Category Archives: Urdu Articles

ٹیپو سلطان – دین میں سختی خاندان رائے بریلی سے روحانی تعلق کا اثر

[مولانا الیاس ندوی]

دنیا کی مختلف زبانوں میں اب تک سلطان ٹیپو پر متعدد کتابیں مختلس انداز اور پہلووں سے لکھی گیئ ہیں ہندوستان کی تمام تاریخی شخصیات میں تنہا ٹیپو سلطان کی ذات ایسی ہے کہ اس کے متعلق لکھنے والوں کی اکثریت اس کی ہم مذہب نہیں ہے اس لی ذاتی زندگی و سیرت کا جائزہ لینے والے مصنفین و مؤرخین اس بات پر متفق پیں کہ سلطان اپنی غیر معمولی مذہبی رواداری کے باوجود اپنے مذہب سے بڑی عقیدت و محبت رکھتا تھا اور وہ اس کا ایک سچا و مخلص پیرو تھا اسلامہ تعلیمات پر عمل کے سلسلہ میں وہ اپنی ذات کے علاوہ عام مسلمانوں کے لئے بھی کسی رعایت تخفیف یا نرمی کا قائل نہیں تھا لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ کسی بھی مصنف یا مؤرخ نے اب تک باقعدہ اس بات کا پتہ لگانے کی کوشش نہیں کی کہ سلطان ٹیبو کے اندر اس قدر دینداری و طقوی اسلام پسندی اور مذہبی سختی کہاں سے آئی کے اپنی رعایا کہ ایک بڑے طبقہ کی ناراضگی کے بوجود اس نے جاہلی خرافات و بدعات کے سلسلہ میں کسی چھوٹ سے ساف انکار کیا حالانکہ مذہب کہ معاملہ میں اس لے والد حیدر علی ذاتی طور پر زیادہ سخت نہیں تھے اس کا خاندان صحیح روایات کے متابق عرب کے قبیلہ قریش سے تعلق رکھنے کے بوجود سالوں سے ہندؤوں کے ساتھ اس ملک ہیں رہنے کی ہجہ سے کسی بڑے دینی مزاج یا اسلامی اسپرٹ کا حامل نہیں رہ گیا تھا خود اسکی جائے پیدائش دیون ہلی میں جہاں اس نے اپنا بچپن گزارا کوئی ایسا دینی ماحول یا اسلامی معاشرہ نہیں پایا جاتا تھا جس کی بناء پر ہم کہ سکیں کہ شاید اس ماحول کا اس پر اثر ہوا ہو تلاش بسیار کے بعد راقم الحروف کو مقدومی حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی دامت برکاتہم کے اشارہ پر کتب خانہ شبلی ندوةا لعماء لکھنو میں موجود رائے بریلی کے حسنی خاندان کے ذاتی خاندانی ذخیرہ کتب میں جس میں سر فہرست سید حیدر علی ٹونکی کا مخطوطہ وقائعاحمدی تھا اسکا سرا مل گیا اور وہ یہ کہ بر صغیر کی سبسے بڑی عظیم تحریک جہادو احیاء خلافت کے بانی امیر الؤ منین فی الہند حضرت سید احمد شہید کے حقیقی نانا شاہ ابو سعید صاحب اور انکے فرزند شاہ ابو اللیث صاحب سے ٹیپو کا روحانی تعلق قائم تھا اور ان دونوں بزرگوں کو اس خاندان میں روحانی مرشد و سرپرست  کی حیثیت حاصل تھی یہ پورہ خاندان سلسلہ نقشبندیہ میں شاہ ابو اللیث صاحب سے بعیت تھا اور اس خدار سیدہ خاندان کے روحانی اثرات اور انکی آرزوں و تمناؤں کی روح سلطان ٹیپو کے جسم و جان میں کام کر رہی تھی سلطنت میں محرم کی رسومات کے سلسلہ میں ٹیپو کی سختی تجارتی و روایتی پیری مریدی پر اسکی روک بھی ان ہی بزرگوں کی صحبت کئ اثر سے تھی جن کا پورا خاندان اس سلسلہ میں اس وقت پورے ملک ہیں شہرت رکھتا تھا ورنہ ملک کے اس زمانہ کے عام حالات اور مسلم عوام کے جاہلی رسومات و بدعات کی طرف گیر معمولی رحجان کو دیکھتے ہوئے ٹیپو کلیئے اسپر روک لگانا اتنا آسان نہیں تھا شاہ ابو سعید صاحب مع اپنے بیٹے شاہ ابو للیث صاحب کے تبلیغ و اصلاح کی نیت سے شمالی ہند سے ہزاروں میل کا فاصلہ طے کرکے جنوب مغرب میں نواب حیدر علی کے زمانہ میں سلطنت خداداد میسور تشریف لائے تھے جھاں  ان کے ہاتھوں ہزاروں مسلمانوں نے بعیت کی تھی شاہ ابو للیث صاحب جب فریضہ حج کی ادائیگی کے بعد اپنے وطن رائے بریلی تشریف لائے تو اس کے بعد انہوں نے مستقل سلطنت خداداد ہی میں قیام کیا اور وہیں رہ کر آپ نے سلطانی خاندان کی دینی و روحانی رہنمائی کی- آپ کا قیام مغربی ساہلی شہر منگلور میں تھا جس کا اس وقت نام کوڑیال بندر تھا وہیں 1208 ہجری مطابق 1793 عیسوی مہں سلطان کی شہادت سے چھ سال قبل آپ کی وفات بھی ہویئ البتہ شاہ ابو سعید کا انتقال 1193 ہجری میں اپنے وطن رائے بریلی میں ہی ہوا-

1822 عیسوی میں جب حضرت سید احمد شہید رحمااللہ یعنی شاہ ابو اللیث صاحب کے بھانجے مع اپنے قافلہ کے حج کے ارادہ سے مکہ جاتے ہوئے کلکتہ ہیں تین ماہ رکے وہ اس وقت کلکتہ کے ٹالیگنج محلہ میں مقیم سلطان ٹیپو کے جلا وطن شہزادوں اور انکی والدہ کو اس کی اطلاع ہوئی بیگم ٹیپو کو اسکا علم تھا کہ انکے شوہر ٹیپو اور خسر نواب حیدر علی کا رائے بریلی کے حسنی خاندان کے بزرگوں شاہ ابو سعید صاحب و شاہ ابو اللیث صاحب سے روحانی تعلق تھا اور یہ دونوں ان سے سلسلہ نقشبندیہ میں مرید تھے اس نے اپنے ایک آدمی محمد قاسم کو سید صاحب کی خدمت میں دریافت حال کیلئے بھیجا کہ وہ معلوم کرے کہ یہ سید صاحب کس کی اولاد میں سے ہیں اگر انکا شاہ ابو سعید صاحب و شاہ ابو اللیث صاحب کے خاندان ہی سے تعلق ہو تو ہم بھی اسے قدم بوسی کریں سید صاحب نے کہلوایا کہ حضرت شاہ ابو سعید صاحب تو ہمارے حقیقی نانا اور شاہ ابو اللیث صاحب ہمارے ماموں تھے اس کے پعد سید صاحب نے بیگم ٹیپو کی درخواست پر تمام شہزادوں سے بعیت لی خود بیگم ٹیپو اور سلطان لی ایک لوتی بیٹی بھی دیگر شاہی خواتین کے ساتھ بعیت لےنے والوں میں شامل تھیں بیگم ٹیپو بڑہ ہی ذاکرہ و متقیہ خاتون تھی سید صاحب کی توجہ و فیض سے اس کو مزید روحانی کمال حاصل ہو گیا تھا سلطان کے بعض شہزادوں کے عقائد میں ان کے ایک دہریہ استاذ مولوی عبد الرحیم کی صحبت سے بڑی تبدیلی پیدا ہوکئی تھی لیکن سید صاحب کے حکم سے بیگم ٹیپو نے شہزادوں کو آئندہ پڑھانے سے مولوی عبد الرحیم کو روک دیا تھا-   

علماء دیوبند ﻣﻔﺘﯽ ﺭﺷﯿﺪ ﺍﺣﻤﺪ ﮔﻨﮕﻮﮨﯽ ﺭﺣﻤﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﭘﮧ اعتراض (ﮐﮧ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺩﯾﻮﺍﻟﯽ ﮐﯽ ﻣﭩﮭﺎﺋﯽ ﮐﻮ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺟﺎﺋﺰ ﮐﮩﺎ ﮨﮯ) کا جواب

سوال:

ﺑﺮﯾﻠﻮﯼ ﺣﻀﺮﺍﺕ، ﻣﻔﺘﯽ ﺭﺷﯿﺪ ﺍﺣﻤﺪ ﮔﻨﮕﻮﮨﯽ ﺭﺣﻤﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﭘﮧ ﺍﻟﺰﺍﻡ ﻟﮕﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺩﯾﻮﺍﻟﯽ ﮐﯽ ﻣﭩﮭﺎﺋﯽ ﮐﻮ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺟﺎﺋﺰ ﮐﮩﺎ ﮨﮯ ، ‏
(ﻓﺘﺎﻭﯼ ﺭﺷﯿﺪﯾﮧ ﺹ : 575‏)

ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﺍﻟﺰﺍﻡ ﻟﮕﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻓﺎﺗﺤﮧ ﮐﯽ ﺷﺮﺑﺖ ﺍﻭﺭ ﻣﭩﮭﺎﺋﯽ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﻧﺎﺟﺎﺋﺰ ﮨﮯ۔
‏(ﻓﺘﺎﻭﯼ ﺭﺷﯿﺪﯾﮧ ﺹ 120:‏) ۔

ﺑﺮﺍﺋﮯ ﻣﮩﺮﺑﺎﻧﯽ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻭﺿﺎﺣﺖ ﮐﺮﯾﮟ۔ ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﺻﺤﯿﺢ ﮨﮯ؟

جواب:

‏(ﺍﻟﻒ) ﻓﺘﺎﻭﯼ ﺭﺷﯿﺪﯾﮧ ﻣﯿﮟ ﻏﯿﺮ ﻣﺴﻠﻢ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﮨﻮﻟﯽ ﯾﺎ ﺩﯾﻮﺍﻟﯽ ﮐﮯ ﻣﻮﻗﻊ ﭘﺮ ” ﺑﮧ ﻃﻮﺭ ﺗﺤﻔﮧ “ ﺟﻮ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﺑﮭﯿﺠﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﺣﮑﻢ ﺷﺮﻋﯽ ﺩﺭﯾﺎﻓﺖ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ، ﺣﻀﺮﺕ ﮔﻨﮕﻮﮨﯽ ﺭﺣﻤﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﺩﺭﺳﺖ ﻟﮑﮭﺎ ﮨﮯ، ﻇﺎﮨﺮ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺣﺮﺍﻡ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﻭﺟﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ؛ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﮧ ﯾﮧ ” ﭼﮍﮬﺎﻭﺍ “ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ، ﻋﺎﻡ ” ﺗﺤﻔﮧ “ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ، ﺍﮔﺮ ” ﭼﮍﮬﺎﻭﺍ “ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺣﺮﺍﻡ ﮨﻮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﺒﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔

(ﺏ‏) ﻓﺘﺎﻭﯼ ﺭﺷﯿﺪﯾﮧ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻓﺎﺗﺤﮧ ﮐﯽ ﺷﺮﺑﺖ ﺍﻭﺭ ﻣﭩﮭﺎﺋﯽ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺟﺎﺋﺰ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ، ﺍﺱ ‏( ﺹ : ‏) ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﯾﮧ ﻟﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ” ﻣﺤﺮﻡ ﻣﯿﮟ ﺫﮐﺮ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﺣﺴﯿﻦ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﺮﻧﺎ ﺍﮔﺮ ﭼﮧ ﺑﺮﻭﺍﯾﺎﺕ ﺻﺤﯿﺤﮧ ﮨﻮ ﯾﺎ ﺳﺒﯿﻞ ﻟﮕﺎﻧﺎ ﺷﺮﺑﺖ ﭘﻼﻧﺎ ﯾﺎ ﭼﻨﺪﮦ ”ﺳﺒﯿﻞ“ ﺍﻭﺭ ﺷﺮﺑﺖ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﻨﺎ ﯾﺎ ﺩﻭﺩﮪ ﭘﻼﻧﺎ ﺳﺐ ﻧﺎﺩﺭﺳﺖ ﺍﻭﺭ ﺗﺸﺒﮧ ﺭﻭﺍﻓﺾ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺣﺮﺍﻡ ﮨﯿﮟ“ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺷﮑﺎﻝ ﮨﻮﺗﻮ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﮐﺮﯾﮟ۔

ضمیمہ

سوال: غیر مسلموں کے تہوار جیسے ہولی، دیوالی، کرسمس ڈے، کے موقع پر ان کی طرف سے بھیجی گئی مٹھائی کھانا، یا کوئی اور تحفہ لینا جائز ہے یا نہیں؟

الجواب بتوفیق اللہ تعالٰی:

غیر مسلموں کے تہوار کے موقع پر ان کی طرف سے بھیجی گئی مٹھائی کھانا، یا کوئی اور تحفہ لینا جائز ہے، چنانچہ ……

ابن تیمیہ کہتے ہیں:

“کفار کی عید کے دن ان سے تحائف قبول کرنے کے بارے میں: حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نوروز کے دن انہیں تحفہ دیا گیا تو آپ نے اسے قبول کر لیا۔

اور مصنف ابن ابی شیبہ میں روایت ہے کہ:

“ایک عورت نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے استفسار کیا: ہمارے بچوں کو دودھ پلانے والی کچھ مجوسی خواتین ہیں، اور وہ اپنی عید کے دن تحائف بھیجتی ہیں، تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ: “انکی عید کے دن ذبح کئے جانے والے جانور کا گوشت مت کھاؤ، لیکن نباتاتی اشیاء (پھل فروٹ) کھا سکتے ہو”

ان تمام روایات سے پتا چلتا ہے کہ کفار کی عید کے دن ان کے تحائف قبول کرنے میں  کوئی حرج نہیں ہے، چنانچہ عید یا غیر عید میں انکے تحائف قبول کرنے کا ایک ہی حکم ہے،

کیونکہ اس کی وجہ سے انکے کفریہ نظریات پر مشتمل شعائر کی ادائیگی میں معاونت (مدد) نہیں ہوتی”

البتہ کفار کی عید کے دن ان کو ہدیہ دینے حرام ہے، کیونکہ یہ انکے کفریہ نظریات اور عقائد پر رضامندی کا اظہار اور معاونت ہے، جو کہ حرام ہے،

یعنی غیر مسلموں کے تہوار پر ان کا تحفہ لے تو سکتے ہیں، لیکن انکو دے نہیں سکتے،

اس کے بعد ابن تیمیہ نے متنبہ کرتے ہوئے بتلایا کہ اہل کتاب کا ذبیحہ اگرچہ حلال ہے، لیکن جو انہوں نے اپنی عید کے لئے ذبح کیا ہے وہ حلال نہیں ہے، چنانچہ: “اہل کتاب کی طرف سے عید کےدن  ذبح کیے جانے والے جانور کے علاوہ انکے [نباتاتی] کھانے یعنی پھل فروٹ دال سبزی وغیرہ خرید کر یا ان سے تحفۃً لیکر کھائے جا سکتے ہیں۔

جبکہ مجوسیوں کے ذبیحہ کا حکم معلوم ہے کہ وہ سب کے ہاں حرام ہے،

خلاصہ یہ ہوا کہ: غیر مسلموں سے تحفہ قبول کر سکتے ہیں، لیکن اس کی کچھ شرائط ہیں:

1-  تحفہ (اگرجانور کے گوشت کی صورت میں ہے) تو شرط یہ ہے کہ انہوں نے اپنی عید کیلئے ذبح نہ کیا ہو،

2- اور اس تحفے کو انکی عید کے دن  کی مخصوص  رسومات میں استعمال نہ کیا جا تا ہو، مثلا: موم بتیاں، انڈے، اور درخت کی ٹہنیاں وغیرہ۔

3- تحفہ قبول کرتے وقت آپ اپنی اولاد کو عقیدہ ولاء اور براء کے بارے میں لازمی وضاحت سے بتلائیں، تا کہ ان کے دلوں میں عید  یا تحفہ دینے والے کی محبت گھر نہ کرجائے۔

4- تحفہ قبول کرنے کا مقصد اسلام کی دعوت اور اسلام کیلئے اسکا دل نرم کرنا ہو، محبت اور پیار مقصود نہ ہو۔

5- اور اگر تحفہ ایسی چیز پر مشتمل ہو کہ اسے قبول کرنا جائز نہ ہو تو تحفہ قبول نہ کرتے  وقت انہیں اسکی وجہ بھی بتلا دی جائے، اس کیلئے مثلاً کہا جا سکتا ہے کہ:

“ہم آپ کا تحفہ اس لئے قبول نہیں کر رہے کہ یہ جانور  آپکی عید کے لیے ذبح کیا گیا ہے، اور ہمارے لئے یہ کھانا جائز نہیں ہے”

یا یہ کہے کہ: “اس تحفے کو وہی قبول کر سکتا ہے جو آپکے ساتھ آپکی عید میں شریک ہو، اور ہم آپکی عید نہیں مناتے، کیونکہ ہمارے دین میں یہ جائز نہیں ہے، اور آپکی عید میں ایسے نظریات پائے جاتے ہیں جو ہمارے ہاں درست نہیں ہیں” یا اسی طرح  کے ایسے جواب دیے جائیں جو انہیں اسلام کا پیغام سمجھنے کا سبب بنیں، اور  انکے کفریہ نظریات کے خطرات سے آگاہ کریں۔

فائدہ: ہر مسلمان کیلئے ضروری ہے کہ اپنے دین پر فخر  کرے، دینی احکامات کی پاسداری کرتے ہوئے باعزت بنے، کسی سے شرم کھاتے ہوئے یا ہچکچاتے ہوئے یا ڈرتے ہوئے ان احکامات  کی تعمیل سے دست بردار نہ ہو، کیونکہ اللہ تعالی سے شرم کھانے اور ڈرنے کا حق زیادہ ہے۔

مفتی معمور-بدر مظاہری، قاسمی (اعظم-پوری)

امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ پر کئے جانے والے اعتراض کا تحقیقی جائزہ

(ایک بہت بڑی غلط فہمی کا ازالہ)

ہمارے زمانے کے اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ فقہ حنفی کسی ایک شخص کے اخذ کردہ مسائل کا نام ہے، جب کہ اس بات کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں،

فقہ حنفی، فقہاءِ احناف کے قرآن و حدیث سے اخذ کردہ اُن مسائل کا نام ہے جو مفتیٰ بہ ہیں(یعنی جن مسائل پر فتویٰ دیا گیا ہے) اور فقہاء احناف کے درخشندہ ستاروں میں امام ابو حنیفہ، امام ابو یوسف، امام محمد بن حسن ، امام زفراور امام حسن بن زیاد رحمھم اللہ تعالیٰ ہیں۔

اب جب فقہ حنفی کسی ایک شخصیت کا نام نہیں تو کسی ایک حنفی کی بات کو پوری فقۂ حنفی کی طرف منسوب کردینا جہالت کے سوا کچھ نہیں ہوگا، لیکن اس کے باوجود لوگ تواتر کیساتھ اس قسم کے لغو اعتراضات کرتے رہتے ہیں۔

مذکورہ بالا بات اگر اچھی طرح ذہن نشین کر لی جائے تو بہت سے مسائل پیدا ہی نہیں ہوسکیں گے۔

امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ پر کئے جانے والے اعتراضات

امام اعظم رحمہ اللہ پر بہت اعتراضات کئے گئے ہیں، جن میں سے چند بظاہروزنی نظر آنے والے اعتراضات مع اُنکے جوابات کے زینتِ قرطاس کئے جاتے ہیں،

(۱) امام اعظم رحمہ اللہ پر ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے، اُن کی روایات صحاح ستّہ (حدیث کی چھ مشہور کتابوں) میں موجود نہیں ہیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ائمہ ستّہ کے نزدیک قابل استدلال نہیں تھے۔

یہ ایک انتہائی سطحی اور عامیانہ اعتراض ہے، اِن ائمہ حضرات کا کسی جلیل القدر امام سے روایات کو اپنی کتاب میں درج نہ کرنا ، اُس امام کے ضعیف ہونے کو لازم نہیں، کھلی ہوئی بات یہ ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے امام شافعی رحمہ اللہ کی بھی کوئی روایت نہیں لی ہے، بلکہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ جو امام بخاری کے استاذ ہیں، اور امام بخاری نے جنکی صحبت اٹھائی ہے، اُن کی بھی پوری صحیح بخاری میں صرف دو روایتیں ہیں ، ایک روایت تعلیقاً منقول ہے اور دوسری روایت امام بخاری نے کسی واسطہ سے نقل کی ہے، اسی طرح امام مسلم رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں امام بخاری سے کوئی روایت نقل نہیں کی ،حالانکہ وہ اُنکے استاذ ہیں ، نیز امام احمد رحمہ اللہ نے اپنی مسند میں امام مالک کی صرف تین روایات ذکر کی ہیں ، حالانکہ امام مالک کی سند اصحّ الاسانید شمار کی جاتی ہے، اب کیا اس سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ امام شافعی، امام مالک اور امام احمد رحمہم اللہ تینوں ضعیف ہیں؟؟؟

اس معاملہ میں حقیقت وہ ہے جو علامہ زاہد الکوثری نے’’شروط الائمۃ الخمسۃ للحازمی‘‘ کے حاشیہ پر لکھی ہے کہ در حقیقت ائمہ حدیث کے پیشِ نظر یہ بات تھی کہ وہ اُن احادیث کو زیادہ سے زیادہ محفوظ کر جائیں، جن کے ضائع ہونے کا خطرہ تھا، بخلاف امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد رحمہم اللہ جیسے حضرات کہ اِن کے تلامذہ اور مقلدین کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ اُن کی روایات کے ضائع ہونے کا اندیشہ نہ تھا، اس لئے انہوں نے اس کی حفاظت کی زیادہ ضرورت محسوس نہ کی۔

١ امام ابو حنیفہ پر ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ حافظ شمس الدین ذہبی رحمہ اللہ نے ’’ میزان الاعتدال فی اسماء الرجال‘‘ میں امام ابو حنیفہ کا تذکرہ اِن الفاظ میں کیا ہے،

’’النعمان بن ثابت الکوفی امام اھل الرائ ضعفہ النسائی وابن عدی والدارقطنی واٰخرون‘‘

ترجمہ: نعمان بن ثابت کوفی (رحمہ اللہ) اہل رائے کے امام ہیں ،جنہیں امام نسائی، ابن عدی ، دار قطنی اور دوسرے حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے۔

میزان الاعتدال میں یہ عبارت بلاشبہ الحاقی ہے یعنی مصنف نے خود نہیں لکھی، بلکہ کسی اور شخص نے اِسے حاشیہ پر لکھا اور بعد میں یہ متن میں شامل ہوگئی یا تو کسی کاتب کی غلطی سے یا جان بوجھ کر داخل کی گئی، اس کے دلائل مندرجہ ذیل ہیں:

١ حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے میزان الاعتدال کے مقدمہ میں یہ تصریح فرمائی ہے کہ اِس کتاب میں اُن بڑے بڑے ائمہ کا تذکرہ نہیں کروں گا ،جن کی جلالتِ قدر حدّتواتر کو پہنچی ہوئی ہے، خواہ اُن کے بارے میں کسی شخص نے کوئی کلام بھی کیا ہو، پھر اُن بڑے بڑے ائمہ کی مثال میں امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا نام بھی انھوں نے صراحۃً ذکر کیا ہے، پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ انہوں نے اِس کتاب میں امام صاحب کا ذکر کیا ہو۔

