہ ہے۔ مسلمان اس ذلت کے حق دار ہیں جسے انہوں نے اللہ تعالی سے بغاوت کر کے دعوت دی ہے-

ﻓﯿﺲ ﺍﯾپ ﮐﺎ ﺷﺮﻋﯽ ﺣﮑﻢ

ﻣﺤﻤﺪ ﺣﺴﻦ ﺟﺎﻥ

ﻓﯿﺲ ﺍﯾﭗ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﺳﮯ ﺁﺝ ﮐﻞ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﭗ ﭼﻞ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮐﮯ ﺑﮍﮬﺎﭘﮯ ﮐﯽ ﺷﮑﻞ ﻭ ﺻﻮﺭﺕ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﯾﻌﻨﯽ ﮐﮧ ﺑﮍﮬﺎﭘﮯ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﻣﯿﮟ ﺷﮑﻞ ﻭ ﮨﯿﺌﺖ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﮔﯽ،
ﻭﺍﭨﺲ ﺍﯾﭗ ﭘﺮ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﮐﺮﺍﻡ ﻭ ﻣﻔﺘﯿﺎﻥ ﮐﺮﺍﻡ ﮐﮯ ﻣﺸﺎﻭﺭﺗﯽ ﮔﺮﻭﭖ ﺗﺤﻘﯿﻘﺎﺕ ﻣﺴﺎﺋﻞ ﻓﻘﮩﯿﮧ

ﻣﯿﮟ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﻭ ﻣﻔﺘﯿﺎﻥ ﺧﺼﻮﺻﺎً ﻣﻮﻻﻧﺎ ﻣﺤﻤﺪ ﺣﺴﻦ ﺟﺎﻥ ‏( ﭘﺸﺎﻭﺭ ‏) ،
ﻣﻮﻻﻧﺎ ﺛﻨﺎﺀ ﺍﻟﻠﮧ ﺟﺪﻭﻥ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﺣﻀﺮﺍﺕ ﮐﮯ ﻣﺸﻮﺭﮦ ﻭ ﺁﺭﺍﺀ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺁﺋﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﺍﺱ ﺍﯾﭗ App ﮐﮯ ﻧﺎﺟﺎﺋﺰ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﻓﺮﻣﺎ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ۔

ﻭﺟﻮﮦ

‏( 1 ‏) ﺗﺼﻮﯾﺮ …. ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺗﺨﻠﯿﻖ ﺻﻔﺖ ﺑﺎﺭﯼ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮨﮯ۔
ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮﮬﺮﯾﺮﮦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺗﺼﻮﯾﺮ ﺳﺎﺯ ﮐﻮﺗﺼﻮﯾﺮ ﺳﺎﺯﯼ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :

‏» ﺳَﻤِﻌْﺖُ ﺭَﺳُﻮْﻝَ ﺍﻟﻠّٰﮧِ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﯾَﻘُﻮْﻝُ : ﻭَﻣَﻦْ ﺍَٔﻇْﻠَﻢُ ﻣِﻤَّﻦْ ﺫَﮬَﺐَ ﯾَﺨْﻠُﻖُ ﮐَﺨَﻠْﻘِﻲْ، ﻓَﻠْﯿَﺨْﻠُﻘُﻮْﺍ ﺣَﺒَّۃً ، ﻓَﻠْﯿَﺨْﻠُﻘُﻮْﺍ ﺫَﺭَّۃً ۔ ‏( ﺻﺤﻴﺢ ﺍﻟﺒﺨﺎﺭﻱ : 5497 ‏)

‏( ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﻮ ﯾﮧ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺳﻨﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮐﻮﻥ ﻇﺎﻟﻢ ﮨﻮﮔﺎ ﺟﻮ ﻣﯿﺮﯼ ‏( ﯾﻌﻨﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ‏) ﻃﺮﺡ ﺗﺨﻠﯿﻖ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﺎ ‏( ﻭﮦ ﮐﺴﯽ ﺟﺎﻧﺪﺍﺭ ﮐﻮ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﮮ ﮔﺎ ‏) ﺫﺭﺍ ﺍﯾﮏ ﺩﺍﻧﮧ ﯾﺎ ﺍﯾﮏ ﺫﺭﮦ ﮨﯽ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﺩﮐﮭﺎ ﺩﮮ۔ ‏)

ﻋﻦ ﻋَﺒْﺪِ ﺍﻟﻠَّﻪِ ﺑْﻦَ ﻋُﻤَﺮَ ﺭَﺿِﻲَ ﺍﻟﻠَّﻪُ ﻋَﻨْﻬُﻤَﺎ ﺃَﻥَّ ﺭَﺳُﻮﻝَ ﺍﻟﻠَّﻪِ ﺻَﻠَّﻰ ﺍﻟﻠَّﻪُ ﻋَﻠَﻴْﻪِ ﻭَﺳَﻠَّﻢَ ﻗَﺎﻝَ : ” ﺇِﻥَّ ﺍﻟَّﺬِﻳﻦَ ﻳَﺼْﻨَﻌُﻮﻥَ ﻫَﺬِﻩِ ﺍﻟﺼُّﻮَﺭَ ﻳُﻌَﺬَّﺑُﻮﻥَ ﻳَﻮْﻡَ ﺍﻟْﻘِﻴَﺎﻣَﺔِ، ﻳُﻘَﺎﻝُ ﻟَﻬُﻢْ : ﺃَﺣْﻴُﻮﺍ ﻣَﺎ ﺧَﻠَﻘْﺘُﻢْ .” ‏( ﺻﺤﯿﺢ ﺍﻟﺒﺨﺎﺭﻱ، 5951 ‏)

ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮩﻤﺎ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﺎ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﻮ ﻟﻮﮒ ﯾﮧ ﺗﺼﻮﯾﺮﯾﮟ ﺑﻨﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍُﻧﮩﯿﮟ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﮐﮯ ﺩﻥ ﻋﺬﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﮐﮧ ﺟﻮ ﺗﻢ ﻧﮯ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﺍُﺱ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻥ ﮈﺍﻟﻮ۔

‏( 2 ‏) ﺍﮔﺮ ﮈﯾﺠﯿﭩﻞ ﺗﺼﻮﯾﺮ ﮐﮯ ﺟﻮﺍﺯ ﮐﺎ ﻗﻮﻝ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﺮﻟﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺑﮭﯽ ﻟﮩﻮ ﻭ ﻟﻌﺐ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﺎﺟﺎﺋﺰ ﮨﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﻦ ﻭ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ۔

ﻟﮩٰﺬﺍ ﺑﮭﯿﮍ ﭼﺎﻝ ﻧﮧ ﭼﻠﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﺳﮯ ﮔﺮﯾﺰ ﻓﺮﻣﺎﺋﯿﮟ .

