Tag Archives: ننگے سر نماز پڑھنا سنت نہیں

اقامت کا غلط طریقہ چلا ہوا ہے

[مقرر: حضرت اقدس مولانا مفتی سعید احمد صاحب پالن پوری دامت برکاتھم ،شیخ الحدیث و صدر المدرسین دارالعلوم دیوبند]

ناقل: عادل سعیدی پالن پوری

ایک بات یہ بھی عرض کرنی ہے کہ ہمارے یہاں اقامت کا طریقہ غلط چلا ہوا ہے، جب نماز شروع ہونے کا وقت آئے گا، تو سب سے پہلے امام صاحب مصلے پر آئیں گے، لوگ کھڑے ہوجائیں گے، جب صفیں سیدھی ہوجائیں گی، تب تکبیر شروع ہوگی، یہ جو سلسلہ چلا ہوا ہے، یہ غلط ہے، بریلویوں کے یہاں اس کا الٹا ہے، تکبیر کہنے والا کھڑا ہوکر تکبیر شروع کرے گا، باقی سب بیٹھے رہیں گے، جب وہ حی علی الصلاۃ کہے گا، تب لوگ کھڑے ہونگے، اور اب امام صاحب اٹھ کر مصلے پر آئیں گے، ان کے یہاں حی علی الصلاۃ سے پہلے کوئی کھڑا ہوجائے تو اس کو بہت برا سمجھتے ہیں، بریلویوں کا یہ طریقہ بھی غلط ہے، اور ہمارا طریقہ بھی غلط ہے۔

کھڑا کب ہونا چاھئے؟

عربی میں تکبیر کو اقامہ کہتے ہیں، اور اقامہ کے معنیٰ ہیں: کھڑا ہونا، میں نے آپ سے کہا: اٹھ بھائی! یہ کھڑا کرنا ہے، اب اٹھ بھائی کہنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کا ذکر رکھ دیا گیا، وہ ذکر سنتے ہی لوگ سمجھ جاتے ہیں کہ یہ ہمیں نماز کےلئے کھڑا کررہا ہے، تو اقامہ کے معنیٰ ہیں کھڑا کرنا، اب میرے بھائیو! سوچو! جب تک اقامہ  (کھڑا کرنا) نہیں پایا گیا، لوگ کیوں کھڑے ہوگئے؟ کس نے ان کو کھڑا کیا؟ شریعت نے کھڑا کرنے کےلئے تکبیر رکھی ہے، یہ کھڑا کرنا (اقامہ) تو ابھی نہیں پایا گیا، پھر آپ کیوں کھڑے ہوگئے؟ ہم تو یوں ہیں، اور بریلوی غلط یوں ہیں کہ جب اقامہ(کھڑا کرنا) شروع ہوچکا، تو اب کیوں بیٹھے ہو؟ تکبیر کا اقامہ نام ہی دلیل ہے کہ ہمارا طریقہ بھی غلط ہے، اور بریلویوں کا طریقہ بھی غلط ہے، صحیح طریقہ یہ ہے کہ جب نماز کا وقت ہو، سب سے پہلے تکبیر کہنے والا کھڑا ہو، اور تکبیر شروع کرے، اقامہ شروع ہوا تو اب لوگ کھڑے ہونا شروع ہونگے، پھر جب اقامہ پورا ہوجائے تو امام صاحب صفوں کو دیکھیں گے، اور کسی کو کوئی ہدایت دینی ہو تو دیں گے، اور جب صفیں سیدھی ہوجائیں تو نماز شروع کردیں، صفیں درست کرنے کا صحیح طریقہ یہ ہے۔

صفیں درست کرنے کا صحیح وقت کب ہے؟

صفیں درست کرنے کا صحیح وقت تکبیر ختم ہوجانے کے بعد، اور نماز شروع کرنے سے پہلے ہے، لیکن اس ملک میں ایک نیا اور عجیب و غریب طریقہ ہے، جب تکبیر شروع ہوتی ہے، تو امام صاحب مصلے پر آکر نمازیوں کی طرف منھ کرکے کھڑے ہوجاتے ہیں، جب تک تکبیر ہوتی رہے گی، امام صاحب نمازیوں کی طرف منھ کرکے کھڑے رہیں گے، تکبیر پوری ہونے کے بعد گھوم کر نماز شروع کریں گے، اللہ جانے امریکہ میں یہ طریقہ کہاں سے آیا، میں دنیا کے کئی ملکوں میں جاچکا ہوں، ہم نے یہ طریقہ یہاں کے علاوہ کہیں نہیں دیکھا۔