۲ پھر جن بڑے بڑے ائمہ کا تذکرہ حافظ ذہبی نے میزان الاعتدال میں نہیں کیا ، اُن حضرات کے تذکرہ کیلئے انہوں نے ایک مستقل کتاب ’’تذکرۃ الحفاظ‘‘ لکھی ہے ، اور اس کتاب میں امام اعظم ابو حنیفہ کا نہ صرف تذکرہ موجود ہے، بلکہ انکی بڑی مدح و توصیف بیان کی گئی ہے، جیسا کہ حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ’’تذکرۃالحفاظ‘‘ کی جلد اول، صفحہ ۱۹۵ پر اپنی سند سے سفیان بن عیینہ کا قول ذکر کیا ہے، وہ فرماتے ہیں،

’’لم یکن فی زمان ابی حنیفۃ بالکوفۃ رجل افضل منہ واورع ولا افقہ عنہ‘‘

(یعنی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے زمانے میں کوئی شخص ایسا نہیں تھا، جو اُن سے زیادہ فضیلت وتقویٰ والا ہو، اور اس وقت اُن جیسا کوئی فقیہ بھی نہیں تھا۔)

اور حافظ ذہبی ہی نے صفحہ ۱۶۰ پر امام ابو داؤد رحمہ اللہ کا قول ذکر کیا ہے کہ

’’ ان ابا حنیفة کان اماما‘‘

(یعنی ابو حنیفہ رحمہ اللہ، وہ تو امام تھے۔)

﴿۳﴾ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’’لسان المیزان‘‘ کو میزان الاعتدال پر ہی مبنی کیا ہے، یعنی جن رجال کا تذکرہ میزان الاعتدال میں نہیں ہے، اُن کا تذکرہ لسان المیزان میں بھی نہیں ہے، سوائے چند ایک کے اور لسان المیزان میں امام ابو حنیفہ کا تذکرہ موجود نہیں ، یہ اس بات کی صریح دلیل ہے کہ امام ابو حنیفہ کے بارے میں یہ عبارت اصل میزان الاعتدال میں بھی نہیں تھی بعد میں بڑھا دی گئی۔

۴ شیخ عبد الفتاح ابو غدّہ الحلبی رحمہ اللہ نے ’’الرفع و التکمیل‘‘ کے حاشیہ کے صفحہ ۱۰۱ پر لکھا ہے کہ ’’میں نے دمشق کے مکتبہ ظاہریہ میں میزان الاعتدال کا ایک نسخہ دیکھا ہے (تحت الرقم ۳۶۸حدیث) جو پورا کا پورا حافظ ذہبی رحمہ اللہ کے ایک شاگرد علامہ شرف الدین الوانی کے قلم سے لکھا ہوا ہے اور اس میں یہ تصریح ہے کہ میں نے یہ نسخہ اپنے استاد حافظ ذہبی کے سامنے تین مرتبہ پڑھا اور ان کے مسودہ سے اس کا مقابلہ کیا ، اس نسخہ میں امام ابو حنیفہ کا تذکرہ موجود نہیں ہے ۔

اسی طرح حضرت شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی صاحب دام ظلکم العالی نے فرمایا کہ میں نے مراکش کے دار الحکومت رباط کے مشہور کتب خانہ ’’الخزانة العامرہ‘‘ میں ۱۳۹ ق نمبر کے تحت ’’میزان الاعتدال‘‘ کا ایک قلمی نسخہ دیکھا ، جس پر حافظ ذہبی کے بہت سے شاگردوں کے پڑھنے کی تاریخیں درج ہیں اور اس میں یہ بھی تصریح ہے کہ کہ حافظ ذہبی رحمہ اللہ کے ایک شاگرد نے اُن کے سامنے اُن کی وفات سے صرف ایک سال پہلے اسے پڑھا تھا، اس نسخہ میں بھی امام ابو حنیفہ کا تذکرہ موجود نہیں، یہ اس بات کا دستاویزی ثبوت ہے کہ امام ابو حنیفہ کے بارے میں یہ عبارت کسی نے بعد میں بڑھائی ہے ، اصل نسخہ میں موجود نہیں تھی ، لہٰذا ثابت ہوگیا کہ حافظ ذہبی کا دامن امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی تضعیف اور تنقیص کے الزام سے بالکل پاک ہے۔

حافظ ذہبی رحمہ اللہ ایسی بات لکھ بھی کیسے سکتے ہیں جبکہ خود انہوں نے ایک مستقل کتاب امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے مناقب پر لکھی ہے۔

پھر جہاں تک حافظ ابن عدی کا تعلق ہے، بے شک وہ شروع میں امام ابو حنیفہ کے مخالف تھے، لیکن بعد میں جب وہ امام طحاوی رحمہ اللہ کے شاگرد بنے تو امام اعظم کی عظمت اور جلالتِ قدر کا احساس ہوا، چنانچہ انہوں نے اپنے سابقہ خیالات کی تلافی کیلئے مسندِ ابی حنیفہ تحریر فرمائی، لہٰذا اُن کے سابقہ قول کو امام صاحب کے خلاف حجت میں پیش کرنا قطعاً درست نہیں۔

(فائدہ) مسند ابی حنیفہ کے نام سے سترہ یا اس زائد کتابیں لکھی گئیں، جن کو بعد میں علامہ ابن خسرو رحمہ اللہ نے ’’جامع مسانید الامام الاعظم‘‘ کے نام سے جمع کردی ہیں۔

(۳) امام اعظم رحمہ اللہ پر ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ امام نسائی نے اپنی کتاب’’الضعفاء‘‘ میں امام ابو حنیفہ کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ

’’نعمان بن ثابت ابو حنیفہ لیس بالقوی فی الحدیث‘‘ (یعنی نعمان بن ثابت ابو حنیفہ رحمہ اللہ حدیث کے معاملہ میں قوی نہیں تھے۔)

اس کا جواب یہ ہے کہ علماء نے جرح و تعدیل کے کچھ قاعدے مقرر کئے ہیں ، اور کسی راوی کے بارے میں جرح و تعدیل کا فیصلہ کرتے ہوئے اُن قواعد کو مد نظر رکھنا نہایت ضروری ہے ورنہ کسی بڑے سے بڑے محدث کی بھی عدالت و ثقاہت ثابت نہ ہو سکے گی ، کیونکہ تمام بڑے بڑے ائمہ پر کسی نہ کسی کی جرح ضرور موجود ہے ، چنانچہ امام شافعی پر یحییٰ بن معین نے ، امام احمد پر امام کرابیسی نے ، امام بخاری پر ذہلی نے اور امام اوزاعی پر امام احمد نے جرح کی ہے ، اگر اِن تمام اقوال کا اعتبار کیا جائے تو ان میں سے کوئی بھی ثقہ قرار نہیں پاسکتا ، انتہاء یہ ہے کہ ابن حزم نے امام ترمذی اور امام ابن ماجہ جیسے حضرات کو مجہول کہا ہے ،اور خود امام نسائی پر اتنے ہی علماء نے تشیّع (شیعہ) کا الزام کیا ہے اور اسی بناء پر انہیں مجروح کہا ہے ۔

حقیقت یہ ہے کہ علماء نے جرح و تعدیل میں کچھ اصول مقرر فرمائے ہیں ، اِ ن میں سے پہلا اصول یہ ہے کہ جس شخص کی امامت و عدالت حدّ تواتر کو پہنچی ہوئی ہو، اُس کے بارے میں ایک دو افراد کی جرح معتبر نہیں ، اورامام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی عدالت و امامت بھی حدّ تواتر کو پہنچی ہوئی ہے ، بڑے بڑے ائمہ حدیث نے آپ کے علم و تقویٰ کو خراج تحسین پیش کیا ہے ، اس لئے امام صاحب پر بھی آحاد کی جرح ہرگز معتبر نہیں۔

اس جواب پر ہمارے زمانے کے بعض جہلاء یہ اعتراض کرتے ہیں کہ محدثین کا معروف قاعدہ ہے کہ ’’الجرح مقدم علی التعدیل‘‘ (یعنی جرح تعدیل پر مقدم ہوتی ہے) لہٰذا جب امام صاحب کے بارے میں جرح و تعدیل دونوں منقول ہیں تو جرح راجح ہوگی، لیکن یہ اعتراض جرح و تعدیل کے اصول سے ناواقفیت پر مبنی ہے کیونکہ ائمہ حدیث نے اِس بات کی تصریح کی ہے کہ’’الجرح مقدم علی التعدیل‘‘ کا قاعدہ مطلق نہیں ، بلکہ چند شرائط کے ساتھ مقید ہے، اس کی تفصیل یہ ہے کہ اگر کسی راوی کے بارے میں جرح اور تعدیل کے اقوال متعارض ہوں ،ان میں ترجیح کے لئے علماء نے اوّلاً دو طریقے اختیار کئے ہیں، پہلا طریقہ جو کہ جرح و تعدیل کے دوسرے اصول کی حیثیت رکھتا ہے ،اُسے خطیب بغدادی نے ’’الکفایۃ فی اصول الحدیث والروایۃ‘‘ میں یہ بیان کیا ہے کہ
’’ایسے مواقع پر یہ دیکھا جائے گا کہ جارحین کی تعداد زیادہ ہے یا معدلین کی، جس کی طرف تعداد زیادہ ہوگی ، اُسی جانب کو اختیار کیا جائے گا ۔‘‘

شافعیہ میں سے علامہ تاج الدین سبکی رحمہ اللہ بھی اسی کے قائل ہیں ، اگر یہ طریقِ کار اختیار کیا جائے تب بھی امام ابو حنیفہ کی تعدیل میں کوئی شبہ نہیں رہتا ، کیونکہ امام صاحب پر جرح کرنے والے صرف معدودے چند افراد ہیں ،جن میں ایک نام حافظ ابن عدی رحمہ اللہ کا ہے، اور یہ تحریر کیا جا چکا کہ ابن عدی امام طحاوی کے شاگرد بننے کے بعد امام اعظم کی عظمت کے قائل ہوچکے تھے۔

اور دوسری طرف امام صاحب کے مادّحین اتنی بڑی تعداد میں ہیں کہ اُن کو گِنا بھی نہیں جاسکتا، نمونہ کے طور پر ہم چند اقوال پیش کرتے ہیں،
علمِ جرح و تعدیل کے سب سے پہلے عالم، جنہوں نے سب سے پہلے رجال پر باقاعدہ کلام کیا ،وہ امام شعبہ ابن الحجاج رحمہ اللہ ہیں ، جو امیر المؤمنین فی الحدیث کے لقب سے مشہور ہیں، وہ امام ابو حنیفہ کے بارے میں فرماتے ہیں ’’کان واﷲ ثقة ثقة‘‘ (یعنی میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں کہ وہ ثقہ تھے)

جرح و تعدیل کے دوسرے بڑے امام یحییٰ بن سعید القطّان ہیں ، یہ خود امام ابو حنیفہ کے شاگرد ہیں ، اور حافظ ذہبی نے ’’تذکرۃالحفاظ‘‘ میں اور حافظ ابن عبد البر رحمہ اللہ نے ’’الانتقاء‘‘ میں نقل کیا ہے کہ وہ امام ابو حنیفہ کے اقوال پر فتویٰ دیا کرتے تھے، اور جیسا کہ تاریخ بغداد، ج۱۳، ص۳۵۲ میں اُن کا مقولہ ہے،  ’’جالسنا واﷲابا حنیفة و سمعنا منہ فکنت کلما نظرت الیہ عرفت وجھہ انہ یتقی اﷲ عزوجل‘‘ (یعنی اللہ کی قسم ہم نے امام اعظم کی مجلس اختیار کی، اور اُن سے سماع کیا، اور میں نے جب بھی ان کی جانب نظر کی ،تو اُن کے چہرہ کو اس طرح پایا کہ بلاشبہ وہ اللہ سے ڈرنے والے ہیں۔)

امام یحییٰ بن سعید القطّان کا دوسرا مقولہ علامہ سندھی کی ’’کتاب التعلیم‘‘ کے مقدمہ میں منقول ہے ’’انہ لأعلم ھذہ الامۃ بماجاء عن اﷲ و رسولہ صلی اﷲعلیہ و سلم‘‘ (یعنی بلاشبہ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی جانب سے آنے والے احکام کو اس امت میں سب سے بہتر جاننے والے امام اعظم تھے۔)

جرح و تعدیل کے تیسرے بڑے امام یحییٰ بن سعید القطّان کے شاگرد یحییٰ بن معین ہیں، وہ امام ابو حنیفہ کے بارے میں فرماتے ہیں ، ’’کان ثقة حافظاً ،لا یحدث الا بما یحفظ ما سمعت احداً یجرحہ‘‘

(یعنی وہ معتمد علیہ اور حافظ تھے، اور وہی حدیث بیان کرتے تھے، جو انہیں حفظ ہوتی تھی، میں نے کسی کو نہیں سنا، جو اُن کی جرح کررہا ہو۔)

جرح و تعدیل کے چوتھے بڑے امام حضرت علی بن المدینی رحمہ اللہ ہیں ، جو کہ امام بخاری کے استاذ اور نقدِ رجال کے بارے میں بہت متشدد ہیں ، جیسا کہ حافظ ابن حجر نے فتح الباری کے مقدّمہ میں اس کی صراحت کی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ

’’ابو حنیفة روی عنہ الثوری و ابن المبارک و ھشام و وکیع و عباد بن العوام و جعفر بن عون و ھوثقة لا بأس بہ‘‘

(یعنی! امام ابو حنیفہ سے امام ثوری، ابن مبارک، ہشام، وکیع ، عبادبن عوام اور جعفر بن عون رحمھم اللہ نے روایت کی ہے، وہ ثقہ ہیں، ان سے روایت لینے میں کوئی حرج نہیں۔)

نیز حضرت عبد اللہ بن المبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں، ’’ لولا اعاننی اﷲ بابی حنیفة و سفیان لکنت کسائر الناس‘‘

(اگر اللہ عزوجل امام ابو حنیفہ اورامام سفیان ثوری رحمہما اللہ کے ذریعہ میری اعانت نہ فرماتے تو میں بھی عام لوگوں کی طرح ہوتا۔)

اور مکی بن ابراہیم کا مقولہ یہ ہے کہ ’’کان اعلم اھل زمانہ‘‘ (یعنی امام اعظم اپنے زمانے کے سب سے بڑے عالم تھے۔)

ان کے علاوہ یزہد بن ھارون ، سفیان ثوری ، سفیان بن عیینہ، اسرائیل بن یونس ، یحییٰ بن آدم، وکیع بن الجراح ، امام شافعی اور فضل بن دکین رحمہم اللہ جیسے ائمہ حدیث سے بھی امام ابو حنیفہ کی توثیق منقول ہے، علم حدیث کے ان بڑے بڑے اساطین کے اقوال کے مقابلہ میں دو تین افراد کی جرح کس طرح قابلِ قبول ہوسکتی ہے، لہٰذا اگر فیصلہ کثرتِ تعداد کی بنیاد ہو تب بھی امام صاحب کی تعدیل بھاری رہے گی۔

جرح و تعدیل کے تعارض کو رفع کرنے کا دوسرا طریقہ جو کہ جرح و تعدیل کے تیسرے اصول کی حیثیت رکھتا ہے، وہ حافظ ابن الصلاح رحمہ اللہ نے مقدمہ میں بیان کیا ہے اور اسے جمہور محدثین کا مذہب قرار دیا ہے، ’’وہ یہ کہ اگر جرح مفسَّر نہ ہو، یعنی اس میں سبب جرح بیان نہ کیا گیا ہو تو تعدیل اس میں ہمیشہ راجح ہوگی ، خواہ تعدیل مفسَّر ہو یا مبہم۔‘‘

اس اصول پر دیکھا جائے تو امام ابو حنیفہ کے خلاف جتنی جرحیں کی گئی ہیں ، وہ سب مبہم ہیں ، اور ایک بھی مفسَّر نہیں ، لہٰذا ان کا اعتبار نہیں اور تعدیلات تمام مفسَّر ہیں ، کیونکہ اس میں ورع اور تقوی اور حافظہ تمام چیزوں کا اثبات کیا گیا ہے ، خاص طور سے اگر تعدیل میں اسباب جرح کی تردید کر دی گئی ہو تو وہ سب سے زیادہ مقدم ہوتی ہے اور امام صاحب کے بارے میں ایسی تعدیلات بھی موجود ہیں ، خلاصہ یہ ہے کہ ’’الجرح مقدم علی التعدیل‘‘ کا قاعدہ اُس وقت معتبر ہوتا ہے جبکہ جرح مفسَّر ہو، اور اس کا سبب بھی معقول ہو اور بعض علماء کے نزدیک یہ شرط بھی ہے کہ معدلین کی تعداد جارحین سے زیادہ نہ ہو۔

(۴) امام اعظم پر ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ امام دار قطنی رحمہ اللہ نے اپنی سنن میں حدیث نبوی ﷺ ’’من کان لہ امام فقراء ۃالامام لہ قراء ۃ‘‘ کے تحت لکھا ہے کہ’’ لم یسندہ عن موسیٰ بن ابی عاءشة غیر ابی حنیفة و الحسین بن عمارۃ وھما ضعیفان‘‘

(یعنی اس حدیث کو موسی بن ابی عائشہ سے امام ابو حنیفہ اور حسین بن عمارہ کے علاوہ کسی نے روایت نہیں کیا، اور یہ دونوں حضرات ضعیف ہیں)

بلاشبہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے بارے میں امام دار قطنی رحمہ اللہ کی جرح ثابت ہے ، لیکن اس کا جواب وہی ہے ، جو امام نسائی کی جرح کا ہے، غور کرنے کی بات ہے کہ امام ابو حنیفہ کے بارے میں امام شعبہ، یحییٰ بن سعید القطان، یحییٰ بن معین، علی بن المدینی، عبد اللہ بن مبارک، سفیان ثوری، وکیع بن الجراح، مکی بن ابراہیم، اسرائیل بن یونس اور یحییٰ بن آدم جیسے ائمہ حدیث کا قول معتبر ہوگا ، جو امام ابو حنیفہ کے معاصر ہیں یا اُنکے قریب العہد ہیں یا امام دار قطنی کا، جو امام صاحب کے دو سال بعد پیدا ہوئے ، بلکہ یحییٰ بن معین کے قول سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اُن کے زمانہ تک کسی شخص نے بھی امام صاحب پر جرح نہیں کی ، کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ’’ ما سمعت احداً یجرحہ‘‘

اب سوال یہ رہ جاتا ہے کہ امام نسائی اور امام دار قطنی جیسے ائمہ حدیث نے امام صاحب کے بارے میں ایسی بے بنیاد بات کیسے کہہ دی؟؟

اس کا جواب یہ ہے کہ ہمیں ان بزرگوں کے اخلاص پر کوئی بد گمانی نہیں ، لیکن واقعہ یہ ہے کہ امام اعظم ابو حنیفہ کو اللہ تعالیٰ نے جو مقام بخشا تھا ، اُس کی بناء پر اُن کے حاسدین بے شمار تھے اور انہوں نے امام صاحب کے بارے میں طرح طرح کی باتیں مشہور کر رکھی تھی، مثلاً یہ پروپیگنڈہ تو عام تھا کہ امام صاحب قیاس کو احادیث پر ترجیح دیتے ہیں ، یہ پروپیگنڈہ اس شدت کیساتھ کیا گیا کہ بعض ایسے اہل علم بھی اس سے متاثر ہوگئے ،جو امام ابو حنیفہ کے حالات سے ذاتی طور پر واقف نہیں تھے ، اِن اہل علم میں سے جن حضرات کو حقیقتِ حال کا علم ہوگیا انہوں نے بعد میں امام صاحب کی مخالفت سے رجوع کرلیا، جیسے حافظ ابنِ عدی ،( جیسا کہ ان کے بارے میں بیان ہوچکا)

دوسری مثال امام اوزاعی کی ہے،
علامہ کردری نے صیمری سے اپنی سند سے عبد اللہ بن البارک کا یہ قول ’’مناقب الامام الاعظم‘‘ جلد اول میں صفحہ ۳۹ پر نقل کیا ہے کہ ’’میں شام آیا اور امام اوزاعی سے ملا ، انہوں نے جب یہ سنا کہ میں کوفہ سے آیا ہوں تو مجھ سے پوچھا،  ’’من ھٰذا المبتدع الخارج بالکوفة یکنی بابی حنیفة ‘‘ ٰ(یعنی کوفہ میں یہ بدعتی و خارجی کون ہے؟ وہ امام ابو حنیفہ سے کنایہ کر رہے تھے۔)
عبد اللہ ابن المبارک فرماتے ہیں کہ میں نے اس وقت اُن کوئی مفصل جواب دینا مناسب نہیں سمجھا اور اپنے ٹھکانے پر واپس آگیا، البتہ بعد میں نے یہ کیا کہ امام ابو حنیفہ کے مستنبط کئے ہوئے فقہی مسائل، جو میرے پاس محفوظ تھے، تین دن میں اُن کا مجموعہ تیار کیا اور اُن کے شروع میں’’قال ابو حنیفہ‘‘ (ابو حنیفہ نے فرمایا) کے بجائے ’’قال النعمان بن ثابت‘‘ لکھ دیا، اور اسے تیسرے دن امام اوزاعی کے پاس لے گیا، انہوں نے اس کا مطالعہ کیا اور مجھ سے دریافت کیا ’’من النعمان؟ (کون ہے یہ نعمان؟) ’’قلت ابو حنیفة الذی ذکرتہ‘‘ (میں نے کہا یہ امام ابو حنیفہ ہیں ، جنکا آپ نے ذکر کیا تھا)  اس کے بعد میں نے دیکھا کہ امام اوزاعی کی ملاقات ابو حنیفہ سے ہوئی، دونوں میں انہی مسائل میں گفتگو ہوتی رہی، جو مسائل میں نے لکھ کر امام اوزاعی کو پیش کئے تھے، امام اعظم اُن مسائل کو مجھ سے زیادہ کھول کھول کر وضاحت کے ساتھ بیان کرتے رہے،  جب امام ابو حنیفہ چلے گئے تو میں نے امام اوزاعی سے دریافت کیا ’’کیف رأیتہ؟ (آپ نے ان کو کیسا پایا؟) تو انہوں نے جواب دیا
’’غبطت الرجل لکثرۃ علمہ و فور عقلہ استغفر اﷲ لقد کنت فی غلط ظاھر الزمہ فانہ بخلاف ما بلغنی عنہ‘‘ (مجھے اس شخص پر، اس کی کثرتِ علم اور بے انتہاء دانائی کی وجہ رشک آتا ہے، میں اللہ سے معافی چاہتا ہوں، میں ان الزامات کے بارے میں واضح طور پر غلط تھا، بلاشبہ وہ تو ،ان الزامات کے بالکل برعکس ہیں ،جو مجھ تک پہنچے۔)

البتہ جن اہل علم کو امام صاحب کے بارے میں حقیقت معلوم نہ ہو سکی وہ اپنے موقف پر قائم رہے، اپنے اخلاص کی وجہ سے وہ انشاء اللہ معذور ہیں، لیکن اُن کے اقوال کو ایسے لوگوں کے مقابلہ میں حجت نہیں بنایا جا سکتا، جو امام اعظم رحمہ اللہ سے حقیقتاً واقف تھے،
خلاصہ یہ کہ علمِ حدیث میں امام ابو حنیفہ کا مقام نہایت بلند پایہ ہے اور جن حضرات کو اس سے تکدّر ہوا، وہ غلط اطلاعات کی بناء پر ہوا، یہی وجہ ہے کہ جن حضرات نے انصاف کے ساتھ امام صاحب کے حالات کا مطالعہ کیا ہے، وہ اسی نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ علمِ حدیث میں بھی امام ابو حنیفہ بلند مقام کے حامل ہیں اور اُن پر اعتراضات درست نہیں۔