ﻋَﻦْ ﺃَﺑِﻲ ﻫُﺮَﻳْﺮَﺓَ ﻗَﺎﻝَ : ﻗَﺎﻝَ ﺭَﺳُﻮﻝُ ﺍﻟﻠَّﻪِ ﺻَﻠَّﻰ ﺍﻟﻠَّﻪُ ﻋَﻠَﻴْﻪِ ﻭَﺳَﻠَّﻢَ : ” ﻣِﻦْ ﺣُﺴْﻦِ ﺇِﺳْﻠَﺎﻡِ ﺍﻟْﻤَﺮْﺀِ ﺗَﺮْﻛُﻪُ ﻣَﺎ ﻟَﺎ ﻳَﻌْﻨِﻴﻪِ .”
‏( ﺳﻨﻦ ﺍﻟﺘﺮﻣﺬﻱ | ﺃَﺑْﻮَﺍﺏُ ﺍﻟﺰُّﻫْﺪِ ﻋَﻦْ ﺭَﺳُﻮﻝِ ﺍﻟﻠَّﻪِ ﺻَﻠَّﻰ ﺍﻟﻠَّﻪُ ﻋَﻠَﻴْﻪِ ﻭَﺳَﻠَّﻢَ . | ﺑَﺎﺏٌ ، ﺭﻗﻢ : 2317 ‏)
ﻓﺎﻟﻀﺎﺑﻂ ﻓﻲ ﮨٰﺬﺍ ﺍﻟﺒﺎﺏ … ﺍٔﻥ ﺍﻟﻠﮩﻮ ﺍﻟﻤﺠﺮﺩ ﺍﻟﺬﻱ ﻻ ﻃﺎﺋﻞ ﺗﺤﺘﮧ، ﻭﻟﯿﺲ ﻟﮧ ﻏﺮﺽ ﺻﺤﯿﺢ ﻣﻔﯿﺪ ﻓﻲ ﺍﻟﻤﻌﺎﺵ ﻭﻻ ﺍﻟﻤﻌﺎﺩ ﺣﺮﺍﻡٌ ﺍٔﻭ ﻣﮑﺮﻭﮦٌ ﺗﺤﺮﯾﻤًﺎ … ﻭﻣﺎ ﮐﺎﻥ ﻓﯿﮧ ﻏﺮﺽ ﻭﻣﺼﻠﺤۃ ﺩﯾﻨﯿۃ ﺍٔﻭ ﺩﻧﯿﻮﯾۃ، ﻓﺈﻥ ﻭﺭﺩ ﺍﻟﻨﮩﻲ ﻋﻨﮧ ﻣﻦ ﺍﻟﮑﺘﺎﺏ ﺍٔﻭ ﺍﻟﺴﻨۃ … ﮐﺎﻥ ﺣﺮﺍﻣًﺎ ﺍٔﻭ ﻣﮑﺮﻭﮨًﺎ ﺗﺤﺮﯾﻤًﺎ … ﻭﺍٔﻣﺎ ﻣﺎ ﻟﻢ ﯾﺮﺩ ﻓﯿﮧ ﺍﻟﻨﮩﻲ ﻋﻦ ﺍﻟﺸﺎﺭﻉ، ﻭﻓﯿﮧ ﻓﺎﺋﺪۃ ﻭﻣﺼﻠﺤۃ ﻟﻠﻨﺎﺱ، ﻓﮩﻮ ﺑﺎﻟﻨﻈﺮ ﺍﻟﻔﻘﮩﻲ ﻋﻠﯽ ﻧﻮﻋﯿﻦ : ﺍﻻٔﻭﻝ : ﻣﺎ ﺷﮩﺪﺕ ﺍﻟﺘﺠﺮﺑۃ ﺑﺎٔﻥ ﺿﺮﺭﮦ ﺍٔﻋﻈﻢ ﻣﻦ ﻧﻔﻌﮧ، ﻭﻣﻔﺎﺳﺪﮦ ﺍٔﻏﻠﺐ ﻋﻠﯽ ﻣﻨﺎﻓﻌﮧ، ﻭﺍٔﻧﮧ ﻣﻦ ﺍﺷﺘﻐﻞ ﺑﮧ ﺍٔﻟﮩﺎﮦ ﻋﻦ ﺫﮐﺮ ﺍﻟﻠّٰﮧ ﻭﺣﺪﮦ، ﻭﻋﻦ ﺍﻟﺼﻠﻮﺍﺕ ﻭﺍﻟﻤﺴﺎﺟﺪ، ﺍﻟﺘﺤﻖ ﺫٰﻟﮏ ﺑﺎﻟﻤﻨﮩﻲ ﻋﻨﮧ، ﻻﺷﺘﺮﺍﮎ ﺍﻟﻌﻠۃ، ﻓﮑﺎﻥ ﺣﺮﺍﻣًﺎ ﺍٔﻭ ﻣﮑﺮﻭﮨًﺎ۔ ﻭﺍﻟﺜﺎﻧﻲ : ﻣﺎ ﻟﯿﺲ ﮐﺬٰﻟﮏ، ﻓﮩﻮ ﺍٔﯾﻀًﺎ ﺇﻥ ﺍﺷﺘﻐﻞ ﺑﮧ ﺑﻨﯿۃ ﺍﻟﺘﻠﮩﻲ ﻭﺍﻟﺘﻼﻋﺐ ﻓﮩﻮ ﻣﮑﺮﻭﮦٌ۔ ﻭﺇﻥ ﺍﺷﺘﻐﻞ ﺑﮧ ﻟﺘﺤﺼﯿﻞ ﺗﻠﮏ ﺍﻟﻤﻨﻔﻌۃ، ﻭﺑﻨﯿۃ ﺍﺳﺘﺠﻼﺏ ﺍﻟﻤﺼﻠﺤۃ ﻓﮩﻮ ﻣﺒﺎﺡ؛ ﺑﻞ ﻗﺪ ﯾﺮﺗﻘﻲ ﺇﻟﯽ ﺩﺭﺟۃ ﺍﻻﺳﺘﺤﺒﺎﺏ ﺍٔﻭ ﺍٔﻋﻈﻢ ﻣﻨﮧ … ﻭﻋﻠﯽ ﮨٰﺬﺍ ﺍﻻٔﺻﻞ ﻓﺎﻻٔﻟﻌﺎﺏ ﺍﻟﺘﻲ ﯾﻘﺼﺪ ﺑﮩﺎ ﺭﯾﺎﺿۃ ﺍﻻٔﺑﺪﺍﻥ ﺍٔﻭ ﺍﻻٔﺫﮨﺎﻥ ﺟﺎﺋﺰۃ ﻓﻲ ﻧﻔﺴﮩﺎ ﻣﺎ ﻟﻢ ﺗﺸﺘﻤﻞ ﻋﻠﯽ ﻣﻌﺼﯿۃ ﺍٔﺧﺮﯼٰ، ﻭﻣﺎ ﻟﻢ ﯾﻮٔﺩ ﺍﻻﻧﮩﻤﺎﮎ ﻓﯿﮩﺎ ﺇﻟﯽ ﺍﻹﺧﻼﻝ ﺑﻮﺍﺟﺐ ﺍﻹﻧﺴﺎﻥ ﻓﻲ ﺩﯾﻨﮧ ﻭﺩﻧﯿﺎﮦ۔ ﻭﺍﻟﻠﮧ ﺳﺒﺤﺎﻧﮧ ﺍٔﻋﻠﻢ۔ ‏( ﺗﮑﻤﻠۃ ﻓﺘﺢ ﺍﻟﻤﻠﮩﻢ / ﻗﺒﯿﻞ ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻟﺮﻭٔﯾﺎ ۴؍۴۳۵ ﺍﻟﻤﮑﺘﺒۃ ﺍﻻٔﺷﺮﻓﯿۃ ﺩﯾﻮﺑﻨﺪ ‏)
ﺍﻭﺭ ﺍﺏ ﺟﺎﻣﻌۃ ﺍﻟﻌﻠﻮﻡ ﺍﻻﺳﻼﻣﯿۃ ﺑﻨﻮﺭﯼ ﭨﺎﺅﻥ ﮐﺮﺍﭼﯽ ﮐﺎ ﻓﺘﻮﯼٰ ﺑﮭﯽ ﺁﭼﮑﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺩﺭﺝ ﺫﯾﻞ ﮨﮯ :

ﺳﻮﺍﻝ -:
ﻓﯿﺲ ﺍﯾﭗ ﮐﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﻓﺘﻮﯼ ﺩﺭﮐﺎﺭ ﮨﮯﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮐﮯ ﺑﮍﮬﺎﭘﮯ ﮐﯽ ﺗﺼﻮﯾﺮ ﮐﺸﯽ ﮐﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ، ﯾﻌﻨﯽ ﻭﮦ ﺍﯾﭗ ﻣﻮﺟﻮﺩﮦ ﺷﮑﻞ ﻭ ﺻﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﺑﻮﮌﮬﺎ ﮐﺮﮐﮯ ﺩﮐﮭﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔

