Tag Archives: علماء دوبند اور گمبد خزرا،

گمبد خزرا کو علماء دیوبند نے بچایا

image

ﻧﺤﻤﺪﻩ ﻭ ﻧﺼﻠﻰ ﻭﻧﺴﻠﻰ ﻋﻠﻰ ﺭﺳﻮﻟﻪ ﺍﻟﻜﺮﻳﻢ ﺃﻣﺎ ﺑﻌﺪ

ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﻪ ﺍﻟﺮﺣﻤﻦ ﺍﻟﺮﺣﻴﻢ

1343 ہجری میں سلطان ابن سعود نے حجاز مقدس کی سرزمین پر قبضہ کر لیا اور حرمین شریفین کے جنت معلی اور جنت البقع کے مزاروں کے قبے گرا دیئے- جس کہ وجہ سے عام تور پر عالم اسلام کے مسلمانوں میں سخط ناراضگی پہدا ہوگئی تو سلطان نے 1343 ہجری کے موقع حج پر ایک موتمر منعقد کی- جس میں ہندوستان کے علماء کی طرف سے حضرت مفتی کفایت اللہ رحماللہ صدر جمعیت علماء ہند دہلی، حضرت علامہ شبیر احمد عثمانی، علامہ سید سلیمان ندوی، مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی اور کچھ دیگر علماء بھی شامل ہوئے-

سلطان ابن سعود کی تقریر

اس موقع پر سلطان ابن ابن سعود نے تقریر کرتے ہوئے فرمایا:

(الف) “چار اماموں کے فروعی اختلافات میں ہم تشدد نہیں کرتے لیکن اصل توحید اور قرآن و حدیث کی اتباع کے کوئی طاقت ہمیں الگ نہیں کر سکتی خواہ دنیا راضی ہع یا ناراض-”

(ب) “یہودی و نصارا کو ہم کیوں کافر کہتے ہیں؟ اس لیے کہتے ہیں کہ وہ گیراللہ کی پرستش کرتے ہیں، لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہہں کہ: ما نعبد ھم الا ليقربونآ اليالله زلفا (یعنی ہم انکی پوجا و عبادت اللہ تعالی کے تقریب و رضا حاصل کرنے کے لیے کرتے ہیں) تو جو لوگ بزرگان دین کی قبروں کی پرستش اور ان کے سامنے سجدے کرتے ہیں، وہ بت پرستوں ہی کی طرح کافر و مشرک ہیں-”

(ج) جب حضرت عمر کو پتہ چلا کہ کچ لوگ وادی حدیبیہ میں شجرة الرضوان کے پاس جاکر نمازیں پڑھتے ہیں تو حضرت عمر نے اس درخت کو کٹوا دیا تھا کہ آئندہ خدانخواستہ لوگ اس درقت کی پوجہ نہ شروع کردیں-”

سلطان کا مطلب یہ تھا کہ قبتے گرانا بھی درقت رضوان کٹوانے کی طرح ہی ہے-

ہندوستان کے تمام علماء نے یہ طے کیا کہ ہماری طرف سے شیخ الاسلام حضرت علامہ شبیر احمد عثمانی دیوبندی سلطان ابن سعود کی تقریر کا جواب دیں گے-

مولانا عثمانی کی ایمان افروز تقریر

مولانا عثمانی نے پھلے تو اپنی شاندار پزیرائی اور مہمان نوازی کا شکریہ ادا کیا- اس کے بعد فرمایا:

(الف) ہندوستان کے اہل سنت علماء پوری بسیرت کے ساتھ تصریح کرکے کتاباللہ اور سنت رسول صلی اللہ علی وسلم کے اتبع پر پورا زور صرف کرتے ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علی آلہ وسلم کے مکمل اتبع میں ہی ہر کامیابی ہے لیکن کتاباللہ اور سنت رسول اللہ کے مواقع استمال کو سمجھنا ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں- اد کے لئے صائب رائے اور صحیح اجتہاد کی اشد ضرورت ہے-

(ا) حضور صلی اللہ علی وسلم نے حضرت زینب سے نکاہ فرمایا اور اس بات کا بلکل خیال نہ رکھا کہ دنیا کیا کہے گی- دوسری طرف خانہ کعبہ کو گرا کر بنائے ابراہیمی پر تعمیر کرنے سے نئے نئے مسلمانوں کے جذبات کا لحاظ کرتے ہوئے آپ رگ گئے تا کہ دنیا والے یہ نا کہیں کہ محمد نے خانہ کابہ ڈھا دیا- دونوں موقوں کا فرق حضور کے اجتہاد مبارک پر موقوف ہیں-