چنانچہ نواب صدیق حسن خان صاحب نے اپنی کتاب ’’التاج المکلل‘‘ میں امام ابو حنیفہ کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کی فقہ اور ورع کی تعریف کرتے ہیں اور آخر میں لکھتے ہیں ’’ولم یکن یعاب بشیءٍ سویٰ قلّة العربیة‘‘ (یعنی ان میں کوئی عیب نہیں تھا، سوائے قلّتِ عربیت کے)

یہاں نواب صدیق حسن خان صاحب نے علمِ حدیث کے اعتبار سے امام ابو حنیفہ پر کوئی اعتراض نہیں کیا ، البتہ قلّتِ عربیہ کا الزام لگایا ہے اور یہ الزام بھی کسی طرح بھی درست نہیں، دراصل یہ جملہ نواب صاحب نے قاضی ابنِ خلکان کی ’’وفیات الاعیان‘‘ سے نقل کیا ہے، لیکن آگے خود قاضی ابنِ خلکان نے اِس الزام کی جو تردید نقل کی ہے، اسے نواب صاحب نے نقل نہیں کیا (اب اِس ادھوری بات کے نقل کرنے کو کیا کہا جائے؟؟؟)
قاضی ابنِ خللکان نے لکھا ہے کہ امام صاحب پر قلّتِ عربیہ کا جو الزام عائد کیا گیا ، اِ س کی بنیاد صرف ایک واقعہ پر ہے، اور وہ یہ کہ ایک مرتبہ امام ابو حنیفہ مسجد حرام میں تشریف فرماتھے، وہاں ایک مشہور نحوی نے اُن سے پوچھا کہ اگر کوئی شخص کسی کو پتھر مار کر ہلاک کردے، تو اس پر قصاص آئے گا یا نہیں؟

امام صاحب نے فرمایا کہ نہیں، اس پر نحوی نے متعجب ہوکر پوچھا ’’ولو رماہ بصخرۃ ؟‘‘ (اگرچہ اس نے چٹان سے مارا ہو؟) اس پر امام صاحب نے فرمایا کہ’’نعم ولو رماہ بابا قبیس‘‘

اس سے اس نحوی نے یہ مشہور کردیا کہ امام صاحب کو عربیت میں مہارت نہیں ،کیونکہ ’’بابی قبیس‘‘ کہنا چاہیئے تھا، لیکن قاضی ابنِ خلکان لکھتے ہیں کہ امام صاحب پر یہ اعتراض درست نہیں کیونکہ بعض قبائلِ عرب کی لغت میں اسماء ستّہ مکبّرہ کا اعراب حالتِ جرّی میں بھی الف سے ہوتا ہے، چنانچہ ایک شاعر کا مشہور شعر ہے ع
ان اباھا و ابا اباھا۔۔۔ قد بلغا فی المجد غایتاھا
(بلا شبہ اُس کا باپ اور اُس کے باپ کا باپ، دونوں بزرگی کی انتہاء کو پہنچ گئے)
یہاں قاعدہ کی رُو سے ’’ابا ابیھا‘‘ ہونا چاہیئے تھا، لیکن شاعر نے حالتِ جری میں بھی اعراب الف سے ظاہر کیا ، لہٰذا امام ابو حنیفہ کا مذکورہ بالاقول انہی قبائلِ عرب کی لغت کے مطابق تھا، صرف اس واقعہ کو بنیاد کر امام اعظم ابو حنیفہ جیسی شخصیت پر قلّتِ عربیت کا الزام نا انصافی اور شاید حسد کے سوا کچھ نہیں، یہاں اِس بحث کا مختصر خلاصہ ذکر کیا گیا ہے ، تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو ، علامہ ظفر احمد عثمانی نور اللہ مرقدہ کی کتاب ’’انجاء الوطن من الازدراء بامام الزمن‘‘ میں دیکھی جاسکتی ہے۔

(۵) امام اعظم پر ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ امام بخاری نے ’’تاریخ صغیر‘‘ میں نعیم ابن حماد کے حوالہ سے روایت کیا ہے کہ جب امام ابو حنیفہ کی وفات کی خبر سفیان ثوری کی مجلس میں پہنچی، تو انہوں نے فرمایا ’’الحمد اﷲ کان ینقض الاسلام عروۃعروۃ ما ولد فی الاسلام اشئم منہ‘‘

(الحمد للہ! وہ اسلام کو واضح طور پر ڈھانے والا تھا، اس سے نامبارک شخص اسلام میں نہیں آیا)

اس کا جواب یہ ہے کہ یہ روایت بلاشبہ غلط ہے، اس کے بارے میں امام بخاری کو تو متّہم نہیں کیا جاسکتا، انہوں نے جیسا سنا ویسا لکھ دیا، یہ نعیم بن حماد امام ابو حنیفہ کے بارے میں نہایت متعصب ہے، اس لئے اس روایت کی تکذیب کے لئے صرف اتنا کہنا ہی کافی ہے کہ یہ نعیم بن حماد سے مروی ہے، کیونکہ حافظ ابنِ حجر نے ’’تہذیب التہذیب‘‘ میں کئی ائمہ حدیث سے نقل کیا ہے کہ اگرچہ بعض لوگوں نے نعیم کی توثیق کی ہے، لیکن وہ امام ابو حنیفہ کے معاملہ میں جھوٹی روایات نقل کرتے ہیں، حافظ فرماتے ہیں ’’یروی حکایات فی ثلب ابی حنیفة کلہا کذب‘‘ (یعنی وہ امام ابو حنیفہ کو عیب دار کرنے کے لئے ایسی حکایات روایت کرتا ہے، جو ساری کی ساری جھوٹی ہیں)

اس جملہ کے کے بعد اس حکایت کی جواب دہی کی ضرورت نہیں رہتی اور سوچنے کی بات ہے کہ سفیان ثوری ایسی بات کیسے کہہ سکتے ہیں، جبکہ وہ خود امام صاحب کے شاگرد ہیں، اور تقریباً نوّے فیصد مسائلِ فقہیّہ میں امام ابو حنیفہ کی موافقت کرتے ہیں، اور خود انہی کا واقعہ ہے، جو غالباً حافظ ابنِ حجر ہی نے نقل کیا ہے کہ جب امام ابو حنیفہ اُن کے بھائی کی تعزیت کے لئے اُن کے پاس آئے تو سفیان ثوری نے اپنے حلقۂ درس سے کھڑے ہوکر اُن کا استقبال کیا، بعض حاضرین نے اس تعظیم پر اعتراض کیا، تو امام سفیان ثوری نے جواب دیا، ’’ھٰذا رجل من العلم بمکان فان لم اقم لعلمہ قمت لسنّہ و ان لم اقم لسنّہ قمت لفقھہ و ان لم اقم لفقھہ قمت لورعہ‘‘ (یعنی یہ شخص علم کی بناء پر ایسے مقام پر ہے، اگر میں اس کے علم کی وجہ سے کھڑا نہ ہوں، تو اس کی عمر وجہ سے کھڑا ہوں گا، اور اگر میں اس کی عمر وجہ سے کھڑا نہ ہوں تو اس فقاہت کی وجہ سے کھڑا ہوں گا اور اگر اس کی فقاہت کی وجہ سے بھی نہ کھڑا ہوں، تو پھر اس کے تقویٰ کی وجہ سے کھڑا ہوں۔)

اس سے صاف ظا ہر ہے کہ سفیان ثوری امام ابو حنیفہ کی کتنی عزت کرتے تھے۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ امام بخاری جیسے جلیل القدر محدث نے ایسا جھوٹا قصہ کیونکر روایت کردیا؟؟؟

اس کا جواب یہ ہے کہ امام ابو حنیفہ کے خلاف تعصب رکھنے والوں نے امام بخاری کو امام ابو حنیفہ کے خلاف بہت مکدر کیا ہوا تھا، اس لئے انہیں نعیم بن حماد کی روایات میں کوئی خرابی محسوس ہی نہ ہوسکی، حاسدین کی سازشوں کے علاوہ امام بخاری کے تکدر کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ کے استاذ حُمیدی ظاہری المسلک تھے، اور ظاہریہ کو حنفیہ کے خلاف ہمیشہ سے غیظ رہا ہے، لہٰذا امام بخاری بھی اپنے استاذ کے اثرات سے خالی نہ رہ سکے۔

شیخ عبد الوہاب شعرانی نے ’’المیزان الکبریٰ‘‘ میں نقل کیا ہے کہ شروع میں سفیان ثوری بھی بعض لوگوں کے اس خیال سے متاثر ہوگئے تھے کہ امام صاحب قیاس کو نصوص پر مقدم رکھتے ہیں، چنانچہ ایک دن سفیان ثوری مقاتل بن حیان، حماد بن سلمہ اور جعفر صادق رحمہ اللہ اُن کے پاس گئے، اور بہت سے مسائل پر صبح سے ظہر تک گفتگو رہی، جس میں امام صاحب نے اپنے مذہب کے دلائل پیش کئے، تو آخر میں سب حضرات نے امام صاحب کے ہاتھ چومے اور اُن سے کہا کہ ’’انت سیّد العلماء فاعف عنا فیما مضیٰ منا من وقیعتنا فیک بغیر علم ‘‘
(آپ تو علماء کے سردار ہیں، ہم سے آپ کے متعلق لاعلمی میں جو کچھ ہوا، اسے درگزر فرمادیں)

امام اعظم امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالٰی پر کئے جانے والے اعتراضات کا تحقیقی جائزہ

(۶) امام اعظم پر ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ ولید بن مسلم کہتے ہیں کہ ’’قال مالک بن انس ایذکر ابو حنیفة فی بلادکم قلت نعم فقال ما ینبغی لبلادکم ان تسکن‘‘ (ترجمہ) امام مالک بن انس رحمہ اللہ نے فرمایا، کیا تمہارے شہروں میں ابو حنیفہ کا تذکرہ ہوتا ہے، میں نے کہا، ہاں! تو انہوں نے جواب میں فرمایا کہ ان شہروں میں تمہارا رہنا مناسب نہیں۔

اس کے جواب میں شیخ عبد الوہاب شعرانی ’’المیزان الکبریٰ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ حافظ مزنی نے فرمایا ہے کہ اس روایت کے راوی ولید بن مسلم ضعیف ہیں، اور اگر بالفرض امام مالک رحمہ اللہ کا یہ قول ثابت بھی ہو تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ جس شہر میں امام ابو حنیفہ جیسا عالم موجود ہو تو وہاں کسی اور عالم کی ضرورت نہیں۔

(۷) امام ابو حنیفہ پرسب سے بڑا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ وہ قیاس کو نصوص پر مقدم کرتے ہیں۔

اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بات واقعہ کے بالکل خلاف ہے، اس کے برعکس امام صاحب تو بعض اوقات متکلم فیہ حدیث کی وجہ سے بھی قیاس کو چھوڑ دیتے ہیں، جیسا کہ ’’نقض الوضوء بالقھقھة‘‘ کے مسئلہ میں انہوں نے قیاس کو ترک کر دیا، حالانکہ اس باب میں احادیث متکلم فیہ ہیں اور دوسرے ائمہ نے اُن کو چھوڑ کر قیاس پر عمل کیا ہے۔

اس مسئلہ میں شیخ عبد الوہاب شعرانی نے ،جو خود شافعی المسلک ہیں، اپنی کتاب ’’المیزانالکبریٰ‘‘ میں ایک مستقل فصل قائم کی ہے،  ’’فصل فی بیان ضعف قول من نسب الامام ابا حنیفة الیٰ انہ یقدّم القیاس علیٰ حدیث رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم‘‘
(یعنی یہ فصل اُس شخص کے قول کے ضعیف ہونے کے بیان میں ہے ،جو امام ابو حنیفہ کی طرف اس بات کی نسبت کرتا ہے کہ وہ قیاس کو حدیث پر مقدم رکھتے ہیں)

’’اعلم! ان ھٰذا الکلام صدر من متعصب علی الامام متھور فی دینہ غیر متورع فی مقالہ غافلاً عن قولی تعالٰی ’’ان السمع و البصر و الفؤاد کل اولٰٓئک کان عنہ مسؤلاً‘‘ و عن قولہ تعالیٰ ’’مایلفظ من قول الا لدیہ رقیب عتید‘‘ وقد روی الامام جعفر الشیزاماری (نسبۃ الٰی قریۃمن قری بلخ) بالسند المتصل الی الامام ابی حنیفة رضی اﷲ عنہ‘‘ کذب واﷲ وافتری علینا من یقول عنا اننا نقدم القیاس علی النص وھل یحتاج بعد النص الٰی قیاس وکان رضی اﷲ عنہ یقول نحن لانقیس الا عند الضرورۃالشدیدۃ وذٰلک اننا ننظر اولا فی دلیل تلک المسءلة من الکتاب والسنة وقضیة الصحابۃ فان لم نجد دلیلا قسنا حینئذ،  وفی روایة اخری کا یقول ماجاء عن رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم فعلی الرأس والعین بابی ھووامی ولیس لنا مخالفة ولاجائنا عن اصحابہ تخیرنا وماجاء نا عن غیرھم فھم رجال ونحن رجال‘‘

(ترجمہ)خوب جان لو، کہ بلاشبہ یہ کلام امام ابو حنیفہ کے خلاف ایسے متعصب سے صادر ہوا، جو اپنے دین سے لاپرواہی کرنے والا اور اپنے کلام میں غیر محتاط ہے اور اللہ رب العزت کے اس فرمان سے غفلت برتنے والا ہے ’’بلاشبہ کان، آنکھ اور دل، ان سب کے متعلق اس سے پوچھا جائے گا۔‘‘ اوروہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے بھی غافل ہے، ’’وہ کوئی بات نہیں بولتا مگر اس کے پاس ایک نگہبان تیار ہوتا ہے۔‘‘ تحقیق امام ابو جعفر شیزاماری (شیزاماری بلخ کی بستیوں میں سے ایک بستی کی طرف نسبت ہے) نے سندِ متصل سے امام اعظم رضی اللہ عنہ روایت کیا کہ ’’خدا کی قسم !یہ ہم پر جھوٹ اور افتراء ہے ، جو ہمارے بارے میںیہ کہتا ہے کہ ہم قیاس کو نص پر مقدم کرتے ہیں، اور کیا نص کے آنے کے بعد قیاس کی احتیاج ہوسکتی ہے؟؟؟ (یعنی ہرگز نہیں ہوسکتی)

امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو یہ کہتے تھے کہ ہم صرف ضرورتِ شدیدہ کے وقت ہی قیاس کرتے ہیں اور وہ بھی اس طرح کہ ہم اوّلاً ، اس مسئلہ کی دلیل کتاب اللہ، سنتِ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے قضایا میں دیکھتے ہیں، اور اگر ہم اِن تمام میں کوئی دلیل نہیں پاتے ، تو پھر اُس وقت ہم قیاس کرتے ہیں۔

اور دوسری روایت میں ہے کہ امام اعظم فرماتے ہیں کہ جو چیز رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے ، وہ تو ہمارے سر آنکھوں پر، ان پر میرے ماں باپ قربان ہوں،اس سے تو کوئی مخالفت نہیں اور جو چیز صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے ثابت ہے، اُسے تو ہم اختیار کرتے ہیں ، اور جو چیز ان کے علاوہ اور لوگوں سے ثابت ہے، تو وہ تو لوگ ہیں اور پھر ہم بھی تو لوگ ہیں۔

اس کے علاوہ شیخ شعرانی رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں، ’’اعلم یا اخی! انی لم اجب علٰی الامام بالصدر واحسان الظن فقط کما یفعل بعض وانما اجبت عنہ بعد التتبع والفحص فی کتب الادلة و مذھبہ اول المذاھب تدویناً و اٰخرھا انقراضاً کما قال بعض اھل الکشف‘‘

(ترجمہ) خوب اچھی طرح جان لو میرے بھائی! میں امام ابو حنیفہ کے خلاف ہونے اعتراض کا جواب فقط اپنے دل سے پوچھ کر یا صرف انکے ساتھ حنِ ظن ہی کی وجہ سے نہیں دے دیتا ، جیسا کہ بعض حضرات کرتے ہیں،بلکہ میں دلائل کی کُتب کی خوب چھان پھٹک اور تحقیق کے بعد جواب دیتا ہوں، امام اعظم کامذہب(مسلک) وہ پہلا مذہب ہے ، مدوّن ہونے کے اعتبار سے اور آخری مذہب ہے ، مٹ جانے کے اعتبار سے ، جیسا کہ بعض اہلِ کشف نے فرمایا۔

(۸) امام اعظم پر ایک اعتراض یہ بھی کیا جاتا ہے کہ اُن کے مستدلات علمِ حدیث کی رُو سے ضعیف ہوتے ہیں۔

اس کا تفصیلی جواب جو تو ہر ہر ایسے مسئلہ کے ذیل میں ہی دینا مناسب ہے، جس مسئلہ کے مستدل کو لوگوں نے ضعیف کہا ہے، البتہ ان کا مجموعی جواب شیخ عبد الوہاب شعرانی رحمہ اللہ نے دیا ہے، وہ لکھتے ہیں کہ ’’میں نے امام ابو حنیفہ کے ادلّہ پر خوب غور کیا ، اور اس نتیجہ پر پہنچا کہ امام صاحب کے دلائل یا تو قرآن کریم سے ماخوذ ہیں یا احادیثِ صحیحہ سے یا احادیث سے حسنہ سے، یا ایسی ضعیف احادیث سے جو تعددِ طُرق کی وجہ سے حَسَن کے درجہ میں آگئی ہیں، اس سے نیچے کوئی دلیل نہیں۔

المصادر و المراجع و التفاصیل

(۱) انجاء الوطن عن الازدراء بامام الزمن للشیخ ظفر احمد عثمانی نور اﷲ مرقدہ
(۲)الرفع و التکمیل فی الجرح والتعدیل للامام عبد الحیی اللکھنوی مع تعلیقہ للشیخ عبدالفتاح ابی غدۃ الحلبی رحمہ اﷲ
(۳)مقدمۃ التعلیق الممجد علی المؤطا للامام محمد للشیخ اللکھنوی
(۴)الانتقاء فی فضائل الثلاثۃ الائمۃ الفقہاء للحافظ ابن عبد البر الاندلسی
(۵)تبییض الصحیفۃ فی مناقب الامام ابی حنیفۃ لجلال الدین السیوطی

مسلمان لڑکیاں ارتداد کے دہانے پر

تحریر:مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی
(سجادہ نشیں خانقاہ رحمانیہ٬مالیگاؤں)

ملک کے مختلف علاقوں سے یہ روح فرسا خبریں مسلسل آ رہی ہیں کہ مسلمان لڑکیاں غیر مسلم لڑکوں سے شادی کررہی ہیں، اور اپنا دین و ایمان اور ضمیر وحیا بیچ کر اپنے خاندان اور اپنے سماج اور معاشرے پر بدنامی کا داغ لگا رہی ہیں، اس طرح کے اکاد کا واقعات پہلے بھی پیش آتے رہے ہیں، لیکن ادھر چند برسوں سے باضابطہ پلاننگ کے تحت مسلمان لڑکیوں کو جال میں پھنسایا جا رہاہے، اور آئے دن ان لڑکیوں کی تعداد بڑھ رہی ہے، جو بے حیائی کے راستے پر بڑھتے ہوئے ارتداد تک پہونچ رہی ہیں، گذشتہ سال مسلم پرسنل لا بورڈ کے ایک پروگرام میں مہاراشٹر کے مشہور شہر پونہ جانا ہوا تو ایک صاحب ملنے کے لیے آئے انہوں نے بتایا کہ ان کی بھانجی کالج میں پڑھتی تھی، کالج کے قریب ایک دلت نوجوان کینٹین چلاتا تھا، اس کے دام محبت میں پھنس کر بھانجی نے کورٹ میرج کر لی، اور کئی مہینے اس کے ساتھ رہی پھر بہت سمجھانے بجھانے کے بعد واپس آئی، اور ہم نے اسے دوبارہ کلمہ پڑھوایا، ایمان میں داخل کیا مگر اب بھی وہ اسی کے پاس جانے کی ضد کرتی ہے، روتی ہے اور ہمیں اندیشہ ہے کہ کہیں وہ دوبارہ اس کے پاس نہ چلی جائے۔ ان صاحب کے چلے جانے کے بعد پونہ کے چند ذمہ دار احباب نے بتایا کہ ہمارے یہاں پچھلے ایک سال میں (اکتوبر 2016ء سے اکتوبر 2017ء تک ) 44/مسلمان لڑکیاں غیر مسلم لڑکوں کے ساتھ شادی کر چکی ہیں، ابھی چند دن پہلے خاص اسی مسئلے سے متعلق پونہ کے احباب ملنے کے لیے آئے تو انہوں نے بتایا کہ اگست میں11؍ مسلمان لڑکیوں کی غیر مسلم لڑکوں کے ساتھ شادی کی درخواستیں دائر ہوئی ہیں اور پچھلے مہینے (ستمبر) میں 12؍لڑکیوں نے درخواست دی ہے۔ مہاراشٹر کے دوسرے اور شہروں سے بھی اس طرح کی خبریں آ رہی ہیں چنانچہ بمبئی میں 12،تھانے میں 7، ناسک میں 2، اور امراوتی میں 2؍لڑکیوں نے شادی کی درخواست دی ہے، یہ بات بھی ذہن میں رہنی چاہئے کہ صرف مہاراشٹر میں ہی ایسے واقعات نہیں ہو رہے ہیں بلکہ ملک کی مختلف ریاستوں سے برابر خبریں موصول ہو رہی ہیں، اگست کے وسط میں بھوپال جانا ہوا تھا ،وہاں مسلم پرسنل لا بورڈ کی اصلاح معاشرہ کمیٹی برائے خواتین کی ذمہ دار بہنوں نے بتایا کہ بھوپال کی گنجان مسلم آبادی والے ایک علاقے میں اس طرح کے دسیوں واقعات ہو چکے ہیں، اور صرف غیر شادی شدہ لڑکیاں ہی نہیں شادی شدہ عورتیں بھی اپنے شوہر اور بچوں کو چھوڑ کر غیر مسلموں کے ساتھ چلی گئی ہیں دہلی سے ملی اطلاعات کے مطابق جھونپڑ پٹی والے علاقے میں بسنے والی مسلمان لڑکیاں فرقہ پرست عناصر کی اس منصوبہ بند سازش کا ’’لقمۂ تر‘‘ بنی ہوئی ہیں، گذشتہ شعبان میں احمد آباد حاضری ہوئی تو وہاں کے علماء نے بتایا کہ ہمارے یہاں ہردوسرے تیسرے دن سوشل میڈیا پرخبر آتی ہے کہ فلاں مسلمان لڑکی کسی غیر مسلم لڑکے کے ساتھ گھر سے بھاگ گئی ہے یا فلاں لڑکی نے کورٹ میرج کی عرضی داخل کی ہے، بات یہیں تک محدود نہیں ہے بلکہ ان لوگوں نے یہاں تک بتایا کہ مسلمان لڑکیوں کو رجھانے ،قریب کرنے اور پھر ان کا جنسی استحصال کرنے کے لیے گراں قیمت تحفے دیئے جاتے ہیں، مثلاً مہنگے موبائیل ،آئی پیڈ، لیپ ٹاپ، ایکٹیوا بائک وغیرہ، باضابطہ ان کی ’’فنڈنگ‘‘ کی جا رہی ہے اور ایک سونچے سمجھے منصوبے کے تحت انہیں اس کام پر لگایا گیا ہے، اوپر بھی یہ بات میں نے لکھی ہے اور اب دوبارہ وضاحت کے ساتھ لکھنا چاہتا ہوں کہ یہ اتفاقی واقعات نہیں ہیں۔ بلکہ ان کے پیچھے ایک سونچا سمجھا منصوبہ کام کر رہاہے،’’لو جہاد‘‘ نام کی کوئی چیز اس ملک میں نہیں ہے، البتہ یہ ’’شوشہ‘‘صرف اس لیے چھوڑا گیا تھا کہ ہندو نوجوانوں میں ’’انتقامی جذبہ‘‘ ابھارا جائے اور خود مسلمانوں کو ’’لو جہاد‘‘ میں الجھا کر اندرون خانہ مسلمان لڑکیوں کو تباہ و برباد کرنے کا کھیل کھیلا جائے ۔پہلے یہ بات ڈھکی چھپی رہی بھی ہو تو اب ڈھکی چھپی نہیں رہ گئی ہے۔ پچھلے سال چند ایسے ہی روح فرسا واقعات کی وجہ سے اس عاجز نے اس پورے مسئلے پر اپنے طور پر تحقیق کی، اور اپنے بعض احباب کو بھی اس کام پر لگایا، اس کے جو نتائج سامنے آئے وہ حیران کن بھی تھے اور انتہائی تشویش ناک بھی! مناسب معلوم ہوتاہے کہ ترتیب سے ان باتوں کو لکھوں۔

