Tag Archives: ﻓﺘﺎﻭﯼ ﺭﺷﯿﺪﯾﮧ پر ایک اشکال کا جواب، ﻓﺘﺎﻭﯼ ﺭﺷﯿﺪﯾﮧ اور ﺩﯾﻮﺍﻟﯽ ﮐﯽ ﻣﭩﮭﺎﺋﯽ، ﻓﺘﺎﻭﯼ ﺭﺷﯿﺪﯾﮧ ا

علماء دیوبند ﻣﻔﺘﯽ ﺭﺷﯿﺪ ﺍﺣﻤﺪ ﮔﻨﮕﻮﮨﯽ ﺭﺣﻤﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﭘﮧ اعتراض (ﮐﮧ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺩﯾﻮﺍﻟﯽ ﮐﯽ ﻣﭩﮭﺎﺋﯽ ﮐﻮ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺟﺎﺋﺰ ﮐﮩﺎ ﮨﮯ) کا جواب

سوال:

ﺑﺮﯾﻠﻮﯼ ﺣﻀﺮﺍﺕ، ﻣﻔﺘﯽ ﺭﺷﯿﺪ ﺍﺣﻤﺪ ﮔﻨﮕﻮﮨﯽ ﺭﺣﻤﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﭘﮧ ﺍﻟﺰﺍﻡ ﻟﮕﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺩﯾﻮﺍﻟﯽ ﮐﯽ ﻣﭩﮭﺎﺋﯽ ﮐﻮ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺟﺎﺋﺰ ﮐﮩﺎ ﮨﮯ ، ‏
(ﻓﺘﺎﻭﯼ ﺭﺷﯿﺪﯾﮧ ﺹ : 575‏)

ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﺍﻟﺰﺍﻡ ﻟﮕﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻓﺎﺗﺤﮧ ﮐﯽ ﺷﺮﺑﺖ ﺍﻭﺭ ﻣﭩﮭﺎﺋﯽ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﻧﺎﺟﺎﺋﺰ ﮨﮯ۔
‏(ﻓﺘﺎﻭﯼ ﺭﺷﯿﺪﯾﮧ ﺹ 120:‏) ۔

ﺑﺮﺍﺋﮯ ﻣﮩﺮﺑﺎﻧﯽ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻭﺿﺎﺣﺖ ﮐﺮﯾﮟ۔ ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﺻﺤﯿﺢ ﮨﮯ؟

جواب:

‏(ﺍﻟﻒ) ﻓﺘﺎﻭﯼ ﺭﺷﯿﺪﯾﮧ ﻣﯿﮟ ﻏﯿﺮ ﻣﺴﻠﻢ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﮨﻮﻟﯽ ﯾﺎ ﺩﯾﻮﺍﻟﯽ ﮐﮯ ﻣﻮﻗﻊ ﭘﺮ ” ﺑﮧ ﻃﻮﺭ ﺗﺤﻔﮧ “ ﺟﻮ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﺑﮭﯿﺠﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﺣﮑﻢ ﺷﺮﻋﯽ ﺩﺭﯾﺎﻓﺖ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ، ﺣﻀﺮﺕ ﮔﻨﮕﻮﮨﯽ ﺭﺣﻤﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﺩﺭﺳﺖ ﻟﮑﮭﺎ ﮨﮯ، ﻇﺎﮨﺮ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺣﺮﺍﻡ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﻭﺟﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ؛ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﮧ ﯾﮧ ” ﭼﮍﮬﺎﻭﺍ “ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ، ﻋﺎﻡ ” ﺗﺤﻔﮧ “ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ، ﺍﮔﺮ ” ﭼﮍﮬﺎﻭﺍ “ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺣﺮﺍﻡ ﮨﻮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﺒﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔

(ﺏ‏) ﻓﺘﺎﻭﯼ ﺭﺷﯿﺪﯾﮧ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻓﺎﺗﺤﮧ ﮐﯽ ﺷﺮﺑﺖ ﺍﻭﺭ ﻣﭩﮭﺎﺋﯽ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺟﺎﺋﺰ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ، ﺍﺱ ‏( ﺹ : ‏) ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﯾﮧ ﻟﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ” ﻣﺤﺮﻡ ﻣﯿﮟ ﺫﮐﺮ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﺣﺴﯿﻦ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﺮﻧﺎ ﺍﮔﺮ ﭼﮧ ﺑﺮﻭﺍﯾﺎﺕ ﺻﺤﯿﺤﮧ ﮨﻮ ﯾﺎ ﺳﺒﯿﻞ ﻟﮕﺎﻧﺎ ﺷﺮﺑﺖ ﭘﻼﻧﺎ ﯾﺎ ﭼﻨﺪﮦ ”ﺳﺒﯿﻞ“ ﺍﻭﺭ ﺷﺮﺑﺖ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﻨﺎ ﯾﺎ ﺩﻭﺩﮪ ﭘﻼﻧﺎ ﺳﺐ ﻧﺎﺩﺭﺳﺖ ﺍﻭﺭ ﺗﺸﺒﮧ ﺭﻭﺍﻓﺾ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺣﺮﺍﻡ ﮨﯿﮟ“ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺷﮑﺎﻝ ﮨﻮﺗﻮ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﮐﺮﯾﮟ۔

ضمیمہ

سوال: غیر مسلموں کے تہوار جیسے ہولی، دیوالی، کرسمس ڈے، کے موقع پر ان کی طرف سے بھیجی گئی مٹھائی کھانا، یا کوئی اور تحفہ لینا جائز ہے یا نہیں؟