(ب) اللہ تعالی نے حکم دیا: جاهد الكفار و المنافقين واغلظ عليهم- (یعنی کفار اور منافقين سے جہاد کرو اور ان پر سختی کرو) ایک طرف تو اس حکم خداوندی کا تقاضا ہے کہ کفار و منافقین کے ساتھ سختی کی جائے اور دوسری طرف آپ نے رئیس المنافقين عبداللہ بن ابی کی نماز جنازہ پڈھا دی- پھر صحابہ نے عرض کیا کہ منافقین کو قتل کر دیا جائے- مگر آپ نے بات منظور نہ فرمائی- خشية ان ليقول الناس ان محمد ايقتل اصحابه (یعنی اس اندیشہ کے پیش نظر کہ لوگ یہ نہ کھنے کگے کی محمد (صلی اللہ علی وسلم) اپنے ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں- حالانکہ یہ دونوں باتیں واغلظ عليهم سے بظاہر مطابقت نہیں رکھتے تو اس فرق کو سمجھنے کے لیے بھی مجتہدانہ نظر کی ضرورت ہوتی ہے جو ہما و شما کے بس کی بات نہیں اور ایسے مواقع پر فیصلہ کرنے کے لیے بڑے تفقہ اور مجتہدانہ بصیرت کی ضرورت ہوتی ہے کہ نص کے تقاضے پر کھاں عمل کیا جائے گا اور کس طرح عمل کیا جائے گا- یہ تفقہ اور اجتہاد کی بات ہے-

(ب) سجدہ عبادت اور سجدہ تعظیم کا فرق بیان کرتے ہوئے مولانا عثمانی نے فرمایا:

“اگر کوئی شخس کسی قبر کو یا غیراللہ کو سجدہ کرے تو وہ قطعی طور پر کافر ہو جاتا ہے لیکن یہ ضروری نہیں کہ ہر سجدہ سجدہ عبادت ہی ہو جو شرک حقیقی اور شرک جلی ہے، بلکہ وہ سجدہ تحیت بھی ہو سکتا ہے جس کا مقصد دوسرے کی تعظیم کرنا ہوتا ہے اور ہی سجدہ تعظیمی شرک جلی کے حکم ہیں نہیں ہے- ہاں ہماری شریعت میں قطعا ناجائز ہے اور اس کے مرتکب کو سزا دی جا سکتی ہے، لیکن اس شخس کو مشرک قطعی کہنا اور اس کے قتل اور مال ضبط کرنے کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا- خود قرآن پاک میں حضرت آدم علیہ السلام کو فرشتوں کے سجدہ کرنے اور یوسف علیہ السلام کو ان کے بھائیوں اور والدین کے سجدہ کرنے کا ذکر موجود ہے اور مفسرین کی اظیم اکثریت نے اس سجدہ سے معروف سجدہ (زمین پر ماتھا رکھنا) ہی مراد لیا ہے اور پھر اس کو سجدہ تعظیمی ہی کرار دیا ہے- بہر حال اگر کوئی شخس کسی غیراللہ کو سجدہ تعظیمی کرے تو وہ ہماری شریعت کے مطابق گنہگار تو ہوگا، کیکن اسے مشرک، کافر اور مباح الدم و المال کرار نہیں دیا جاسکتا اور اس بیان سے میرا مقصد سجدہ تعظیمی کو جائز سمجھنے والوں کی وکالت کرنا نہیں بلکہ سجدہ عبادت اور سجدہ تعظیمی کے فرق کو بیان کرنا ہے-

رہا مسئلہ قبوں کے گرانے کا اگر ان کا بنانا صحیح نہ بھی ہو تو پم قبوں کو گرا دینا بھا صحیح نہیں سمجھتے- امیر المؤمنین ولید بن عبد الملک عبشمی (اموی) نے حاکم مدینہ عمر بن عبدالعزیز عبشمی کو حکم بھیجا کہ امہات المؤمنین کے حجرات مبارکہ کو گرا کر مسجد نبوی کی توسیع کی جائے – اور حضرت عمر بن عبدالعزیز عبشمی نے دوسرے حجرات کو گراتے ہوئے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ زضی اللہ تعالی عنہا کا حجرہ بھی گرا دیا- جس سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت صدیق اکبر اور حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہما کی قبریں ظاہر ہو گیئں تو اس وقت حضرت عمر بن عبدالعزیز اتنے روئے کہ ایسے روتے کبھی نہ دیکھے گیے تھے- حالانکہ حجرات کو گرانے کا حکم بھی خود ہی دیا تھا- پھر سیدہ عائشہ زضی اللہ عنہا کے حجرے کو دوبارہ تعمیر کرنے کا حکم دیا اور وہ حجرہ مبارکہ دوبارہ تعمیر کرنے کا حکم دیا اور وہ حجرہ مبارکہ تعمیر ہوا-