ﺟﻮﺍﺏ -:
ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﻥ ﺩﺍﺭ ﮐﯽ ﺗﺼﻮﯾﺮ ﮐﺸﯽ ﮐﺮﻧﺎ ﺑﻼ ﺿﺮﻭﺭﺕِ ﺷﺮﻋﯿﮧ ﺟﺎﺋﺰ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ، ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺟﺎﻥ ﺩﺍﺭ ﮐﯽ ﺗﺼﻮﯾﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮉﯾﭩﻨﮓ ﮐﺮﻧﺎ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﺋﺰ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ، ﻟﮩﺬﺍ ﺗﺼﻮﯾﺮ ﭘﺮ ﻣﺸﺘﻤﻞ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﭗ ﺑﻼ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﻧﺎ ﺟﺎﺋﺰ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ، ﻧﯿﺰ ﮐﺴﯽ ﺗﺼﻮﯾﺮ ﻣﯿﮟ ﺗﺒﺪﯾﻠﯽ ﮐﺮﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ ﻟﻐﻮ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﮐﺎﺭ ﻋﻤﻞ ﮨﮯ، ﻋﺒﺚ ﻣﯿﮟ ﻭﻗﺖ ﺿﺎﺋﻊ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺑﺎﻣﻘﺼﺪ ﺍﻋﻤﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮔﺰﺭﺍﻧﯽ ﭼﺎﮨﯿﮯ، ﺁﺩﻣﯽ ﮐﮯ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﺎ ﺣﺴﻦ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﮨﺮ ﻻﯾﻌﻨﯽ ﺑﺎﺕ ﺍﻭﺭ ﮐﺎﻡ ﺳﮯ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺑﭽﺎﺋﮯ۔ ﻓﻘﻂ ﻭﺍﻟﻠﮧ ﺍﻋﻠﻢ

ﻓﺘﻮﯼ ﻧﻤﺒﺮ : 14401020097
ﺩﺍﺭﺍﻻﻓﺘﺎﺀ : ﺟﺎﻣﻌﮧ ﻋﻠﻮﻡ ﺍﺳﻼﻣﯿﮧ ﻋﻼﻣﮧ ﻣﺤﻤﺪ ﯾﻮﺳﻒ ﺑﻨﻮﺭﯼ ﭨﺎﺅﻥ
ﻭﺍﻟﻠﻪ ﺗﻌﺎﻟﻰ ﺃﻋﻠﻢ ﺑﺎﻟﺼﻮﺍﺏ
ﻋﺒﺪﺍﻟﺼﻤﺪ ﺳﺎﺟﺪ ﻋﻔﺎ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻨﻪ
ﻣﺪﺭﺱ ﻭ ﻣﻌﯿﻦ ﺩﺍﺭﺍﻻﻓﺘﺎﺀ ﺟﺎﻣﻌﮧ ﺣﻘﺎﻧﯿﮧ ﺳﺎﮨﯿﻮﺍﻝ ﺿﻠﻊ ﺳﺮﮔﻮﺩﮬﺎ

تمہارے اعمال ہی تمہارے حکمران ہیں

أَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ كَثِيرٌ وَلَكِنَّكُمْ غُثَاءٌ

الوھن – حُبُّ الدُّنْيَا وَكَرَاهِيَةُ الْمَوْتِ

از – مجلس العلماء جنوبی افریقہ (ترجمہ)

  • تم بہت کثیر تعداد میں ہو نے کے باوجود ‘غثاء’ (کچرا، کوڑا) جیسے ہوں گے-
  • دنیا کی محبت اور موت سے نفرت کی وجہ سے-

امت میں اس قسم کے ہولناک انکشافات پر تبصرہ کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک وقت آئے گا کہ دنیا بھر کی کفار قومیں گٹھ جوڑ کرکے ایک ہوں گے امت کو پھاڑ كھانے کے لئے۔

حیران ہو کر ایک صحابی نے پوچھا:

      “یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کیا ایسا ہماری کم تعداد کی وجہ سے ہوگا؟”

ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا :

      ” بلکہ تم بہت کثیر تعداد میں ہوں گے لیکن تم ‘غثاء’ (کچرا، کوڑا) جیسے ہوں گے، پانی پر بہنے والے کچرے/تنکوں کی مانند (یعنی بے حیثیت اور بے وقعت)۔

اللہ تمہارے دشمنوں کے دلوں سے تمہارا خوف نکال دیں گے اور یقینا وہ تمہارے دلوں میں ‘وھن’ ڈال دیں گے۔”

صحابی نے پوچھا:

    “‘وھن’ کیا ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم..؟”

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

         “دنیا کی محبت اور موت سے نفرت”

ہندوستان میں غالبا دنیا کی سب سے بڑی مسلم آبادی ہے، تقریبا دو ہزار (٢٠٠٠) لاکھ سے بھی زائد مسلمان اس ہندو مشرکین کے ملک میں بستے ہیں۔ امت کی اتنی کثیر تعداد کے باوجود سب کے سب ‘غثاء’ بنے ہوئے ہیں جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے۔

یہ بے عقلی درحقیقت بےوقوفی ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کے خلاف سازشیں رچنے کی کمینگی پر گائے کا پیشاب و گوبر کے صارفین اور پجاریوں پر ملامت کی جائے۔ مسلمانوں کی توجہ کو شیطان ان حقیقی وجوہات سے ہٹاتا ہے جن کی وجہ سے مسلمان ذلیل، رسوا اور ہلاک ہوتے ہیں۔

جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن شریف نے مسلمانوں پر کفار غالب ہونے کے وجوہات کو واضح طور پر بیان کیا ہے، اس کے باوجود مسلمانوں کو اپنے ہی (بدعملی کے) سائے اور عکس پر لعن طعن پر قائل کرنے میں شیطان کامیاب ہوتا ہے۔ پس مسلمان یہ سمجھنے میں ناکام ہوتے ہیں کہ ان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے اور کن وجوہات کی بنا پر یہ ہلاکتیں برپا ہو رہی ہیں، جیسا کہ اس مضمون میں بیان کیا گیا ہے اور جیسا برما, شام اور مختلف جگہوں پر نظر آرہا ہے۔

ہندوستان کے مسلمان ہندوؤں کے رنگ میں رنگے ہوئے ہیں۔ جس طرح مغرب میں مسلمانوں نے خود کو مغربیت کے رنگ میں رنگا ہوا ہے ٹھیک اسی طرح ہندوستانی مسلمانوں نے ہندوؤں کے طور طریقے اپنائے ہوئے ہیں۔

اسلامی تہذیب یعنی سنت کو ترک کرنے کی وجہ سے جو خلا پیدا ہوئی ہے وہ ان نجس گائے پجاریوں کے طریقوں سے پر ہو رہی ہے جن کے دھرم میں بنیادی دھارمک کام گائے کا گوبر اور پیشاب پینا اور اپنے ملعون ہاتھوں سے ٹھوک بجا کر تراشے ہوئے پتھر کے بتوں کی پوجا کرنا ہے۔

ذرا غور کریں دو ہزار (٢٠٠٠) لاکھ (یعنی ٢٠ كروڑ) سے بھی زائد مسلمان لیکن پورے ملک کا مسلمان بے ہمت (خوفزدہ) سا ہو گیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے کوڑا/کچرا (غثاء) ہونے کا یہی معنی ہے-

اللہ تعالی ہم پر رحم فرمائے…(آمین)

اَعْمَالُکُمْ اُمَرَاءُکُمْ*

تمہارے اعمال ہی تمہارے حکمران ہیں

ماخوز از مکتوب مع مترجم و اضافی مجلس العلماء جنوبی افریقہ

ہندوستان کے ظالم کفار قائدین، مسلمانوں کی اکثریت کے باطنی و ظاہری کفریہ احوال و اعمال کا عکس ہیں۔ یہ قبیح لیڈران مسلمانوں کے کفر اور ضلالت کو منعکس کرتے ہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے،

“تمہارے اعمال ہی تمہارے حکمران ہیں۔”

  • اللہ تعالی لوگوں پر انہیں ہی حکمران بناتے ہیں جن کے وہ لوگ مستحق ہوتے ہیں۔
  • جس قوم یا ملک کی اکثریت شریعت کے تابع ہو، اللہ تعالی ان پر کبھی بھی ظالم، بدکردار اور بے ہدا حکمران مسلط نہیں فرماتے۔
  • بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی سنّت ہے کہ وہ ظالم، بد اخلاق اور بے رحم حکمرانوں کی حکومت ان لوگوں پر ہی مسلط کرتے ہیں جو فسق و فجور اور کفر میں ڈوبے ہوئے ہوں۔

حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے،

“اللہ کی قسم ! فتنہ اللہ تعالی کے عذاب کے سوا کچھ نہیں۔”

اس عبارت میں فتنے سے مراد شیطانی حکمرانوں کا ظلم اور زیادتی ہے جیسا کہ برما کے بے رحم بدھ مت، ہندوستان کا ظالم مودی، مصر کا بدبخت سیسی، شام کا وحشی بشار  اسد اور ان جیسے دیگر ابلیسی گروه کے حکمران (لیڈران)۔

ظالم لیڈران اور حکمران تو آئینہ ہیں

جب کہ ہم ان شیطانی حکمران و لیڈران پر تنقید کرتے ہیں، ہمیں اس حقیقت سے اپنی توجہ نہیں ہٹانی چاہئے کہ اللہ تعالی هی نے انہیں سزا کے طور پر بالکل نافرمان اور باغی مسلمانوں پر مسلط کیا ہے، جنہوں نے فسق و فجور اور کفر سے اپنا ایمان ختم کر رکھا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں،

           “یقینا اللہ تعالی فرماتے ہیں، میں اللہ هوں، میرے سوا کوئی الٰہ (معبود) نہیں۔ میں حکمرانوں کا حاکم ہوں اور حکمران میرے تابع ہیں۔ حکمرانوں کے قلوب میرے قبضے میں ہیں۔ جب لوگ میری اطاعت کرتے ہیں تو میں ان کے حکمرانوں کے قلوب کو ان کے لیے رحمت و شفقت پر پھیر دیتا ہوں۔ جب وہ میری نافرمانی کرتے ہیں تو میں ان کے حکمرانوں کے قلوب کو ان کے خلاف بے رحمی و ظلم پر پھیر دیتا ہوں۔ پھر وہ حکمران (لیڈران) لوگوں کو سخت ترین سزا دیتے ہیں۔

اس لیے حکمرانوں پر لعنت بھیجنے میں خود کو مشغول مت رکھو۔ اس کے برعکس میری یاد (ذكر) اور میری اطاعت میں مشغول ہو جاؤ۔ پھر میں حکمرانوں کے خلاف تمہارا خیال رکھوں گا۔”

نبی موسی علیہ السلام نے اللہ تعالی سے پوچھا،

       “اے میرے رب آپ آسمانوں میں ہیں اور ہم زمین پر، آپ کی ناراضگی اور رضامندی کی نشانیاں کیا ہے..؟”

اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا،

“جب میں تم میں سے بہترین لوگوں کو حاکم بناتا ہوں تو وہ (حاکم) نشانی ہے میرے تم سے راضی ہونے کی۔ اور جب میں تم میں سے بدترین لوگوں کو حاکم بناتا ہوں تو وہ (حاکم) نشانی ہے میرے تم سے ناراض ہونے کی۔”

ہم بظاہر لوگوں کی نماز اور رسمی اسلامی اعمال کو دیکھ کر دھوکے میں نہ آئیں۔ آج کل اسلام کا منافقانہ مظاہرہ کوئی ایمان کی دلیل نہیں ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنه اس سلسلے میں حدیث نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں،

”ایسا زمانہ آئے گا کہ لوگ اپنی مساجد میں جمع ہو کر نماز پڑھیں گے جبکہ ان میں سے کوئی ایک بھی مومن نہ ہوگا۔”

ظاہری طور پر اسلام کے دعوے اور چند رسمی اعمال کے مظاہرے سے ہم فریب میں نہ آئیں۔

ان تمام باتوں کے مدنظر اگر ہم ہندوستان میں جاری  احوال کا سنجیدگی کے ساتھ ایمانی نگاہ سے جائزہ لیں تو ہمیں یہ واضح ہو گا کہ هم مسلمانوں کے خلاف تشدد کا ماحول اور مارپیٹ کی وجہ کوئی راز یا در اصل ظلم نہیں ہے۔ بلکہ یہ مسلمانوں کی خود اپنے ہاتھوں سے کمائی ہوئی بداعمالیوں اور گناہوں کا نتیجہ ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں کی اکثریت کے اخلاقی بگاڑ، فسق و فجور اور کفر کی ظاہری شکل مودی، یوگی، شاہ وغیرہ ہیں۔

جب تک ہم مسلمان توبہ کے ساتھ اللہ تعالی کی اطاعت کے ذریعے اس کی یاد(ذکر) میں مشغول نہیں ہوں گے تب تک یہ تشدد کا ماحول ختم ہو، مشکل معلوم ہوتا ہے۔

تمہارے اعمال ہی تمہارے حکمران ہیں

ماخوز از مکتوب مع مترجم و اضافی مجلس العلماء جنوبی افریقہ

ہندوستان کے ظالم کفار قائدین، مسلمانوں کی اکثریت کے باطنی و ظاہری کفریہ احوال و اعمال کا عکس ہیں۔ یہ قبیح لیڈران مسلمانوں کے کفر اور ضلالت کو منعکس کرتے ہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے،

“تمہارے اعمال ہی تمہارے حکمران ہیں۔”

  • اللہ تعالی لوگوں پر انہیں ہی حکمران بناتے ہیں جن کے وہ لوگ مستحق ہوتے ہیں۔
  • جس قوم یا ملک کی اکثریت شریعت کے تابع ہو، اللہ تعالی ان پر کبھی بھی ظالم، بدکردار اور بے ہدا حکمران مسلط نہیں فرماتے۔
  • بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی سنّت ہے کہ وہ ظالم، بد اخلاق اور بے رحم حکمرانوں کی حکومت ان لوگوں پر ہی مسلط کرتے ہیں جو فسق و فجور اور کفر میں ڈوبے ہوئے ہوں۔

حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے،

“اللہ کی قسم ! فتنہ اللہ تعالی کے عذاب کے سوا کچھ نہیں۔”

اس عبارت میں فتنے سے مراد شیطانی حکمرانوں کا ظلم اور زیادتی ہے جیسا کہ برما کے بے رحم بدھ مت، ہندوستان کا ظالم مودی، مصر کا بدبخت سیسی، شام کا وحشی بشار  اسد اور ان جیسے دیگر ابلیسی گروه کے حکمران (لیڈران)۔

ظالم لیڈران اور حکمران تو آئینہ ہیں

جب کہ ہم ان شیطانی حکمران و لیڈران پر تنقید کرتے ہیں، ہمیں اس حقیقت سے اپنی توجہ نہیں ہٹانی چاہئے کہ اللہ تعالی هی نے انہیں سزا کے طور پر بالکل نافرمان اور باغی مسلمانوں پر مسلط کیا ہے، جنہوں نے فسق و فجور اور کفر سے اپنا ایمان ختم کر رکھا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں،

           “یقینا اللہ تعالی فرماتے ہیں، میں اللہ هوں، میرے سوا کوئی الٰہ (معبود) نہیں۔ میں حکمرانوں کا حاکم ہوں اور حکمران میرے تابع ہیں۔ حکمرانوں کے قلوب میرے قبضے میں ہیں۔ جب لوگ میری اطاعت کرتے ہیں تو میں ان کے حکمرانوں کے قلوب کو ان کے لیے رحمت و شفقت پر پھیر دیتا ہوں۔ جب وہ میری نافرمانی کرتے ہیں تو میں ان کے حکمرانوں کے قلوب کو ان کے خلاف بے رحمی و ظلم پر پھیر دیتا ہوں۔ پھر وہ حکمران (لیڈران) لوگوں کو سخت ترین سزا دیتے ہیں۔

اس لیے حکمرانوں پر لعنت بھیجنے میں خود کو مشغول مت رکھو۔ اس کے برعکس میری یاد (ذكر) اور میری اطاعت میں مشغول ہو جاؤ۔ پھر میں حکمرانوں کے خلاف تمہارا خیال رکھوں گا۔”