اور دیکھو میرے بھائیو! دین وہ ہے، جو دنیا کے تمام مسلمانوں میں ہے؛ کیونکہ دین کا مدار قرآن و حدیث پر ہے، اور قرآن و حدیث ساری دنیا میں ایک ہی ہے، لٰہذا ساری دنیا میں جو طریقہ چل رہا ہے، وہی دین ہے، اور اگر کسی علاقہ میں ایک طریقہ ہے، جس کو دوسرے علاقہ والے نہیں جانتے، تو یہ طریقہ دین میں سے نہیں ہے، بعد میں بڑھا ہے، اگر قرآن و حدیث میں یہ طریقہ ہوتا، تو ساری دنیا میں ہوتا، میں پینتالیس سال سے حدیث پڑھا رہا ہوں، میں نے آج تک کسی حدیث میں یہ طریقہ نہیں دیکھا، حضور اکرم ﷺ تکبیر شروع ہونے کے بعد نماز شروع ہونے تک لوگوں کی طرف متوجہ ہوکر کھڑے رہتے ہوں، ایسا ہم نے کسی حدیث میں نہیں پڑھا۔

ننگے سر نماز پڑھنا سنت نہیں

اسی طرح ایک دوسرا مسئلہ ہے، کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ننگے سر نماز پڑھنا سنت ہے، مگر ہم نے آج تک کوئی حدیث نہیں پڑھی، جس میں یہ ہو کہ نبی پاک ﷺ کے پاس ٹوپی یا عمامہ موجود تھا، اور آپ نے ایک فرض نماز ننگے سر پڑھی ہو، پوری زندگی میں ایک دفعہ بھی ایسا کیا ہو، ایسی کوئی حدیث ہم نے نہیں پڑھی، اور قیامت کی صبح تک مہلت ہے، لاؤ ایسی کوئی حدیث، چاھے ضعیف ہی کیوں نہ ہو، ان بھائیوں سے جب پوچھا جاتا ہے تو فوراﹰ کہتے ہیں: ٹوپی کے بغیر کیا نماز نہیں ہوتی؟ ایک مرتبہ نہیں، سو مرتبہ ہوتی ہے، اور ٹوپی کے بغیر ہی نہیں، کرتے کے بغیر بھی نماز ہوتی ہے، نماز میں مرد کےلئے ناف سے لے کر گھٹنے تک ہی بدن ڈھکنا ضروری ہے، گھٹنے سے نیچے کا حصہ اور ناف سے اوپر کا حصہ اگر سارا کھلا ہو تو بھی نماز ہوجائےگی۔

غرض ننگے سر نماز ہوتی ہے، یا نہیں؟ یہ مسئلہ نہیں ہے، مسئلہ یہ ہے کہ نماز کے وقت اللہ تعالیٰ کا کیا حکم ہے؟ اللہ تعالیٰ حکم ہے: یٰا بَنِیْ آدَمَ خُذُوْا زِیْنَتَکُم عِنْدَ کلِّ مَسْجِدٍ، ائے آدم کی اولاد! جب تم نماز پڑھو، شاندار لباس پہن کر نماز پڑھو، اور اسلامی تہذیب میں ننگے سر ہونا شاندار لباس نہیں، یہ تو فیشن ہے، غیروں کا طریقہ ہے، اسلامی طریقہ نہیں ہے۔

غرض بعض چیزیں بغیر دلیل اور بغیر حدیث کے چلتی ہیں،

امام صاحب کا لوگوں کی طرف متوجہ ہوکر کھڑا ہونا بھی انہی چیزوں میں سے ہے، جس کی کوئی دلیل اور جس کے بارے میں کوئی حدیث نہیں، مگر امریکہ میں یہ سنت بنا ہوا ہے۔

اقامت میں حضور اکرم ﷺ کا طریقہ:

میں عرض یہ کر رہا تھا کہ اقامت میں ہمارا طریقہ بھی غلط ہے، اور بریلویوں کا طریقہ بھی، نبی پاک ﷺ کا طریقہ بخاری شریف میں آیا ہے، حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: اِذَا اُقِیمَتِ الصلاۃ فلاتقوموا حتیٰ ترونی، جب نماز کھڑی کی جائے، یعنی تکبیر شروع ہو تو تم کھڑے مت ہوؤ، یہاں تک کہ مجھے دیکھ لو، اذان کے وقت نبی پاک ﷺ اپنے کمرے میں ہوتے تھے، پھر جب وقت ہوتا تھا، تو تکبیر شروع ہوجاتی تھی، حضور اکرم ﷺ تکبیر سن کر گھر سے نکلتے تھے، کبھی ایسا بھی ہوتا تھا کہ تکبیر شروع ہوگئی، اور گھر میں آپ ﷺ کی نیت بندھی ہوئی ہے، اس لئے نماز پوری کرکے حضور اکرم ﷺ آئیں گے، ایسی صورت میں صحابہ تکبیر پوری ہونے کے بعد کھڑے کھڑے حضور ﷺ کا انتظار کرتے تھے، اس لئے حضور ﷺ نے ان کو ہدایت دی کہ تکبیر شروع ہونے پر مت کھڑے ہوؤ، جب مجھے کمرے سے آتا ہوا دیکھو، تب کھڑے ہوؤ، چنانچہ مسئلہ یہی ہے کہ مسجد میں تکبیر شروع ہوئی، اور امام صاحب مسجد میں نہیں ہیں، وہ مسجد سے متصل اپنے کمرہ میں ہیں، اور بالیقین ہیں، کس حالت میں ہیں، یہ معلوم نہیں، تو ایسی صورت میں تکبیر شروع ہونے پر بھی لوگ کھڑے نہیں ہونگے، جب امام صاحب کمرے سے نکلتے نظر آئیں گے، تب لوگ کھڑے ہونگے، معلوم ہوا کہ حضور اکرم ﷺ مصلے پر کھڑے ہوکر لوگوں کی طرف متوجہ ہوجاتے، تب تکبیر شروع ہوتی ایسا نہیں تھا، آپ ؑ تو گھر میں ہوتے، اور تکبیر شروع ہوجاتی تھی۔