اس بیان سے میرا مقصد قبروں پر گنبد بنانے کی ترغیب دینا نہیں بلکہ یہ بتانا مقصود ہے کی قبر عاظم کے معاملے کو قلوب الناس میں تاثیر اور دخل ہے جو اس وقت حضرت عمر بن عبدالعزیز کے بے تہاشا رونے اور اس وقت عالم اسلام کی آپ سے ناراضگی سے ظاہر ہے-

(ج) حضرت عمر نے درخت کو اس خطرہ سے کٹوا دیا تھا کہ جاہل لوگ آئندہ چل کر اس درخت کی پوجا نہ شروع کردیں- بعیت رضوان 6 ہجری ہیں ہوئی تھی اور حضور الیہ السلام کا وسال پر ملال 11 ہجری ہیں ہوا- آپ کے بعد خلیفہ اول کے عہد خلافت کے اڑھائی سال بھی گزرے لیکن اس درخت کو کٹوانے کا نہ حضور الیہ السلام کو خیال آیا نہ صدیق اکبر کو- ان کے بعد حضرت عمر کی خلافت راشدہ قائم ہوئی- لیکن یہ بھی متعین نہیں ہے کہ حضرت عمر نے اپنی دس سالہ خلافت کے کونسے سال میں اس درخت کے کٹوانے کا ارادہ کیا- گو حضرت عمر کی صوابدید بلکل صحیح تھی لیکن یہ گنبد تو صدیوں سے بنے چلے آ رھے تھے اور اس چودھویں صدی میں بھی کوئی آدمی ان کی پرستش کرتا ہوا نہیں دیکھا گیا-

(ه) رہا وہاں نماز پڑھنا، تو حدیث معراج میں آتا ہے- کہ جبرائیل علیہ السلام نے حضور صلی علیہ وسلم کو چار جگہ براق سے اتر کر نماز پڑوائی- پھلے مدینہ میں اور بتایا کہ یہ جگہ آپ کی ہجرت کی ہے، دوسرے جبل طور پر کہ یھاں اللہ تعالی نے حضرت موسی علیہ السلام سے کلام فرمایا- پھر مسکن حضرت شعیب پر چوتھے بیت اللہم پر جھاں حضرت عیسی علیہ السلام کی ولادت ہوئی تھی- (نسائی شریف کتاب الصلاة ص٨٠ مطبع نظامی کانپور ١٢٩٦ھ)

  ١ پس اگر جبل طور پر حضور سے نماز پڑھوائی گئی کہ یہاں اللہ تعالی نے حضرت موسی علیہ السلام کے ساتھ کلام کیا تھا، تو جبل نور پر ہم کو نماز سے کیوں روکا جائے کہ جہاں اللہ تعالی کی پہلی وحی حضور الیہ السلام پر آئی تھی-

٢ مسکن شعیب پر حضور سے نماز پڑھوائی گئی تو کیا غضب ہو جائے گا جو ہم مسکن خدیجہ الکبرا رضی اللہ عنہا پر دو نفل پڑھ لیں جہاں حضور الیہ السلام نے اپنی مبارک زندگی کے اٹھائیس نورانی سال گزارے تھے-

٣ جب بیت اللہم مولد حضرت عیسی علیہ السلام پر حضور الیہ السلام سے دو رکعت پڑھوائی جائیں تو امت محمدیہ کیوں مولد نبی کریم پر دو رکعت پڑھنے سے روکی جائے طبرانی نے مقام مولد النبی صلی اللہ الیہ وسلم کو “انفس البقاع بعد المسجد الحرام فى” مکہ مکرمہ میں مسجد الحرام کے بعد مقام مولد النبی کریم علیہ السلام کو کائنات ارضی کا نفیس ترین ٹکڑاقرار دیا ہے-

٤. مسکن شعیب پر حضرت موسی علیہ السلام نے پناہ لی تھی، تو اس جگہ آپ سے دو رکعت نفل پڑھوائے گئے تو کونسی قیامت ٹوٹ پڑےگی جو ہم لوگ غار ثور جہاں حضور الیہ السلام نے تین دن پناہ لی تھی، دو نفک پڑھ لیں-

سلطان ابن سعود کا جواب

مولانا عثمانی رحمااللہ کے اس مفصل جواب سے شاہی دربار پر سناٹا چھاگیا- آخر سلطان ابن سعود نے یہ کہہ کر بات ختم کی کہ:

“میں آپ کا بہت ممنون ہوں اور آپ کے بیان اور خیالات میں بہت رفعت اور علمی بلندی ہے- لہاذا میں ان باتوں کا جواب نہیں دے سکتا- ان تفاصیل کا بہتر جواب ہمارے علماء ہی دے سکیں گے- ان سے  ہی یہ مسائل حل ہو سکتے ہیں-“