نبی موسی علیہ السلام نے اللہ تعالی سے پوچھا،

       “اے میرے رب آپ آسمانوں میں ہیں اور ہم زمین پر، آپ کی ناراضگی اور رضامندی کی نشانیاں کیا ہے..؟”

اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا،

“جب میں تم میں سے بہترین لوگوں کو حاکم بناتا ہوں تو وہ (حاکم) نشانی ہے میرے تم سے راضی ہونے کی۔ اور جب میں تم میں سے بدترین لوگوں کو حاکم بناتا ہوں تو وہ (حاکم) نشانی ہے میرے تم سے ناراض ہونے کی۔”

ہم بظاہر لوگوں کی نماز اور رسمی اسلامی اعمال کو دیکھ کر دھوکے میں نہ آئیں۔ آج کل اسلام کا منافقانہ مظاہرہ کوئی ایمان کی دلیل نہیں ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنه اس سلسلے میں حدیث نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں،

”ایسا زمانہ آئے گا کہ لوگ اپنی مساجد میں جمع ہو کر نماز پڑھیں گے جبکہ ان میں سے کوئی ایک بھی مومن نہ ہوگا۔”

ظاہری طور پر اسلام کے دعوے اور چند رسمی اعمال کے مظاہرے سے ہم فریب میں نہ آئیں۔

ان تمام باتوں کے مدنظر اگر ہم ہندوستان میں جاری  احوال کا سنجیدگی کے ساتھ ایمانی نگاہ سے جائزہ لیں تو ہمیں یہ واضح ہو گا کہ هم مسلمانوں کے خلاف تشدد کا ماحول اور مارپیٹ کی وجہ کوئی راز یا در اصل ظلم نہیں ہے۔ بلکہ یہ مسلمانوں کی خود اپنے ہاتھوں سے کمائی ہوئی بداعمالیوں اور گناہوں کا نتیجہ ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں کی اکثریت کے اخلاقی بگاڑ، فسق و فجور اور کفر کی ظاہری شکل مودی، یوگی، شاہ وغیرہ ہیں۔

جب تک ہم مسلمان توبہ کے ساتھ اللہ تعالی کی اطاعت کے ذریعے اس کی یاد(ذکر) میں مشغول نہیں ہوں گے تب تک یہ تشدد کا ماحول ختم ہو، مشکل معلوم ہوتا ہے۔

ﺭﻭﺡ ﺍﻓﺰﺍﺀ ﮐﯽ ﺗﺎﺭﯾﺦ

ﺑﮭﺎﺭﺕ ﮐﮯ ﺷﮩﺮ ﭘﯿﻠﯽ ﺑﮭﯿﺖ ﮐﮯ ﺭﮨﺎﺋﺸﯽ ﺷﯿﺦ ﺭﺣﯿﻢ ﺑﺨﺶ ﮐﮯ ﯾﮩﺎﮞ ﺳﻦ 1883 ﺀ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﯽ ﭘﯿﺪﺍﺋﺶ ﮨﻮﺋﯽ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﻋﺒﺪﺍﻟﻤﺠﯿﺪ ﺭﮐﮭﺎ ﮔﯿﺎ۔ ﯾﮩﯽ ﻋﺒﺪﺍﻟﻤﺠﯿﺪ ﺁﮔﮯ ﭼﻞ ﮐﺮ ﺣﮑﯿﻢ ﻣﺤﻤﺪ ﺳﻌﯿﺪ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﺑﻨﮯ۔ ﺁﭨﮫ ﺑﺮﺱ ﭘﯿﻠﯽ ﺑﮭﯿﺖ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺎﺋﺶ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺷﯿﺦ ﺭﺣﯿﻢ ﺑﺨﺶ ﺩﮨﻠﯽ ﮐﮯ ﻋﻼﻗﮯ ﺣﻮﺽ ﻗﺎﺿﯽ ﻣﻨﺘﻘﻞ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ۔ ﺗﻌﻠﻴﻢ ﺳﮯ ﻓﺮﺍﻏﺖ ﭘﺮ ﺣﮑﯿﻢ ﺣﺎﻓﻆ ﺣﺎﺟﯽ ﻋﺒﺪﺍﻟﻤﺠﯿﺪ ﺑﺎﻧﯽ ﺩﻭﺍﺧﺎﻧﮧ ﮨﻤﺪﺭﺩ ﮐﺎ ﻧﮑﺎﺡ ﺭﺍﺑﻌﮧ ﺑﯿﮕﻢ ﺳﮯ ﮨﻮﺍ۔ ﺁﭖ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﻧﯿﮏ، ﺍﻃﺎﻋﺖ ﺍﻭﺭ ﺧﺪﻣﺖ ﮔﺰﺍﺭ، ﻧﻤﺎﺯ ﻭ ﺭﻭﺯﮦ ﺍﻭﺭ ﭘﺮﺩﮦ ﮐﯽ ﭘﺎﺑﻨﺪ، ﻣﺤﻨﺘﯽ، ﻭﻓﺎﺷﻌﺎﺭ ﺍﻭﺭ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﻓﮩﻢ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﺗﮭﯿﮟ۔۔

ﺣﮑﯿﻢ ﻣﺤﻤﺪ ﺳﻌﯿﺪ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﺣﮑﯿﻢ ﻋﺒﺪﺍﻟﻤﺠﯿﺪ ﺍﯾﮏ ﻣﺴﺘﻘﻞ ﻣﺰﺍﺝ ﺷﺨﺺ ﺗﮭﮯ۔ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﺩﻭﯾﺎﺕ ﮐﮯ ﺧﻮﺍﺹ ﻣﯿﮟ ﺧﺎﺹ ﺩﻟﭽﺴﭙﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺷﻮﻕ ﺍﻭﺭ ﻣﮩﺎﺭﺕ ﮐﮯ ﺑﺎﻋﺚ ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﺴﯿﺢ ﺍﻟﻤﻠﮏ ﺣﮑﯿﻢ ﺍﺟﻤﻞ ﺧﺎﮞ ﮐﮯ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﺮﺩﮦ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻧﯽ ﺩﻭﺍﺧﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﻼﺯﻣﺖ ﮐﺮﻟﯽ۔ ﺍﺱ ﻋﺮﺻﮯ ﻣﯿﮟ ﻃﺐ ﮐﺎ ﻣﻄﺎﻟﻌﮧ ﺑﮍﯼ ﮔﮩﺮﺍﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﻃﺐ ﮐﯽ ﻣﺘﻌﺪﺩ ﮐﺘﺎﺑﻮﮞ ﮐﺎ ﻣﻄﺎﻟﻌﮧ ﺑﮍﯼ ﺑﺎﺭﯾﮏ ﺑﯿﻨﯽ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ۔ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺟﮍﯼ ﺑﻮﭨﯿﻮﮞ ﺳﮯﮔﮩﺮﺍ ﺷﻐﻒ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﯽ ﭘﮩﭽﺎﻥ ﮐﺎ ﻣﻠﮑﮧ ﺣﺎﺻﻞ ﺗﮭﺎ۔ ﺁﺧﺮﮐﺎﺭ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻧﺒﺎﺗﺎﺕ ﮐﮯ ﻣﯿﺪﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﻧﮧ ﺻﺮﻑ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﯿﺎ ﺑﻠﮑﮧ ﺑﯿﻤﺎﺭﯾﻮﮞ ﮐﯽ ﺷﻔﺎﺀ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﺑﮭﺮ ﺳﮯ ﺟﮍﯼ ﺑﻮﭨﯿﺎﮞ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﺑﮭﯽ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﯿﺎ۔ ﺑﻘﻮﻝ ﺣﮑﯿﻢ ﻣﺤﻤﺪ ﺳﻌﯿﺪ ” ﺁﭖ ﺍﯾﮏ ﺑﻠﻨﺪ ﭘﺎﯾﮧ ﻧﺒﺾ ﺷﻨﺎﺱ ﺍﻭﺭ ﺟﮍﯼ ﺑﻮﭨﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﺎﮨﺮ ﺗﮭﮯ۔ ”
ﺣﮑﯿﻢ ﻋﺒﺪﺍﻟﻤﺠﯿﺪ ﺑﮍﯼ ﻣﺤﻨﺖ ﺳﮯ ﺣﮑﯿﻢ ﺍﺟﻤﻞ ﺧﺎﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﺎﻡ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺍﻧﮭﯿﮟ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺣﮑﯿﻢ ﺍﺟﻤﻞ ﺻﺎﺣﺐ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺩﯾﺎﻧﺖ ﭘﺮ ﺷﮏ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ﻏﯿﺮﺕ ﻭ ﻓﻄﺮﺕ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺷﺒﮧ ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﻧﮧ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﺳﺎﺯ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﯿﺎ۔ 1904 ﺀ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﺪﺭﺩ ﺩﻭﺍﺧﺎﻧﮧ ﮐﯽ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﮈﺍﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﺟﮍﯼ ﺑﻮﭨﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﺠﺎﺭﺕ ﺑﮭﯽ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯽ۔ ﮨﻤﺪﺭﺩ ﺩﮐﺎﻥ ﮐﻮ ﭼﻼﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺣﮑﯿﻢ ﻋﺒﺪﺍﻟﻤﺠﯿﺪ ﻧﮯ ﻧﺒﺎﺗﺎﺕ ﺳﮯ ﺩﻭﺍﺋﯿﮟ ﺑﻨﺎﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯿﮟ، ﺍﻥ ﮐﯽ ﺍﮨﻠﯿﮧ ﺭﺍﺑﻌﮧ ﺑﯿﮕﻢ ﻧﮯ ﮨﺮ ﻣﺮﺣﻠﮯ ﭘﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﻮﮨﺮ ﮐﺎ ﮨﺎﺗﮫ ﺑﭩﺎﯾﺎ۔ ﮨﻤﺪﺭﺩ ﺩﻭﺍﺧﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﭘﮩﻠﯽ ﺩﻭﺍﺋﯽ ’’ ﺣﺐ ﻣﻘﻮﯼ ﻣﻌﺪﮦ ‘‘ ﺗﮭﯽ۔ ﺭﺍﺑﻌﮧ ﺑﯿﮕﻢ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺑﮩﻦ ﻓﺎﻃﻤﮧ ﺑﯿﮕﻢ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻋﺒﺪﺍﻟﻤﺠﯿﺪ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﺎ ﮨﺎﺗﮫ ﺑﭩﺎﺗﯽ ﺗﮭﯿﮟ، ﺍﻭﺭ ﺳﻞ ﺑﭩﮯ ﺳﮯ ﻧﺒﺎﺗﺎﺕ ﭘﯿﺲ ﮐﺮ ﮨﺎﺗﮫ ﺳﮯ ﮔﻮﻟﯿﺎﮞ ﺑﻨﺎﺗﯽ ﺗﮭﯿﮟ۔