الجواب بتوفیق اللہ تعالٰی:

غیر مسلموں کے تہوار کے موقع پر ان کی طرف سے بھیجی گئی مٹھائی کھانا، یا کوئی اور تحفہ لینا جائز ہے، چنانچہ ……

ابن تیمیہ کہتے ہیں:

“کفار کی عید کے دن ان سے تحائف قبول کرنے کے بارے میں: حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نوروز کے دن انہیں تحفہ دیا گیا تو آپ نے اسے قبول کر لیا۔

اور مصنف ابن ابی شیبہ میں روایت ہے کہ:

“ایک عورت نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے استفسار کیا: ہمارے بچوں کو دودھ پلانے والی کچھ مجوسی خواتین ہیں، اور وہ اپنی عید کے دن تحائف بھیجتی ہیں، تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ: “انکی عید کے دن ذبح کئے جانے والے جانور کا گوشت مت کھاؤ، لیکن نباتاتی اشیاء (پھل فروٹ) کھا سکتے ہو”

ان تمام روایات سے پتا چلتا ہے کہ کفار کی عید کے دن ان کے تحائف قبول کرنے میں  کوئی حرج نہیں ہے، چنانچہ عید یا غیر عید میں انکے تحائف قبول کرنے کا ایک ہی حکم ہے،

کیونکہ اس کی وجہ سے انکے کفریہ نظریات پر مشتمل شعائر کی ادائیگی میں معاونت (مدد) نہیں ہوتی”

البتہ کفار کی عید کے دن ان کو ہدیہ دینے حرام ہے، کیونکہ یہ انکے کفریہ نظریات اور عقائد پر رضامندی کا اظہار اور معاونت ہے، جو کہ حرام ہے،

یعنی غیر مسلموں کے تہوار پر ان کا تحفہ لے تو سکتے ہیں، لیکن انکو دے نہیں سکتے،

اس کے بعد ابن تیمیہ نے متنبہ کرتے ہوئے بتلایا کہ اہل کتاب کا ذبیحہ اگرچہ حلال ہے، لیکن جو انہوں نے اپنی عید کے لئے ذبح کیا ہے وہ حلال نہیں ہے، چنانچہ: “اہل کتاب کی طرف سے عید کےدن  ذبح کیے جانے والے جانور کے علاوہ انکے [نباتاتی] کھانے یعنی پھل فروٹ دال سبزی وغیرہ خرید کر یا ان سے تحفۃً لیکر کھائے جا سکتے ہیں۔

جبکہ مجوسیوں کے ذبیحہ کا حکم معلوم ہے کہ وہ سب کے ہاں حرام ہے،

خلاصہ یہ ہوا کہ: غیر مسلموں سے تحفہ قبول کر سکتے ہیں، لیکن اس کی کچھ شرائط ہیں:

1-  تحفہ (اگرجانور کے گوشت کی صورت میں ہے) تو شرط یہ ہے کہ انہوں نے اپنی عید کیلئے ذبح نہ کیا ہو،

2- اور اس تحفے کو انکی عید کے دن  کی مخصوص  رسومات میں استعمال نہ کیا جا تا ہو، مثلا: موم بتیاں، انڈے، اور درخت کی ٹہنیاں وغیرہ۔

3- تحفہ قبول کرتے وقت آپ اپنی اولاد کو عقیدہ ولاء اور براء کے بارے میں لازمی وضاحت سے بتلائیں، تا کہ ان کے دلوں میں عید  یا تحفہ دینے والے کی محبت گھر نہ کرجائے۔

4- تحفہ قبول کرنے کا مقصد اسلام کی دعوت اور اسلام کیلئے اسکا دل نرم کرنا ہو، محبت اور پیار مقصود نہ ہو۔

5- اور اگر تحفہ ایسی چیز پر مشتمل ہو کہ اسے قبول کرنا جائز نہ ہو تو تحفہ قبول نہ کرتے  وقت انہیں اسکی وجہ بھی بتلا دی جائے، اس کیلئے مثلاً کہا جا سکتا ہے کہ:

“ہم آپ کا تحفہ اس لئے قبول نہیں کر رہے کہ یہ جانور  آپکی عید کے لیے ذبح کیا گیا ہے، اور ہمارے لئے یہ کھانا جائز نہیں ہے”

یا یہ کہے کہ: “اس تحفے کو وہی قبول کر سکتا ہے جو آپکے ساتھ آپکی عید میں شریک ہو، اور ہم آپکی عید نہیں مناتے، کیونکہ ہمارے دین میں یہ جائز نہیں ہے، اور آپکی عید میں ایسے نظریات پائے جاتے ہیں جو ہمارے ہاں درست نہیں ہیں” یا اسی طرح  کے ایسے جواب دیے جائیں جو انہیں اسلام کا پیغام سمجھنے کا سبب بنیں، اور  انکے کفریہ نظریات کے خطرات سے آگاہ کریں۔

فائدہ: ہر مسلمان کیلئے ضروری ہے کہ اپنے دین پر فخر  کرے، دینی احکامات کی پاسداری کرتے ہوئے باعزت بنے، کسی سے شرم کھاتے ہوئے یا ہچکچاتے ہوئے یا ڈرتے ہوئے ان احکامات  کی تعمیل سے دست بردار نہ ہو، کیونکہ اللہ تعالی سے شرم کھانے اور ڈرنے کا حق زیادہ ہے۔

مفتی معمور-بدر مظاہری، قاسمی (اعظم-پوری)