(1) باضابطہ ایسے ہندو جوانوں کی ایک ٹیم تیار کی گئی ہے، جن کاکام ہی محبت کے نام پر مسلمان لڑکیوں کو تباہ و برباد کرنا ہے۔یہ لو گ پہلے ہمدردی کے نام پرکسی مسلمان لڑکی سے قریب ہوتے ہیں،پھر محبت کا فریب دیتے ہیں ،اورشادی کا وعدہ کرتے ہیں، اور پھر جنسی استحصال کا مرحلہ شروع ہو جاتاہے اور جب وہ لڑکی عفت و عصمت کا گوہر لٹاچکتی ہے او ر اس لڑکے سے شادی کا اصرار کرتی ہے تو پھرکورٹ میں کورٹ میرج کی درخواست دی جاتی ہے۔ میرے علم کے مطابق ایک مہینے کے بعد اس درخواست پر عمل در آمد ہوتا ہے، یہ مدت اس لیے بھی رکھی گئی ہے کہ اگر گھر والوں یا کسی اور کو کوئی اعتراض ہو تو وہ کاروائی کر سکتا ہے (اس سلسلے میں جو دھاندلی کی جا رہی ہے اس کا تذکرہ کسی اور مضمون میں کروں گا انشاء اللہ) گھر والوں کو نوٹس جاری کرنا بھی لازمی اور ضروری ہے،جس کے ذریعے یہ اطلاع دی جاتی ہے کہ آپ کا لڑکا /لڑکی نے کورٹ میرج کی عرضی داخل کی ہے ، اب جب یہ درخواست داخل ہوتی ہے تو خود وہ شادی کی درخواست دینے والا نوجوان کسی ذریعہ سے اس درخواست (جس پر مسلمان لڑکی او ر غیر مسلم لڑکے کا فوٹو ہوتا ہے کہ یہ دونوں شادی کرنے جا رہے ہیں) کی تصویر لے کر کسی اور کے ذریعے سوشل میڈیا پر وائرل کروا دیتا ہے۔جب مسلمانوں کوخبر ہوتی ہے تو وہ اس شادی کو روکنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔ سماجی دباؤ بنایا جاتاہے، نتیجتاً شادی رک جاتی ہے، اب لڑکی کی نگاہ میں مجرم ہوتے ہیں اس کے ماں باپ، بھائی بہن اور اس کے سماج اورمذہب کے لوگ، اورخود اس غیر مسلم لڑکے کو ’’کلین چٹ ‘‘مل جاتی ہے اور وہ انتہائی ’’معصوم دیوتا‘‘کے روپ میں سامنے آتا ہے، لڑکی بدنام ہو گئی، خاندان پرننگ وعار کادھبہ لگ گیا، اور یہ لڑکی ہمیشہ کے لیے ’’ڈپریشن ‘‘ کاشکا ر ہو گئی اورایک باوقار اورپاکیزہ زندگی اور بہترین خاندانی نظام کی تشکیل اور قیام سے محروم ہو گئی، کہیں اس کانکاح بھی ہو جائے تو وہ اچھی زندگی نہیں گذار سکتی اور اگر نکاح نہ ہو تو پھر چوری چھپے اس لڑکے سے ملنے ،ناجائز تعلقات قائم کرنے کا دروازہ کھلا ہوا ہے۔

(2) اس سے آگے کی شکل یہ ہے کہ محبت کے فریب میں پھنسا کر اور جذباتی طور پر اپنے آپ سے قریب کر کے ’’ترک مذہب‘‘پر آمادہ کیا جاتاہے او ر باضابطہ شادی کر کے چند مہینے یاسال بھر ساتھ میں رکھا جاتاہے، اس کے بعدآئے دن کے جھگڑے شروع ہو جاتے ہیں ، چونکہ اس شادی کی وجہ سے یہ لڑکی اپنے خاندان اپنے سماج سے بالکل کٹ چکی ہوتی ہے، ا س لیے اب واپسی کے دروازے بند ہو چکے ہوتے ہیں، اس لیے اسی ’’شوہر‘‘کے ساتھ رہنااس کی مجبوری ہے۔ جس سے فائدہ اٹھا کر وہ شوہر اپنی اس بیوی سے جسم فروشی کرواتا ہے یا پھر طلاق دے کر در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کر دیتاہے۔

(3) اس گھناونے کھیل کا سب سے بڑا اورکھلامیدان کالجس ہیں، جہاں کی مخلوط تعلیم نے اس کھیل کے لیے بہترین اور محفوظ اسٹیج فراہم کیا ہے، کتنے غیر مسلم لڑکے ہیں جن کو فرقہ پرست تنظیموں کی طرف سے اچھی اردو سکھانے اور بہترین اردوشاعری کی تعلیم دینے کا انتظام کیا گیا ہے۔مسلمان لڑکی کو دام فریب میں پھنسانے کے لیے وہ اس ہنر کا بھی استعمال کرتے ہیں، اورکچی عمر کی جوان لڑکیاں بہت جلد اس ہتھکنڈے سے متاثر ہو کر ان کی آغوش میں چلی جاتی ہیں ، اور پھر یہی بے حیائی انہیں ارتداد کی شاہراہ تک پہونچا دیتی ہے ۔العیاذ باللّہ !کالج کے علاوہ ٹیوشن کلاسیس بھی اختلاط ،بے حیائی اور پھر دین و ایمان سے محرومی کاذریعہ بن رہی ہیں، پڑھنے والے طلبہ تو شکاری بنے ہی ہوئے ہیں، پڑھانے والے ٹیچرس اورپروفیسرس بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہے ہیں، ایسے واقعات بھی سامنے آ چکے ہیں کہ کسی ٹیچر نے نوٹس دینے کے بہانے گھر بلایا اور پھر ورغلا کر یا زبردستی اس لڑکی کے ساتھ غلط حرکتیں کیں اور خفیہ طریقے سے اس کاویڈیو بنا لیا اور بعد میں وہی ویڈیو دکھا کر اس لڑکی کو بلیک میل کرنے کا سلسلہ شروع کر دیاگیا،جس کانتیجہ یہ نکلا کہ وہ لڑکی غیروں کے ہاتھوں میں ’’کھلونا‘‘ بن گئی، مہاراشٹر کے پربھنی شہر کے بعض احباب نے یہ اطلاع دی کہ اس طرح کے ویڈیو با ضابطہ ٹیچرس نے ایک دوسرے کو بھیجے، اور اس پر اس طرح کے تفریحی جملے لکھے کہ’’ دیکھا میں نے کیسے بیوقوف بنایا،‘‘یا’’ اس لڑکی کومیں نے کیسے خراب کیا؟ ‘‘ اس طرح کے ویڈیو کا یہ نتیجہ بھی سامنے آیا کہ لڑکی کانکاح ہونے کے بعد بھی گھر اجاڑ دینے کی دھمکی دے کرنکاح کے بعد بھی جنسی استحصال کیا گیا،اور اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہ ’’لڑکی‘‘ہر قسم کے مطالبات پورے کرتی رہی۔

(4) جو مسلمان لڑکیاں دینی ذہن یاگھر کی تربیت کی وجہ سے کچھ محتاط ہوتی ہیں، ان کو قابو میں لانے کے لیے دوسری غیر مسلم لڑکیوں کا سہارا لیا جاتا ہے وہ لڑکیاں اس لڑکی سے دوستی کرتی ہیں اور پھر وہ اپنے بھائی یا دوست کی حیثیت سے غلط قسم کے لڑکوں سے ان کاتعارف کراتی ہیں، اور پھر بات بڑھتے بڑھتے بے حیائی ،یا ارتداد تک پہونچتی ہے۔

(5) موبائیل اور زیراکس کی دوکانوں کے ذریعے بھی مسلمان لڑکیوں کے نمبراوران کی تصویریں اوردوسری معلومات ان لڑکوں تک پہونچائی جارہی ہے،جو اس کام پر لگے ہوئے ہیں، ویسے بھی سوشل میڈیا کے ذریعے مسلمان لڑکیوں تک پہنچنا آسان ہوگیا ہے،مسلمان بن کر بھی بعض غیر مسلم لڑکے مسلمان لڑکیوں سے فیس بک وغیرہ پر دوستی کرتے ہیں ، اور جب بات آگے بڑھ جاتی ہے اور ملاقاتیں شروع ہو جاتی ہیں او ر یہ راز کھلتا ہے کہ’’ محبوب ‘‘مسلمان نہیں ہے غیر مسلم ہے، تب تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔

(6) مسلمان لڑکیوں کو ورغلانے اوردام فریب میں پھنسانے کے لیے روپئے پیسے کا بھی بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے، کئی علاقوں سے یہ خبر مل چکی ہے کہ بڑے قیمتی تحفے مسلمان لڑکیوں کو دیئے جاتے ہیں اوران کے ذریعے ان کے دل میں جگہ بنائی جاتی ہے، اسی طرح ہمدردی کاہتھیار بھی استعمال کیا جاتاہے،کسی ذریعہ سے اگر معلوم ہو گیا کہ یہ لڑکی پریشان ہے،یا اس کے گھر کے حالات اچھے نہیں ہیں یا پھر یہ کہ اس کے گھر کے لوگ اس پر توجہ نہیں دیتے ہیں تو فوراً ’’بھیڑ کی کھال‘‘ اوڑھ ک رکوئی بھیڑیا سامنے آ جاتاہے اور مصنوعی ہمدردی کاڈرامہ رچاتا ہے اور پریشانیوں اور مشکلات سے جوجھ رہی لڑکی اسے اپنا ہمدرد سمجھ کر اس کے قریب ہوتےجاتی ہے۔ یہاں تک کہ عفت و عصمت کا گوہر لٹا بیٹھتی ہے یا پھر فریب محبت میں گرفتار ہوکر دین وایمان تک سے محروم ہوجاتی ہے۔

یہ صورت حال ایسی سنگین ہے جس پر فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ پانی سر سے نہیں چھت سے اونچا ہوتاجارہاہے ۔ ہم کب بیدار ہوں گے ؟ہم اپنی بہنوں ،بچیوں اور بیٹیوں کو بچانے کے لیے کب آگے آئیں گے؟ خواب غفلت کب تک ؟نظرانداز کرنے کامزاج کب تک؟ جب حالات ایمرجنسی کے ہوں l، جب معاملات سنگین صورت حال اختیار کرلیں، جب دین و ایمان پر یلغار کی جائے، جب عفت وعصمت کے سودے چکائے جائیں،جب منظم منصوبے کے تحت مسلمان لڑکیوں کی زندگیاں تباہ وبرباد کی جائیں، اس وقت خاموشی جرم ہے، سنگین جرم!ایسے حالات میں کم اہم یا کم ضروری مسائل پر توجہ دینا زیادتی ہے، بد ترین زیادتی! یہ ایسا اہم مسئلہ ہے جسے مسجد کے محراب و منبر سے بیان کیا جائے ، جسے جلسوں اور مجلسوں کا موضوع بنایا جائے،جس کے پیش نظر خاندانی نظام کی اصلاح پر بھرپورتوجہ دی جائے،جس کی وجہ سے اپنے گھر کی بچیوں پر کڑی نظر رکھی جائے، خطرے کی تلوار سر پرلٹکتی ہوئی محسوس کر کے مخلوط تعلیم سے بچنے اور غیر مخلوط تعلیمی نظام کے قائم کرنے کی فکر کی جائے۔

 ارتداد کی بڑھتی پھیلتی لہرکوروکنے کے لیے مندرجہ ذیل احتیاطی تدابیر پر عمل ضروری ہے۔

(1) اسلامی نظام کے مطابق مسلمان بچیوں کو پردے کا پابند بنایا جائے،ان میں حیاداری، عفت و عصمت کی حفاظت کاجذبہ ،اورعقیدۂ توحید و رسالت کی عظمت پیدا کی جائے۔روزانہ ہمارے گھروں میں آدھے گھنٹے ہی سہی کسی اچھی مستند اور ذہن و دل کو متاثر کردینے والی کتاب کی تعلیم کی جائے۔

(2) مخلوط نظام تعلیم سے اپنی بچیوں کو بچایا جائے، غیر مخلوط تعلیمی نظام کے قیام پر بھرپور توجہ دی جائے اور محفوظ ماحو ل میں معیاری تعلیم کاانتظام کیا جائے۔

(3) جو لڑکیاں اسکولوں اور کالجوں میں پڑھ رہی ہیں، ان کی دینی تعلیم وتربیت اور ذہن سازی کی بھرپور کوشش کی جائے، ان کی عادات، اطوار، اخلاق پر پوری نظررکھی جائے، کردار سازی میں معاون بننے والا لٹریچر انہیں مطالعے کے لیے دیا جائے۔

(4) ٹیوشن کلاس کے نام پر اجنبی لڑکوں سے اختلاط کا موقع نہ دیا جائے، کسی ٹیچر یاساتھی طالب علم کے گھر پر کسی تعلیمی ضرورت کے نام سے بھی جانے کی اجازت نہ دی جائے، کالج لانے لے جانے کاخودانتظام کیا جائے۔

(5) اینڈرائڈ موبائیل اور بائک خرید کر نہ دی جائے، یہ دونوں چیزیں بے حیائی کے دروازے کھولنے والی اور عفت وعصمت کی تباہی کے دہانے تک پہونچانے والی ہیں ۔

(6) موبائیل ریچارج یا زیراکس کے لیے غیر مسلموں کی دوکان پرجانے کی اجازت نہ دی جائے، اسی طرح کالج کے اندر یا اس سے قریب غیرمسلموں کے کینٹین سے بچنے کی ہدایت دی جائے۔

(7) غیر مسلم لڑکیوں کی دوستی سے بھی روکا جائے کہ آئندہ یہ دوستی بھی کسی فتنہ کادروازہ بن سکتی ہے۔

(8) بچیوں کے مسائل اور ان کو پیش آنے والی پریشانیوں پر توجہ دی جائے، یاد رکھیں ! گھر میں توجہ کی کمی باہر کا راستہ دکھاتی ہے۔

(9) اگربچیاں کسی تعلیمی ضرورت سے انٹرنیٹ استعمال کررہی ہیں تو ان کی بھرپور نگرانی کی جائے ، اس لیے کہ بھٹکنے اور بہکنے کے اکثر دروازے انٹر نیٹ کے ذریعہ کھلتے ہیں۔ 

                ٭…٭…٭

ماہِ صفر کی بدعات اور ایک من گھڑت حدیث کا جائزہ

از: مفتی محمد راشد ڈسکوی‏، استاذ جامعہ فاروقیہ کراچی

اسلامی سال کا دوسرا مہینہ ”صَفَرُ المُظَفَّر“شروع ہو چکا ہے،یہ مہینہ انسانیت میں زمانہ جاہلیت سے ہی منحوس، آسمانوں سے بلائیں اترنے والا اور آفتیں نازل ہونے والا مہینہ سمجھا جاتا ہے،زمانہٴ جاہلیت کے لوگ اس ماہ میں خوشی کی تقریبات (شادی ، بیاہ اور ختنہ وغیرہ )قائم کرنا منحوس سمجھتے تھے اور قابلِ افسوس بات یہ ہے کہ یہی نظریہ نسل در نسل آج تک چلا آرہا ہے؛ حالاں کہ سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت ہی صاف اور واضح الفاظ میں اس مہینے اور اس مہینے کے علاوہ پائے جانے والے والے توہمات اور قیامت تک کے باطل نظریات کی تردیداور نفی فرما دی اور علیٰ الاِعلان ارشاد فرما دیا کہ:(اللہ تعالی کے حکم کے بغیر) ایک شخص کی بیماری کے دوسرے کو (خود بخود)لگ جانے(کا عقیدہ) ، ماہِ صفر (میں نحوست ہونے کا عقیدہ) اور ایک مخصوص پرندے کی بد شگونی (کا عقیدہ) سب بے حقیقت باتیں ہیں۔ملاحظہ ہو:

عَنْ أبي ھُرَیْرَةَ رضي اللّٰہُ عنہ قال: قال النبيُّ ﷺ: ”لا عَدْوَیٰ ولا صَفَرَ ولا ھَامَةَ“․ (صحیح البخاري،کتابُ الطِّب،بابُ الھامة، رقم الحدیث: 5770، المکتبة السلفیة)

 مذکورہ حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلام میں اس قسم کے فاسد و باطل خیالات و نظریات کی کوئی گنجائش نہیں ہے ، ایسے نظریات و عقائد کو سرکارِدو عالم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پاوٴں تلے روند چکے ہیں۔

ماہِ صفر کے بارے میں ایک موضوع اور من گھڑت روایت کا جائزہ

ماہِ صفر کے متعلق نحوست والا عقیدہ پھیلانے کی خاطر دشمنانِ اسلام نے سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب جھوٹی روایات پھیلانے جیسے مکروہ اور گھناوٴنے افعال سے بھی دریغ نہیں کیا، ذیل میں ایک ایسی ہی من گھڑت روایت اور اس پر ائمہ جرح و تعدیل کا کلام ذکر کیا جاتا ہے،وہ من گھڑت حدیث یہ ہے:

”مَنْ بَشَّرَنِيْ بِخُرُوْجِ صَفَرَ، بَشَّرْتُہ بِالْجَنَّةِ “․

ترجمہ: ”جو شخص مجھے صفر کے مہینے کے ختم ہونے کی خوش خبری دے گا ،میں اُسے جنت کی خوش خبری دوں گا“۔

اس روایت سے استدلال کرتے ہوئے صفر کے مہینے کو منحوس سمجھا جاتا ہے،طریقہٴ استدلال یہ ہے کہ چوں کہ اس مہینہ میں نحوست تھی ؛اس لیے سرکار ِدوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مہینے کے صحیح سلامت گذرنے پر جنت کی خوش خبری دی ہے۔

تو اس بارے میں جان لینا چاہیے کہ یہ حدیث موضوع ہے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اس کی نسبت کرنا جائز نہیں ہے؛ چناں چہ ائمہٴ حدیث نے اس من گھڑت حدیث کے موضوع ہونے کو واضح کرتے ہوئے اس عقیدے کے باطل ہونے کو بیان کیا ہے، ان ائمہ میں ملا علی قاری، علامہ عجلونی،علامہ شوکانی اور علامہ طاہر پٹنی رحمہم اللہ وغیرہ شامل ہیں، ان حضرات ِ ائمہ کا کلام ذیل میں پیش کیا جاتا ہے:

چناں چہ ملا علی القاري رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

”مَنْ بَشَّرَنِيْ بِخُرُوْجِ صَفَرَ، بَشَّرْتُہ بِالْجَنَّةِ“ لَا أصْلَ لَہ“․(الأسرار المرفوعة في الأخبار الموضوعة المعروف بالموضوعات الکبریٰ، حرف المیم، رقم الحدیث: 437،2/324، المکتب الإسلامي)

اورعلامہ اسماعیل بن محمد العجلونی رحمہ اللہ ملا علی قاری رحمہ اللہ کے حوالے سے تحریر کرتے ہیں کہ

”مَنْ بَشَّرَنِيْ بِخُرُوْجِ صَفَرَ، بَشَّرْتُہ بِالْجَنَّةِ “ قال القاري في الموضوعات تبعاً للصغاني: ”لَا أصْلَ لَہ“․(کشف الخفاء و مزیل الإلباس، حرف المیم، رقم الحدیث:2418، 2/538،مکتبة العلم الحدیث)

اور شیخ الاسلام محمد بن علی الشوکانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں

”مَنْ بَشَّرَنِيْ بِخُرُوْجِ صَفَرَ، بَشَّرْتُہ بِالْجَنَّةِ “ قال الصغاني: ”موضوع“․ وکذا قال العراقي․ (الفوائد المجموعة في أحادیث الضعیفة والموضوعة للشوکاني، کتاب الفضائل، أحادیث الأدعیة والعبادات في الشھور، رقم الحدیث: 1260،ص:545، نزارمصطفیٰ الباز، مکة المکرمة)

اور علامہ محمد طاہر پٹنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

وکذا (أي: موضوع) ”مَنْ بَشَّرَنِيْ بِخُرُوْجِ صَفَرَ، بَشَّرْتُہ بِالْجَنَّةِ “ قزویني، وکذا قال أحمد بن حنبل:اللآلیٴ عن أحمد ومما تدور في الأسواق ولا أصل لہ․ (تذکرة الموضوعات للفتني،ص:116، کتب خانہ مجیدیہ، ملتان)

فتاویٰ عالمگیری میں ہے کہ:

میں نے ایسے لوگوں کے بارے میں دریافت کیاجو ماہِ صفرمیں سفر نہیں کرتے(یعنی: سفر کرنا درست نہیں سمجھتے) اور نہ ہی اس مہینے میں اپنے کاموں کو شروع کرتے ہیں، مثلاً: نکاح کرنا اور اپنی بیویوں کے پاس جاناوغیرہ اور اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان ”کہ جو مجھے صفر کے مہینے کے ختم ہونے کی خوش خبری دے گا، میں اُسے جنت کی بشارت دوں گا“ سے دلیل پکڑتے ہیں،کیا نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانِ مبارک (سند کے اعتبار سے )صحیح ہے؟ اور کیا اس مہینے میں نحوست ہوتی ہے ؟ اور کیا اس مہینے میں کسی کام کے شروع کرنے سے روکا گیا ہے ؟․․․․․تو جواب ملا کہ ماہِ صفر کے بارے میں جو کچھ لوگوں میں مشہور ہے، یہ کچھ ایسی باتیں ہیں جو اہلِ نجوم کے ہاں پائی جاتیں تھی؛ جنہیں وہ اس لیے رواج دیتے تھے کہ ان کا وہ قول ثابت ہو سکے ،جسے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرتے تھے؛حالاں کہ یہ صاف اورکھلا ہوا جھوٹ ہے(۵/۴۶۱)۔

نمبر: ۲  اس منگھڑت اور موضوع روایت کو ایک طرف رکھیں ، اس کے بالمقابل ماہِ صفر کے بارے میں بہت ساری صحیح احادیث ایسی موجود ہیں جو ماہِ صفر کی نحوست کی نفی کرتی ہیں، تو ایسی صحیح احادیث کے ہوتے ہوئے موضوع حدیث پر عمل کرنایا اس کی ترویج کرنا اور اس کے مطابق اپنا ذہن بنانا کوئی عقل مندی کی بات نہیں۔