ﺣﻮﺽ ﻗﺎﺿﯽ ﺳﮯ ﮨﻤﺪﺭﺩ ﮐﯽ ﻣﻨﺘﻘﻠﯽ ﻻﻝ ﮐﻨﻮﯾﮟ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺩﮐﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﺍﺱ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﻭﺳﻌﺖ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻻﻝ ﮐﻨﻮﯾﮟ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﺑﺘﺪﺍﺋﯽ ﺟﮕﮧ ﻣﻨﺘﻘﻞ ﮐﺮﻧﺎ ﭘﮍﺍ۔

ﺣﮑﯿﻢ ﻋﺒﺪﺍﻟﻤﺠﯿﺪ ﮐﮯ ﮨﻤﺪﺭﺩ ﺩﻭﺍﺧﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺣﮑﯿﻢ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﺣﺴﻦ ﺧﺎﻥ ﺑﮭﯽ ﻃﺒﯿﺐ ﺍﻭﺭ ﺍﺩﻭﯾﮧ ﺳﺎﺯﯼ ﮐﮯ ﺷﻌﺒﮯ ﺳﮯ ﻭﺍﺑﺴﺘﮧ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺗﻌﻠﻖ ﺑﮭﺎﺭﺗﯽ ﺻﻮﺑﮯ ﺍﺗﺮﭘﺮﺩﯾﺶ ﮐﮯ ﺷﮩﺮ ﺳﮩﺎﺭﻧﭙﻮﺭ ﺳﮯ ﺗﮭﺎ، ﻟﯿﮑﻦ ﺗﻼﺵ ﻣﻌﺎﺵ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺩﮨﻠﯽ ﺁ ﺑﺴﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺑﻨﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻭﮦ ﮨﺠﺮﺕ ﮐﺮ ﮐﮯ ﮐﺮﺍﭼﯽ ﺁﮔﺌﮯ۔ ﺳﻦ 2003 ﺀ ﺗﮏ ﻭﮦ ﮐﺮﺍﭼﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﻘﯿﻢ ﺗﮭﮯ، ﺍﻥ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﻏﺎﻟﺒﺎ ‘ 120 ﺳﺎﻝ ﮨﻮﮔﯽ۔ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮨﯽ ﺍﯾﮏ ﺍﻧﭩﺮﻭﯾﻮ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﯾﺎﺩﻭﮞ ﮐﮯ ﺍﻭﺭﺍﻕ ﭘﻠﭩﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺭﻭﺡ ﺍﻓﺰﺍ ﮐﯽ ﺗﯿﺎﺭﯼ ﮐﯽ ﺩﺍﺳﺘﺎﻥ ﺳﻨﺎﺋﯽ۔ ﯾﮩﯽ ﻭﮦ ﭘﮩﻠﮯ ﺷﺨﺺ ﺗﮭﮯ ﺟﻨﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺭﻭﺡ ﺍﻓﺰﺍ ﮐﺎ ﻧﺴﺨﮧ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺗﺮﺗﯿﺐ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ۔