گھڑی دیکھ کر کھڑا نہیں ہونا چاھئے:

یہ تکبیر شروع ہونے سے پہلے صف بندی کا رواج کیوں پڑا؟

اب نماز ٹن کی ہوتی ہے، گھڑی میں ٹن ٹن ہوا، اور لوگ کھڑے ہوگئے، حالانکہ نماز کے سلسلہ میں امام کا اختیار ہے، جب امام مناسب سمجھے گا، مؤذن کو اشارہ کرے گا، اور وہ کھڑے ہوکر تکبیر شروع کرے گا، کبھی ایسا ہوتا ہے کہ نماز کا وقت ہوجاتا ہے، مگر اسی وقت بہت سارے آدمی آجاتے ہیں، اور وضو کرنے لگتے ہیں، تو ایسی صورت میں امام نماز شروع کرنے میں دو منٹ تاخیر کرے گا، تاکہ ان نئے آنے والوں کو بھی نماز مل جائے، ایسے ہنگامی حالات میں لوگوں کا لحاظ کرنا امام کی ذمہ داری ہے، بخاری شریف میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ نبی پاک ﷺ عشاء کی نماز معین وقت پر شروع نہیں کرتے تھے، بلکہ اِذا کثر الناس عجل، و اِذا قلوا أخر، اگر لوگ زیادہ آجاتے تو آپ نماز جلدی پڑھادیتے، لوگ تھوڑے ہوتے تو آپ نماز میں تاخیر کرتے، بہرحال حالات پر نظر رکھنا امام کی ذمہ داری ہے، اور اس کا لحاظ کرکے جب امام اشارہ کرے، تب تکبیر شروع ہوگی، اور اس وقت لوگ کھڑے ہوں گے، مگر اب تو لوگوں نے گھڑی کو دیکھ کر ٹن کی نماز کردی ہے، بیچارے امام کا کوئی اختیار نہیں رہا، یہ جو ہم نے امام کو اپنا نوکر بنالیا ہے، میرے بھائیو یہ ٹھیک نہیں ہے، امام کو سردار بناؤگے تو تمہاری نمازوں میں برکت ہوگی، امام کو نوکر سمجھوگے، تو تمہاری نمازیں بغیر دانے کی مونگ پھلی ہونگی، آپ نے کہیں یہ سنا ہوگا کہ کسی عالم کے پیچھے نماز پڑھنا ایسا ہے، جیساکہ کسی نبی کے پیچھے نماز پڑھنا، چونکہ دل میں نبی کا ایک احترام ہوتا ہے، تو اس احترام کے بعد نبی کے پیچھے جو نماز پڑھی جائے گی، اس میں خوبی پیدا ہوگی، اسی طرح عالم کا احترام اگر دل میں ہے، تو اس کے پیچھے نماز پڑھنے میں خوبی پیدا ہوگی، اور اگر عالم کا کوئی احترام نہیں ہے، تو پھر نماز میں کوئی خوبی پیدا نہیں ہوگی۔

یہ مسئلہ میں اس لئے سمجھا رہا ہوں کہ اقامت میں امام اپنے اختیار سے، اور حالات کا لحاظ کرکے تکبیر شروع کرنے کا اشارہ کرے گا، گھڑی دیکھ کر لوگوں کو کھڑا ہونا نہیں چاھئے، اللہ تعالیٰ ان باتوں پر عمل کرنے کی ہم سب کو توفیق نصیب فرمائیں
آمین ثم آمین یارب العالمین۔

وَ آخِرُ دَعْوَانا أنِ الحَمْدُ للہ رَبِّ العَالَمِیْن۔