نمبر : ۳  محدثین عظام کی تصریحات کے مطابق مذکورہ حدیث موضوع اور منگھڑت ہے، لیکن اگر کچھ لمحات کے لیے یہ تسلیم کر بھی لیا جائے کہ یہ حدیث صحیح ہے تو بھی اس حدیث سے ماہِ صفر کے منحوس ہونے پر دلیل پکڑنا درست نہیں ہے؛ بلکہ اس صورت میں اس کا صحیح مطلب اور مصداق یہ ہو گا کہ چوں کہ سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا ربیع الاول میں وصال ہونے والا تھااور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے رب عزوجل سے ملاقات کا بے حد اشتیاق تھا؛ اس لیے ربیع الاول کے شروع ہونے کا انتظار تھا؛ چناں چہ اس شخص کے لیے آپ نے جنت کی بشارت کا اعلان فرما دیا، جو ماہِ صفر کے ختم ہونے کی (اور ربیع الاول شروع ہونے کی)خبر لے کر آئے۔

خلاصہٴ کلام ! یہ کہ اس حدیث کا ماہِ صفر کی نحوست سے دور کا بھی تعلق نہیں ہے؛ بلکہ اسے محض مسلمانوں میں غلط نظریات پھیلانے کی غرض سے گھڑا گیا ہے۔

 ماہِ صفر کے آخری بدھ کی شرعی حیثیت

ماہِ صفر کے بارے میں لوگوں میں مشہور غلط عقائد و نظریات میں ایک ”اس مہینے کے آخری بدھ “ کا نظریہ بھی ہے،کہ اس بدھ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بیماری سے شفا ملی اور آپ نے غسلِ صحت فرمایا، لہٰذااس خوشی میں مٹھائیاں بانٹی جاتی ہیں، شیرینی تقسیم کی جاتی ہے اور بہت سے علاقوں میں تو اس دن خوشی میں روزہ بھی رکھا جاتا ہے اور خاص طریقے سے نماز بھی پڑھی جاتی ہے؛ حالاں کہ یہ بالکل خلاف حقیقت اور خلاف واقعہ بات ہے، اس دن تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مرضِ وفات کی ابتداء ہوئی تھی ،نہ کہ مرض کی انتہاء اور شفاء، یہ افواہ اور جھوٹی خبر دراصل یہودیوں کی طرف سے آپ کی مخالفت میں آپ کے بیمار ہونے کی خوشی میں پھیلائی گئی تھی اور مٹھائیاں تقسیم کی گئی تھیں۔ ذیل میں اس باطل نظرئیے کی تردید میں اکابر علماء کے فتاویٰ اور دیگر عبارات پیش کی جاتیں ہیں جن سے اس رسمِ بد اور غلط روش کی اور صفر کے آخری بدھ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے شفایاب ہونے یا بیمار ہونے کی اچھی طرح وضاحت ہو جاتی ہے۔

ماہِ صفر کے آخری بدھ کو روزہ رکھنے کا شرعی حکم

 حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ ”امداد المفتین“ میں ایک سوال کے جواب میں صفَر کے آخری بدھ کے روزے کی شرعی حیثیت واضح کرتے ہیں ،جو ذیل میں نقل کیا جاتا ہے۔

سوال: ماہِ صفر کا آخری چہار شنبہ بلادِ ہند میں مشہور بایں طور ہے کہ اس دن خصوصیت سے نفلی روزہ رکھا جاتا ہے اور شام کو کچوری یا حلوہ پکا کر کھایا جاتا ہے،عوام اس کو ”کچوری روزہ“ یا ”پیر کا روزہ“ کہتے ہیں، شرعاً اس کی کوئی اصل ہے یا نہیں؟

جواب: بالکل غلط اور بے اصل ہے، اس (روزہ) کو خاص طور سے رکھنا اور ثواب کا عقیدہ رکھنا بدعت اور ناجائز ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام صحابہ رضوان اللہ علیہم سے کسی ایک ضعیف حدیث میں (بھی) اس کا ثبوت بالالتزام مروی نہیں اور یہی دلیل ہے اس کے بطلان و فساد اور بدعت ہونے کی؛ کیونکہ کوئی عبادت ایسی نہیں ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو تعلیم کرنے سے بخل کیا ہو۔(امداد المفتین، فصل فی صوم النذر و صوم النفل، ص: 416، دارالاشاعت)

ماہِ صفر کے آخری بدھ کو ایک مخصوص طریقے سے ادا کی جانے والی نماز کا حکم

اس دن میں روزہ رکھنے کی طرح ایک نماز بھی ادا کی جاتی ہے، جس کی ادائیگی کا ایک مخصوص طریقہ یہ بیان کیا جاتا ہے، کہ ماہِ صفر کے آخری بدھ دو رکعت نماز ،چاشت کے وقت ،اس طرح ادا کی جائے کہ پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد ﴿قُل اللّٰھُمَّ مَالِکَ الْمُلْکِ﴾ دو آیتیں پڑھیں اور دوسری رکعت میں سورئہ فاتحہ کے بعد ﴿ قُل ادْعُوا اللّٰہَ أوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ﴾ دوآیتیں پڑھیں اور سلام پھیرنے کے بعد نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجیں اور دعا کریں۔

 اس طریقہٴ نماز کی تخریج کے بعد حضرت علامہ عبدالحئی لکھنوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ ”اس قسم کی مخصوص طریقوں سے ادا کی جانے والی نمازوں کا حکم یہ ہے کہ اگر اس مخصوص طریقہ کی شریعت میں مخالفت موجود ہو تو کسی کے لیے ان منقول طریقوں کے مطابق نمازادا کرنا جائز نہیں ہے اور یہ مخصوص طریقے والی نماز شریعت سے متصادم نہ ہو تو پھر ان طریقوں سے نماز ادا کرنا مخصوص شرائط کا لحاظ رکھتے ہوئے جائز ہے، ورنہ جائز نہیں۔

وہ شرائط یہ ہیں:

(1) اِن نمازوں کو ادا کرنے والااِن کے لیے ایسا اہتمام نہ کرے، جیسا کہ شرعاً ثابت شدہ نمازوں (فرائض و واجبات وغیرہ) کے لیے کیا جاتا ہے۔

(2) ان نمازوں کو شارع علیہ السلام سے منقول نہ سمجھے۔

(3) ان منقول نمازوں کے ثبوت کا وہم نہ رکھے۔

(4) ان نمازوں کو شریعت کے دیگر مستحبات وغیرہ کی طرح مستحب نہ سمجھے۔

(5) ان نمازوں کا اس طرح التزام نہ کیا جائے جس کی شریعت کی طرف سے ممانعت ہو۔جاننا چاہیے کہ ہر مباح کام کو جب اپنے اوپر لازم کر لیا جائے ،تو وہ شرعاً مکروہ ہو جاتا ہے۔اس کے بعد لکھا ہے کہ موجودہ زمانے میں ایسے افراد معدوم (نہ ہونے کے برابر)ہیں جو مذکورہ شرائط کی پاسداری رکھ سکیں اور شرائط کی رعایت کیے بغیر ان نمازوں کو ادا کرنے کا حکم اوپر گذر چکا ہے کہ یہ عمل ”نیکی برباد ،گناہ لازم“ کا مصداق تو بن سکتا ہے، تقرب الی اللہ کا نہیں۔ (تفصیل کے لیے دیکھیے مخصوصة، القول الفیصل في ھٰذا المقام: 5/ 103، 104، إدارة القرآن کراتشي)

صفر کے آخری چار شنبہ کا حکم

سوال: صفر کے آخری چہار شنبہ کو اکثر عوام خوشی و سرور وغیرہ میں اطعام ُ الطعام (کھانا کھلانا) کرتے ہیں ،شرعاً اس باب میں کیا ثابت ہے؟

جواب: شرعاً اس باب میں کچھ بھی ثابت نہیں ، سب جہلاء کی باتیں ہیں۔ (فتاوی رشیدیہ، کتاب العلم، ص:171،عالمی مجلس تحفظ ِ اسلام،کراچی)

صفر کے آخری بدھ کی رسومات اور فاتحہ کا حکم

سوال: آخری چہار شنبہ جو صفر کے مہینے میں ہوتا ہے، اس کے اعمال شریعت میں جائزہیں یا نہیں؟

الجواب: آخری چہار شنبہ کے متعلق جو باتیں مشہور ہیں اور جو رسمیں ادا کی جاتی ہیں، یہ سب بے اصل ہیں۔ (کفایت المفتی، کتاب العقائد:2/302، ادارہ الفاروق، جامعہ فاروقیہ کراچی)

صفر کے آخری چہار شنبہ کو مٹھائی تقسیم کرنا

سوال: یہاں مراد آباد میں ماہِ صفر کے آخری چہار شنبہ کو ”کارخانہ دار“ ان ظروف کی طرف سے کاریگروں کو شیرینی تقسیم کی جاتی ہے، بلامبالغہ یہ ہزارہا روپیہ کا خرچ ہے؛ کیونکہ صدہا کاریگر ہیں اور ہر ایک کو اندازاً کم و بیش پاوٴ بھر مٹھائی ملتی ہے، ان کے علاوہ دیگر کثیر متعلقین کو کھلانی پڑتی ہے، مشہور یہ روایت کر رکھی ہے کہ اس دن حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل ِ صحت کیا تھا؛ مگر از روئے تحقیق بات برعکس ثابت ہوئی کہ اس دن حضرت رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے مرضِ وفات میں غیرمعمولی شدت تھی، جس سے خوش ہو کر دشمنانِ اسلام یعنی یہودیوں نے خوشی منائی تھی،احقر نے اس کا ذکر ایک کارخانہ دار سے کیا تومعلوم ہوا کہ جاہل کاریگروں کی ہوا پرستی اور لذت پروری اتنی شدید ہے کہ کتنا ہی ان کو سمجھایا جائے وہ ہرگز نہیں مانتے اور چوں کہ کارخانوں کی کامیابی کا دارو مدار کاریگروں ہی پر ہے،تو اگر کوئی کارخانہ دار ہمت کر کے شیرینی تقسیم نہ کرے تو جاہل کاریگر اس کے کارخانہ کو سخت نقصان پہنچائیں گے، کام کرناچھوڑ دیں گے۔

الف: حقیقت کی رو سے مذکورہ تقسیم شیرینی کا شمار افعال ِکفریہ ، اسلام دشمنی سے ہونا تو عقلاً ظاہرہے ،تو بلا عذر ِ شرعی اس کے مرتکب پر کفر کا فتویٰ لگتا ہے یا نہیں ؟اگرچہ وہ مذکورہ حقیقت سے ناواقف ہی کیوں نہ ہو؟

ب: جاہل کاریگروں کی ایذاء رسانی سے حفاظت کے لیے کارخانہ داروں کا فعلِ مذکور میں معذور مانا جا سکتا ہے؟

ج: ماہِ صفر کے آخری چہار شنبہ سے متعلق جو صحیح روایات اوپر مذکور ہوئیں ،وہ کس کتاب میں ہیں؟

د: حضرت رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے مرضِ وفات میں شدت کی خبر پا کر یہودیوں نے کس طرح خوشی منائی تھی؟

الجواب حامداً و مصلیاً: ماہِ صفر کے آخری چہار شنبہ کو خوشی کی تقریب منانا، مٹھائی وغیرہ تقسیم کرنا شرعاً بے دلیل ہے، اس تاریخ میں غسلِ صحت ثابت نہیں؛ البتہ شدتِ مرض کی روایت ”مدارجُ النبوة“ (2/704 -707 ، مدینہ پبلشنگ کمپنی،کراچی)میں ہے۔

یہود کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے شدتِ مرض سے خوشی ہونا بالکل ظاہر اور ان کی عداوت و شقاوت کا تقاضاہے۔

(الف) مسلمانوں کا اس دن مٹھائی تقسیم کرنا نہ شدتِ مرض کی خوشی میں (ہوتا) ہے، نہ یہود کی موافقت کی خاطر (ہوتا)ہے،نہ ان کو اس روایت کہ خبر ہے، نہ یہ فی نفسی کفر و شرک ہے؛ اس لیے ان حالات میں کفر و شرک کا حکم نہ ہو گا۔ ہاں یہ کہا جائے گا کہ یہ طریقہ غلط ہے، اس سے بچنا لازم ہے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس روز غسل ِصحت (کرنا) ثابت نہیں ہے،(اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف) کوئی غلط بات منسوب کرنا سخت معصیت ہے، (نیز!) بغیر نیتِ موافقت بھی یہود کا طریقہ اختیار نہیں کرنا چاہیے۔

(ب) نہایت نرمی و شفقت سے کارخانہ دار اپنے کاریگروں کو بہت پہلے سے تبلیغ و فہمائش کرتا رہے اور اصل حقیقت اس کے ذہن میں اتار دے ، ان کا مٹھائی کا مطالبہ کسی دوسری تاریخ میں حُسنِ اُسلوب سے پورا کر دے، مثلاً: رمضان، عید، بقر عید وغیرہ کے موقع پر دے دیا کرے، جس سے ان کے ذہن میں یہ نہ آئے کہ یہ بخل کی وجہ سے انکار کرتا ہے، بہر حال کارخانہ دار بڑی حد تک معذور ہے۔

(ج) مدارج ُ النبوہ میں ہے۔ (2/704 -707 ، مدینہ پبلشنگ کمپنی،کراچی)

(د) یہود نے کس طرح خوشی منائی؟ اس کی تفصیل نہیں معلوم۔(فتاویٰ محمودیہ،باب البدعات و الرسوم: 3/ 280،ادارہ الفاروق، جامعہ فاروقیہ کراچی)

صفر کے آخری بدھ میں عمدہ کھانا پکانا

سوال:ماہِ صفر کے آخری بدھ کو بہترین کھانا پکانا درست ہے یا نہیں؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ماہِ صفرکے آخری بدھ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مرض سے شفاء ہوئی تھی، اس خوشی میں کھانا پکانا چاہیے، یہ درست ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا

الجواب:یہ غلط اور من گھڑت عقیدہ ہے؛ اس لیے ناجائز اور گناہ ہے۔فقط واللہ تعالیٰ اعلم (احسن الفتاویٰ، کتاب الایمان والعقائد ،باب فی رد البدعات:1/360، ایچ ایم سعید)

صفر کے آخری بدھ کو چُری کرنا بدعت اور رسم قبیحہ ہے

سوال: ہمارے علاقے صوبہ سرحد میں ماہِ صفر میں خیرات کرنے کا ایک خاص طریقہ رائج ہے، جس کو پشتو زبان میں (چُری) کہتے ہیں، عوام الناس کا عقیدہ یہ ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحت یابی کی خوشی میں کی تھی۔ ”ماہنامہ النصیحہ“ میں مولانا گوہر شاہ اور مولانا رشید احمد صدیقی مفتی دارالعلوم حقانیہ نے اپنے اپنے مضامین میں اس کی تردید کی ہے کہ یہ (چُری ) و خیرات یہودیوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کی خوشی میں کی تھی اور مسلمانوں میں یہ رسم (وہاں ) سے منتقل ہوگئی ہے، اس کی وضاحت فرمائیے؟

الجواب: چوں کہ چُری نہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے اور نہ آثار اور کتبِ فقہ سے۔ لہٰذا اس کو ثواب کی نیت سے کرنا بدعتِ سیئہ ہے اور رواج کی نیت سے کرنا رسمِ قبیحہ اور التزام ما لا یلزم ہے، نیز حاکم کی روایت میں مسطور ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے آخری چہار شنبہ میں زیادتی آئی تھی اور عوام کہتے ہیں کہ بیماری میں خفت آگئی تھی اور عوام حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت کرتے ہیں کہ ”انہوں نے چُری مانگی “ اور یہ نسبت وضع حدیث اور حرام ہے، لِعَدَمِ ثُبُوْتِ ہَذا الْحَدِیْثِ فِي کُتُبِ الأحَادِیْثِ وَلاَ بِالاسْنَادِ الثَّابِتِ، وَہُوَ الْمُوَفِّقُ․(فتاویٰ فریدیہ، کتاب السنة و البدعة، 1/296،مکتبہ دارالعلوم صدیقیہ صوابی)

چُری کے بارے میں دلائل غلط اور من گھڑت ہیں

سوال: کیا فرماتے ہیں علماء دین ، مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ

صفر کے آخری بدھ کو جو چُری کی جاتی ہے  اس کے جواز میں دو دلائل پیش کیے جاتے ہیں، کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس صفر کے مہینے میں بیمار ہوئے تھے،پھر جب اس مہینے میں صحت یاب ہوئے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے شکریہ میں خیرات و صدقہ کیا ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب اس مہینے میں بیمار ہوئے، تو یہود نے اس کی خوشی ظاہر کرنے کے لیے اس مہینے میں خیرات کیا اور خوشی منائی، لہٰذا ہم جو یہ خیرات کرتے ہیں یا تو اس لیے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہانے خیرات کی تھی یا یہود کے مقابلے میں کہ جو انہوں نے خوشی منائی تھی، ہم قصداً ان سے مقابلے میں تشکر ِ نعمت کے لیے کرتے ہیں، لہٰذا علماء دین اس مسئلہ کے بارے میں کیا فرماتے ہیں کہ یہ دلائل صحیح ہیں یا غلط؟

الجواب: ثواب کی نیت سے چُری کرنا بدعت ِسیئہ ہے؛کیوں کہ غیر سنت کو سنت قرار دینا غیرِ دین کو دین قرار دینا ہے ، جو کہ بدعت ہے، ان مجوزین کے لیے ضروری ہے کہ ان احادیث ِ مذکورہ کی سند ذکر کریں اور یا ایسی کتاب کا حوالہ دیں جو کہ سندِ احادیث کو ذکر کرتی ہو یا کم ازکم متداول کتبِ فقہ کا حوالہ ذکر کریں۔

مزید بریں! یہ کہ حاکم نے روایت کی ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم آخری چہار شنبہ کو بیمار ہوئے، یعنی بیماری نے شدت اختیار کی اور تاریخ میں یہ مسطور ہے کہ یہود نے اس دن خوشی منائی اور دعوتیں تیار کیں اور یہ ثابت نہیں کہ اہلِ اسلام نے اس کے مقابل کوئی کاروائی کی․ وھُوَ الْمُوَفِّقُ․ (فتاویٰ فریدیہ، کتاب السنة و البدعة، 1/298،مکتبہ دارالعلوم صدیقیہ صوابی )

چُری کی خوراک کھانے کا حکم

 سوال: چُری کا شرعاً کیا حکم ہے؟ اور اس کی خوراک کھانا کیا حکم رکھتا ہے؟ بینوا وتوجروا

الجواب: چُری بقصدِ ثواب مکروہ ہے، لاِٴنَّ فِیْہِ تَخْصِیْصُ الزَّمَانِ وَالنَّوْعِ بِلاَ مُخَصِّصٍ، یَدُلُّ عَلَیْہِ مَا فِي الْبَحْرِ(:2/159) البتہ عوام کے لیے اس کا کھانا مکروہ نہیں ہے، لما في الھندیہ: وَلاَ یُبَاحُ اتِّخَاذُ الضِّیَافَةُ ثَلاَثَةَ أیَّامٍ فِي أیَّامِ الْمُصِیْبَةِ وَاذَا اتَّخَذَ لاَ بَأسَ بِالْأکَِْ مِنْہُ، کذا في خِزانةِ المفتین․5/380․ (فتاویٰ فریدیہ، کتاب السنة و البدعة، 1/299، مکتبہ دارالعلوم صدیقیہ صوابی)

 صفر المظفر کے آخری بدھ کو خوشی منانے کی شرعی حیثیت

 سوال: جناب مفتی صاحب ! بعض علاقوں میں یہ رواج ہے کہ کچھ لوگ ماہِ صفر المظفر کے آخری بدھ کو خوشیاں مناتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مرض سے شفاء ہوئی تھی اور اس دن بلائیں اوپر چلی جاتی ہیں؛ اس لیے اس دن خوشیاں مناتے ہوئے شیرینی تقسیم کرنی چاہیے، دریافت طلب امر یہ ہے کہ ماہِ صفر میں اس عمل کا شرعاً کیا حکم ہے؟

الجواب: ماہِ صفر المظفرکو منحوس سمجھنا خلافِ اسلام عقیدہ ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے سختی سے منع فرمایا ہے، اس ماہِ مبارک میں نہ تو آسمان سے بلائیں اترتی ہیں اور نہ اس کے آخری بدھ کو اوپر جاتی ہیں اور نہ ہی امامُ الانبیاء جنابِ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس دن مرض سے شفاء یابی ہوئی تھی؛ بلکہ موٴرخین نے لکھا ہے کہ ۲۸/ صفر کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تھے، مفتی عبدالرحیمفرماتے ہیں: ”مسلمانوں کے لیے آخری چہار شنبہ کے طور پر خوشی کا دن منانا جائز نہیں۔”شمس التواریخ“وغیرہ میں ہے کہ ۲۶/صفر ۱۱ھ دو شنبہ کو آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو رومیوں سے جہاد کرنے کا حکم دیا اور۲۷/صفر سہ شنبہ کو اُسامہ بن زید رضی اللہ عنہ امیرِلشکر مقرر کیے گئے، ۲۸/صفر چہار شنبہ کو اگرچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوچکے تھے؛ لیکن اپنے ہاتھ سے نشان تیار کر کے اُسامہ کو دیا تھا،ابھی (لشکر کے)کوچ کی نوبت نہیں آئی تھی کہ آخر چہار شنبہ اور پنج شنبہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی علالت خوفناک ہوگئی اور ایک تہلکہ سا مچ گیا، اسی دن عشاء سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھانے پر مقرر فرمایا۔ (شمس التواریخ:2/1008)

اس سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ ۲۸/ صفر کو چہار شنبہ (بدھ) کے روز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض میں زیادتی ہوئی تھی اور یہ دن ماہِ صفر کا آخری چہار شنبہ تھا، یہ دن مسلمانوں کے لیے تو خوشی کا ہے ہی نہیں؛ البتہ یہود وغیرہ کے لیے شادمانی کا دن ہو سکتا ہے، اس روز کو تہوار کا دن ٹھہرانا، خوشیاں منانا، مدارس وغیرہ میں تعظیم کرنا، یہ تمام باتیں خلافِ شرع اور ناجائز ہیں“۔(فتاویٰ حقانیہ،کتاب البدعة والرسوم :2/84،جامعہ دارالعلوم حقانیہ ،اکوڑہ خٹک ، وکذا فی فتاویٰ رحیمیہ،ما یتعلق بالسنة والبدعة: 2/68،69،دارالاشاعت)

 حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلوی رحمہ اللہ اپنی تالیف ”سیرت المصطفیٰ “ میں لکھتے ہیں کہ

”ماہِ صفر کے اخیر عشرہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار شب کو اُٹھے اور اپنے غلام” ابو مویہبہ“ کو جگایا اور فرمایا کہ مجھے یہ حکم ہوا ہے کہ اہلِ بقیع کے لیے استغفار کروں، وہاں سے واپس تشریف لائے تو دفعةً مزاج ناساز ہو گیا، سر درد اور بخار کی شکایت پیدا ہو گئی۔یہ ام الموٴمنین میمونہ رضی اللہ تعالی عنہا کی باری کا دن تھا اور بدھ کا روز تھا“۔(سیرت المصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ، علالت کی ابتداء: 3/156،کتب خانہ مظہری، کراچی)

 سیرة النبی صلی اللہ علیہ وسلم میں علامہ شبلی نعمانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ” صفر / ۱۱ ہجری میں آدھی رات کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم جنت البقیع میں جو عام مسلمانوں کا قبرستان تھا، تشریف لے گئے، وہاں سے واپس تشریف لائے تو مزاج ناساز ہوا، یہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کی باری کا دن تھا اور روز چہار شنبہ تھا“ ۔(سیرة النبی :2/115،اسلامی کتب خانہ)

