Tag Archives: فریضہ حج کی شرائط

سفر حج کے لیے شرعی شرائط

ماخوذ از مکتوب کتاب ‘ٹورزم اينڈ اسلام’ مجلس العلماء جنوبی افریقہ

ہر مسلمان جانتا ہے کہ حج اسلام کے پانچ اراکین میں سے ایک اہم رکن ہے۔  یہ ہر اس مسلمان پر زندگی میں ایک مرتبہ فرض ہے جو مکہ مکرمہ شریعت کے طے شدہ کچھ شرائط کے ساتھ پہنچ سکے۔ اس قدر اہم ومطلوب بنیادی رکن عبادت ہو نے کے باوجود حج کا سفر طے کرنا جائز نہ ہوگا اگر اس میں کوئی گناہ کا ارتکاب ہو, مثلا نماز چھوٹ جائے یا اس سے غفلت ہو یا کوئی ناجائز فعل میں مبتلا ہونا پڑے۔ اس معاملہ میں فقہاء کا قول یہ ہے،

“المدخل میں یہ ارشاد ہے : ہمارے علماء کہتے ہیں :جب مکلف شخص جانتا ہے کہ اگر وہ حج کے سفر پر چلا جائے گا تو اس کی ایک بھی نماز چھوٹ جائے گی تو یقینا حج ساقط ہوگا۔ ایک اور جگہ ارشاد ہے : حج کا ادا کرنا  اس طرح پر کہ اس میں  نماز کو اس کے اپنے وقت پر پڑھ نہ سکنے ( قضاء کرنے) یا اس جیسا (کوئی اور فعل یعنی گناہ) کرنے کے بغیر  ممکن ہی نہ ہو تو پھر حج ساقط ہو گا۔” (یعنی نماز کو قضا کئے بغیر اور اُس طرح کے گناہ سے بچے بغیر سفرِ حج ممکن نہ ہو تو ایسے حالات میں حج کا فریضہ اس کے ذمہ نہیں رہتا، وہ ان حالات میں حج نہ کرے۔)

البرزلی نے المازری سے نقل کرتے ہوئے فرمایا,

“حج کے سفر کے دوران اگر وہ (مسافر) نماز سے اس قدر غفلت برتے کہ نماز کا وقت چلا جائے یا کہ اسے متبادل طریقہ پر ادا کرے (یعنی بیٹھ کر ادا کرے) تو پھر یقینا یہ سفر جائز نہیں ہے اور اس سے حج کی فرضیت ساقط ہو گی۔”

التادلی نے المازری سے نقل کرتے ہوئے فرمایا,

“دراصل استطاعت (حج کرنے کی استعداد کے شرائط میں)  یہ ہے کہ بیت (کعبہ شریف) بغیر کسی مشقت کے اور اپنی جان و مال کی حفاظت کے ساتھ پہنچا جائے اور اس سفر میں دیگر  فرائض کو ادا کرنے کی بھی  استعداد ہو, غلو سے بچا جائے اور گناہوں کو چھوڑ دیا جائے۔”

ابن منیر نے اپنے منسک میں تذکرہ کیا ہے،

“جان لو کہ ایک نماز کو بھی ختم کرنا (یعنی وقت پر ادا نہ کرنا) بہت بڑا گناہ ہے، حج کی فضیلت اس گناہ کی تلافی نہیں کر سکتی- در حقیقت، یہ (نماز) اس سے افضل ہے، (یعنی حج سے افضل ہے) کیونکہ نماز کی زیادہ اہمیت ہے۔ لہذا اگر سمندر یا زمین پر مسافروں کو چکر آنے کا معمول ہو اگر چہ ایک نماز کے لئے بھی (یعنی اس بیماری کی وجہ سے وہ ایک نماز سے بھی محروم ہوجائے گا) تو اس کے لئے حج حرام ہے۔ (یعنی اگر وہ نماز کو ضائع کر کے ہی مکہ مکرمہ پہنچ سکتا ہے تو اس کے لئے یہ سفر جائز نہیں)……

“جو شخص یہ جانتا ہے کہ اگر وہ کسی سمندری سفر پر (یہاں تک کہ ہوائی یا زمینی سفر پر) جاتا ہے تو وہ سر چکرانے یا کسی بھی دوسری بیماری سے متاثر ہوگا جو اسے ذہنی طور پر نقصان پہنچائے گی یا بے ہوشی کا باعث بنائے گی، جس کی وجہ سے وہ نماز سے غفلت کرے گا یا مکمل طور پر نماز ترک کردے گا۔ پھر اس میں (فقہا کے درمیان) کوئی اختلاف نہیں ہے کہ اس کے لئے سفر(حج) کرنا جائز نہیں ہے۔ اس نوعیت کے فرد کا سفر صرف نفسانی خواہش ہے۔ در حقیقت، یہ شیطان کا ایک وسوسہ ہے۔

البرزلی نے کہا – “ہمارے شیخ ابو محمد الشبیبي نے طالب سے روایت کیا اور انہوں نے کہا:

“مشرق اور مغرب کے شیاطین ایک جھگڑے میں الجھ گئے اس بات میں کہ ان میں سے کون سب سے بڑا دھوکہ باز (لوگوں کو گمراہ کرنے والے) ہے..؟

مشرق کے شیاطین نے مغرب کے شیاطین سے کہا :‘ہم دھوکا دینے مین تم سے آگے ہیں کیونکہ ہم ایک شخص کو گناہ کرنے کے لئے ابھارتے ہیں اور انبیاء کے مقامات (مقدس مقامات میں) میں ممنوعات کا مرتکب کراتے ہیں۔’