ﯾﮧ ﺳﻦ 1907 ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ۔ﺍﺱ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﭘﮭﻠﻮﮞ، ﭘﮭﻮﻟﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺟﮍﯼ ﺑﻮﭨﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﺷﺮﺑﺖ ﺍﻧﻔﺮﺍﺩﯼ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺩﺳﺘﯿﺎﺏ ﺗﮭﮯ۔ ﻣﺜﻼ ﺷﺮﺑﺖ ﮔﻼﺏ، ﺷﺮﺑﺖ ﺻﻨﺪﻝ، ﺷﺮﺑﺖ ﺍﻧﺎﺭ، ﺷﺮﺑﺖ ﺳﻨﮕﺘﺮﮦ، ﺷﺮﺑﺖ ﮐﯿﻮﮌﮦ، ﻭﻏﯿﺮﮦ ﻭﻏﯿﺮﮦ، ﺟﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺗﺎﺛﯿﺮ ﺍﻭﺭ ﺫﺍﺋﻘﮯ ﮐﮯ ﻟﺤﺎﻅ ﺳﮯ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺗﮭﮯ۔ ﮨﻤﺪﺭﺩ ﺩﻭﺍ ﺧﺎﻧﮧ ﮐﮯ ﺑﺎﻧﯽ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﭘﮭﻠﻮﮞ، ﭘﮭﻮﻟﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺟﮍﯼ ﺑﻮﭨﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﻣﻼ ﮐﺮ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﺎ ﺑﮯﻧﻈﯿﺮ ﻭ ﺑﮯﻣﺜﺎﻝ ﻧﺴﺨﮧ ﺗﺮﺗﯿﺐ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺟﻮ ﺫﺍﺋﻘﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﺎﺛﯿﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺜﺎﻝ ﺁﭖ ﮨﻮ، ﺍﻭﺭ ﺍﯾﺴﺎ ﻣﻌﺘﺪﻝ ﮨﻮ ﮐﮧ ﺑﭽﮯ ﺳﮯ ﺑﻮﮌﮬﺎ ﺗﮏ ﮨﺮ ﻣﺰﺍﺝ ﮐﺎ ﺷﺨﺺ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮ ﺳﮑﮯ۔ ﺟﺴﮑﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻧﺴﺨﮧ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺗﺒﺪﯾﻞ ﮐﺮﮐﮯ ﺍﺳﮑﻮ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﯾﮩﯿﮟ ﺳﮯ ﺭﻭﺡ ﺍﻓﺰﺍ ﮐﯽ ﺗﯿﺎﺭﯼ ﭘﺮ ﮐﺎﻡ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺍ۔ ﺣﮑﯿﻢ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﺣﺴﻦ ﺧﺎﻥ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺗﻤﺎﻡ ﺣﮑﻤﺖ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺍﺹ، ﺟﮍﯼ ﺑﻮﭨﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﺗﺠﺮﺑﮧ ﺭﻭﺡ ﺍﻓﺰﺍ ﮐﮯ ﻧﺴﺨﮧ ﻭ ﺗﺮﮐﯿﺐ ﻣﯿﮟ ﻣﺰﯾﺪ ﺳﻤﻮ ﺩﯾﺎ۔ ﺍﮔﺮ ﺻﺮﻑ ﺭﻭﺡ ﺍﻓﺰﺍ ﮐﯽ ﺗﯿﺎﺭﯼ ﭘﺮ ﮨﯽ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﮐﮯ ﻟﻘﺐ ﺳﮯ ﻧﻮﺍﺯﺍ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺑﮯﺟﺎ ﻧﮧ ﮨﻮﮔﺎ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﮐﯿﺴﯽ ﺍﻓﺴﻮﺱ ﺍﻭﺭ ﺣﯿﺮﺕ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺷﺨﺺ ﮔﻤﻨﺎﻣﯽ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺑﺴﺮ ﮐﺮﮔﯿﺎ ﻭﺭﻧﮧ ﺑﺠﺎ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺗﻤﻐﮧ ﺣﺴﻦ ﮐﺎﺭ ﮐﺮﺩﮔﯽ ﮐﺎ ﻣﺴﺘﺤﻖ ﺗﮭﺎ ﺍﻧﮉﯾﺎ ﮐﮯ ﮨﻤﺪﺭﺩ ﻭﻗﻒ ﺩﻭﺍﺧﺎﻧﮧ ﻭ ﻟﯿﺒﺎﺭﭨﺮﯾﺰ ﮐﯽ ﻭﯾﺐ ﺳﺎﺋﭧ ﭘﺮ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺗﻌﺎﺭﻑ ﺑﺤﯿﺜﯿﺖ ﺭﻭﺡ ﺍﻓﺰﺍ ﮐﮯ ﺍﻭﻟﯿﻦ ﻧﺴﺨﮧ ﺳﺎﺯ ﮐﯽ ﺣﯿﺜﯿﺖ ﺳﮯ ﺩﺭﺝ ﮨﮯ۔ ﺭﻭﺡ ﺍﻓﺰﺍ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﭼﯿﺪﮦ ﭼﯿﺪﮦ ﺍﺟﺰﺍ ﺍﭘﻨﯽ ﺗﺎﺛﯿﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﮯﻣﺜﻞ ﺗﮭﮯ۔ ﺟﮍﯼ ﺑﻮﭨﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺣﮑﯿﻢ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺗﺨﻢ ﺧﺮﻓﮧ، ﻣﻨﻘﮧ، ﮐﺎﺳﻨﯽ، ﻧﯿﻠﻮﻓﺮ، ﮔﺎﺅﺯﺑﺎﻥ، ﮨﺮﺍ ﺩﮬﻨﯿﺎ ﻭﻏﯿﺮﮦ، ﭘﮭﻠﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﻨﮕﺘﺮﮦ، ﺍﻧﻨﺎﺱ، ﮔﺎﺟﺮ، ﺗﺮﺑﻮﺯ، ﻭﻏﯿﺮﮦ۔ ﺳﺒﺰﯾﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﭘﺎﻟﮏ، ﭘﻮﺩﯾﻨﮧ، ﮨﺮﺍ ﮐﺪﻭ، ﻭﻏﯿﺮﮦ۔ ﭘﮭﻮﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮔﻼﺏ، ﮐﯿﻮﮌﮦ، ﻟﯿﻤﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻧﺎﺭﻧﮕﯽ ﮐﮯ ﭘﮭﻮﻟﻮﮞ ﮐﺎ ﺭﺱ، ﺧﻮﺷﺒﻮ ﺍﻭﺭ ﭨﮭﻨﮉﮎ ﻣﯿﮟ ﺑﮯﻣﺜﺎﻝ ﺧﺲ ﺍﻭﺭ ﺻﻨﺪﻝ ﮐﯽ ﻟﮑﮍﯼ ﻭﻏﯿﺮﮦ۔ ﺍﻥ ﺗﻤﺎﻡ ﺍﺟﺰﺍ ﺍﻭﺭ ﻋﺮﻗﯿﺎﺕ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺧﺎﺹ ﺗﺮﺗﯿﺐ ﺳﮯ ﻣﻼ ﮐﺮ ﺟﻮ ﺷﺮﺑﺖ ﺗﯿﺎﺭ ﮨﻮﺍ، ﻭﮦ ﺑﻼﺷﺒﮧ ﺭﻭﺡ ﺍﻓﺰﺍ ﮐﮩﻼﻧﮯ ﮐﺎ ﮨﯽ ﻣﺴﺘﺤﻖ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﺰﺍﺝ ﮐﮯ ﺍﻋﺘﺒﺎﺭ ﺳﮯ ﯾﮧ ﺑﻠﮑﻞ ﺍﺻﻮﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﺗﮭﺎ ۔ ﻣﮕﺮ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﺟﻮ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯽ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﻃﺐ ﻣﺸﺮﻕ ﭘﺮ ﭼﮭﺎ ﮔﯿﺎ، ﺍﻭﺭ ﺁﺝ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎ ” 110 ﺳﺎﻝ ﮔﺰﺭﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﻘﺒﻮﻟﯿﺖ ﻣﯿﮟ ﮐﻤﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺋﯽ۔

ﻣﺠﮭﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﭙﻦ ﮐﺎ ﺯﻣﺎﻧﮧ ﯾﺎﺩ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺐ ﺟﻮﻥ ﺟﻮﻻﺋﯽ ﮐﯽ ﺗﭙﺘﯽ ﮔﺮﻣﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﭘﮩﺮ ﮐﮯ ﻗﯿﻠﻮﻟﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺷﺎﻡ ﭼﺎﺭ ﭘﺎﻧﭻ ﺑﺠﮯ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﺡ ﺍﻓﺰﺍ ﺗﯿﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﮔﻼﺱ ﺑﺮﻑ ﺳﮯ ﯾﺦ ﺑﺴﺘﮧ ﺧﻮﺷﺒﻮﺩﺍﺭ ﺍﻭﺭ ﺷﯿﺮﯾﮟ ﺭﻭﺡ ﺍﻓﺰﺍ، ﺟﺴﻢ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻋﺠﯿﺐ ﺳﮑﻮﻥ ﺍﻭﺭ ﭨﮭﻨﮉﮎ ﮐﺎ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﺟﮕﺎ ﺩﯾﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﮐﺴﯽ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﺡ ﺍﻓﺰﺍ ﺑﻨﺘﺎ ﺗﻮ ﭘﮍﻭﺱ ﺗﮏ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﮩﮏ ﺟﺎﺗﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﮨﻤﺪﺭﺩ ﺩﻭﺍﺧﺎﻧﮧ ﺍﺟﺰﺍﺀ ﺩﺭﺳﺖ ﺍﻭﺭ ﻣﮑﻤﻞ ﮈﺍﻟﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﻓﻄﺎﺭ ﺍﻭﺭ ﺭﻭﺡ ﺍﻓﺰﺍ ﺗﻮ ﺗﺐ ﺳﮯ ﮔﻮﯾﺎ ﻻﺯﻡ ﻭ ﻣﻠﺰﻭﻡ ﮨﯿﮟ۔ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺳﻮﺗﮯ ﻭﻗﺖ ﺍﯾﮏ ﮔﻼﺱ ﺩﻭﺩﮪ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﻦ ﺑﮍﮮ ﭼﻤﭻ ﺭﻭﺡ ﺍﻓﺰﺍ ﻣﺴﺘﻘﻞ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﺭﻧﮓ ﮔﻮﺭﺍ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ، ﺍﻭﺭ ﺩﻣﺎﻏﯽ ﺳﮑﻮﻥ ﻣﻠﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﺁﺝ ﺑﮭﯽ ﻗﻠﻔﯽ ﺍﻭﺭ ﻓﻠﻮﺩﮦ ﭘﺮ ﺭﻭﺡ ﺍﻓﺰﺍ ﮐﯽ ﮈﺍﭦ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﮐﮭﺎﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﻓﺮﻭﭦ ﮐﺮﯾﻢ ﭼﺎﭦ، ﻓﯿﺮﻧﯽ، ﮐﺴﭩﺮﮈ، ﮐﮭﯿﺮ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺭﻭﺡ ﺍﻓﺰﺍ ﮐﯽ ﺳﺮﺧﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﮩﮏ ﻟﻄﻒ ﺩﻭﺑﺎﻻ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ۔ ﺗﭙﺘﯽ ﮔﺮﻣﯽ ﻣﯿﮟ ﻟﻮ ﺳﮯ ﺑﭽﺎﺅ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺭﻭﺡ ﺍﻓﺰﺍ ﮐﺎ ﺛﺎﻧﯽ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﺗﺮﺑﻮﺯ ﮐﮯ ﺷﺮﺑﺖ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﺡ ﺍﻓﺰﺍ ﺍﻭﺭ ﺗﺨﻢ ﻣﻠﻨﮕﺎ ﺷﺎﻣﻞ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﻧﻔﯿﺲ ﺷﺮﺑﺖ ﺗﯿﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺷﺪﯾﺪ ﮔﺮﻣﯽ ﮐﺎ ﺗﻮﮌ ﮨﮯ۔ ﮐﭽﮫ ﺟﺎﮨﻞ ﻟﻮﮒ ﻟﺴﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺭﻭﺡ ﺍﻓﺰﺍ ﺷﺎﻣﻞ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﮔﺮﻣﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺧﺮﺑﻮﺯﮮ ﯾﺎ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﮔﺮﻣﮯ ﮐﻮ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺳﮯ ﭼﺎﮎ ﮐﺮ ﮐﺮ ﺑﯿﺞ ﻧﮑﺎﻟﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﻣﻠﮏ ﭘﯿﮏ ﺑﺎﻻﺋﯽ ﮈﺍﻟﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺭﻭﺡ ﺍﻓﺰﺍ ﮈﺍﻝ ﮐﺮ ﭼﻤﭽﮯ ﺳﮯ ﮐﮭﺎﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﻣﺰﮦ ﺁﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﺳﭩﺮﺍ ﺑﯿﺮﯾﺰ ﮐﻮ ﮐﺮﯾﻢ ﺍﻭﺭ ﺭﻭﺡ ﺍﻓﺰﺍ ﻣﯿﮟ ﮈﺑﻮ ﮐﺮ ﮐﮭﺎﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﺻﻞ ﻟﻄﻒ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ۔
ﮔﻮ ﯾﮧ ﻣﺸﺮﻭﺏ ﺗﺎﺛﯿﺮ ﻣﯿﮟ ﭨﮭﻨﮉﺍ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺭﻣﻀﺎﻥ ﺧﻮﺍﮦ ﮔﺮﻣﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﮨﻮﮞ ﯾﺎ ﺟﺎﮌﻭﮞ ﮐﮯ، ﺍﻓﻄﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﺡ ﺍﻓﺰﺍ ﺍﯾﮏ ﻻﺯﻣﯽ ﺟﺰ ﮐﯽ ﺣﯿﺜﯿﺖ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﭘﮭﻞ ﻓﺮﻭﺷﻮﮞ ﮐﯽ ﺩﮐﺎﻥ ﭘﺮ ﺁﭖ ﮐﻮ ﻻﺯﻣﯽ ﺭﻭﺡ ﺍﻓﺰﺍ ﺑﮭﯽ ﻣﻠﮯ ﮔﺎ۔ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﻣﻮﺍﻗﻊ ﭘﺮ ﺗﺤﻔﮯ ﺗﺤﺎﺋﻒ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺟﻮ ﭘﮭﻠﻮﮞ ﮐﺎ ﭨﻮﮐﺮﺍ ﺟﺲ ﮐﻮ ﮈﺍﻟﯽ ﺑﮭﯽ ﺑﻮﻻ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ، ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺳﺖ ﺭﻧﮕﮯ ﭘﮭﻠﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺭﻭﺡ ﺍﻓﺰﺍ ﮐﯽ ﺑﻮﺗﻞ ﻻﺯﻣﯽ ﻣﻠﮯ ﮔﯽ۔ ﻣﮩﻨﺪﯼ ﻣﺎﯾﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻘﺮﯾﺐ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯿﺠﯽ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﮈﺍﻟﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺭﻭﺡ ﺍﻓﺰﺍ ﮐﯽ ﺑﻮﺗﻠﻮﮞ ﮐﯽ ﺟﻮﮌﯼ ﻻﺯﻣﯽ ﺳﺠﺎﺋﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﺍﺏ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﯿﺲ ﭘﭽﯿﺲ ﺑﺮﺱ ﻗﺒﻞ ﮨﻤﺪﺭﺩ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﻭﺡ ﺍﻓﺰﺍ ﮐﮯ ﺍﺷﺘﮩﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﺩﻋﻮﯼٰ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﺏ ﺗﮏ ﺍﺱ ﻣﺸﺮﻭﺏ ﮐﯽ ﺍﺗﻨﯽ ﺑﻮﺗﻠﯿﮟ ﺗﯿﺎﺭ ﮐﺮ ﭼﮑﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺍﻥ ﺑﻮﺗﻠﻮﮞ ﮐﻮ ﻗﻄﺎﺭ ﺳﮯ ﺯﻣﯿﮟ ﭘﺮ ﺭﮐﮭﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﭘﻮﺭﮮ ﮐﺮﮦ ﺍﺭﺽ ﮐﮯ ﮔﺮﺩ ﺍﯾﮏ ﺣﻠﻘﮧ ﻣﮑﻤﻞ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ۔

ﺍﻓﺴﻮﺱ ﮐﮧ ﺍﺏ ﺭﻭﺡ ﺍﻓﺰﺍ ﮐﯽ ﻧﮧ ﻭﮦ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﻭﮦ ﻣﻌﯿﺎﺭ۔ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﺣﮑﯿﻢ ﺳﻌﯿﺪ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺗﮏ ﺗﮏ ﺭﻭﺡ ﺍﻓﺰﺍ ﺑﮩﺮﺣﺎﻝ ﺍﭘﻨﺎ ﻣﻌﯿﺎﺭ ﺍﯾﮏ ﺣﺪ ﺗﮏ ﺑﺮﻗﺮﺍﺭ ﺭﮐﮭﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﺎ، ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺭﻭﺡ ﺍﻓﺰﺍ ﺑﮭﯽ ﮔﻮﯾﺎ ﺍﭘﻨﯽ ﺭﻭﺡ ﺳﮯ ﻣﺤﺮﻭﻡ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺗﻮﻭﺟﮧ ﯾﮧ ﭘﯿﺶ ﮐﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺭﻭﺡ ﺍﻓﺰﺍ ﮐﯽ ﺗﯿﺎﺭﯼ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮐﭽﮫ ﺍﺟﺰﺍ ﺍﺏ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﻣﮩﻨﮕﮯ ﺩﺍﻣﻮﮞ ﻣﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﺴﮑﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺍﻧﮑﻮ ﮨﻤﺪﺭﺩ ﺩﻭﺍﺧﺎﻧﮧ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﭽﮫ ﺍﺟﺰﺍ ﮐﻮ ﻏﺎﻟﺒﺎ ﺑﮭﺎﺭﺕ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﻣﭙﻮﺭﭦ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