اسی کے حاشیہ میں ”علامہ سید سلیمان ندوی رحمہ اللہ“ لکھتے ہیں:

”اس لیے تیرہ (۱۳) دن مدتِ علالت صحیح ہے، علالت کے پانچ دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری ازواج کے حجروں میں بسر فرمائے، اس حساب سے علالت کا آغاز چہار شنبہ (بدھ) سے ہوتا ہے“۔ ( حاشیہ سیرة النبی: 2/114،اسلامی کتب خانہ)

 سیرة خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم میں حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں کہ” ۲۸/ صفر ۱۱ ہجری چہار شنبہ کی رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبرستان بقیعِ غرقد میں تشریف لے جا کر اہلِ قبور کے لیے دعا ءِ مغفرت کی اور فرمایا:اے اہلِ مقابرتمہیں اپنا حال اور قبروں کا قیام مبارک ہو ، کیوں کہ اب دنیا میں تاریک فتنے ٹوٹ پڑے ہیں،وہاں سے تشریف لائے تو سر میں درد تھا اور پھر بخار ہو گیا اور بخار صحیح روایات کے مطابق تیرہ روز تک متواتر رہا اور اسی حالت میں وفات ہوگئی“۔ (سیرت خاتم الانبیاء ، ص:126، مکتبة المیزان،لاہور)۔

خلاصہٴ بحث

اوپر ذکر کردہ تفصیل کے مطابق ”مَنْ بَشَّرَنِيْ بِخُرُوْجِ صَفَرَ، بَشَّرْتُہ بِالْجَنَّة“ والی روایت ثابت نہیں ہے ؛ بلکہ موضوع اور من گھڑت ہے، اس کو بیان کرنا اور اس کے مطابق ا پنا ذہن و عقیدہ رکھنا جائز نہیں۔ نیز! ماہِ صفر کے آخری بدھ کی شرعاً کوئی حیثیت نہیں ہے اور اس دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بیماری سے شفاء ملنے والی بات بھی جھوٹی اور دشمنانِ اسلام یہودیوں کی پھیلائی ہوئی ہے،اس دن تو معتبر روایات کے مطابق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کی ابتداء ہوئی تھی نہ کہ شفاء کی۔

لہٰذا ہم سب کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم خود بھی اس طرح کے توہمات و منکرات سے بچیں اور قدرت بھر دوسروں کو بھی اس طرح کی خرافات سے بچانے کی کوشش کریں۔

ﻋﻠﻤﺎﺀ دیوبند اور ﺑﺮﯾﻠﻮﯾﻮﮞ کے ﻗﺒﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﻓﯿﺾ ﮐﮯ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻓﺮﻕ

ﺳﻮﺍﻝ:

ﻋﻠﻤﺎﺀ ﺩﯾﻮﺑﻨﺪ ﮐﺎ ﻋﻘﯿﺪﮦ ﻗﺒﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﻓﯿﺾ ﮐﮯ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﻫﮯ ﯾﻪ ﺑﺮﯾﻠﻮﯾﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﮐﻔﺮﯾﮧ ﺍﻭﺭ ﺷﺮﮐﯿﮧ ﻋﻘﯿﺪﮦ ﮨﮯ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﻓﺮﻕ ﮨﮯ؟

ﺟﻮﺍﺏ:

ﺩﻭ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﺍﻟﮓ ﺍﻟﮓ ﮨﯿﮟ
ﺍﯾﮏ ﮨﮯ ﺍﺳﺘﻌﺎﻧﺖ ﻭ ﺍﺳﺘﻤﺪﺍﺩ ﻋﻦ ﺍﻟﻘﺒﻮﺭ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﮨﮯ ﻗﺒﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺭﻭﺣﺎﻧﯽ ﻓﯿﺾ ﮐﺎ ﺣﺼﻮﻝ ۔

ﺍﮨﻠﺴﻨﺖ ﻭ ﺍﻟﺠﻤﺎﻋﺖ ﺍﺣﻨﺎﻑ ﺩﯾﻮﺑﻨﺪ ﮐﺎ ﻋﻘﯿﺪﮦ ﻭﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﻮ ﺍﮨﻞ ﺑﺪﻋﺖ (ﺑﺮﯾﻠﻮﯼ ﺣﻀﺮﺍﺕ) ﮐﺎ ﮨﮯ ﯾﺎ ﻋﻮﺍﻡ ﺍﻟﻨﺎﺱ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻏﻠﻂ ﺗﻔﺴﯿﺮ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻗﺒﺮ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﺪﺩ ﻃﻠﺐ ﮐﺮﻧﺎ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺣﺎﺟﺖ ﺭﻭﺍ ﻣﺸﮑﻞ ﮐﺸﺎﺀ ﺳﻤﺠﮫ ﮐﺮ ﺍﻥ ﺳﮯ ﻣﺴﺎﺋﻞ ﺣﻞ ﮐﺮﻭﺍﻧﺎ (ﺟﯿﺴﺎ ﮐﮧ ﺍﮨﻞ ﺑﺪﻋﺖ ﮐﺎ ﻧﻈﺮﯾﮧ ﮨﮯ) ﯾﮧ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﺩﯾﻮﺑﻨﺪ ﮐﺎ ﻋﻘﯿﺪﮦ ﻗﻄﻌﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮬﮯ. ﺑﻠﮑﮧ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﺩﯾﻮﺑﻨﺪ ﮐﮯ ﻋﻘﯿﺪﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﺲ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻭﻟﯿﺎﺀ ﮐﺮﺍﻡ ﮐﺎ ﻭﺳﯿﻠﮧ ﺍﻭﺭ ﻭﺍﺳﻄﮧ ﺩﮮ ﮐﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﺳﮯ ﻣﺎﻧﮕﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺸﮑﻞ ﮐﺸﺎﺀ ﺍﻭﺭ ﺣﺎﺟﺖ ﺭﻭﺍ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﮐﯽ ﺫﺍﺕ ﮐﻮ ﮨﯽ ﺳﻤﺠﮭﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﻧﮧ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﮐﺴﯽ ﻏﯿﺮ ﮐﻮ ۔

ﺑﺎﻗﯽ ﺟﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﺍﻭﻟﯿﺎﺀ ﻭ ﺑﺰﺭﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﻗﺒﻮﺭ ﺳﮯ ﺭﻭﺣﺎﻧﯽ ﻓﯿﺾ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ؟ ﺑﻌﺾ ﮐﻢ ﻓﮩﻢ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﯾﮧ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﮐﺮ ﺭﮐﮭﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻗﺒﻮﺭ ﺳﮯ ﻓﯿﺾ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﯾﮧ ﻗﺒﺮ ﭘﺮﺳﺖ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﮨﻞ ﻗﺒﻮﺭ ﺳﮯ ﻣﺪﺩ ﻣﺎﻧﮕﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﺮﮔﺰ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﺍﻭﻟﯿﺎﺀ ﮐﯽ ﻗﺒﻮﺭ ﺳﮯ ﻓﯿﺾ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﻋﺎﻡ ﻓﮩﻢ ﻣﻄﻠﺐ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺣﺎﺩﯾﺚ ﮐﯽ ﺭﻭ ﺳﮯ ﺍﻧﺒﯿﺎﺀ ﻭ ﺍﻭﻟﯿﺎ ﺀ ﮐﯽ ﻗﺒﻮﺭ ﺟﻨﺖ ﮐﺎ ﺑﺎﻍ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﻨﺖ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﮐﮯ ﺍﻧﻌﺎﻣﺎﺕ ﻭ ﺗﺠﻠﯿﺎﺕ ﮐﺎ ﻣﻘﺎﻡ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺻﺎﻟﺤﯿﻦ ﮐﯽ ﻗﺒﻮﺭ ﭘﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﮐﯽ ﺭﺣﻤﺘﻮﮞ ﮐﺎ ﺧﺎﺹ ﻧﺰﻭﻝ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﻟﮩﺬﺍ ﺯﯾﺎﺭﺕ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺑﮭﯽ ﺍﻥ ﺭﺣﻤﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﺤﺮﻭﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺘﺎ ﺍﮔﺮﭼﮧ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮ ﯾﺎ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﻋﻄﺎﺭ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﯽ ﺩﻭﮐﺎﻥ ﮐﮯ ﻣﺤﺾ ﭘﺎﺱ ﺳﮯ ﮔﺰﺭﻧﮯ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺁﺩﻣﯽ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﮐﻮ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺑﺲ ﯾﮧ ﮨﮯ ﺍﺻﻞ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﻓﯿﺾ ﮐﯽ ۔

ﺑﺎﻗﯽ ﻗﺒﻮﺭ ﮐﺎ ﻃﻮﺍﻑ ﺳﺠﺪﮮ ﮐﺮﻧﺎ ، ﭼﺮﺍﻏﺎﮞ ﮐﺮﻧﺎ ، ﺍﺫﺍﻥ ﺩﯾﻨﺎ، ﻭﮨﺎﮞ ﭘﺮ ﻋﺮﺱ ﻣﯿﻠﮯ ﻗﻮﺍﻟﯽ ﮐﺮﻧﺎ ، ﻗﺒﺮ ﮐﻮ ﺑﻮﺱ ﻭ ﮐﻨﺎﺭ ﮐﺮﻧﺎ ، ﻗﺒﺮ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺗﺼﺮﻑ ﻭﺍﻻ ﺳﻤﺠﮭﻨﺎ ، ﻭ ﻏﯿﺮﮦ ﯾﮧ ﺳﺐ ﺑﺪﻋﺎﺕ ﻭ ﺧﺮﺍﻓﺎﺕ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﺩﯾﻮﺑﻨﺪ ﻗﻄﻌﺎ ﺍﻥ ﭼﯿﺰﻭﮞ ﮐﮯ ﻗﺎﺋﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﯿﮟ ۔
ﻧﯿﺰ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﺩﯾﻮﺑﻨﺪ ﮐﺎ ﻧﻈﺮﯾﮧ ﺧﻮﺩ ﺗﺮﺍﺷﯿﺪﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﺑﻠﮑﮧ ﺣﺪﯾﺚ ﻃﯿﺒﮧ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺛﺒﻮﺕ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﮯ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺍﻣﺎﻡ ﺑﺨﺎﺭﯼ ﺭﺣﻤۃ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﺘﺎﺏ ”ﺻﺤﻴﺢ ﺍﻟﺒﺨﺎﺭﯼ“ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺏ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ:

”ﺑَﺎﺏُ ﻣَﺎ ﺟَﺎﺀَ ﻓِﻲ ﻗَﺒْﺮِ ﺍﻟﻨَّﺒِﻲِّ ﺻَﻠَّﻰ ﺍﻟﻠﻪُ ﻋَﻠَﻴْﻪِ ﻭَﺳَﻠَّﻢَ ﻭَﺃَﺑِﻲ ﺑَﻜْﺮٍ ﻭَﻋُﻤَﺮَ ﺭَﺿِﻲَ ﺍﻟﻠﻪُ ﻋَﻨْﻬُﻤَﺎ

ﺍﺱ ﺑﺎﺏ ﮐﮯ ﺗﺤﺖ ﺍﻣﺎﻡ ﺑﺨﺎﺭﯼ ﺭﺣﻤۃ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻨﮧ ﮐﯽ ﯾﮧ ﺣﺪﯾﺚ ﻧﻘﻞ ﮐﯽ ﮨﮯ:

ﻋَﻦْ ﻋَﻤْﺮِﻭ ﺑْﻦِ ﻣَﻴْﻤُﻮﻥٍ ﺍﻟْﺄَﻭْﺩِﻱِّ ﻗَﺎﻝَ ﺭَﺃَﻳْﺖُ ﻋُﻤَﺮَ ﺑْﻦَ ﺍﻟْﺨَﻄَّﺎﺏِ ﺭَﺿِﻲَ ﺍﻟﻠﻪُ ﻋَﻨْﻪُ ﻗَﺎﻝَ ﻳَﺎ ﻋَﺒْﺪَ ﺍﻟﻠﻪِ ﺑْﻦَ ﻋُﻤَﺮَ ﺍﺫْﻫَﺐْ ﺇِﻟَﻰ ﺃُﻡِّ ﺍﻟْﻤُﺆْﻣِﻨِﻴﻦَ ﻋَﺎﺋِﺸَﺔَ ﺭَﺿِﻲَ ﺍﻟﻠﻪُ ﻋَﻨْﻬَﺎ ﻓَﻘُﻞْ ﻳَﻘْﺮَﺃُ ﻋُﻤَﺮُ ﺑْﻦُ ﺍﻟْﺨَﻄَّﺎﺏِ ﻋَﻠَﻴْﻚِ ﺍﻟﺴَّﻠَﺎﻡَ ﺛُﻢَّ ﺳَﻠْﻬَﺎ ﺃَﻥْ ﺃُﺩْﻓَﻦَ ﻣَﻊَ ﺻَﺎﺣِﺒَﻲَّ ﻗَﺎﻟَﺖْ ﻛُﻨْﺖُ ﺃُﺭِﻳﺪُﻩُ ﻟِﻨَﻔْﺴِﻲ ﻓَﻠَﺄُﻭﺛِﺮَﻧَّﻪُ ﺍﻟْﻴَﻮْﻡَ ﻋَﻠَﻰ ﻧَﻔْﺴِﻲ ﻓَﻠَﻤَّﺎ ﺃَﻗْﺒَﻞَ ﻗَﺎﻝَ ﻟَﻪُ ﻣَﺎ ﻟَﺪَﻳْﻚَ ﻗَﺎﻝَ ﺃَﺫِﻧَﺖْ ﻟَﻚَ ﻳَﺎ ﺃَﻣِﻴﺮَ ﺍﻟْﻤُﺆْﻣِﻨِﻴﻦَ ﻗَﺎﻝَ ﻣَﺎ ﻛَﺎﻥَ ﺷَﻲْﺀٌ ﺃَﻫَﻢَّ ﺇِﻟَﻲَّ ﻣِﻦْ ﺫَﻟِﻚَ ﺍﻟْﻤَﻀْﺠَﻊِ ﺍﻟْﻤَﻀْﺠِﻊِ ‏ﻓَﺈِﺫَﺍ ﻗُﺒِﻀْﺖُ ﻓَﺎﺣْﻤِﻠُﻮﻧِﻲ ﺛُﻢَّ ﺳَﻠِّﻤُﻮﺍ ﺛُﻢَّ ﻗُﻞْ ﻳَﺴْﺘَﺄْﺫِﻥُ ﻋُﻤَﺮُ ﺑْﻦُ ﺍﻟْﺨَﻄَّﺎﺏِ ﻓَﺈِﻥْ ﺃَﺫِﻧَﺖْ ﻟِﻲ ﻓَﺎﺩْﻓِﻨُﻮﻧِﻲ ﻭَﺇِﻟَّﺎ ﻓَﺮُﺩُّﻭﻧِﻲ ﺇِﻟَﻰ ﻣَﻘَﺎﺑِﺮِ ﺍﻟْﻤُﺴْﻠِﻤِﻴﻦَ.  [ﺻﺤﯿﺢ ﺍﻟﺒﺨﺎﺭﯼ : ﺝ 1 ﺹ 633]

ﺗﺮﺟﻤﮧ: ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮﻭ ﺑﻦ ﻣﯿﻤﻮﻥ ﺍَﻭﺩﯼ ﺳﮯ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ (ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ) ﻧﮯ ﺑﻮﻗﺖِ ﻭﺻﺎﻝ ﺍﭘﻨﮯ ﺻﺎﺣﺒﺰﺍﺩﮮ ﺳﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ: ﺍﮮ ﻋﺒﺪﺍﷲ ﺑﻦ ﻋﻤﺮ ! ﺍﻡ ﺍﻟﻤﺆﻣﻨﯿﻦ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺎﺋﺸﮧ ﺻﺪﯾﻘﮧ ﺭﺿﯽ ﺍﷲ ﻋﻨﮩﺎ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺟﺎﺅ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﺳﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﺮﻭ ﮐﮧ ﻋﻤﺮ ﺑﻦ ﺧﻄﺎﺏ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺳﻼﻡ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻋﺮﺽ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺭﻓﻘﺎﺀ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺭﻭﺿﮧ ﺭﺳﻮﻝ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻣﯿﮟ ﺩﻓﻦ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﺩﯼ ﺟﺎﺋﮯ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﷲ ﻋﻨﮩﻤﺎ ﻧﮯ ﺟﺐ ﺍﻡ ﺍﻟﻤﺆﻣﻨﯿﻦ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺎﺋﺸﮧ ﺭﺿﯽ ﺍﷲ ﻋﻨﮩﺎ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﯽ ﯾﮧ ﺩﺭﺧﻮﺍﺳﺖ ﭘﯿﺶ ﮐﯽ ﺗﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺎﺋﺸﮧ ﺻﺪﯾﻘﮧ ﺭﺿﯽ ﺍﷲ ﻋﻨﮩﺎ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﻭﮦ ﺟﮕﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﻟﯿﮯ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﺁﺝ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮩﯿﮟ‏ (ﯾﻌﻨﯽ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﻮ) ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﺗﺮﺟﯿﺢ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﻮﮞ۔ ﺟﺐ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﷲ ﻋﻨﮩﻤﺎ ﻭﺍﭘﺲ ﻟﻮﭨﮯ ﺗﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺩﺭﯾﺎﻓﺖ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﮐﯿﺎ ﺧﺒﺮ ﻻﺋﮯ ﮨﻮ؟ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ : ﺍﮮ ﺍﻣﯿﺮ ﺍﻟﻤﻮﻣﻨﯿﻦ ! ﺍﻡ ﺍﻟﻤﺆﻣﻨﯿﻦ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺎﺋﺸﮧ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﻧﮯ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﺩﮮ ﺩﯼ ﮨﮯ، ﺗﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﺍﺱ ﻣﺘﺒﺮﮎ ﻭ ﻣﻘﺪﺱ  ﻣﻘﺎﻡ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﮯ  ﺑﻄﻮﺭ ﺁﺧﺮﯼ ﺁﺭﺍﻡ ﮔﺎﮦ ﮐﻮﺋﯽ ﺟﮕﮧ ﺍﮨﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ۔ ﺗﻮ ﺟﺐ ﻣﯿﺮﺍ ﻭﺻﺎﻝ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﻭﮨﺎﮞ ﻟﮯ ﺟﺎﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺎﺋﺸﮧ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﺳﻼﻡ ﻋﺮﺽ ﮐﺮﻧﺎ۔ ﭘﮭﺮ ﺍﻥ ﺳﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﺮﻧﺎ ﮐﮧ ﻋﻤﺮ ﺑﻦ ﺧﻄﺎﺏ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﺩﮮ ﺩﯾﮟ ﺗﻮ ﻭﮨﺎﮞ ﺩﻓﻦ ﮐﺮ ﺩﯾﻨﺎ ﻭﺭﻧﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﻋﺎﻡ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﻗﺒﺮﺳﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺩﻓﻦ ﮐﺮ ﺩﯾﻨﺎ۔ ‘‘

ﺍﺱ ﺣﺪﯾﺚ ﮐﯽ ﺗﺸﺮﯾﺢ ﻣﺤﺪﺛﯿﻦ ﺣﻀﺮﺍﺕ ﺳﮯ
ﺻﺤﯿﺢ ﺍﻟﺒﺨﺎﺭﯼ ﮐﯽ ﺍﺱ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮐﯽ ﺷﺮﺡ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﻓﻆ ﺍﻟﺪﻧﯿﺎ، ﺣﺎﻓﻆ ﺍﺑﻦ ﺣﺠﺮ ﻋﺴﻘﻼﻧﯽ ﺭﺣﻤﮧ ﺍﻟﻠﻪ ‏(ﻣﺘﻮﻓﯽٰ 852) ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ:

ﻭَﻓِﻴﻪِ ﺍﻟْﺤِﺮْﺹُ ﻋَﻠَﻰ ﻣُﺠَﺎﻭَﺭَﺓِ ﺍﻟﺼَّﺎﻟِﺤِﻴﻦَ ﻓِﻲ ﺍﻟْﻘُﺒُﻮﺭِ ﻃَﻤَﻌًﺎ ﻓِﻲ ﺇِﺻَﺎﺑَﺔِ ﺍﻟﺮَّﺣْﻤَﺔِ ﺇِﺫَﺍ ﻧَﺰَﻟَﺖْ ﻋَﻠَﻴْﻬِﻢْ .
‏(ﻓﺘﺢ ﺍﻟﺒﺎﺭﯼ : ﺝ 3 ﺹ 258)

ﺗﺮﺟﻤﮧ: ﺍﺱ ﺣﺪﯾﺚ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﺎ ﺛﺒﻮﺕ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﺻﺎﻟﺤﯿﻦ ﮐﯽ ﻗﺒﻮﺭ ﮐﮯ ﭘﮍﻭﺱ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﻗﺒﺮ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﻛﺎ ﺧﻮﺍﮨﺸﻤﻨﺪ ﮨﻮﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺷﻮﻕ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﺍﺱ ﺍﻣﯿﺪ ﻭﻧﯿﺖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﮧ ﺻﺎﻟﺤﯿﻦ ﭘﺮﻧﺎﺯﻝ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺭﺣﻤﺖ ﺍﺱ ﺑﻨﺪﮮ ﮐﻮﺑﻬﯽ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﮔﯽ۔

ﺷﺎﺭﺡ ﺑﺨﺎﺭﯼ ﻣﺤﻘﻖ ﺍﻣﺎﻡ ﻣﺤﺪﺙ ﻭ ﻓﻘﯿﮧ ﻋﻼﻣﮧ ﺍﺑﻮ ﻣﺤﻤﺪ ﻣﺤﻤﻮﺩ ﺑﻦ ﺍﺣﻤﺪ ﺑﻦ ﻣﻮﺳﻰ ﺑﺪﺭ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﻋﯿﻨﯽ ﺭﺣﻤۃ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ‏(ﻣﺘﻮﻓﯽٰ 855 ﮪ) ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ:

ﺫﻛﺮ ﻣَﺎ ﻳُﺴْﺘَﻔَﺎﺩ ﻣِﻨْﻪُ : ﻓِﻴﻪِ : ﺍﻟْﺤِﺮْﺹ ﻋﻠﻰ ﻣﺠﺎﻭﺭﺓ ﺍﻟﺼَّﺎﻟِﺤﻴﻦ ﻓِﻲ ﺍﻟْﻘُﺒُﻮﺭ ﻃَﻤَﻌﺎ ﻓِﻲ ﺇِﺻَﺎﺑَﺔ ﺍﻟﺮَّﺣْﻤَﺔ ﺇِﺫﺍ ﻧﺰﻟﺖ ﻋَﻠَﻴْﻬِﻢ . ‏[ﻋﻤﺪۃ ﺍﻟﻘﺎﺭﯼ: ﺝ 8 ﺹ 230]

ﺗﺮﺟﻤﮧ: ﺍﺱ ﺣﺪﯾﺚ ﺳﮯ ﺟﻮ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺛﺎﺑﺖ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﺻﺎﻟﺤﯿﻦ ﮐﯽ ﻗﺒﻮﺭ ﮐﮯ ﭘﮍﻭﺱ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﻗﺒﺮ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﻛﺎ ﺧﻮﺍﮨﺸﻤﻨﺪ ﮨﻮﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺷﻮﻕ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﺍﺱ ﺍﻣﯿﺪ ﻭ ﻧﯿﺖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﮧ ﺻﺎﻟﺤﯿﻦ ﭘﺮﻧﺎﺯﻝ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺭﺣﻤﺖ ﺍﺱ ﺑﻨﺪﮮ ﮐﻮ ﺑﻬﯽ ﭘﮩﻨﭽﮯ