مغرب کے شیاطین نے جواب دیا : ‘ہم (دھوکہ دہی کے فن میں) اس سے آکے ہیں۔ ہمیں ایک شخص اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ فرض نماز و زکوٰۃ ادا کرتے اور دیگر نیک اعمال (مشقت کے ساتھ) کرتے ہوئے ملتا ہے۔ وہ آرام کی حالت میں ہوتا ہے اور اس کے فرشتے بھی اس کے ساتھ ہوتے ہیں۔

اس کے بعد (حج/عمرہ) ایجنٹ (ٹریول ایجنسیاں جیسے سہوق، خدمت العوام) لوگوں کو حجاز کی سرزمین کا (حج اور عمرہ کے لئے) سفر کرنے کے لئے آمادہ کرتا ہے تو ہم (مغرب کے شیاطین) اس میں دلچسپی لے اس میں کود پڑتے ہیں اور ایک ایک کو باہر نکل آنے پر آمادہ کرتے ہیں (یعنی سفر شروع کرنے پر)، ہم انہیں گُدگُدی کرتے ہیں (شیطان کے جال میں پھانسنے کے لئے مثالی محاورہ)، یہاں تک کہ وہ لوگ (عمرہ جانے کے لئے) تڑپ اٹھتے ہیں اور وہ سفر کے لئے نکل پڑتے ہیں، سفر کے لئے جس دن سے وہ (اپنا گھر) چھوڑتے ہیں، اس دن سے ہم انہیں فرائض کو نظرانداز کرنے اور (شریعت کی) ممانعت کی خلاف ورزی پر آمادہ کرتے ہیں، ان کی روانگی کے دن سے لے کر اپنے اہل خانہ میں واپسی کے دن تک، اس طرح وہ مشرق اور مغرب میں اپنے دین و ایمان اور اپنی جان و مال کے لحاظ سے سب سے زیادہ نقصان میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔

تب مشرق کے شیاطین نے فریب کاری کے فن میں مغرب کے شیاطین کی فوقیت کو تسلیم کر لیتے ہیں(کہ حج اور عمرہ کے مقدس ناموں سے ابھار کر  تم ان کو فرائض سے غافل اور ممنوعات کا مرتکب بنا دیتے ہو ،یہ تمہاری بڑی جسارت جرأت ہے، واقعی تم ہم سے بھی زیادہ دھوکہ باز اور گمراہ گروہ ہو)۔

البرزلی نے کہا : “بیشک میں نے اپنے حج کے سفر میں اس کا مشاہدہ کیا ہے۔ ہم اللہ سے حفاظت مانگتے ہیں۔ “(مواہب الجلیل)

شیاطین کے دونوں گروہوں کی اس بحث میں ان لوگوں کے لئے ایک اہم سبق ہے جو اس مقدس سفر کو سیر و سیاحت، جہاں گردی، گھومنا پھرنا بنا کر رکھ دے رہے ہیں۔ جس میں وہ خود اپنے نفس اور شیطان کے دھوکے میں رہتے ہیں۔

ارشاد الساری میں مندرجہ ذیل تذکرہ کیا گیا ہے – “فریضہ حج کی شرائط میں سے ایک یہ ہے کہ فرض نمازیں ادا کر نے کی استعداد ہو ، اور (وہ) قضا نہ کی جائیں۔”

اگر جماعت کے بغیر ایک بھی نماز پڑھی جائے تو یہ 700 بڑے (کبیره) گناہ کرنے کے مترادف ہے۔ حضرت ابو بکر ورّاق (رحمة اللہ علیہ) اپنے سفر حج کے پہلے ہی دن جماعت کے ساتھ ایک نماز پڑھنے سے قاصر رہے، ایک نماز کی جماعت چھوٹ گئی، اس کے بعد انہوں نے کہا کہ کاش وہ پیچھے رہ جاتے اور اس مقدس سفر پر نہ نکلتے  کیونکہ سفر کے پہلے ہی دن جماعت کی نماز چھوڑ دی اور 700 کبیرہ گناہ کا ارتکاب ہوا۔

اب جب کہ فرض عبادت حج کے اسفار کے لئے بھی یہ شرعی شرائط ہیں تو اگر دورانِ سفر نماز کا چھوٹنا یا حرام (فعل) کا ارتکاب لازم آتا ہو تو پھر اس سفر کا کرنا جائز نہیں ہوگا۔

اور پھر جب حج کے بارے میں شریعت کا یہ نظریہ ہے تو پھر مزے کے ٹور (tour) دھوکہ میں مبتلا نفل عمرے اور “تین حرم” کی خوش کُن سیاحت کے بارے میں کسی مؤمن کا ایمان اسے اندر سے کیا حکم دے گا..؟

فقہاءِ کرام نے واضح طور پر حکم بیان کیا ہے اور ایمانی سمجھ بھی یہی حکم کرتی ہے کہ حج کے لئے جانا جائز نہیں ہوگا اگر سفر میں ایک نماز بھی چھوٹ جائے یا قضا ہو جائے۔

اب آج کل کی صورتِ حال میں کیا کیا جائے گا..؟ کیا حکم دیا جائے گا جب لوگ ان مزاحیہ مزے دار تفریحی ٹور کو دینی القاب دے کے سفر کرتے ہیں۔؟