“ﺍﻭﺭ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﺳﻼﻑ ﺍﻣﺖ ﮐﮯ ﻭﺍﻗﻌﺎﺕ ﺑﮭﯽ ﻓﯿﺾ ﮐﮯ ﺟﻮﺍﺯ ﭘﺮ ﺩﻟﯿﻞ ﮨﯿﮟ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺧﻄﯿﺐ ﺑﻐﺪﺍﺩﯼ ﻧﻘﻞ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻋﻠﯽ ﺑﻦ ﻣﯿﻤﻮﻥ ﻧﮯ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﻣﺎﻡ ﺷﺎﻓﻌﯽ ﮐﻮ ﯾﮧ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺳﻨﺎ ” ﻣﯿﮟ (ﺍﻣﺎﻡ ﺷﺎﻓﻌﯽ) ﺍﻣﺎﻡ ﺍﺑﻮ ﺣﻨﯿﻔﮧ ﮐﯽ ﻗﺒﺮ ﺳﮯ ﺑﺮﮐﺖ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﮨﺮ ﺩﻥ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻗﺒﺮ ﮐﯽ ﺯﯾﺎﺭﺕ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﻮ ﮞﺠﺐ ﺑﮭﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺣﺎﺟﺖ ﭘﯿﺶ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﻭ ﺭﮐﻌﺖ ﭘﮍﮪ ﮐﺮ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻗﺒﺮ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮐﺎ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﻭﺭ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﭘﻮﺭﯼ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ” [ﺗﺎﺭﯾﺦ ﺑﻐﺪﺍﺩ ﺝ 1 ﺹ 123]

ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺧﻮﺩ ﻏﯿﺮ ﻣﻘﻠﺪﯾﻦ ﮐﮯ ﭘﯿﺸﻮﺍ ﻭ ﻣﻘﺘﺪﺍﺀ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﻮ ﻣﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺑﮭﯽ ﯾﮩﯽ ﻧﻈﺮﯾﮧ ﮨﮯ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﻧﻮﺍﺏ ﺻﺪﯾﻖ ﺣﺴﻦ ﺧﺎﻥ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﺘﺎﺏ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺍﻟﺪ “ﺍﺑﻮ ﺍﺣﻤﺪ ﺣﺴﻦ ﺑﻦ ﻋﻠﯽ” ﮐﮯ ﺗﺬﮐﺮﮦ ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ” ﻻ ﯾﺰﺍﻝ ﯾﺮﯼ ﺍﻟﻨﻮﺭ ﻋﻠﯽ ﻗﺒﺮﮦ ﺍﻟﺸﺮﯾﻒ ﻭ ﺍﻟﻨﺎﺱ ﯾﺘﺒﺮﮐﻮﻥ ﺑﮧ
ﺗﺎﺝ ﺍﻟﻤﮑﻞ ﺹ 543 ﻃﺒﻊ ﺩﺍﺭﻟﺴﻼﻡ

ﺗﺮﺟﻤﮧ: ﺁﭖ ﮐﯽ ﻗﺒﺮ ﺷﺮﯾﻒ ﭘﺮ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﻧﻮﺭ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻟﻮﮒ ﺁﭖ ﮐﯽ ﻗﺒﺮ ﺳﮯ ﺗﺒﺮﮎ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﻋﻼﻣﮧ ﻭﺣﯿﺪ ﺍﻟﺰﻣﺎﻥ ﺻﺎﺣﺐ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ۔

ﻭﻻ ﺯﺍﻝ ﺍﻟﺴﻠﻒ ﻭ ﺍﻟﺨﻠﻒ ﯾﺘﺒﺮﮐﻮﻥ ﺑﺎﺛﺎﺭ ﺍﻟﺼﻠﺤﺎ ﺀ ﻭ ﻣﺸﺎﮬﺪﮬﻢ ﻭ ﻣﻘﺎﻣﺎﺗﮭﻢ ﻭ ﺍﺑﺎﺭﮬﻢ ﻭ ﻋﯿﻮﻧﮭﻢ
[ﮬﺪﺍﯾۃ ﺍﻟﻤﮩﺪﯼ ﺹ 32]

ﺗﺮﺟﻤﮧ: ﺳﻠﻒ ﻭ ﺧﻠﻒ ﺳﺐ ﺻﺎﻟﺤﯿﻦ ﮐﮯ ﺁﺛﺎﺭ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻗﺒﺮﻭﮞ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﻣﺎﺕ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮐﻨﻮﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﭼﺸﻤﻮﮞ ﺳﮯ ﺗﺒﺮﮎ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔

ﺑﺎﻗﯽ ﺍﺱ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﻣﯿﮟ ﺩﻻﺋﻞ ﮐﺎ ﻓﯽ ﮨﯿﮟ ﺑﺲ ﻣﺎﻧﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﺱ ﻗﺪﺭ ﺑﮭﯽ ﮐﺎﻓﯽ ﮨﯿﮟ ۔

ﻣﺬﮐﻮﺭﮦ ﺗﻔﺼﯿﻞ ﺳﮯ ﺩﻭ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﻭ ﺍﺿﺢ ﮨﻮ ﮔﺌﯿﮟ ﮐﮧ ﺑﺮﯾﻠﻮﯼ ﺣﻀﺮﺍﺕ ﺍﻭﺭ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﺩﯾﻮﺑﻨﺪ ﮐﮯ ﻋﻘﯿﺪﮮ ﻣﯿﮟ ﮐﺘﻨﺎ ﻓﺮﻕ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻏﯿﺮ ﻣﻘﻠﺪﯾﻦ ﺣﻀﺮﺍﺕ ﮐﺲ ﺩﺟﻞ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﮨﯽ ﻧﻈﺮﯾﮧ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﭘﯿﺶ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔

ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺑﺎﺕ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﺩﯾﻮﺑﻨﺪ ﭘﺮ ﯾﮧ ﺍﻋﺘﺮﺍﺽ ﺗﻮ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﺎ ﻧﻈﺮﯾﮧ ” ﻓﯿﺾ ﻋﻦ ﺍﻟﻘﺒﻮﺭ : ﺷﺮﮐﯿﮧ ﮨﮯ ﺟﺒﮑﮧ ﺧﻮﺩ ﺍﻥ ﮐﯽ ﮐﺘﺐ ﻣﯿﮟ ﯾﮩﯽ ﻧﻈﺮﯾﮧ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﯽ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﭘﺮ ﯾﮧ ﺣﻀﺮﺍﺕ ﮐﯿﺎ ﻓﺘﻮﯼ ﻟﮕﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ.

ﻣﯿﮟ ﺍﻟﺰﺍﻡ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﺘﺎ ﺗﻬﺎ
ﻗﺼﻮﺭ ﺍﭘﻨﺎ ﻧﮑﻞ ﺁﯾﺎ۔

ﻭﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﺍﻋﻠﻢ ﺑﺎﻟﺼﻮﺍﺏ

لفظ اہل حدیث کا مطلب کیا ہے؟

ﺍﮨﻞ ﺣﺪﯾﺚ ﻛﺎ ﺻﺤﯿﺢ ﻣﻄﻠﺐ ﻛﯿﺎ ﮨﮯ؟ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﻋﻠﻮﻡ، ﺣﺪﯾﺚ ﻭ ﻓﻘﮧ ﺍﻭﺭ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﻭ ﺗﺮﺍﺟﻢ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﻣﻮﺿﻮﻋﺎﺕ ﭘﺮ ﻟﮑﮭﯽ ﮔﺌﯽ ﮐﺘﺎﺑﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﺻﺤﺎﺏِ ﺣﺪﯾﺚ، ﺍﮨﻞ ﺣﺪﯾﺚ، ﻋﻠﻤﺎﺋﮯ ﺣﺪﯾﺚ، ﺟﯿﺴﮯ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﻃﻠﺒﮧٴ ﺣﺪﯾﺚ ﺍﻭﺭ ﺣﺪﯾﺚ ﮐﯽ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﺍﻭﺭ ﺩﺭﺱ ﻭ ﺗﺼﻨﯿﻒ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮧ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﻣﺸﻐﻮﻝ ﺭﮨﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ، ﻧﯿﺰ ﻗﺪﯾﻢ ﻣﺼﻨَّﻔﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺍﻣﺎﻡ ﻣﺎﻟﮏ، ﺍﻣﺎﻡ ﺷﺎﻓﻌﯽ ﺭﺣﻤﮩﻤﺎ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﻣﺬﮨﺐ ﻭ ﻣﺴﻠﮏ ﮐﯽ ﭘﯿﺮﻭﯼ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻋﻠﻤﺎ ﮐﺎ ﺗﻌﺎﺭﻑ ﺑﮭﯽ ﺍﮨﻞِ ﺣﺪﯾﺚ ﮐﮯ ﻟﻘﺐ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﮨﻞ ﺍﻟﺴﻨﮧ ﻭﺍﻟﺠﻤﺎﻋﮧ ﮐﺎ ﺫﮐﺮ ﺑﮭﯽ ﺍﮨﻞُ ﺍﻟﺤﺪﯾﺚ ﮐﮯ ﻋﻨﻮﺍﻥ ﺳﮯ ﮐﺘﺎﺑﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﻠﺘﺎ ﮨﮯ؛ ﺟﺒﮑﮧ ﺁﺝ ﮐﻞ ”ﺍﮨﻞ ﺣﺪﯾﺚ“ ﮐﺎ ﻟﻔﻆ ﺍﺱ ﻓﺮﻗﮧ ﭘﺮ ﺑﻮﻻ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ، ﺟﻮ ﻋﺎﻣﯽ ﯾﻌﻨﯽ ﻏﯿﺮ ﻣﺠﺘﮩﺪ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺑﮭﯽ ﮐﺴﯽ ﺍﻣﺎﻡ ﻭ ﻓﻘﯿﮧ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﺘﮩﺪ ﮐﯽ ﭘﯿﺮﻭﯼ ﮐﻮ ﻧﺎﺟﺎﺋﺰ ﺑﺘﺎﺗﺎ ﮨﮯ، ”ﺍﮨﻞ ﺣﺪﯾﺚ“ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﯽ ﺟﺪﯾﺪ ﺍﻭﺭ ﻧﻮﭘﯿﺪ ﺍﺻﻄﻼﺡ ﮨﮯ، ﺟﺲ ﮐﺎ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﯽ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﺮﺍﻍ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﺎ؛ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺣﺎﺩﺙ ﻭ ﺑﺪﻋﺖ ﮨﻮﻧﺎ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﻇﺎﮨﺮ ﮨﮯ، ﺻﺮﻑ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﻣﯿﮟ ﯾﮑﺴﺎﻧﯿﺖ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﻗﺪﯾﻢ ﺍﮨﻞ ﺣﺪﯾﺚ ﻭﺍﺻﺤﺎﺏ ﺣﺪﯾﺚ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﻌﻨﻮﯼ ﻭ ﺣﻘﯿﻘﯽ ﺭﺑﻂ ﻭ ﺗﻌﻠﻖ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔ ﭘﮭﺮ ﯾﮧ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﺑﮭﯽ ﭘﯿﺶ ﻧﻈﺮ ﺭﮐﮭﻨﯽ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻓﺮﻗﮧ ﮐﮯ ﺭﮐﻦِ ﺭﮐﯿﻦ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﻣﺤﻤﺪ ﺣﺴﯿﻦ ﮐﯽ ﺩﺭﺧﻮﺍﺳﺖ ﭘﺮ ﺑﺮﭨﺶ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﻧﮯ ”ﺍﮨﻞِ ﺣﺪﯾﺚ“ ﻧﺎﻡ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﻻﭦ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ؛ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺍﯾﮏ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﻏﯿﺮﻣﻘﻠﺪ ﻋﺎﻟﻢ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻤﺠﯿﺪ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ:

”ﻣﻮﻟﻮﯼ ﻣﺤﻤﺪ ﺣﺴﯿﻦ ﺑﭩﺎﻟﻮﯼ ﻧﮯ ﺍﺷﺎﻋﺖُ ﺍﻟﺴﻨﮧ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮧ ﺍﮨﻞ ﺣﺪﯾﺚ ﮐﯽ ﺑﮩﺖ ﺧﺪﻣﺖ ﮐﯽ، ﻟﻔﻆ ”ﻭﮨﺎﺑﯽ“ ﺁﭖ ﮨﯽ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺸﻮﮞ ﺳﮯ ﺳﺮﮐﺎﺭﯼ ﺩﻓﺎﺗﺮ ﺍﻭﺭ ﮐﺎﻏﺪﺍﺕ ﺳﮯ ﻣﻨﺴﻮﺥ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﺟﻤﺎﻋﺖ ﮐﻮ ﺍﮨﻞ ﺣﺪﯾﺚ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﺳﮯ ﻣﻮﺳﻮﻡ ﮐﯿﺎﮔﯿﺎ۔ ‏[ﺍﮨﻞ ﺣﺪﯾﺚ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰ ﺹ ۸۷ ﺑﺤﻮﺍﻟﮧ ﺳﯿﺮﺕِ ﺛﻨﺎﺋﯽ ﺹ ۳۷۲]

ﯾﮩﯽ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﻣﺤﻤﺪ ﺣﺴﯿﻦ ﻭﮦ ﺑﺰﺭﮒ ﮨﯿﮟ، ﺟﻨﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﺣﮑﻮﻣﺖِ ﺑﺮﻃﺎﻧﯿﮧ ﮐﯽ ﺣﻤﺎﯾﺖ ﻣﯿﮟ ”ﺍﻻﻗﺘﺼﺎﺩ ﻓﯽ ﻣﺴﺎﺋﻞ ﺍﻟﺠﮩﺎﺩ“ ﻧﺎﻣﯽ ﮐﺘﺎﺑﭽﮧ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮧ ﺟﮩﺎﺩ ﮐﯽ ﻣﻨﺴﻮﺧﯽ ﮐﺎ ﻓﺘﻮﯼٰ ﺟﺎﺭﯼ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ؛ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﭘﺮﻭﻓﯿﺴﺮ ﻣﺤﻤﺪ ﺍﯾﻮﺏ ﻗﺎﺩﺭﯼ ﻣﺮﺣﻮﻡ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ:

”ﻣﻮﻟﻮﯼ ﻣﺤﻤﺪ ﺣﺴﯿﻦ ﺑﭩﺎﻟﻮﯼ ﻧﮯ ﺳﺮﮐﺎﺭِ ﺑﺮﻃﺎﯾﮧ ﮐﯽ ﻭﻓﺎﺩﺍﺭﯼ ﻣﯿﮟ ﺟﮩﺎﺩ ﮐﯽ ﻣﻨﺴﻮﺧﯽ ﭘﺮ ﻣﺴﺘﻘﻞ ﺭﺳﺎﻟﮧ ”ﺍﻻﻗﺘﺼﺎﺩ ﻓﯽ ﻣﺴﺎﺋﻞ ﺍﻟﺠﮩﺎﺩ“ ۱۲۹۲ﮪ ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﺎ، ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﯼ ﺍﻭﺭ ﻋﺮﺑﯽ ﺯﺑﺎﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺗﺮﺟﻤﮯ ﮨﻮﺋﮯ، ﯾﮧ ﺭﺳﺎﻟﮧ ”ﺳﺮﭼﺎﺭﻟﺲ ﺍﯾﺠﯽ“ ﺍﻭﺭ ﺳﺮﺟﯿﻤﺲ ﻻﺋﻞ ﮔﻮﺭﻧﺮﺍﻥِ ﭘﻨﺠﺎﺏ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﻣﻌﻨﻮﻥ ﮐﯿﺎﮔﯿﺎ۔ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﻣﺤﻤﺪ ﺣﺴﯿﻦ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﻤﺎﻋﺖ ﮐﮯ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﺳﮯ ﺭﺍﺋﮯ ﻟﯿﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ۱۲۹۶ﮪ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺭﺳﺎﻟﮧ ﺍﺷﺎﻋﺖُ ﺍﻟﺴﻨﮧ ﮐﯽ ﺟﻠﺪ ﺩﻭﻡ ﺷﻤﺎﺭﮦ ﮔﯿﺎﺭﮦ ﻣﯿﮟ ﺑﻄﻮﺭِ ﺿﻤﯿﻤﮧ ﺷﺎﺋﻊ ﮐﯿﺎ، ﭘﮭﺮ ﻣﺰﯾﺪ ﻣﺸﻮﺭﮦ ﻭ ﺗﺤﻘﯿﻖ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ۱۳۰۶ﮪ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﺿﺎﺑﻄﮧ ﮐﺘﺎﺑﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﺋﻊ ﮨﻮﺍ۔ ‏[ﺟﻨﮓ ﺁﺯﺍﺩﯼ ۱۸۵۷ / ﺹ۶۴‏]

ﯾﮧ ﮨﮯ ﺍﺱ ﻓﺮﻗﮧ ﮐﺎ ﺩﯾﻨﯽ ﭘﮩﻠﻮ ﺟﻮ ”ﺍﮨﻞِ ﺣﺪﯾﺚ“ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﺳﮯ ﻋﺎﻡ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﻓﺮﯾﺐ ﺩﮮ ﮐﺮ ﺍﻥ ﮐﻮ ﻋﺎﻣﺔُ ﺍﻟﻤﻮٴﻣﻨﯿﻦ ﺍﻭﺭ ﺳﻮﺍﺩِ ﺍﻋﻈﻢ ﺳﮯ ﺑﺮﮔﺸﺘﮧ ﮐﺮﺭﮨﯽ ﮨﮯ۔

ﺑﺮﺻﻐﯿﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﻭﮞ ﮐﮯ ﺗﺴﻠﻂ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺗﺮﮎ ﺗﻘﻠﯿﺪ ﺍﻭﺭ ﻓﻘﮧ ﻭ ﻓﻘﮩﺎﺀ ﮐﯽ ﻣﺨﺎﻟﻔﺖ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺑﻠﻨﺪ ﮨﻮﺋﯽ ﮨﻮ، ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﮯ ﺻﻔﺤﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺛﺒﻮﺕ ﺗﻼﺵ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ، ﺍﻭﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌﯾﮯ ﺧﻮﺩ ﺟﻤﺎﻋﺖ ﺍﮨﻞ ﺣﺪﯾﺚ ﮐﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﮮ ﺑﺰﺭﮒ – ﺟﻨﺎﺏ ﻧﻮﺍﺏ ﺻﺪﯾﻖ ﺣﺴﻦ ﺧﺎﮞ – ﺟﻦ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﻭﻗﻠﻢ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﻭﻟﺖ ﺍﻭﺭ ﻧﻮﺍﺑﯽ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺷﺠﺮﺋﮧ ﻧﻮﺭُﺱ ﮐﯽ ﺁﺑﯿﺎﺭﯼ ﻣﯿﮟ ﺑﮍﺍ ﻧﻤﺎﯾﺎﮞ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﺍﺩﺍ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ، ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ:

”ﺧﻼﺻﮧ ﺣﺎﻝ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﮐﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﺎ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺐ ﺳﮯ ﯾﮩﺎﮞ ﺍﺳﻼﻡ ﺁﯾﺎ ﮨﮯ؛ ﭼﻮﻧﮑﮧ ﺍﮐﺜﺮ ﻟﻮﮒ ﺑﺎﺩﺷﺎﮨﻮﮞ ﮐﮯ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﺍﻭﺭ ﻣﺬﮨﺐ ﮐﻮ ﭘﺴﻨﺪ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺳﮯ ﺁﺝ ﺗﮏ ﻟﻮﮒ ﺣﻨﻔﯽ ﻣﺬﮨﺐ ﭘﺮ ﻗﺎﺋﻢ ﺭﮨﮯ ﺍﻭﺭﮨﯿﮟ، ﺍﻭﺭ ﺍﺳﯽ ﻣﺬﮨﺐ ﮐﮯ ﻋﺎﻟﻢ ﺍﻭﺭ ﻓﺎﺿﻞ ﻗﺎﺿﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﻔﺘﯽ ﺍﻭﺭ ﺣﺎﮐﻢ ﮨﻮﺗﮯ ﺭﮨﮯ۔ “ ‏[ﺗﺮﺟﻤﺎﻥ ﻭﮨﺎﺑﯿﮧ ﺹ۱۰ ﻣﻄﺒﻮﻋﮧ ۱۳۱۲ﮪ]

ﻣﯿﺮﯼ ﻣﻌﻠﻮﻣﺎﺕ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺳﺮﺯﻣﯿﻦ ﮨﻨﺪ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺍﺟﻨﺒﯽ ﺩﻋﻮﺕ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺑﻠﻨﺪ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻗﺎﺑﻞ ﺫﮐﺮ ﭘﮩﻠﮯ ﺷﺨﺺ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﻋﺒﺪﺍﻟﺤﻖ ﺑﻨﺎﺭﺳﯽ ﻣﺘﻮﻓﯽ ۱۲۸۶ﮪ ﮨﯿﮟ ﻣﺴﻨﺪ ﮨﻨﺪ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﻣﺤﻤﺪﺍﺳﺤﺎﻕ ﻣﺤﺪﺙ ﺩﮨﻠﻮﯼ ﻣﮩﺎﺟﺮ ﻣﮑﯽ ﻣﺘﻮﻓﯽ ۱۲۶۲ﮪ ﮐﮯ ﺗﻠﻤﯿﺬ ﺭﺷﯿﺪ ﺻﺎﺣﺐ ﻣﻈﺎﮨﺮ ﺣﻖ ﺷﺮﺡ ﻣﺸﮑﻮٰﺓ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﻧﻮﺍﺏ ﻗﻄﺐ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺩﮨﻠﻮﯼ ﻣﺘﻮﻓﯽ ۱۲۸۹ﮪ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺳﺎﻟﮧ ﺗﺤﻔﺔ ﺍﻟﻌﺮﺏ ﻭﺍﻟﻌﺠﻢ ﮐﮯ ﻣﻘﺪﻣﮧ ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ:

”ﻋﺮﺻﮧ ﺗﺨﻤﯿﻨﺎً ﭼﺎﻟﯿﺲ ﺑﯿﺎﻟﯿﺲ ﺑﺮﺱ ﮐﺎ ﮔﺬﺭﺍ ﮐﮧ ﺑﻌﺪ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﺳﯿﺪ ﺍﺣﻤﺪ ﺻﺎﺣﺐ ﻭ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﻣﺤﻤﺪ ﺍﺳﻤﺎﻋﯿﻞ ﺻﺎﺣﺐ ﻭ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﻋﺒﺪﺍﻟﺤﺌﯽ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﮯ ﻃﺮﻑ ﭘﻨﺠﺎﺏ ﮐﮯ ﺑﻌﺾ ﻣﻔﺴﺪ ﻣﺰﺍﺟﻮﮞ ﮐﮯ ﺧﯿﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﺗﻘﻠﯿﺪِ ﺍﺋﻤﮧٴ ﺩﯾﻦِ ﻣﺘﯿﻦ ﻋﻠﯿﮩﻢ ﺍﻟﺮﺣﻤﮧ ﮐﺎ ﺁﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺗﺨﻢِ ﻋﻨﺎﺩ ﮐﺎ ﻓﻘﮩﺎﺀ ﻭﻓﻘﮧ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺧﺼﻮﺻﺎً ﺟﻨﺎﺏ ﺍﻣﺎﻡِ ﺍﻋﻈﻢ رحماللہ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺟﻤﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﻣﻦ ﺟﻤﻠﮧ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﻋﺒﺪﺍﻟﺤﻖ ﺑﻨﺎﺭﺳﯽ ﻧﮯ ﻣﺪﻋﯽ ﺧﻼﻓﺖ ﺣﻀﺮﺕ ﺳﯿﺪ ﺍﺣﻤﺪ ﺑﻦ ﮐﺮ ﺍﺱ ﭘﺮﺩﮦ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺩ ﺧﻮﺏ ﻻ ﻣﺬﮨﺒﯽ ﮐﯽ ﺩﮮ ﮐﺮ ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮩﮑﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻓﺴﺎﺩ ﺍﺣﺪﺍﺙ ﻣﺬﮨﺐ ﻧﻮ ﮐﺎ ﭘﮭﯿﻼﯾﺎ۔ “ ‏[ﺑﺤﻮﺍﻟﮧ ﺷﺮﻋﯽ ﻓﯿﺼﻠﮯ ﺹ۲۷]

ﺣﻀﺮﺕ ﺳﯿﺪ ﺍﺣﻤﺪ ﺷﮩﯿﺪ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﻓﻘﺎ ﺍﻭﺭ ﻟﺸﮑﺮ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ۱۲۴۲ﮪ ﻣﯿﮟ ﻋﻼﻗﮧٴ ﭘﻨﺠﺎﺏ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﺍﻭﺭ ۱۲۴۶ﮪ ﻣﯿﮟ ﻣﺸﮩﺪ ﺑﺎﻻﮐﻮﭦ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻡِ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﺳﮯ ﺳﺮﺷﺎﺭ ﮨﻮﺋﮯ، ﺍﺳﯽ ﭼﺎﺭ ﺳﺎﻟﮧ ﻣﺪﺕ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺗﺮﮎِ ﺗﻘﻠﯿﺪ ﺍﻭﺭ ﻓﻘﮧ ﻭﻓﻘﮩﺎﺀ ﺑﯿﺰﺍﺭﯼ ﮐﯽ ﺩﻋﻮﺕ ﮐﺎ ﺁﻏﺎﺯ ﮐﯿﺎﮔﯿﺎ، ﺟﺲ ﮐﺎ ﺻﺎﻑ ﻣﻌﻨﯽ ﯾﮧ ﻧﮑﻼ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻓﺮﻗﮧ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﭘﻮﺭﮮ ﺩﻭ ﺳﻮ ﺳﺎﻝ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔

ﺻﺎﺣﺐِ ﻣﻈﺎﮨﺮ ﺣﻖ ﯾﮧ ﺍﻃﻼﻉ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺗﺮﮎِ ﺗﻘﻠﯿﺪ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﮐﯽ ﺍﺱ ﺗﺒﻠﯿﻎ ﻭﺩﻋﻮﺕ ﮐﯽ ﺍﺑﺘﺪﺍﺀ؛ ﭼﻮﻧﮑﮧ ﻋﻼﻗﮧٴ ﻣﺸﺮﻕ ﺳﮯ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ؛ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺩﯾﺎﺭ ﭘﻮﺭﺏ ﮐﮯ ﺩﯾﻦ ﺩﺍﺭ ﺑﺎﻟﺨﺼﻮﺹ ﺣﻀﺮﺕ ﺳﯿﺪ ﺍﺣﻤﺪ ﺷﮩﯿﺪ ﮐﮯ ﺍﺭﺍﺩﺕ ﻣﻨﺪﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺧﻠﻔﺎﺀ ﻧﮯ ﺣﺮﻣﯿﻦ ﺷﺮﯾﻔﯿﻦ ﮐﮯ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﺳﮯ ﻓﺘﻮﯼٰ ﻃﻠﺐ ﮐﯿﺎ، ﺟﺲ ﮐﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﻭﮨﺎﮞ ﮐﮯ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﺑﻄﻮﺭ ﺧﺎﺹ ﻣﺤﺪﺙ ﻋﺎﺑﺪ ﺳﻨﺪﮬﯽ ﺑﮭﯽ ﺷﺎﻣﻞ ﺗﮭﮯ، ﺍﯾﺴﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺿﺎﻝ ﻭ ﻣﻀﻞ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﻓﺘﻮﯼٰ ﺩﯾﺎ، ﭘﮭﺮ ﺍﺳﯽ ﺯﻣﺎﻧﮧ ﻣﯿﮟ ﻣﺪﺭﺳﮧ ﮐﻠﮑﺘﮧ ﮐﮯ ﻣﺪﺭﺱ ﺍﻭّﻝ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﻣﺤﻤﺪ ﻭﺟﯿﮩﮧ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻓﺘﻨﮧٴ ﻧﻮ ﮐﯽ ﺷﺮﻋﯽ ﺣﯿﺜﯿﺖ ﺳﮯ ﻋﺎﻡ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺁﮔﺎﮦ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﻏﺮﺽ ﺳﮯ ”ﻧﻈﺎﻡ ﺍﻻﺳﻼﻡ“ ﻧﺎﻡ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺭﺳﺎﻟﮧ ﻟﮑﮭﺎ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﻗﻮﯼ ﺩﻻﺋﻞ ﺳﮯ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺭﺩ ﮐﯿﺎ، ﺍﺱ ﺭﺳﺎﻟﮧ ﭘﺮ ﺍﺱ ﺩﯾﺎﺭ ﮐﮯ ﻋﻠﻤﺎ ﺑﺎﻟﺨﺼﻮﺹ ﺣﻀﺮﺕ ﺳﯿﺪ ﺍﺣﻤﺪ ﺷﮩﯿﺪ ﮐﮯ ﺧﻠﻔﺎ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﺳﺘﺨﻂ ﺛﺒﺖ ﮐﯿﮯ، ﺍﺱ ﺭﺳﺎﻟﮧ ﮐﺎ ﺑﻔﻀﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺍﭼﮭﺎ ﺍﺛﺮ ﮨﻮﺍ ﺟﺲ ﮐﺎ ﺫﮐﺮ ﺻﺎﺣﺐ ﻣﻈﺎﮨﺮ ﺣﻖ ﺍﻥ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﻣﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ:

”ﺗﺐ ﻻ ﻣﺬﮨﺐ ﺧﺎﺋﺐ ﻭ ﺧﺎﺳﺮ ﮨﻮﺋﮯ، ﺑﻌﻀﮯ ﺳﺎﮐﺖ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﻌﻀﻮﮞ ﻧﮯ ﺗﻘﯿﮧ ﭘﺮ ﮐﺎﻡ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ؛ ﻣﮕﺮ ﺷﻮﺭ ﻭﻓﺴﺎﺩ ﮐﺎ ﺟﻮ ﭼﺮﭼﺎ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﻣﭧ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻧﺎﺑﻮﺩ ﮨﻮﺍ۔“ ‏ [ﺷﺮﻋﯽ ﻓﯿﺼﻠﮯ ﺹ۲۸]

ﺁﮔﮯ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ:

”ﭘﮭﺮ ﺍﯾﮏ ﻋﺮﺻﮧ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ ﺻﻔﯽ ﭘﻮﺭﯼ ﮐﮯ ﺩﻣﺎﻍ ﻣﯿﮟ ﺧﻠﻞ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺍ، ﺍﻭﺭ ﻣﮑﮧ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺍﺳﯽ ﺟﺮﻡ ﻣﯿﮟ ﻗﯿﺪ ﮨﻮﺍ، ﺍﻭﺭ ﺍﻇﮩﺎﺭِ ﺗﻮﺑﮧ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﺳﮯ ﺭﮨﺎﺋﯽ ﻣﻠﯽ ﺍﻭﺭ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﻭﺍﭘﺲ ﻟﻮﭨﺎ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﻮﻣﺘﮯ ﭘﮭﺮﺗﮯ ﺩﮨﻠﯽ ﻣﯿﮟ ﺭﮎ ﮐﺮ ”ﻭﮨﯽ ﻓﺴﺎﺩ ﻻﻣﺬﮨﺒﯽ ﮐﺎ ﭘﮭﯿﻼﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯿﺎ“ ﯾﮧ ﻭﮦ ﺯﻣﺎﻧﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﺷﺎﮦ ﺍﺳﺤﺎﻕ ﺻﺎﺣﺐ ﺩﮨﻠﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﺩﯾﮕﺮ ﺑﮍﮮ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﮯ، ﯾﮧ ﺳﺎﺭﮮ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ ﺻﻔﯽ ﭘﻮﺭﯼ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮨﻢ ﻧﻮﺍﺅﮞ ﺳﮯ ﺳﺨﺖ ﻧﺎﻻﮞ ﻭﺑﯿﺰﺍﺭ ﺗﮭﮯ، ﺁﺧﺮ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﺳﯿﺪ ﻧﺬﯾﺮﺣﺴﯿﻦ ﺍﻭﺭ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺧﻮﺍﺟﮧ ﺿﯿﺎﺀ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﮐﮯ ﻣﺸﻮﺭﮦ ﺳﮯ ﺍﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﺣﻀﺮﺕ ﺷﺎﮦ ﺍﺳﺤﺎﻕ ﺭﺣﻤﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﮯ ﺍﺳﺘﻔﺘﺎﺀ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ، ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺗﻘﻠﯿﺪِ ﺍﻣﺎﻡ ﻣﻌﯿﻦ ﮐﯽ ﻭﺍﺟﺐ ﻣﺨﯿﺮ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﻨﮑﺮ ﮐﻮ ﺿﺎﻝ ﺍﻭﺭ ﮔﻤﺮﺍﮦ ﻟﮑﮭﺎ، ﺍﺱ ﻓﺘﻮﯼٰ ﭘﺮ ﺩﯾﮕﺮ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﺩﮨﻠﯽ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﺳﺘﺨﻂ ﮐﯿﮯ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﭼﻨﺪ ﻣﻌﺮﻭﻑ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﺳﻤﺎﺀ ﯾﮧ ﮨﯿﮟ:

ﻣﻔﺘﯽ ﺻﺪﺭﺍﻟﺪﯾﻦ، ﻣﻔﺘﯽ ﺍﮐﺮﺍﻡ ﺍﻟﺪﯾﻦ، ﻣﻔﺘﯽ ﺭﺣﻤﺖ ﻋﻠﯽ، ﻣﻮﻟﻮﯼ ﻋﺒﺪﺍﻟﺨﺎﻟﻖ ﺍﺳﺘﺎﺫ ‏(ﻣﻮﻻﻧﺎ‏) ﺳﯿﺪ ﻧﺬﯾﺮﺣﺴﯿﻦ ﺻﺎﺣﺐ، ﻣﻮﻟﻮﯼ ﻣﻤﻠﻮﮎ ﺍﻟﻌﻠﯽ ‏(ﻧﺎﻧﻮﺗﻮﯼ) ﻣﯿﺎﮞ ﺷﺎﮦ ﺍﺣﻤﺪ ﺳﻌﯿﺪ ﺻﺎﺣﺐ ﺳﺠﺎﺩﮦ ﻧﺸﯿﻦ ﺷﺎﮦ ﻏﻼﻡ ﺍﻟﻌﻠﯽ ﺻﺎﺣﺐ ﻣﺮﺣﻮﻡ، ﻣﻮﻟﻮﯼ ﻣﺤﻤﺪ ﻋﻠﯽ ﺻﺎﺣﺐ ﺭﺍﻡ ﭘﻮﺭﯼ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﺳﯿﺪ ﺍﺣﻤﺪ ﺻﺎﺣﺐ، ﻣﻮﻟﻮﯼ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﺍﻟﻌﻠﯽ ﺟﻌﻔﺮﯼ ﺗﻠﻤﯿﺬ ﺧﺎﺹ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﺷﺎﮦ ﻋﺒﺪﺍﻟﻌﺰﯾﺰ ﺻﺎﺣﺐ ﻭﻏﯿﺮﮦ۔

ﻣﻮﻻﻧﺎ ﻗﻄﺐ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺭﺣﻤﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ”ﺍﺱ ﺑﻼ ﮐﮯ ﺩﻓﻊ ﻣﯿﮟ ‏(ﻣﻮﻻﻧﺎ) ﺳﯿﺪ ﻧﺬﯾﺮ ﺣﺴﯿﻦ ﺻﺎﺣﺐ ﺑﮧ ﺟﺎﻥ ﻭ ﺩﻝ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﺗﮭﮯ ﺣﺘﯽٰ ﮐﮧ ”ﺗﻨﻮﯾﺮﺍﻟﻌﯿﻨﯿﻦ“ ﮐﮯ ﻣﻀﺎﻣﯿﻦ ﮐﮯ ﺭﺩ ﻣﯿﮟ ﺟﺲ ﮐﻮ ﻟﻮﮒ ﻣﻨﺴﻮﺏ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﺍﺳﻤﺎﻋﯿﻞ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﺪﻟﻞ ﺍﯾﮏ ﺭﺳﺎﻟﮧ ﻋﺮﺑﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﺎ۔“

ﺁﮔﮯ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﻦ ﺩﺍﺭ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﺍﺱ ﺳﻌﯽِ ﻣﺴﻠﺴﻞ ﺳﮯ، ﻻﻣﺬﮨﺒﯽ ﮐﺎ ﭼﺮﭼﺎ ﺑﻈﺎﮨﺮ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﮔﯿﺎ؛ ﻟﯿﮑﻦ ﺧﻔﯿﮧ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﯾﮧ ﻟﻮﮒ ﺍﭘﻨﺎ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﮯ، ﺑﺎﻟﺨﺼﻮﺹ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﺳﯿﺪ ﻧﺬﯾﺮﺣﺴﯿﻦ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﮨﻢ ﻧﻮﺍ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﮍﯼ ﺳﻌﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﺪ ﻭ ﺟﮩﺪ ﮐﯽ ﺟﺲ ﮐﺎ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺍ، ﺻﺎﺣﺐِ ﻣﻈﺎﮨﺮ ﺣﻖ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﻗﻠﻢ ﺳﮯ ﺳﻨﯿﮯ۔

ﺍﻭﺭ ﺳﯿﺪ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﻮ ﺍﯾﺴﺎ ﻭﺭﻏﻼﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﻧﭩﮭﺎ ﮐﮧ ﺳﯿﺪ ﺑﮭﯽ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻣﻤﻨﻮﻥ ﻭﻣﺸﮑﻮﺭ ﮨﻮﮐﺮ ﺍﻭﺭ ﻟﭩﻮﺑﻦ ﮐﺮ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺣﻤﺎﯾﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺑﯿﺲ ﺑﺎﺋﯿﺲ ﺑﺮﺱ ﺳﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﯽ ﺗﮭﺎ ﭘﺮ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻭﮞ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﺗﻮ ﯾﻮﻧﮩﯽ ﺳﻮﺟﮭﺘﯽ ﮨﮯ۔ ‏[ﺍﯾﻀﺎً ﺹ۳۲]

ﻻ ﻣﺬﮨﺒﯿﺖ ﮐﮯ ﺑﺮﭘﺎ ﺍﺱ ﻓﺘﻨﮯ ﮐﮯ ﺁﮔﮯ ﺑﻨﺪﮪ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﻧﻮﺍﺏ ﻗﻄﺐ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺩﮨﻠﻮﯼ ﻧﮯ ﺗﻨﻮﯾﺮﺍﻟﺤﻖ، ﺗﻮﻗﯿﺮ ﺍﻟﺤﻖ، ﺗﺤﻔﺔ ﺍﺑﻌﺮﺏ ﻭﺍﻟﻌﺠﻢ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﻣﺘﻌﺪﺩ ﺭﺳﺎﻟﮯ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﮐﯿﮯ، ﺟﺲ ﮐﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﺳﯿﺪ ﻧﺬﯾﺮﺣﺴﯿﻦ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ”ﻣﻌﯿﺎﺭ ﺍﻟﺤﻖ“ ﺗﺼﻨﯿﻒ ﮐﯽ۔

ﺍﺱ ﺗﻔﺼﯿﻞ ﺳﮯ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺍﭼﮭﯽ ﻃﺮﺡ ﺁﺷﮑﺎﺭﺍ ﮨﻮﮔﺌﯽ ﮐﮧ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﭘﯿﺶ ﺭﻭ ﺍﮐﺎﺑﺮ ﺭﺣﻤﮩﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺑﺪﻋﺖِ ﺟﺪﯾﺪﮦ ﺳﮯ ﺍﺳﻼﻣﯿﺎﻥِ ﮨﻨﺪ ﮐﻮ ﺑﭽﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﯿﺴﯽ ﺳﻌﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﻤﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﮭﻮﮌﯼ ﺍﻭﺭ ﺩﻻﺋﻞ ﺳﮯ ﺣﻖ ﮐﻮ ﭘﻮﺭﯼ ﻃﺮﺡ ﻭﺍﺿﺢ ﮐﺮﺩﯾﺎ؛ ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺐ ﺁﺩﻣﯽ ﮐﯽ ﻧﯿﺖ ﮨﯽ ﻣﯿﮟ ﻓﺴﺎﺩ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺁﮔﮯ ﺩﻟﯿﻞ ﻭﺣﺠﺖ ﺳﺐ ﺑﮯ ﮐﺎﺭ ﮨﻮﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ، ﺍﺳﯽ ﮐﯽ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﺻﺎﺣﺐِ ﻣﻈﺎﮨﺮِ ﺣﻖ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﻣﯿﮟ ﯾﻮﮞ ﮐﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﯽ ﭘﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﻃﻮﯾﻞ ﻣﻘﺪﻣﮧ ﮐﻮ ﺧﺘﻢ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ:

”ﯾﺎ ﻭﻗﺖ ﯾﮧ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ․․․ ﺟﻮ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﻓﻘﮧِ ﻇﺎﮨﺮ ﻣﯿﮟ ﻣﺨﺎﻟﻒِ ﺣﺪﯾﺚ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺗﻮﺟﯿﮩﮧ ﻭ ﺗﺎﻭﯾﻞ ﺟﻮ ﺷﺎﺭﺣﯿﻦِ ﻣﻘﺒﻮﻝ ﺍﻟٰﮩﯽ ﻟﮑﮫ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﻮ ﻗﺒﻮﻝ ﻧﮧ ﮐﺮﮐﮯ، ﺍﻭﺭ ﻓﻘﮩﺎﺀ ﮐﻮ ﻣﺨﺎﻟﻒ ﺣﺪﯾﺚ ﮐﺎ ﭨﮭﮩﺮﺍﮐﺮ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﻮ ﺧﻠﺠﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻝ ﮐﺮ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺟﺘﮩﺎﺩ ﮐﻮ ﺩﺧﻞ ﺩﮮ ﮐﺮ ﺷﺎﮔﺮﺩ ﮐﻮ ﻣﻨﮑﺮِ ﻓﻘﮧ ﺍﻭﺭ ﻓﻘﮩﺎﺀ ﺑﻨﺎﮐﺮ، ﺗﻘﻠﯿﺪِ ﻣﺬﮨﺐ ﺳﮯ ﻧﻔﺮﺕ ﺩﻻﮐﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﺗﻘﻠﯿﺪ ﮐﮯ ﺟﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﻨﺴﺎﮐﺮ ﻻﻣﺬﮨﺐ ﺑﻨﺎﯾﺎ، ﻣﺜﻞ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﮨﮯ ﮐﮧ ”ﺑﮍﯼ ﺑﮩﻮ ﮐﻮ ﺑﻼﺅ ﮐﮧ ﮐﮭﯿﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﻮﻥ ﮈﺍﻟﮯ“ ﺣﺎﻝ ﺁﻧﮑﮧ ﻏﯿﺮﻣﺠﺘﮩﺪ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺭﺍﮮ ﺳﮯ ﻓﺘﻮﯼٰ ﺩﯾﻨﺎ ﺩﺭﺳﺖ ﻧﮩﯿﮟ، ﺟﯿﺴﺎﮐﮧ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﻧﮯ ﺍﮐﺜﺮ ﺍﺻﻮﻝ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻭﻉ ﻣﯿﮟ ﺗﺼﺮﯾﺢ ﻓﺮﻣﺎﺋﯽ ﮨﮯ، ﺍﻓﺴﻮﺱ ﺻﺪ ﺍﻓﺴﻮﺱ ﺍﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﭘﺮ ﮐﮧ ﻭﮦ ﻣﺬﮨﺐ ﻣﺠﺘﮩﺪﯾﻦ ﺧﯿﺮﺍﻟﻘﺮﻭﻥ ﮐﺎ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺗﺎﺑﻊ ﺩﺍﺭﯼ ﻏﯿﺮ ﻣﺠﺘﮩﺪ، ﻧﺎﻓﮩﻢ، ﻓﺴﺎﺩ ﺍﻧﮕﯿﺰ ﮐﯽ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺯﺑﺎﻥِ ﻃﻌﻦ ﺍﮐﺎﺑﺮﯾﻦِ ﺩﯾﻦ ﭘﺮ ﺩﻥ ﺭﺍﺕ ﺟﺎﺭﯼ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ‏[ﺍﯾﻀﺎً ﺹ۳۶‏]

ﺍﺱ ﻓﺘﻨﮧٴ ﻧﻮﺧﯿﺰ ﺳﮯ ﺍﺳﻼﻣﯿﺎﻥِ ﮨﻨﺪ ﮐﻮ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﯾﮧ ﺻﺮﻑ ﻋﻠﻤﺎﺋﮯ ﺩﮨﻠﯽ ﺍﻭﺭ ﺧﺎﻧﻮﺍﺩﺋﮧ ﻭﻟﯽ ﺍﻟﻠّٰﮩﯽ ﺳﮯ ﻣﻨﺴﻠﮏ ﺑﺰﺭﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺎﺕ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﻣﺨﺘﺼﺮﺍﻭﺭ ﺳﺮﺳﺮﯼ ﺗﺬﮐﺮﮦ ﮨﮯ، ﻭﺭﻧﮧ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﯾﮧ ﻓﺮﻗﮧ ﺟﺐ ﺳﮯ ﺑﺮﺻﻐﯿﺮ ﻣﯿﮟ ﻭﺟﻮﺩ ﭘﺬﯾﺮ ﮨﻮﺍ،ﺍﺳﯽ ﻭﻗﺖ ﺳﮯ ﻋﻠﻤﺎﺋﮯ ﺣﻖ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺗﻌﺎﻗﺐ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ، ﺟﺲ ﮐﯽ ﺗﻔﺼﯿﻞ ﺍﺱ ﻣﺨﺘﺼﺮ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺶ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ ﺟﺎﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ، ﺗﻔﺼﯿﻞ ﮐﮯ ﻃﺎﻟﺐ، ﮐﺘﺎﺏ ”ﺷﺮﻋﯽ ﻓﯿﺼﻠﮯ“ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﻣﻨﯿﺮ ﺍﺣﻤﺪ ﺻﺎﺣﺐ ﺍﺳﺘﺎﺫ ﺣﺪﯾﺚ ﺟﺎﻣﻌﮧ ﺍﺳﻼﻣﯿﮧ ﺑﺎﺏ ﺍﻟﻌﻠﻮﻡ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﺎ ﻣﻄﺎﻟﻌﮧ ﮐﺮﯾﮟ، ﺟﺲ ﺳﮯ ﺑﮧ ﺧﻮﺑﯽ ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﮐﮧ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﭘﯿﺶ ﺭﻭ ﺍﮐﺎﺑﺮ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﮐﯽ ﻧﻈﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻧﻮﭘﯿﺪ ﻓﺮﻗﮧ ﮐﯽ ﻣﺬﮨﺒﯽ ﺣﯿﺜﯿﺖ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ؟